[ایک تحقیقی مطالعہ]
(1)
تمہید
’صلاۃ التسبیح‘ چار رکعتوں پر مشتمل ذرا منفرد طرز پر پڑھی جانے والی ایک نفل نماز ہے، جو ہمارے معاشرے میں ایک انتہائی باعثِ اجر وفضیلت نماز کے طور پر رائج ومعروف ہے۔ اِس میں چونکہ تسبیحات کا وِرد بہ کثرت ہوتا ہے، اِسی لیے اِس نماز کو ’صلاۃ التسبیح‘ یا ’صلاۃ التسابیح‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اِس نماز سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایتیں چونکہ حدیث کے بعض اصلی مراجع میں نقل ہوئی ہیں، اِس لیے علما کے یہاں بھی یہ معلوم ومعروف ہے۔ علاوہ ازیں، ہمارے معاشرے کے واعظین و ذاکرین کے مراجعِ فضائل میں بھی اِس نماز کا ذکر چونکہ جگہ جگہ آگیا ہے، اِس لیے اُن کی وساطت سے یہ نماز ہمارے عوام الناس میں بھی عملاً بہت مشہور و مقبول ہوگئی ہے۔ تا ہم یہ نماز، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کا ثبوت اوردین میں اِس کی مشروعیت ہمارے علما، فقہا اور محدثین کے یہاں مختلف فیہ رہی ہے۔یہاں تک کہ اِس پر اہلِ علم نے مستقل کتابیں اور مقالے بھی تصنیف کیے ہیں۔چنانچہ اِس بات کی ضرورت تھی کہ اردو زبان میں اِس موضوع پر ایک ایسا تحقیقی مقالہ تالیف کیا جائے جو اِس موضوع کا مکمل احاطہ کرتے ہوئے بغیر کسی تعصب کے واضح استدلال پر مبنی ایک خالص علمی جائزہ پیش کرے، جس میں قارئین اِس مسئلے میں علما وفقہا کی آرا کو بھی جان سکیں، اُن کے مابین اختلاف کا سبب بھی سمجھ سکیں، اِس نماز کے بارے میں منقول تمام روایتوں کا اُصولِ فن حدیث کی روشنی میں مطالعہ بھی کرسکیں اور آخر میں اِس تحقیق کے نتائج سے بھی استفادہ کر سکیں۔ زیرِ نظر مقالہ راقم الحروف نے اِسی مقصد سے قارئین کے لیے تالیف کیا ہے۔
علما کی آرا اور سببِ اختلاف
ہمارے دین میں ’صلاۃ التسبیح‘ کی مشروعیت کے بارے میں علما وفقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم اِس کو ایک پسندیدہ نفل نماز قرار دیتے ہیں اور اپنے استدلال کے طور پر وہ اِس باب میں مروی بعض قولی احادیث پیش کرتے ہیں۔یہ موقف عبد اللہ بن مبارک ، بعض شافعیہ، مثلاً بغوی، غزالی،محاملی، سبکی، ہيتمی اور حنفیہ میں سے ابن عابدين سے منقول ہے۔1 ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں کہ ’صلاۃ التسبیح‘ کے بارے میں منقول حدیث ضعیف ہے، تب بھی یہ نماز پڑھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ یعنی یہ نماز پڑھنا جائز ہے، اِس لیے کہ یہ فضائل کے باب کی چیز ہے اور فضائل و نوافل میں منقول حدیث کا صحت کے ساتھ ثابت ہونا شرط نہیں ہے۔2 جب کہ بہت سے فقہا و محدثین اورمحققین کا موقف یہ ہے کہ ’صلاۃ التسبیح‘ ایک غیر مشروع نماز ہے، اِس لیے کہ اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے اور یہ کہ یہ نماز سنت میں معروف نماز کی ادائیگی کی مجموعی ہیئت سے مختلف طریقے پر ادا کی جاتی ہے، لہٰذا یہ لازم تھا کہ ایسی نماز صحیح ومستند روایتوں ہی سے نقل ہو کر ہم تک پہنچے۔اِس کے بغیر دین میں ایسی کسی منفرد اور حاملِ فضیلت نماز کو مشروع نہیں مانا جاسکتا۔3 یہ موقف امام احمد، امام ترمذی، امام ابو جعفر العقیلی، قاضی ابو بکر ابن العربی، علامہ ابن الجوزی، فقہاے حنابلہ، بعض فقہاے حنفیہ، امام ابن تیمیہ،ابن عبدالہادی، سراج الدين القزوينی، ابن دِحیہ الکلبی، حافظ ابن حجر العسقلانی، علامہ شوکانی، محمد الامیر المالکی، امام ابن باز اور امام ابن عثیمین نے اختیار کیا ہے ۔4
علما کے اِس اختلاف کا اصل سبب اِس نماز کے بارے میں منقول احادیث کا ثبوت یا عدم ثبوت ہے۔ جن اہل علم کی راے میں اِس باب کی روایتیں قابلِ قبول ہیں، وہ اِس نماز کی مشروعیت کے قائل ہیں اور جن کے نزدیک فضائل و نوافل کے باب میں ضعیف حدیث قبول کی جاسکتی ہے، وہ احادیثِ باب کے ضعف کا اعتراف کرتے ہوئے بھی اِس نماز کی ادائیگی کو جائز سمجھتے ہیں۔ اور جن محققین کے نزدیک اِس نماز سے متعلق کوئی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ فضائل کے باب میں اِس طرح کی کوئی نماز قبول کی جاسکتی ہے، وہ اِس کو ایک غیر ثابت وغیر مشروع نماز قرار دیتے ہیں۔
’صلاۃ التسبیح‘ کا اصل ماخذ اور تعارف
قارئین کو بنیادی طور پر یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اِس نماز کے حوالے سے جو چیز اصل ماخذِ استدلال کی حیثیت رکھتی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بعض قولی روایات ہیں، جو بعض صحابہ کی وساطت سے احادیث کے بعض مراجع میں نقل ہوئی ہیں۔اُن روایتوں کے تمام طرق و شواہد کا اصولِ روایت ودرایت کی رو سے مفصل تحقیقی جائزہ آگے اِسی مقالے میں پیش کیا جائے گا۔ سندی حیثیت سے قطع نظریہاں اِس نماز کے صرف ایک اجمالی تعارف کی غرض سے سنن ابی داؤد سے اِس کا ایک طریق ذیل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ’’يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً‘‘.5
’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبد المطلب (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: اے عباس، اے چچا جان، کیا میں آپ کو ایک ہدیہ نہ دوں؟ عطیہ اور تحفہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو ایسی دس باتیں نہ سکھا دوں کہ جب آپ اُن پر عمل کریں گے تو اللہ آپ کے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، غلطی سے سرزد ہونے والے، جانتے بوجھتے کیے ہوئے، چھوٹے، بڑے، پوشیدہ اور ظاہر؛ سب ہی گناہ معاف فرما دے گا۔ وہ دس باتیں یہ ہیں کہ آپ چار رکعت نماز اِس طرح پڑھیے کہ ہر رکعت میں آپ سورۂ فاتحہ اور کوئی سورہ پڑھیں۔ جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں اور ابھی قیام میں ہوں تو پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں: ’سبحان اللّٰه، والحمد للّٰه، ولا إله إلا اللّٰه، واللّٰه أكبر‘۔ پھر رکوع کریں تو حالت رکوع میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر رکوع سے سر اٹھائیں تو قومہ میں بھی دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدہ کریں تو سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھیں۔ پھر دوسرا سجدہ کریں تو اُس میں بھی دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر دوسرے سجدے سےسر اٹھائیں تو اُس موقع پر بھی دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ہر رکعت میں یہ کل 75 تسبیحات ہوئیں۔ چاروں رکعتوں میں تسبیحات کا یہ ورد آپ اِسی طرح کریں گے۔ یہ نماز اگر ہمت ہو تو روزانہ پڑھیے گا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو ہفتے میں ایک بار پڑھیے۔ اگر ہفتہ وار بھی نہ پڑھ سکیں تو مہینے میں ایک بار اہتمام کیجیے گا۔ اور اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو سال میں ایک بار پڑھ لیجیے گا۔ اگر سال میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر زندگی میں کم از کم ایک بار پڑھ لیجیے گا۔‘‘
مندرجہ بالا روایت میں اِس نماز کو ادا کرنے کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ یہ چار رکعتوں پر مشتمل نماز ہے،جسے آدمی اِس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت کے قیام میں سورۂ فاتحہ اور قرآن مجید کا کوئی حصہ پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیح ’سبحان اللّٰه، والحمد للّٰه، ولا الٰہ الا اللّٰه، واللّٰه اكبر‘ پڑھے۔ اور ہر رکعت کے رکوع،قومے،دونوں سجدوں،سجدوں کے درمیان کے جلسوں اور ہر دوسرے سجدے سے اُٹھنے کے بعد قعدے میں بیٹھ کر دس دس مرتبہ اِسی تسبیح کا ورد کرے۔ اس طرح ہر رکعت میں تسبیحات کی تعداد 75 اور چار رکعتوں میں کل 300 ہوگی ۔ اور یہ چاروں رکعتیں اِسی طرح ادا کی جائیں گی۔علاوہ ازیں، اِس کی فضیلت یہ بتائی گئی ہے کہ اِس کو پڑھنے والے کے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، غلطی سے سرزد ہونے والے، جانتے بوجھتے کیے ہوئے، چھوٹے، بڑے، پوشیدہ اور ظاہر؛ سب ہی گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
’صلاۃ التسبیح‘ کے بارے میں چند تاریخی حقائق
’صلاۃ التسبیح‘ سے متعلق بحث وتحقیق کو آگے بڑھانے سے پہلے یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اِس نماز کے بارے میں بعض تاریخی حقائق اولاً قارئین کی خدمت میں پیش کردیے جائیں ، جو درجِ ذیل ہیں:
1۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر میں یہ نماز کبھی پڑھی ہو؛ حدیث وآثار اور سیرت و تاریخ کے تمام مراجع اِس بات سے یکسر خاموش ہیں۔ یعنی آپ کا اِس پرعمل قطعاً کہیں مذکور نہیں ہے؛ نہ کسی مستند روایت میں اور نہ کسی ضعیف یا موضوع حدیث میں۔
2۔ بہ شمول خلفاے راشدین کے، پورے طبقۂ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی صحابی سے ’صلاۃ التسبیح‘ کی یہ نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے۔
3۔ طبقۂ تابعین کے عمل میں ابو الجوزاءاوس بن عبد الله ربعی کے سوا ، اِس نماز کو پڑھنے کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
4۔ فقہاے اربعہ میں سے کسی امام نے ’صلاۃ التسبیح‘ کی اِس نماز کو مستحب قرار دیا ہو، مراجعِ فقہ میں اِس بات کا بھی کہیں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
5۔ فقہاے اربعہ میں سے امام احمد نے اِس نماز کے ثبوت کی صراحتًانفی کی ہے۔6
6۔ فقہ مالکی اور فقہِ حنفی کے مراجع بھی بالعموم ’صلاۃ التسبیح‘ کی شرعیت واستحباب کے ذکر سے خالی ہیں۔7
۷۔ اکثرائمۂ محدثین نے اپنی مولفاتِ حدیث میں ’صلاۃ التسبیح‘ سے متعلق کوئی ایک روایت بھی نقل نہیں کی ہے۔ اصلی مصادر میں سے ایسی کتبِ حدیث و آثار تاریخی ترتیب کے ساتھ حسبِ ذیل ہیں:
1۔جامع معمر بن راشد (153ھ)
2۔موطا مالک (179ھ)
3۔احاديث اسماعيل بن جعفر مدنی (180ھ)
4۔الآثار، قاضی ابو يوسف (182ھ)
5۔الآثار، محمد بن الحسن الشيبانی (189ھ)
6۔جامع ابن وہب (197ھ)
7۔مسند طیالسی (204ھ)
8۔مسند شافعی (204ھ)
9۔مسند حمیدی (219ھ)
10۔سنن سعید بن منصور (227ھ)
11۔مسند ابن جعد (230ھ)
12۔مصنف ابن ابی شیبہ (235ھ)
13۔مسند اسحاق (238ھ)
14۔مسند احمد (241ھ)
15۔الزہد،ہناد بن سری (243ھ)
16۔مسند عبد بن حمید (249ھ)
17۔سنن دارمی (255ھ)
18۔صحیح بخاری (256ھ)
19۔صحیح مسلم (261ھ)
20۔مسند حارث (282ھ)
21۔السنۃ، ابن ابی عاصم (287ھ)
22۔الآحاد والمثانی، ابن ابی عاصم (287ھ)
23۔السنۃ، عبد اللہ بن احمد (290ھ)
24۔مسند بزار (292ھ)
25۔السنن الصغریٰ، نسائی (303ھ)
26۔السنن الکبریٰ، نسائی (303ھ)
27۔مسند ابی یعلیٰ (307ھ)
28۔منتقی ابن جارود (307ھ)
29۔مسند سرَّاج (313ھ)
30۔مستخرج ابی عوانہ (316ھ)
31۔شرح معانی الآثار، طحاوی (321ھ)
32۔شرح مشکل الآثار، طحاوی(321ھ)
33۔مسند شاشی (335ھ)
34۔معجم ابن اعرابی (340ھ)
35۔معجم الصحابۃ، ابن قانع (351ھ)
36۔صحیح ابن حبان (354ھ)
37۔سنن دار قُطنی (385ھ)
38۔فوائد تمام (414ھ)
39۔مستخرج ابی نعیم (430ھ)
40۔معرفۃ الصحابۃ، ابى نعيم (430ھ)
41۔مسند شہاب (454ھ)
سو یہ بات یہاں ذہن نشین رہے کہ دوسری صدی ہجری سے پانچویں صدی ہجری تک حدیث و آثار کے مندرجہ بالا مصادرِ اصلیہ ’صلاۃ التسبیح‘ کے ذکر سے بالکل ساکت ہیں۔ اور اِن میں موطا مالک، الآثار، ابو یوسف، الآثار، محمد بن الحسن، مسند طیالسی، مسند شافعی، مسند حمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند اسحاق، مسند احمد، سنن دارمی،صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند بزار، سنن النسائی الصغریٰ، سنن النسائی الکبریٰ، مسند ابی یعلیٰ، شرح معانی الآثار، طحاوی، شرح مشکل الآثار، طحاوی، صحیح ابن حبان اور سنن دارقطنی جیسی مقبول ومعروف کتب بھی شامل ہیں۔ اِس سے یہاں ایک نہایت اہم علمی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اِن اکثر محدثینِ کبار نے اپنی اِن مولفات میں اِس نماز کا ذکر اور اِس کے ثبوت کی کسی بھی روایت کی تخریج آخر کیوں نہیں کی؟
ظاہر ہے کہ اِس کی دو میں سے ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے:ایک یہ کہ اِن اصحابِ حدیث کو اِس باب کی کوئی روایت اپنے کسی شیخ کے یہاں سے نہیں ملی تھی، لہٰذا درج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے یہ کہ ’صلاۃ التسبیح‘ کی روایات تو اِن اصحابِ حدیث کے علم میں بھی آئی تھیں، لیکن قواعدِ فنِ حدیث کی رو سے اِن کے نزدیک یہ درجۂ صحت کو نہیں پہنچتی تھیں، اِس لیے اِن میں سے کسی نے اُن کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا،ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ صحت کے ساتھ نقل ہونے والی ایک ایسی نفل نماز جو اپنی ہیئتِ ادائیگی میں نہ صرف یہ کہ انفرادیت رکھتی تھی، بلکہ ایک غیر معمولی اجر وفضیلت کی حامل نماز بھی تھی اور اِس کے باوجود یہ اکابر علماے حدیث اِس سے صرفِ نظر کرجائیں۔
چنانچہ اِس تفصیل سے یہ متحقق ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا علماے حدیث کے نزدیک ’صلاۃ التسیح‘ سے متعلق کوئی حدیث ’صحیح‘ اور قابلِ اعتبار نہیں تھی اور اِسی بنا پر اِنھوں نے اپنی اِن مدونات میں اِس باب کی کسی روایت کو درج کرنا قبول نہیں کیا۔
[باقی]
- ۔ دیکھیے: المجموع شرح المہذب، نووی4/ 55۔ نہايۃ المحتاج2/ 123-124۔ الدكتور خالد الحايك، التّنقيح والتّرجيح للاختلاف الواقع فی صلاة التّسبيح۔
- ۔ دیکھیے:المغنی، ابن قدامہ 2/98۔
- ۔ دیکھیے: الموسوعۃ الفقہيۃ الكويتيۃ، وزارة الاوقاف والشئون الاسلاميۃ، الكويت، ص 27، 150۔ 151۔
- ۔ دیکھیے: الموسوعۃ الفقہيۃ، الدرر السنيۃ، كتاب الصلاة الباب السابع: صلاة التطوع، الفصل الاول: اقسام صلاةالتطوع، المبحث الثالث: السنن المؤقتۃ، المطلب الخامس: صلاة التسبيح (التسابيح)۔ اور دیکھیے: الدكتور خالد الحايك، التّنقيح والتّرجيح للاختلاف الواقع فی صلاة التّسبيح۔
- ۔ سنن ابی داؤد، رقم1297۔
- ۔ دیکھیے:المغنی، ابن قدامہ 2/98۔
- ۔ دیکھیے: الموسوعۃ الفقہيۃ الكويتيۃ، وزارة الاوقاف والشئون الاسلاميۃ، الكويت،ص27، 150۔151 ۔