اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور خاتم النبيين حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہم مسلمانوں کو قربِ قیامت کی ایسی واضح نشانیوں سے آگاہ فرمایا ہے جن سے نہ صرف ہم اپنے رب اور پیغمبر کی حقانیت کی رواں تصدیق کر سکتے ہیں، بلکہ ان کی بنیاد پر ہر دور میں اپنی حکمتِ عملی اور ردِّ عمل کو بھی درست منہج پر استوار کر سکتے ہیں۔
مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ ان نشانیوں کی غلط تعبیرات کے باعث من حيثُ الامّت ہم مرحلۂ تاريخ غلط متعین کر رہے ہیں اور اسی لیے حکمتِ عملی بھی۔ میری تحقیق کے مطابق تقریباً سب نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔ نتائج پر بحث تو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، اس نشست میں قربِ قیامت کی نشانیوں پر نہایت مختصر بحث کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کس نشانی کا کیا مطلب تھا اور اگر وہ پوری ہو گئی تو کب اور کہاں پوری ہوئی؟
اگر قربِ قیامت کی چھوٹی بڑی سب نشانیوں کو ملا لیا جائے تو ان کی تعداد شاید بیسیوں میں ہو۔ میں نے، مگر چودہ بڑی نشانیوں کی فہرست بنائی ہے، جن کی وجہِ انتخاب آپ کو ساتھ ساتھ سمجھ میں آتی جائے گی۔
علامات کب اور کہاں پوری ہوئیں؟ پوری ہو گئیں یا نہیں؟
بعثت المسیح عیسٰی ابن مريم علیہما السلام
بعثت النبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
غلامی کا خاتمہ
عربوں کا عمارتوں کی بلندی میں مقابلہ
زمین کا جانور
سورج کا مغرب سے نکلنا
دجّال
نزول عیسٰی ابن مريم علیہما السلام
ياجوج و ماجوج کا خروج
زمین کا دھنسنا: مشرق، مغرب، عرب
دھواں
يمن سے ایک آگ کا نکلنا
یہ ہیں وہ چودہ نشانیاں۔ یہ آپ کو گننے میں بارہ لگیں گی، مگر ان میں سے ایک دراصل تین جزوی نشانیوں پر مشتمل ہے، اس لیے شمار میں چودہ ہی ہیں۔ آئیے، ایک ایک کر کے سب کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔
پہلی دو نشانیاں سب سے بڑی اور اہم نشانیاں ہیں، جن کا تذکرہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید اور بائیبل میں فرمایا ہے۔ یعنی بعثتِ المسیح عیسٰی ابن مریم علیہما السلام اور بعثت النبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
ممکن ہے، اس فہرست میں آپ کو یہ دو نشانیاں کچھ عجیب محسوس ہوں، اس لیے ان کی مختصر وضاحت کر لیتے ہیں۔
المسیح عیسٰی ابن مريم علیہما السلام اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت
اللہ تعالیٰ وقت کے جس پیمانے پر ہم انسانوں کے ساتھ معاملہ فرما رہے ہیں، اس کی اکائی کم سے کم ہزار سالہ ہے۔ چنانچہ وہ دو اہم ترین واقعات جو انسانیت کی لاکھوں نہ سہی ہزاروں سال پر محیط زندگی میں اختتامی چکر، یعنی’final lap‘ کے آغاز کا اعلان تھے، وہ انھی دونوں پیغمبروں کی بعثت تھی۔
چنانچہ المسیح، حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں خاص قیامت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ.
(الزخرف 43: 61)
’’(اِن سے کہو، اے پیغمبر کہ) یقیناً وہ (یعنی عیسٰی علیہ السلام) قیامت کی ایک بڑی دلیل ہے تو اُس کے برپا ہونے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘
اور اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد سے قیامت کی ضروری علامات پوری ہو جانے کے متعلق قرآن میں ہے کہ:
فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ.
(محمد 47: 18)
’’تو اب یہ اِسی کے منتظر ہیں کہ قیامت اِن پر اچانک آجائے۔ سو یاد رکھیں کہ اُس کی علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں۔ پھر جب وہ اِن پر آ ہی جائے گی تو اِن کے لیے اِن کے سمجھنے کا موقع کہاں ہو گا!‘‘
اور خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
بعثت أنا والساعة كهاتين.
(بخاری، رقم 6504)
’’ میں اور قیامت اس طرح ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ (اور اپنے ہاتھ مبارک کی دو انگلیاں ملا کر دکھائیں)۔‘‘
اسی نوعیت کی عبارتیں بائیبل میں بھی ہیں، مگر ان میں جانے کا یہاں وقت نہیں۔ چنانچہ يہود و نصاریٰ کے ہاں بھی قربِ قیامت کا تقريباً یہی نقشہ ہے، لیکن چونکہ یہود نے ان دونوں پیغمبروں کو نہیں مانا اور نصاریٰ نے ایک کو، اس لیے نقشہ ایک ہونے کے باوجود طے کردہ سنگِ میل مختلف ہوگئے اور يہود و نصاریٰ نقشے کے گزرے ہوئے حصوں میں کھو کے رہ گئے ہیں۔
چنانچہ یہ دونوں نشانیاں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پوری ہو چکیں اور ان کی تاريخی تعيين میں کسی بحث کی ضرورت نہیں۔
غلامی کا خاتمہ( 1948ء اقوام متحدہ) اور عربوں کی عمارتوں کی بلندی میں مقابلہ بازی
اگلی دونوں نشانیاں اس حدیث میں وارد ہوئی ہیں، جو حدیثِ جبریل کے نام سے موسوم اور ذخیرۂ حدیث کی مستند ترین احادیث میں سے ہے۔ اس میں اسلام، ایمان اور احسان کے متعلق سوالات کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کی نشانیوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم بس یہی دو نشانیاں ارشاد فرماتے ہیں:
یعنی یہ کہ باندی اپنا آقا جن دے گی اور یہ کہ عرب کے ننگے پاؤں ننگے بدن مفلس چرواہے عمارتوں کی بلندی میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوں گے۔ (مسلم، رقم 99)
’باندی اپنا آقا جن دے گی‘ غلامی کے خاتمے کی تمثیل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ غلامی کے خاتمے کی قومی تحریکیں اور اقدامات اٹھارھويں اور انیسويں صدی عیسوی میں ایک ایک کر کے ہونے شروع ہوئے، یہاں تک کہ 1948ء میں انسانی حقوق کے آفاقی منشور کو اقوام متحدہ میں منظور کر لیا گیا، جس کے تحت عالمی سطح پر غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
اسی طرح عربوں کے مابین عمارتوں کی بلندی کا مقابلہ بھی چشمِ فلک پچھلی چند دہائیوں سے دیکھتی آ رہی ہے۔ کیسے برج خلیفہ کو باقاعدہ دنیا کی بلند ترین عمارت بنانے کے ارادے سے بنایا گیا۔ کیسے مکہ کے کلاک ٹاور کو بھی بلند ترین عمارتوں میں شامل کیا گیا، اور کیسے اب جدّہ ٹاور برج خلیفہ کا بھی ریکارڈ توڑنے جا رہا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں نشانیاں پوری ہو چکیں۔
اگلی دس نشانیاں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ایک ہی روایت میں اکٹھی بیان فرما دیں کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک یہ دس نشانیاں پوری نہ ہو جائیں۔ ایک ایک کر کے ان کو سمجھتے ہیں۔
زمین کا جانور ( منگول حملہ)
’زمین کا جانور‘ اصل میں عربی الفاظ ’دابّۃ الارض‘ کا ترجمہ ہے۔ ’دابّۃ‘ کا مطلب جانور یا حیوان کے ہیں اور ’ارض‘ زمین کو کہتے ہیں۔
یہ دراصل بائیبل کی ایک اصطلاح ہے، جو ظالم بادشاہوں کے لیے ایک استعارہ ہے۔ چنانچہ جو بادشاہ اہل ايمان کے ساتھ بڑے پیمانے پر وحشیانہ سلوک کرتے ہیں، انھیں اس اصطلاح کے ذریعے سے جانوروں اور حیوانوں سے تشبیہ دے دی گئی ہے۔
مسلمانوں کے حق میں یہ منگول حملے کی طرف اشارہ تھا، جو تیرھويں صدی عیسوی میں پورا ہو چکا۔1
سورج کا مغرب سے نکلنا1500ء( مغربی اقوام کا عروج)
سورج کے مغرب سے نکلنے کی تمثيل کا اشارہ دنیا کی باگ ڈور مغربی اقوام کو منتقل ہو جانے کی طرف تھا، جو پندرھويں صدی عیسوی یا اس سے بھی کچھ پہلے سے شروع ہو کر اب تک جاری ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعض روایات2 میں ان دونوں نشانیوں، یعنی زمین کا جانور اور سورج کے مغرب سے نکلنے کو یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہونے والے واقعات قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یا تو سورج مغرب سے پہلے نکلنا تھا اور جانور بعد میں، اور یا جانور پہلے نکلنا تھا اور مغرب سے سورج بعد میں، مگر ایک کے پیچھے دوسرے کے نکلنے کی پیش گوئی تھی۔ چنانچہ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ جانور پہلے نکلا اور مغرب سے سورج بعد میں۔
اگلی دونوں نشانياں بھی باہم متعلق ہیں، اس لیے انھیں اکٹھا ہی زیرِ بحث لاتے ہیں۔
دجّال (19/20 ویں، اشتراکیت) اور نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ( 19/20 ویں،مسیحیت)
دجال، دراصل المسيح الدجال ہے۔ دجال عربی میں جھوٹے، فریبی اور دھوکے باز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ پوری اصطلاح کا مطلب ہے: جھوٹا مسیح۔ مسیح ویسے تو تاريخ يہود میں انبیا، بلکہ بادشاہوں کے لیے بھی عام لفظ تھا، مگر اسم معرفہ، یعنی المسیح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لیے خاص ہو گیا۔ تاہم، بعد میں محاورتاً یہ نجات دہندہ کے مفہوم کے لیے عام بھی ہو گیا۔ اس نشانی میں یہ اسی محاورے کے لیے استعمال ہوا ہے تو مطلب ہوا: جھوٹا نجات دہندہ، یعنی ایک ایسا شخص یا نظریہ جو دعویٰ تو انسانیت کے نجات دہندہ ہونے کا کرے گا، مگر دراصل وہ ہو گا انسانیت کے لیے سر تا سر ضرر اور ہلاکت۔
الغرض، دجال نظريۂ اشتراکیت، جسے انگريزی میں کمیونزم اور سوشلزم کہا جاتا ہے، کے لیے کنایہ ہے، جس سے پھر ریاستی سطح پر سائنسی الحاد یا ’scientific atheism‘ کی بنا پڑی۔
چنانچہ نماياں رياستیں جو اشتراکیت کی علم بردار بنيں، انھوں نے ریاستی مذہب سائنسی الحاد کو ہی قرار دیا۔ سو ویسے تو دجال ان تین اجزا، یعنی سائنس، الحاد اور اشتراکیت کا مرکب ہوا، تاہم ان میں سب سے نماياں اور عنوان کی حیثیت اشتراکیت ہی کوحاصل ہے، جس نے ایک منظّم نظام فکر کی حیثیت سے بڑے بڑے دانش وروں کی مَت مار دی۔
پیش گوئی کے مطابق اسے شکست دینے کے لیے حضرت عیسٰی ابن مريم علیہما السلام کو نازل ہونا تھا، جو دراصل مسیحيت کی نشاۃ ثانیہ کےلیے تمثیل تھی۔ یعنی اس دجالِ اشتراکیت کا مقابلہ پھر مسیحیت نے مسلمانوں کے تعاون سے کیا، جس کے علم بردار کی حیثیت سے امریکہ نے تمام دنیا میں اس کا بیج مارنے کے لیے دہائیوں لمبی سرد اور گرم جنگ لڑی اور آخرکار بیسويں صدی کے اواخر میں اس دجال کو اس شان سے شکست ہوئی کہ ایک طرف ديوارِ برلن ٹوٹنے کا نظارہ ساری دنیا میں لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا تو دوسری جانب اشتراکیت کا روحِ رواں، سوویت یونین، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
چنانچہ اس پوری کشمکش کو دجال اور عیسٰی علیہ السلام کے لازوال کرداروں سے مجسم کرتے ہوئے ان کے درمیان جنگ سے تعبیر کیا گیا۔ چنانچہ یہ دونوں نشانیاں بھی بیسویں صدی کے اختتام سے پہلے پاپایۂ تکمیل کو پہنچ گئیں۔
ياجوج و ماجوج کا خروج (1500ء – 1950ء مغربی نوآبادیاتی یلغار)
اگلی نشانی ياجوج و ماجوج کا خروج ہے۔ ياجوج و ماجوج اصلاً نوح علیہ السلام کے دو پوتوں کے نام تھے، جو بائیبل کی تاريخ کے مطابق وسط ایشیا اور مشرقی و جنوبی يورپ میں آباد ہوئے۔ ان کا وہ اصل وصف جس کی بنیاد پر یہ تینوں ابراہیمی ادیان میں مذموم قرار پائے، وہ ان کی چھاپہ مار مہمات اور منظّم لوٹ مار پر مبنی ذریعۂ معاش تھا، جس کے تحت یہ اپنی ہم سایہ ریاستوں کے لیے ہمیشہ دردِ سر بنے رہتے۔
علم تاريخ میں اگرچہ ان کی بعد کی نسلوں کا پتا لگانا کوئی آسان کام نہیں، تاہم اس کی اب خاص ضرورت بھی نہیں رہی، کیونکہ اس نشانی میں یہ نسلی نام اپنے توسیعی مفہوم میں ان تمام يورپی ممالک کے لیے استعمال ہو گیا ہے جنھوں نے اسی وصفِ منظّم لوٹ مار کو پوری دنیا تک وسیع کر دیا۔
چنانچہ خروجِ ياجوج و ماجوج سے مراد مغربی نو آبادیاتی يلغار(western colonization project) تھی، جو پندرھويں اور سولھويں صدی عیسوی سے شروع ہوا، جنگِ عظیم اوّل تک 84 فی صد دنیا پر قابض ہو گیا اور بیسويں صدی کے وسط کے کچھ ہی بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ یہ نشانی اپنے اسی موقع و محل کی مناسبت سے احاديث میں نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ چنانچہ یہ نشانی بھی بعینہٖ پوری ہو گئی۔
زمین کا دھنسنا: مشرق، مغرب، عرب( 1964ء،1960ء، 2004ء، انڈونیشیا، چلی، الاسکا)
زمين کا دھنسنا عربی میں لفظِ ’خسف‘ سے ادا کیا گیا ہے، جو ذلت، نیچے ہو جانے، پھٹ یا دھنس جانے یا لینڈ سلائيڈنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ دراصل اس پروسیس کا بیان ہے جس سے زلزلہ آتا ہے۔ خسف چونکہ زیرِ زمین بھی ہوتا ہے اور زیرِ آب بھی، جسے آج ہم ’سونامی‘ کے نام سے جانتے ہیں، لیکن چونکہ ماضی میں یہ امتیاز و اصطلاح ابھی وجود میں نہیں آئی تھی، اس لیے ’خسف‘ کے لفظ سے دونوں مفہوم مراد لے لیے گئے ۔
چنانچہ مشرق میں یہ زمین کے دھنسنے کا تاریخ ساز واقعہ 26؍ دسمبر 2004ء کو انڈونیشیا کے ایک جزیرے سماٹرا کے قریب بحر ہند میں 9.1 کی شدت سے پیش آیا،جس کا مشاہدہ ہم سب نے ٹی وی پر کیا،جو کم و بیش 14 ممالک میں 230،000 انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنا۔
اسی طرح مغرب میں دنیا کی تاريخ کے دو بڑے زلزلے بالترتیب 9.5 اور 9.2 شدت کے حامل 1960ء اور 1964 ءمیں الاسکا اور چلی میں رونما ہوئے۔
عرب میں، البتہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ میرے علم کی حد تک تاحال پیش نہیں آیا۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان تین میں سے یہ ایک ’خسف‘ ابھی باقی ہے۔
دھواں
اگلی نشانی عربی میں ’دخان‘، یعنی دھواں ہے۔ چونکہ اس نشانی کے بارے میں کوئی اور تفصیل ہمیں احادیث یا کتبِ سماوی میں نہیں ملتی، اس لیے اس نشانی کے بارے میں گمان ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اکیسویں صدی کے آغاز سے اب تک يورپ، روس، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ وغیرہ، یعنی دنیا کے چاروں اطراف سے بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ کی جو تفصیلات و تصاویر ہر کچھ سال بعد میسر آتی رہتی ہیں، ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ ان آگ کے بعد کئی کئی دن تک آسمان کا نارنجی و سرخ رہنا اسی نشانی کی تاویل ہے۔ اور سائنس دان اسی طرح اسے بیان بھی کر رہے ہیں کہ یہ بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ سے نکلنے والے دھويں کے ذرات کا ہوا میں معلق ہو جانے ہی کا نتیجہ ہے۔ لیکن کیا یہ نشانی پوری ہو چکی یا ابھی اسے کسی اور انتہا تک جانا ہے، اس کے بارے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کہی جا سکتی، مگر محتاط اندازے کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس نشانی کے آغاز و انتہا کے کہیں بیچ میں ہیں۔
يمن سے ایک آگ کا نکلنا
آخری نشانی، جسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی آخری کہہ کر ارشاد فرمایا، يمن سے ایک آگ کے نکلنے کی پیش گوئی ہے۔ مختلف احادیث میں اس کی صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ آگ يمن میں عدن کے نچلے حصے سے نکلے گی، دن رات لوگوں کے قیام و آرام کی جگہوں میں ان کے ساتھ رہے گی اور انھیں ہانک کر ان کے محشر کی طرف لے جائے گی۔
یہ بھی ایک تمثيل ہی ہے اور اس طرح کی تماثیل سے عموماً کسی جنگ ہی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اور آگ کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے تابکاری اثرات مراد لینے میں اب کوئی خاص رکاوٹ نہیں۔
تاہم، یہ نشانی چونکہ ابھی پوری نہیں ہوئی، اس لیے ابھی اس کے بارے میں ہمیں اپنا ذہن کھلا ہی رکھنا پڑے گا، کیونکہ تماثيل کی قسم کی پیش گوئیوں کی تاویلات تب ہی حتمیت کے درجے تک پہنچتی ہیں، جب وہ پوری ہو جاتی ہیں۔
آپ نے دیکھا۔ سواے اس آخری نشانی کے، تقريباً سب ہی نشانیاں پوری ہو چکیں۔ اور بالکل ویسے ہی پوری ہوئیں، جیسے بتائی گئی تھیں۔ اس میں ہمارے رب اور پیغمبر کی مزید تصدیق کا عظیم سامان بھی ہے اور ہمارے لیے حکمتِ عملی کی تشکیل کے لیے اہم نشانِ منزل بھی۔ چنانچہ میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں اور ان نشانیوں کے ضمن میں عجز سے کہتا ہوں کہ ’انا اوّل المؤمنين‘۔
مجھے معلوم ہے کہ جس اختصار سے اس مقالے میں ان نشانیوں پر گفتگو کی گئی ہے، ان کے بہت سے زاویے ناظرین کو شاید تشنہ محسوس ہوں اور ان پر بہت سے سوالات بھی يقیناً ان کے ذہنوں میں پیدا ہوں گے، اس لیے اپنی ويڈيو سيريز ’’دريچہ‘‘ میں ایک ایک کر کے ان سب پر تفصیلی گفتگو جاری ہے۔ ناظرین سے التماس ہے کہ اگر ان کے کوئی خاص سوالات ہوں تو وہاں کمینٹس میں درج فرمائیں۔ میں ان شاء اللہ ’’دريچہ‘‘ کی متعلقہ قسط میں انھیں بھی شامل کرنے کی سعی کروں گا۔
نوٹ: اس عنوان پر میں ایک ویڈیو بھی بنا چکا ہوں، جس کا لنک یہ ہے:
https://youtu.be/YmUt_7wXz1s
https://www.patreon.com/adnanejazkhan
Yt: @aekhan.social (urdu)
@aekhan.english
- ۔ میں اس نشانی پر ایک مفصل ويڈیو بنا چکا ہوں، تفصیل کے خواہاں اسے دیکھ سکتے ہیں:https://youtu.be/cnM5JIyz8fg
- ۔صحیح ، رقم 144۔