مواد پر جائیں

عدالت ِالہٰی میں پیغمبر کا مقدمہ

محمد ذکوان ندوی اردو

قرآن کوچھوڑنے اور اُس سے غفلت و اعراض کرنے والے آخرت میں جب اپنی اِس بدبختی پر ماتم کررہے ہوں گے، اُس وقت خود اللہ کا رسول اُن کے اِس جرم کی گواہی دیتے ہوئے خدا کے سامنے اُن کی ایک شکایت درج فرمائے گا، اور وہ ہے مسلمانوں کا قرآن مجید کو ’کتاب ِ مہجور‘ بنا دینا۔ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ’وَ قَالَ الرّسُولُ یٰرَبِّ اِنّ قَومِی اتّخَذُوا ہذَا القُراٰنَ مَہْجُورًا‘ (الفرقان 25: 30)، یعنی رسول کہے گا کہ پروردگار، میری قوم کے اِن لوگوں نے قرآن جیسی اِس عظیم کتاب کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا۔

واقعات بتاتے ہیں کہ گذشتہ ’مسلمانوں‘ (یہود و نصاریٰ) کا جرم بھی یہی تھا اورموجودہ مسلمانوں کا جرم بھی یہی ہے۔یہود ونصاریٰ نے خدا کی نازل کردہ کتاب پر ایمان کا دعوی کرنے کے باوجود عملاً کتاب اللہ کو اپنے تمام معاملات میں پس پشت (فنبذوہ وراء ظہورھم) ڈالتے ہوئے اُس کو معیارِ قول وعمل کے مقام سے ہٹاکر صرف ایک ثانوی (secondary) درجہ دے رکھا تھا۔

چنانچہ موجودہ زمانے کے اکثر مذہبی اور غیر مذہبی مسلمانوں نے بھی کتاب اللہ کے معاملے میں یہی طریقہ اختیار کررکھا ہے، یعنی اعتقاداً قرآن ایک قومی کتاب ہونے کے باوجود عملاً ہماری زندگی میں ’کتا ب ِہدایت‘کی اصل حیثیت کے اعتبار سے باقی نہیں رہا۔وہ ہمارے مدارس، مساجد،اسلامی اسکولوں، کالجوں،خانقاہوں،اکیڈمیوں، یونی ورسٹیوں اور ہمارے جامعات میں پڑھے اور پڑھائے جانے والا صرف ایک ثانوی ماخذ اور ایک مقدس نصاب بن کررہ گیاہے، نہ کہ ہماری زندگی اور ہمارے نظامِ تعلیم و تربیت کا مرشد ِاوّلیں اور اصل مرکز ِفکر و حیات۔

چنانچہ عملاًیہ ہوا کہ قرآن کو ہمارے منبرومحراب اور جبہ ودستار کے لیے باعث ِزینت تو بنایا گیا، مگر اُسے ہمارے درمیان ماخذ ِرشد و ہدایت قرار نہ دیاجا سکا۔ہمارے درمیان شیخ التفسیراور شیخ المشائخ جیسے مناصب متعین کیے گئے، مگر خود قرآن کو کبھی اِس قسم کاکوئی مقام نہیں دیا گیا۔ ہمارے درمیان دینی امور کے فیصلوں کے لیے دارالقضا ودارالافتا کے مذہبی ادارے اور مفتی و قضاۃ تو بنائے گئے، مگر خود قرآن کو عملاً کبھی اِس مقامِ قضا واِفتاکا فیصل قرار نہیں دیاگیا۔ہمارے اداروں میں ایک قسم کی اضافی مذہبی کشش کے طورپر قرآن کو شامل نصاب کرکے اُسے شہرت و تجارت کا ذریعہ تو بنایا گیا، مگر ہمارے پورے نظامِ تعلیم میں قرآن کو اصل عامل وحکم راں کی حیثیت نہ دی جاسکی۔قرآن کو اپنی محفلوں کا عارضی حسن آغاز تو بنایاگیا، مگر اُسے اپنی زندگی کے لیے دائمی نقطۂ آغاز نہ بنایاجا سکا۔قرآن کو اپنے وعظ وارشاد، اپنی علمی اور مذہبی تحقیقات اوراپنے مذہبی لٹریچر کا سرنامہ توبنایاگیا، مگراِس میدان میں کبھی کتاب اللہ کو معیارِ مطلق کا درجہ نہیں دیاگیا۔قرآن ہمارے مذہبی اور تعلیمی نظام میں ایک”قاعدۂ بغدادی“تو بن سکا، مگراب تک اُسے ہمارے اِس پورے نظام میں قاعدہ و بنیاد اور اصل الاصول کی حیثیت حاصل نہ ہوسکی۔

یہی ہے قرآن کو اپنے درمیان”کتابِ مہجور“بنادینا اوریہی ہے ہمارا وہ جرم جس کا مقدمہ کل روزِ محشر خداوند ِذوالجلال کی عدالت میں خود پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمارے خلاف عائد ہونے والا ہے۔کیا ہم میں سے کوئی ہے جو خدا کی عدالت میں دائر اِس مقدمے کی پیروی کر سکے؟ کتاب اللہ کے سوا جن چیزوں پر آج ہم نے اپنا سارا وقت اور توانائی صرف کررکھی ہے، کیا ہم اُن کے ذریعےسے خود پیغمبر کی طرف سے عائد کیے جانے والے اِس مقدمے کی تردید کرسکیں گے؟