مواد پر جائیں

عقلِ محض، واجب الوجود اور سنگولیریٹی

محمد دین جوہر اردو

عہد جدیدیت میں انسان نے جو افکار اور اعمال پیدا کیے ہیں، ان میں عقل اور عقلیت کی حیثیت ہر لحاظ سے مرکزی ہے، اور عقلیت کا کوئی جدید تصور اور عمل تحریکِ تنویر کے تعینات سے باہر نہیں ہے۔ عقل کا تنویری تصور عقلِ محض کا ہے۔ عقلِ محض کے کارہاے نمایاں اس قدر محیرِ آدم ہیں کہ مسلمانوں نے ڈھنگ سے ابھی اس کا احاطہ بھی نہیں کیا ہے۔ بہ تدریج انسانی علم اور عمل کی اساسات عقلِ محض پر منتقل ہو چکی ہیں۔ جدید دنیا عقلِ محض کے کرشمات کا جلوہ ہے، اور اس عقل نے انسان کو بھی اندر باہر سے بالکل بدل کاکر رکھ دیا ہے۔

اس وقت ہمارے سامنے بہ طور مسلمان بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم عقلِ محض کے متداول تصور کو قبول کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے سامنے آتا ہے کہ روایت کے انہدام کے بعد، اور تجدد کے ظہور اور غلبے کے بعد مسلمانوں کی پیدا کردہ فکر اور ان کے ہر طرح کے علوم میں عقل کا کوئی مربوط تصور سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ تعلیم میں ان کو تدریسِ سائنس کی جس قدر ضرورت ہوتی ہے، وہ نقل لگا کر یا ریس سے اپنی درسی کتابوں میں بھر لیتے ہیں، اور عقلِ محض کا خوف اس قدر ہے کہ تالیفِ قلب کے لیے درسی کتابوں کے شروع میں کچھ قرآنی آیات درج کر دی جاتی ہیں۔ ان آیات کا سائنسی متون سے کیا تعلق ہے، یہ نہ لکھنے والوں کو پتا ہوتا ہے اور نہ پڑھانے والوں کو۔ ہمارے ہاں خوش فہمی یہ ہے کہ جس طرح آدمی کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا جا سکتا ہے، اسی طرح علوم اور اداروں پر بھی کچھ آیات کا دم کر کے انھیں بھی ”مسلمان“ کیا جا سکتا ہے۔ آخر کوئی یہ کس سے کہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔

اس صورت حال میں یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ مسلمانوں کا اور کفار کا تصورِ عقل بھی مختلف ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ آدمی یہ کہے کہ مسلمانوں کی ٹانگیں سر پر ہوتی ہیں اور کافروں کی ٹانگیں دھڑ کے نیچے ہوتی ہیں۔ یا یہ کہ مسلمانوں کی کھوپڑی گول ہوتی ہے اور کافروں کی کھوپڑی چوکور ہوتی ہے۔ لیکن جب فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، کمپیوٹر یا طب پڑھانی ہو تو بھاگے بھاگے ادھر ہی جاتے ہیں۔ یہاں اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ دنیا کے سارے انسان جسم اور ملکاتِ شعور میں بالکل یکساں ہیں، لیکن مقاصدِ حیات میں، جو ارادی ہیں، لامحدود تنوع ہے، یعنی عقل میں سارے انسان ایک جیسے ہیں، اور مقاصدِ عقل اور مآل کار میں قطعی مختلف ہیں۔

گزارش ہے کہ جدید عہد میں مسلمان عقل کے جس تصور کو اختیار کر سکتے ہیں، وہ عقلِ محض ہی کا ہے۔ عقلِ محض کی علوم میں کارفرمائی سے عقلیت کے ایسے تصورات سامنے لائے جا سکتے ہیں جو مذہبی عقیدے کے مؤید ہوں۔ عقلِ محض وجودی موقف کے طور پر جن جن قضایا کو تسلیم کرتی ہے، ان کی نشان دہی کی جا سکتی ہے اور عقلی دلائل سے ہی ان کا توہم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ عقل اور اس کے زائیدہ علوم ہی ایسا دائرہ فراہم کرتے ہیں جو تمام انسانوں کے درمیان قابلِ اشتراک ہے۔ اگر مسلمان عقل کے کسی بین الانسان مشترک تصور سے لاتعلق رہتے ہیں تو وہ جدید دنیا کے کسی بھی شعبے میں شرکت کا امکان نہیں رکھتے۔ بہ طور مسلمان ہمیں عقلِ محض سے جو مسائل ہیں، ان سے نبردآزما ہونے کا محل بھی یہی ہے، اور عقل تسلیم تک پہنچنے کا راستہ بھی یہیں سے نکلتا ہے۔ اور عقلِ محض کی شمولیت اور شراکت کے بغیر جدید مذہبی شعور کی تشکیل کا منصوبہ شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ جدید مذہبی شعور اگر متمنی ہے کہ وہ عقل کے دائرۂ کار کو پہلے سے متعین کر دے یا کسی طرح کی تحدیدات کو خارج سے عقلِ محض پر وارد کر دے تو یہ نادانی کی حد تک پہنچی ہوئی خوش فہمی ہے۔ عقل محض اس قدر جسور ہے کہ مذہب کی شہر پناہ سے باہر اپنی دنیا آباد کرتی ہے اور جہاں پناہ بنتے ہی وہ مذہب کو شہر پناہ سمیت نگل جاتی ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ شہر پناہ کے دروازے کھول دیے جائیں اور عقلِ محض کے کارِ تعقل میں براہ راست شریک ہوا جائے اور عقل کا ہمارا جو بھی تصور ہے، اسے وہاں آزمایا جائے۔ اگر ہمارا خیال ہے کہ ہمارا تصورِ عقل الگ سے ہو اور بالکل انوکھا ہو جو صرف ہمارے لیے ہی کارآمد ہو تو یہ محالات میں سے ہے، اور ہماری بہت گہری توہم پرستی کا سبب ہے۔ عقل اپنی تحدیدات یا عدم تحدیدات اپنے کارِ تعقل میں ’work out‘کرتی ہے اور صرف یہی اس پر وارد ہوتی ہیں۔ عقل کی ناصحانہ تحدیدات کا علم میں کوئی گزر نہیں ہے۔

تحریکِ تنویر میں عقلِ محض (Pure Reason) سے مراد یہ ہےکہ عقل اپنے آپ میں، اپنے تمام تر ملکات کے ساتھ، بہ طور فاعل علمی اپنے اور اس پوری کائنات کے روبرو، اور اپنے طریقۂ کار سمیت۔ تنویری عقل جب توہمات، اسطوریات، روایات اور وحی سے اپنے آپ کو ارادتاً منقطع کر لیتی ہے تو عقلِ محض ہونے پر فائز المرام ہو جاتی ہے۔ عقلِ محض کی تشکیل اور کارفرمائی کے لیے ضروری ہےکہ وہ نفسی داعیات از قسم غضب اور شہوت سے بھی بالاتر ہو کر اپنے کام کو سامنے لائے۔ آگے چل کر تحریک تنویر کے آدرشوں میں رومانوی آرزوئیں بھی شامل ہو گئیں تو عقلِ محض کے اس تصور میں ایک ’heroism‘ بھی داخل ہو گیا اور جدید انسان ایک غیرمعمولی جرأت کے ساتھ پوری کائنات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ آج کی دنیا جدید انسان کی اسی حیرت انگیز جرأت سے پیدا ہوئی ہے۔ رومانوی اثرات کی وجہ سے جدید علوم اور افکار و اعمال میں ایک دھارا ’apocalypse‘ کا شامل ہو گیا ہے، اور عقل محض کی پیدا کردہ جدید تہذیب کسی فرخندہ فرجامی سے بہرہ مند نہیں ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ عقلِ محض مبد (origin) کے معاملے میں سائل ہے اور انجام (end) کے معاملے میں ہائل۔ گزارش یہ ہے کہ عقلِ محض کا تصور اگرچہ کانٹ کا مانجھا ہوا ہے، لیکن یہ ہر طرح کے علوم میں برابر جاری رہی ہے، اور جدید علم الکلام میں بھی یہی عقل کارفرما ہے۔

یہاں میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ عقلِ انسانی اپنے آپ کو کوئی بھی عنوان دے کر بھلے سائنس میں کام کرے، بھلے علم الکلام میں غیب و شہود کے قلابے ملائے، بھلے مابعد الطبیعات کے فلسفیانہ جھولے آسمانوں میں ٹانکتی پھرے، بھلے مسئلۂ خیر و شر کے روبرو ڈکراتی رہے، اس کا اصولِ کار ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ ہمارا کلاسیکل علم الکلام بالکل ویسے ہی عقلی تھا، جیسے آج کی سائنس ہے، ایک انتہائی بنیادی فرق کے ساتھ کہ اول الذکر میں عقل نے علم کو تشبیہی نہیں ہونے دیا، جب کہ سائنس خشتِ اول سے ارادتاً تشبیہی علم ہے۔ ”ارادتاً“ کی یہ تخصیص علم الکلام پر بھی یکساں وارد کی جا سکتی ہے۔ اس سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کارِ عقل منطقی اور مقاصدِ عقل ارادی ہوتے ہیں۔ ارادی ہونے کی وجہ سے مقاصدِ عقل ”عقیدے“ (belief statement) سے حاصل ہوتے ہیں۔ علم الکلام یہ اصول اپنے عقیدے سے اخذ کرتا ہے، جو وحدت ہے اور وہ شعور اور اس کے حاصلات پر یکساں وارد ہوتا ہے۔

جدید علوم میں دو انتہائی بڑے اور بنیادی مسائل ہیں۔ شعور کے تناظر میں یہ وحدتِ اصول اور وحدتِ علوم کا ہے، جس کا اظہار فزکس میں ’unified theory‘ کی تلاش کے عنوان سے سب کے علم میں ہے، جس میں کامیابی مخدوش، بلکہ ناممکن ہے۔ جدید علوم کا دوسرا بڑا مسئلہ وجود کے تناظر میں مبدا (origin) کا ہے۔ وحدت (unity) اور مبدا (origin) کے یہ دو بڑے مسائل ایسے ہیں جو علوم کے اندر رہتے ہوئے لاینحل ہیں، یعنی یہ دونوں عقلِ محض کے حاصلات کے طور پر سامنے نہیں لائے جا سکتے، کیونکہ یہ دونوں مسائل عقلی نہیں ہیں، عقلِ محض کی وجودی ضرورت ہیں۔ یہ عقل اور علوم پر اور مباحث وجود میں صرف باہر سے داخل کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں مبدا کا مسئلہ زیادہ بنیادی اور گہرا ہے، اس لیے جدید انسان نے اس کا جواب اپنے توہماتی ’belief statement‘ سے حاصل کیا ہے کہ مادہ اور حیات ازخود وجود میں آئے ہیں، اور شعور بھی مادی ہے۔ یہ جواب عقلی نہیں ہے، بلکہ سینہ زوری ہے۔ یہ وجودی موقف ہے اور یہ عقل سے حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ عقل کا رہنما ہے۔ عقیدہ بھلے جیسا بھی ہو، وہ شبستان وجود میں عقل کو راہ دیتا اور اس پر جما کے رکھتا ہے، بھلے وہ راہِ راست ہو بھلے کج۔ بگ بینگ اور نظریۂ ارتقا مادے اور حیات کے ازخود وجود میں آنے کے ’belief structures‘ ہیں، اور بالکل ہی غیر عقلی اور ’pathetic‘ ہیں۔ مذہبی عقیدہ انسان کی سرشاری کا باعث ہے اور اس کی ’becoming‘ کا زینہ ہے۔ بگ بینگ اور نطریۂ ارتقا وقت کی نئی تقویم قائم کرنے سے کسی حد تک ’plausible‘ ہو گئے ہیں، ورنہ یہ دونوں بدترین درجے کی توہم پرستی اور مشرکانہ دہریت ’paganism‘ ہیں۔ اول الذکر نے وقت کو کائناتی (cosmic) بنا کر، اور مؤخر الذکر نے وقت کو ارضیاتی (geological) بنا کر انسان اور اس کے تجربے سے لاتعلق کر دیا ہے۔ وقت اور فاصلے کے سائنسی پیمانے انسانی شعور کے لیے قطعی نامانوس اور بے معنی ہیں، کیونکہ وہ ان کے احتوا کے قابل ہی نہیں ہے۔ یہ محض ریاضیاتی رقوم ہیں جو قطعی مجرد ہیں، اور جن کو مساواتوں میں استعمال کر کے سائنسی التباس پیدا کیا جاتا ہے۔

سائمن ویل (Simone Weil)نے کوانٹم میکانکس کی دریافت کے بعد کہا تھا کہ ہمارے پاس سائنس ہوا کرتی تھی اور کوانٹم میکانکس کے بعد آج اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ سو سال ہونے کو آئے ہیں اور کوانٹم میکانکس کے کسی بھی ایک بڑے مسئلے کے حل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ کہا جاتا ہے کہ کائناتی اور ذراتی اسکیل پر ”قوانینِ“ فطرت دھڑام ہو جاتے ہیں۔ ذراتی اسکیل پر مادی وجود جو مظاہر سامنے لا رہا ہے، ان کا ”علم“ ممکن نہیں رہا اور جب علم ہی ممکن نہیں رہا تو کسی قانونِ فطرت کی معلومیت کا امکان بھی نہ رہا۔ یہاں دو باتیں توجہ طلب ہیں کہ کانٹ کا یہ موقف کہ صرف مظاہر کا علم ممکن ہے، قائم نہ رہ سکا۔ اور دوسری بات یہ کہ انتہاے علم پر ’origin‘ کا وجودی موقف بھی عقلی طور پر ثابت نہ ہو سکا اور توہم بن گیا۔ معاملہ یہاں نہیں رکتا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے کہ بگ بینگ سے ورا ایک ’all singularity‘ فرض کی جاتی ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ یاد رہے کہ امتیازاتِ وجود علم کی بنیاد ہیں اور ’all singularity‘ میں ایک ایسے وجود کو فرض کیا گیا ہے جس میں داخلی یا خارجی کسی قسم کے امتیازات نہیں ہیں، اور نہ اس کا کوئی علم ممکن ہے۔ جدید سائنس نے انسان کو شعور و وجود کے ویرانے میں لا کر اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے کہ کوئی عقیدہ باقی ہے اور نہ کوئی علم۔

مذہبی علم الکلام اور عرفان نے ان مسائل کا جس طرح سامنا کیا ہے، وہ غیرمعمولی ہے۔ علم الکلام نے وجود کے مظہر کو موضوع بنایا اور واجب الوجود کی صورت میں اس کا جو حل پیش کیا، وہ عقل اور عقیدہ، دونوں کے لیے ثقہ اور ’fulfilling‘ ہے۔ واجب الوجود سے عرفانیات کا سفر شروع ہوتا ہے اور جو بہت ثقہ طور پر وجود کے ہر مرتبے پر علم کے اعتبارات قائم کرتا چلا جاتا ہے، اور وجود بسیط، یا غیب الغیب، یا ذاتِ بَحت کے مرتبے میں سارے اعتبارات ختم ہو جاتے ہیں اور وہی مرتبہ منقطع الاشارات کا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جہاں ہر طرح کا علم ساقط ہو جاتا ہے۔ علم الکلام میں عقل واجب الوجود کا اثبات سلبی طور پر کرتی ہے اور عقلاً یہی ممکن ہے۔ واجب الوجود براہ راست عقل کے لیے ’نامعلوم‘ کے درجے میں ہے۔ فزکس میں شہود کے خاص مرتبے میں علم کا سفر انجام پذیر ہو جاتا ہے اور سارے ’laws of physics‘ ختم ہو جاتے ہیں، یعنی ان مظاہر کا کوئی عقلی علم ممکن نہیں رہتا۔ دوسری طرف ’all singularity‘ ایک مابعدالطبیعاتی مفروضے (وجودِ بسیط) کے طور پر فرض کی گئی ہے۔ درجۂ شہود میں ہی، مظاہر وجود کے روبرو، عقل انسانی کی فعلیت کا انجام پذیر ہو جانا اور ’all singularity‘ کو ایک مابعدالطبیعاتی مفروضے کے طور پر قائم کرنا انسانی شعور کی ’archetypal functioning‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ ان مسائل کو علم الکلام اور عرفانیات میں جس طرح زیر بحث لایا گیا ہے، عقل کی درست فعلیت وہی ہے۔