]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
احادیث میں حضرت عیسیٰ، یاجوج و ماجوج اور بعد کے واقعات
جیسا کہ اِس مضمون میں پہلے ذکر کیا گیا ہے، حدیث میں سوویت یونین کے زوال کا ذکر نازی جرمنی سے پہلے آتا ہے، کیونکہ تاریخی طور پر سوویت یونین کا ابھرنا نازیوں کے ظہور سے پہلے ہوا تھا۔ یہ ترتیب اُس بیانیہ طرز کو ظاہر کرتی ہے جو متوازی روایات میں اکثر ملتا ہے، جہاں واقعات کو محض زمانی اعتبار سے نہیں، بلکہ موضوعاتی ربط کے تحت ترتیب دیا جاتا ہے۔ مزید وضاحت اور تشریحی نوٹ کے لیے باب ’’یاجوج و ماجوج‘‘ کے باب میں ’’تعبیر سے متعلق سوالات‘‘ ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
یاجوج و ماجوج کے بارے میں تفصیلات ایک علیحدہ باب میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں؛ یہاں توجہ اُن کے سلسلے پر ہے کہ وہ حدیث کے وسیع تر سیاق میں کس مقام پر آتے ہیں۔ ذیل میں اُن واقعات کا زمانی خاکہ دیا جا رہا ہے، جیسا کہ وہ تاریخ میں رونما ہوئے۔
اللہ کا یاجوج و ماجوج کو بھیجنا —
نازی جرمنی کی اچانک توسیع (1939ء-1942ء)
یاجوج و ماجوج اور اُن کے وسیع تر کردار پر تفصیلی بحث پہلے علیحدہ باب میں پیش کی جا چکی ہے۔ یہاں صرف اُن کے اچانک ابھار کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے — جس کی علامت نازی جرمنی کی تیز رفتار فتوحات ہیں، جو 1939ء سے 1942ء کے درمیان وقوع پذیر ہوئیں۔
یاجوج و ماجوج کا کوہِ طور کو گھیرنا — دوسری جنگ عظیم میں اتحادی تعاون کے ذریعے سے مزاحمت (1942ء-1945ء)
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھی کوہِ طور پر یاجوج و ماجوج کے محاصرے میں آ جائیں گے، جن کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہ ہوگی۔ اُس وقت حالات اتنے سنگین ہوں گے کہ بیل کے سر کی قیمت سو دینار سے زیادہ ہو جائے گی۔ اُس کٹھن گھڑی میں نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعا کریں گے۔1
محاصرہ: یاجوج و ماجوج کی جانب سے مسلط کیا گیا محاصرہ علامتی طور پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں نازی جرمنی کی غیر معمولی علاقائی توسیع کی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً 1942ء تک، جب محوری طاقتیں یورپ کے بیش تر برِاعظمی حصے پر غالب آ چکی تھیں—شمال میں اسکینڈینیویا سے لے کر جنوب میں بحیرۂ روم تک، اور مغرب میں بحرِ اوقیانوس کے ساحل سے مشرقی یورپ کے اندرونی علاقوں تک۔ اِس عرصے میں جرمنی نے فرانس، نیدرلینڈ و بیلجیم، بلقان کے بڑے حصے، یونان، اور سوویت یونین کے وسیع علاقوں پر قبضہ یا کنٹرول قائم کر لیا تھا، جب کہ بحیرۂ روم کے محاذ کے ذریعے سے شمالی افریقہ کو بھی خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ اگرچہ جرمنی کبھی مکمل عالمی محاصرہ قائم نہ کر سکا، تاہم اِس وسیع غلبے نے ایک ایسے شدید اور ناقابلِ فرار محاصرے کا تاثر پیدا کیا جس نے اتحادی طاقتوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا اور بقا کے لیے قریبی باہمی تعاون ناگزیر بنا دیا—بالکل اُسی طرح جیسے حدیث میں یاجوج و ماجوج کی بہ ظاہر ناقابلِ روک پیش قدمی بیان کی گئی ہے۔
کوہِ طور: کوہِ طور تاریخی طور پر عہد کے مقام کی علامت ہے، جیسا کہ نبی موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کوہِ طور پر عہد لیا۔2 یہ عالمی معاہدوں اور حکمت عملیوں کی نمایندگی کرتا ہے، جن کے تحت اتحادی افواج نے دوسری جنگ عظیم میں ظالم طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ متعدد معاہدوں اور حکمت عملیوں پر اتفاق کیا گیا، جیسے:
• کاسابلانکا کانفرنس (جنوری 1943ء)
• کویبیک معاہدہ (اگست 1943ء)
• تہران کانفرنس (نومبر-دسمبر 1943ء)
• بریٹن ووڈز کانفرنس (جولائی 1944ء)
• یالٹا کانفرنس (فروری 1945ء)
بیل کے سر کی قیمت: حدیث میں یہ بیان کہ ’’بیل کے سر کی قیمت سو دینار سے تجاوز کر جائے گی‘‘۔3 دراصل کرنسی کی قوتِ خرید کے خاتمے اور شدید مہنگائی اور افراطِ زر (hyperinflation) کے آغاز کی علامت ہے، ایسی حالت جس میں زرِ مبادلہ اپنی قدر کھو دیتا ہے اور قیمتیں اپنی حقیقی قدر سے کٹ جاتی ہیں۔ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیل کا سر ایک کم قیمت ضمنی شے سمجھا جاتا تھا، اِس لیے اِس کی غیر معمولی مہنگی قیمت شدید معاشی بگاڑ کی دانستہ علامت ہے۔ اِسی نوعیت کی تصویر کتابِ مکاشفہ میں بھی ملتی ہے، جہاں اشیاے خورونوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عام آدمی کے لیے بنیادی غذا کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔4 یہ علامتی تصور خاص طور پر یونان سے اِس طرح جڑتا ہے کہ اِس سے قبل یاجوج و ماجوج کے دریاے طبریہ کا پانی پی جانے کے استعارے کو نازی قبضے کے دوران میں یونان کے وسائل کے مکمل نچوڑ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اِس کے بعد یونان نے بعینہٖ وہی کیفیت دیکھی جس کا ذکر حدیث میں ہے: 1942ء تک یونانی کرنسی تقریباً بے قدر ہو چکی تھی، شدید مہنگائی بے قابو ہو گئی تھی، حتیٰ کہ بنیادی اشیا بھی عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو گئی تھیں۔ اِس طرح یہ تاریخی صورتِ حال اُس مالیاتی انہدام اور افراطِ زر کے انتشار کو نہایت واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔
اللہ سے دعا:’’اللہ سے دعا‘‘ امریکی قیادت کی جانب سے خدا سے کامیابی کی التجا کا اظہار ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی-ڈے کی شام (جون 1944ء) صدر روزویلٹ نے قوم سے ریڈیو پر خطاب کیا اور اتحادی افواج کی کامیابی اور حفاظت کے لیے دل سے دعا کی۔ اُس دعا کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں:5
’’ …اے قادر مطلق خداوند! آج ہمارے بیٹے، جو ہماری قوم کا فخر ہیں، ایک عظیم جدوجہد پر نکلے ہیں۔ یہ جدوجہد ہماری ریاست، ہمارے دین اور ہماری تہذیب کی حفاظت کے لیے ہے، اور ایک مصیبت زدہ انسانیت کو آزاد کرنے کے لیے ہے…اُنھیں سیدھے اور سچے راستے پر رکھ؛ اُن کے بازوؤں کو قوت دے، اُن کے دلوں کو مضبوط کر، اور اُن کے ایمان میں پختگی عطا فرما … اُنھیں رات دن، بغیر کسی آرام کے، سخت آزمایشوں کا سامنا کرنا ہے، یہاں تک کہ فتح حاصل ہو جائے … جنگ کی شدت سے انسانوں کی روحیں لرز جائیں گی…تیری برکت سے ہم اپنے دشمنوں کی ناپاک قوتوں پر غالب آئیں گے۔ ہمیں لالچ اور نسلی غرور کے پیروکاروں پر فتح عطا فرما … بے شک تیری مرضی پوری ہوگی، اے قادر مطلق خداوند۔ آمین۔‘‘
یاجوج و ماجوج کی ہلاکت —
جرمنی کی غیر مشروط شکست و تسلیم (مئی 1945ء)
یاجوج و ماجوج کی تباہی کی تفصیلات اِس مضمون کے مخصوص باب میں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں توجہ صرف اُن کی تاریخی معنویت پر ہے، جو اُن کی علامتی ’’ہلاکت‘‘ کے طور پر سامنے آتی ہے — یعنی مئی 1945ء میں جرمنی کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی صورت میں۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے نازی توسیع اور جارحیت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔
یاجوج اور ماجوج کے بعد زمین کی صفائی —
جنگ کے بعد ایک نیا عالمی منظر نامہ (1945ء-1949ء)
حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھی زمین پر اتریں گے اور زمین میں ایک بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہ پائیں گے جو یاجوج و ماجوج کی لاشوں کی گندگی اور بدبو سے بھری نہ ہو۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں دو کوہان والے اونٹ کی گردنوں کی طرح ہوں گی، اور وہ اُن لاشوں کو اٹھا کر اللہ کی مرضی کے مطابق کہیں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ ایسی بارش نازل کرے گا جسے نہ مٹی کے گھر روک سکیں گے اور نہ ہی اونٹ کے بالوں کے خیمے، اور وہ زمین کو دھو ڈالے گی یہاں تک کہ وہ آئینے کی طرح صاف ہو جائے گی۔6
بدبو: یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کا زمین پر اُترنے پر ایک بالشت بھر جگہ بھی لاشوں سے خالی نہ پانا، دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں یورپ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی کی علامت ہے۔ پورے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے، کروڑوں افراد لقمۂ اجل بنے، اور پورا براعظم تباہی، لاشوں اور مصیبت زدہ آبادیوں سے بھر گیا۔
اللہ سے دعا: اللہ سے دعا جنگ عظیم دوم کے بعد امن، بھائی چارے اور دنیا کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے صدر نے جنگ جیت کر کہا:7
’’ …اب، لہٰذا، میں،… 19؍ اگست 1945ء، کو یومِ دعا کے طور پر مقرر کرتا ہوں۔ میں ریاست ہاے متحدہ کے تمام مذاہب کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہو کر خدا کا شکر ادا کریں اِس فتح کے لیے جو ہمیں حاصل ہوئی، اور دعا کریں کہ وہ ہمیں امن کے راستوں کی طرف رہنمائی اور حمایت عطا فرمائے… ‘‘
اونٹ کی گردن والے پرندے: دو کوہانوں والے اونٹ عربوں کے نزدیک اپنی شان دار وجاہت اور غیرمعمولی برداشت کے لیے مشہور تھے، جو اپنی مضبوط گردنوں اور گھنے بالوں کی بنا پر نمایاں ہوتے تھے۔ حدیث میں مذکور پرندے، جن کی گردنیں دو کوہانوں والے اونٹ کے مانند تھیں اور جو لاشوں کو اٹھا کر لے گئے، جنگ کے بعد کی اجتماعی اور وسیع پیمانے پر کی گئی کوششوں کی علامت ہیں۔ یہ اُس تاریخی مرحلے کی نشان دہی کرتے ہیں، جب جنگ کے ملبے کو صاف کیا گیا، انسانی ہم دردی کی کوششیں کی گئیں، اور جنگی جرائم کے ٹرائلز کے ذریعے سے ظلم و بربریت کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت مثال قائم کی گئی۔ نازی نظریات کے خاتمے اور جنگ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عمل بھی اسی بڑے پیمانے پر کی گئی ’’صفائی‘‘ کا حصہ تھا۔
بارش: اُس کے بعد ہونے والی بارش اُن عالمی تبدیلیوں کی علامت ہے، جنھوں نے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور نظریات کو دھو کر ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھی—جہاں نازیت، فسطائیت اور استعماری تسلط کو منظم انداز میں ختم کیا گیا۔ امریکہ کے مارشل پلان(Marshall Plan) کے ذریعے سے تباہ حال یورپ کو معاشی اور صنعتی امداد فراہم کی گئی، جب کہ اقوام متحدہ، آئی ایم ایف (I.M.F.)، اور عالمی بینک(World Bank) جیسے ادارے تشکیل دیے گئے تاکہ سیاسی اور معاشی مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے، اور عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اونٹ کے بالوں کے خیموں کا حوالہ — جو عربوں میں اپنی پایداری، خاص طور پر بارش برداشت کرنے کی صلاحیت کے لیے مشہور تھے — اور مٹی کے گھروں کا ذکر، جو اُن کی مستقل بستیوں میں عام تھے، اُن کا بہ جانا، اِس غیر معمولی تبدیلی کی شدت کو اجاگر کرتا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد واقع ہوئی اور جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا؛ یہ تبدیلی اِس زمین کی طرح ہے جو گویا آئینے کی طرح صاف کر دی گئی ہو۔
مال و دولت کی فراوانی—
جنگ کے بعدخوش حالی کا دور (1945 ء –1973 ء)
حدیث میں ذکر ہے کہ زمین اِس قدر برکت والی ہو جائے گی کہ پھل، مویشی، اور دیگر وسائل بڑی جماعتوں، قبیلوں اور خاندانوں کے لیے کافی ہوں گے۔ 8
یہ منظرنامہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور سے مشابہت رکھتا ہے، جسے گولڈن ایج آف کیپیٹلزم(Golden Age of Capitalism) (1945ء–1973ء)9 کہا جاتا ہے۔ اُس دور میں دنیا بھر میں بے مثال اقتصادی ترقی ہوئی، جس میں صنعتی ترقی، تکنیکی جدت، عالمی تجارت میں اضافہ اور زندگی کے معیار میں بہتری شامل تھی۔ مغربی دنیا اور ایشیا کے کئی ممالک نے خوش حالی کے اِس دور سے بے پناہ فوائد حاصل کیے۔
اِس کے برعکس، وہ علاقے جو کمیونسٹ پالیسیوں پر عمل پیرا تھے، خوش حالی میں تاخیر کا شکار رہے اور بعد میں آزاد معاشی حکمت عملیوں کو اپنانے کے بعد ترقی کر سکے۔ اِس مادی فراوانی کے دور کو ایک برکت والے زمانے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو دولت اور مواقع سے بھرپور تھا۔
ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا –– جنگ کے بعد کی ’Liberalism‘ کے دور کے چیلنجز (خصوصاً 1960ء کی دہائی میں)
حدیث10 میں کہا گیا ہے کہ ایک سجدہ دنیا کی تمام مال و دولت سے زیادہ قیمتی ہوگا۔
یہ حدیث اُس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عبادت کی اصل قدر اُس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب دنیاوی مال و دولت اور آسایشیں انسان کو اپنے رب کو بھولنے پر آمادہ کر دیں۔
یہ کیفیت جنگِ عظیم دوم کے بعد کے لبرل ازم کے دور میں بہ خوبی نظر آتی ہے، خصوصاً 1960ء کی دہائی میں، جب مغربی معاشرے بے مثال مادی خوش حالی سے ہم کنار ہوئے، لیکن اِسی کے ساتھ ساتھ وہاں تیز رفتار ثقافتی اور اخلاقی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں: انفرادیت کا عروج، جنسی انقلاب، روایتی خاندانی ڈھانچوں کو چیلنج، اور مذہبی اختیار کا زوال۔
یوں دنیا بہ ظاہر نعمتوں اور آسایشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن باطن میں اخلاقی اور روحانی بحران نے جنم لیا۔ اِسی پس منظر میں حدیث کا یہ پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ بندگی اور خدا کی طرف رجوع، دنیا کی تمام دولت و خوش حالی سے زیادہ قیمتی ہے۔
[ باقی]
- ۔ مسلم، رقم 2937۔
- ۔ الاعراف 7: 171۔
- ۔ مسلم، رقم 2937۔
- ۔ مکاشفہ 5: 6۔
- ۔ “Franklin D. Roosevelt’s D-Day Prayer: June 6, 1944,” The National WWII Museum, accessed May 17, 2025, https://www.nationalww2museum .org/war/articles/franklin-d-roosevelts-d-day-prayer-june-6-1944.
- ۔ مسلم، رقم 2937۔
- ۔ Victory Day Prayer,” Harry S. Truman Presidential Library and Museum, accessed May 17, 2025, https://www.trumanlibrary.gov/library/ proclamations/ 2660/victory-day-prayer.
- ۔ مسلم، رقم 2937۔ بخاری، رقم 2476۔
- ۔ “Post–World War II Economic Expansion,” Wikipedia, last modified May 17, 2025, https://en.wikipedia.org/wiki/ Post%E2%80%93World_War_II_ economic_expansion.
- ۔ بخاری، رقم 3448۔