حضورِ قلب کی لذت تلاش کرتا ہوں
بہت گراں ہے طبیعت پہ اب یہ محرومی
یہ جانتا ہوں اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں
جنید ہوں میں اگرچہ نہ عارفِ رومی
ہزار غم ہو مگر قبلۂ نگاہِ نیاز
وہی دیارِ محبت، وہی جلال و جمال
سوادِ ظلمت ِ شب کے حجاب میں بھی حضور
یہی ہے دین و شریعت کا منتہاے کمال
مری دعا میں وہی گریۂ سحرگاہی!
زہے نصیب کہ پھر اُن کی بارگاہ میں ہوں