]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بقیہ واقعات
ذیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد پیش آنے والے باقی تمام واقعات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
سؤر کو قتل کرنا ––جاپان کی سامراجیت کا خاتمہ (1942ء–1945ء)
حدیث1 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سؤر کو قتل کریں گے۔
جیسا کہ زمین کے جانور کی نشانی کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جانور مستقبل کی پیشین گوئیوں میں سلطنتوں کی نمایندگی کرتے ہیں، اور اِس سیاق و سباق میں سؤر جاپان کے سامراجی رویے اور حکمت عملی کی علامت ہے۔ ’’سؤر کو قتل کرنے‘‘ کی علامت جاپان کی شاہی سلطنت کی شکست کے مترادف ہے، جس میں امریکہ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ جاپان کی سامراجیت کو سؤر کی شکل میں پیش کرنے کی تین بنیادی وجوہات ہیں:
• جاپان کا دوغلا پن: جاپان نے ’’ ایشیا ایشیائیوں کے لیے‘‘ کے نعرے کے ساتھ ایشیا کو آزاد کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن اِس کی اپنی سامراجی پالیسیاں انتہائی استحصالی تھیں۔ یہ تضاد سؤر کی عکاسی کرتا ہے، جو بہ ظاہر بھیڑ بکری کی نسل سے دکھتا ہے، لیکن گوشت بھی کھاتا ہے۔
• لالچ اور وسائل کی بھوک: جاپان کی سامراجی توسیع کے پیچھے اِس کی صنعتی اور فوجی ضروریات کے لیے وسائل کی شدید ضرورت تھی۔ فتح کیے گئے علاقوں سے خام مال اور انسانی وسائل کا استحصال اُس کی حکمت عملی کا حصہ تھا، جو سؤر کی شدید بھوک کی علامت ہے۔
• بحری اور زمینی توسیع: جاپان نے بحرالکاہل اور بحرہند میں متعدد جزائر اور خطوں پر قبضہ کیا۔ یہ دلدلی، گرم اور نم علاقوں میں جنگوں کی نمایندگی کرتا ہے، جو سؤر کے قدرتی مسکن سے مشابہ ہیں۔
’’سؤر کو قتل کرنا‘‘ اِس عمل کی علامت ہے کہ جب امریکہ نے جاپان کی سامراجی امنگوں کو ختم کر دیا، اُس کی فتوحات روکی، اور اسے ایک جدید، غیر توسیع پسند قوم میں تبدیل کیا۔
حکمران کے طور پر نزول––
جنگ کے بعد ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرنا (1945ءکے بعد)
حدیث میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل حکمران کے طور پر نازل ہوں گے۔2
یہ حدیث عموماً ’’عدل‘‘ کی صفت کے تناظر میں بیان کی جاتی ہے، لیکن اصل اور فیصلہ کن نکتہ یہ ہے کہ اقتدار براہِ راست حضرت عیسیٰ کے ہاتھ میں ہوگا، نہ کہ مسلمانوں یا کسی اور گروہ کے پاس۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ’’عدل‘‘ کا مفہوم مفادات اور نقطۂ نظر کے اختلاف کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
اِس حکمرانی کی علامتی مثال جنگ کے بعد دنیا کے نظام کو ترتیب دینے میں امریکہ کے کردار میں دیکھی جا سکتی ہے:
• بریٹن ووڈز کانفرنس (جولائی 1944ء) — آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا قیام۔
• اقوامِ متحدہ کا قیام (اکتوبر 1945ء)۔
• یورپ کی تعمیرِ نو کے لیے مارشل پلان (1948ء)۔
• نیٹو (1949ء) — امریکی قیادت میں سلامتی کو ادارہ جاتی شکل دینا۔
یہ اقدامات عملی طور پر حکمرانی اور دنیا پر اختیار کے ٹھوس مظاہر تھے، وہی کیفیت جس کی طرف حدیث میں حضرت عیسیٰ کی حکمرانی کے بارے میں اشارہ کیا گیا ہے۔
صلیب کو توڑنا ––
کلیسائی اختیار کا زوال اور عیسائی دنیا میں سیکولرازم کا عروج (1945ء کے بعد)
حدیث3میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے۔
’’صلیب کو توڑنا‘‘ اُن سیکولر تبدیلیوں کی علامت ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد، خصوصاً مسیحی اکثریتی ممالک میں امریکی اثر کے تحت رونما ہوئیں۔
1950ء سے 1970ء کی دہائیوں تک مغربی یورپ میں کلیسا کی سیاسی بالادستی تیزی سے زوال پذیر ہوئی اور اِس کی جگہ سیکولر طرزِ حکمرانی نے لے لی۔ برطانیہ نے کلیسا کی مخالفت کے باوجود اسقاطِ حمل(Abortion) اور طلاق کو قانونی حیثیت دی؛ اٹلی نے 1974ء کے ریفرنڈم میں ویٹیکن کے دباؤ کو رد کرتے ہوئے طلاق کو برقرار رکھا؛ اور اسپین نے فرانکو کی وفات کے بعد اپنے 1978ء کے آئین میں مذہبی آزادی کو شامل کیا۔ فرانس نے سیکولر تعلیم کو مزید مستحکم کیا، جب کہ مغربی جرمنی نے کلیسائی اثر سے آزاد پیش رفت پسندانہ اصلاحات نافذ کیں۔
امریکہ نے اِن تبدیلیوں کو تیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مارشل پلان (1948ء) اور عالمی نظام میں اپنی وسیع تر قیادت کے ذریعے سے امریکہ نے سیکولر جمہوری حکومتوں کو مذہبی اداروں پر فوقیت دی۔ اُس کا تہذیبی اثر — جامعات سے لے کر ذرائع ابلاغ تک — اُن قدروں اور انفرادیت کو پھیلانے کا باعث بنا جس نے روایتی کلیسائی اختیار کو کم زور کیا۔ مزید یہ کہ امریکہ کا اپنا ماڈل، یعنی کلیسا اور ریاست کی علیحدگی سے اور بھی نمایاں ہوا اور اتحادیوں کے لیے مثال بن گیا۔ یوں امریکی سیاسی، معاشی اور ثقافتی طاقت نے مسیحی دنیا میں سیکولر طرزِ حکومت کے رجحان کو مضبوط کیا۔ یہ تمام تبدیلیاں عوامی زندگی پر مذہبی کنٹرول سے فیصلہ کن علیحدگی کا نشان تھیں اور اُن ممالک کے نظامِ حکمرانی کو بنیادی طور پر بدل گئیں۔
آج مسیحی اکثریتی ممالک — خصوصاً مغربی دنیا میں — سیکولر حکومتوں کے تحت چل رہے ہیں، جہاں کلیسا کسی نمایاں سیاسی کردار کا حامل نہیں، اور یہ ’’صلیب کے توڑنے‘‘ کی علامتی تعبیر کو واضح کرتا ہے۔
جزیہ ختم کرنا –– قومی ریاستوں میں مساوات کا اصول (1945ء کے بعد)
حدیث4 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جزیہ کو ختم کریں گے۔
جزیہ کے خاتمے کی علامت ایک ایسے نظام کے قیام کی ہے، جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ دوسری جنگ ِعظیم کے بعد امریکہ نے ایک نیا عالمی نظام قائم کیا، جو مساوات اور خود ارادیت کے اصولوں پر قومی ریاستوں کے قیام پر مبنی تھا۔ یہ فلسفہ اقوام متحدہ کے منشور جیسے فریم ورک کے ذریعے سے باضابطہ طور پر اپنایا گیا، جس نے مساوات اور خودمختاری پر زور دیا۔ مسلم اکثریتی ممالک میں بھی اِس فلسفے نے جزیہ کے خاتمے میں بالواسطہ طور پر کردار ادا کیا، کیونکہ مسلم حکومتیں بھی مذہب سے بالاتر ہو کر مساوات کو فروغ دینے کی طرف مائل ہوئیں۔
احادیث میں دجال کے بعد کے واقعات
دجال کے تفصیلی بیان کے برعکس، نبی عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کا ذکر صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں وضاحت سے نہیں کیا گیا۔ تاہم، کئی احادیث میں دجال کی موت کے بعد کے دور کا ذکر آتا ہے، جو اِس مضمون میں دسمبر 1991ء کے واقعے، یعنی سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
سات سال بغیر عداوت کے — امریکہ کی بلا چیلنج برتری (1991ء- 1998ء)
احادیث میں دجال کی ہلاکت کے بعد سات سال تک عداوت سے پاک زمانے کا ذکر آتا ہے، 5 جو 1991ء سے 1998ء کے عرصے سے مطابقت رکھتا ہے، یعنی سوویت یونین کے زوال کے بعد وہ دور جب امریکہ اپنی یک قطبی (monopolar) بالادستی کے عروج پر کھڑا تھا، فوجی طاقت اور نظریاتی اثر و رسوخ میں بے مثال۔
تاہم، اِس عرصے کے اختتام تک کثیر قطبی (multipolar) دنیا کے مطالبات بڑھنے لگے۔ 1998ء کے روسی مالیاتی بحران کے بعد جب پریماکوف ( Primakov) روس کے وزیرِاعظم بنے تو اُنھوں نے کھلے عام ایک متوازن عالمی نظام کی وکالت شروع کی۔ چین نے زو رونگجی(Zhu Rongji) کی قیادت میں، ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد بڑے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا، جس نے چین کے عروج کی بنیاد رکھی۔ اِس دوران میں القاعدہ کے 1998ء میں اعلانِ جہاد نے مغربی برتری کے خلاف ایک نیا، غیر متوازن چیلنج کا اشارہ دیا۔اِس طرح یہ سکون اُس وقت ختم ہوا جب طاقت اور مزاحمت کے نئے مراکز ابھرے جو امریکہ کے بلا مقابلہ دور کے اختتام اور ایک زیادہ پُرآشوب دنیا کے آغاز کی علامت بنے۔
اہلِ ایمان کی روحوں کا قبض ہونا— دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام پر اعتماد کا زوال( 1998ء–تاحال)
احادیث کے مطابق، دجال کے قتل کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ شام6 کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا۔ ایک اور حدیث میں یمن کی طرف سے ریشم جیسی نرم ہوا کا ذکر ہے۔7 یہ ہوائیں اُن سب ایمان داروں کی روحیں نکال لیں گی، جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان یا نیکی ہوگی، اور زمین پر صرف اشرار رہ جائیں گے۔ 8
دجال کی ہلاکت — یعنی سوویت یونین کے زوال — کا واقعہ دسمبر 1991ء میں پیش آیا، اور اِس کے بعد کے سات سال ہمیں 1990ء کی دہائی کے اختتام تک لے جاتے ہیں۔ اِس حدیث کی تعبیر درج ذیل ہے:
• شام کی ٹھنڈی ہوا: مغرب کی جانب سے شروع کی گئی عالم گیریت (Globalisation): یہ مغربی عیسائی دنیا کی جانب سے شروع کی گئی تبدیلیوں کی علامت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شام بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیرِ اثر تھا۔ جس طرح عرب کے گرم صحرا میں ٹھنڈی ہوا راحت کی علامت سمجھی جاتی تھی، اُسی طرح جدید دور میں صارفیت (consumerism) اور مادی ترقی — عالم گیریت اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے — دنیا کے ہر خطے میں معاشروں کے اندر سرایت کر گئی۔
• یمن کی ریشم سے نرم ہوا: چین کی سستی مصنوعات : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یمن ایک اہم تجارتی مرکز تھا، جہاں سے دنیا بھر کا سامان گزرتا تھا۔ آج یہی کردار چین ادا کر رہا ہے، جو سستی مصنوعات کا سب سے بڑا عالمی ذریعہ اور سپلائی چین کا مرکزی حصہ بن چکا ہے۔ اِس نے دنیا بھر میں کھپت کے انداز بدل دیے، جو حدیث میں بیان کی گئی نرم اور فراواں ہوا سے مشابہ ہے۔
اِس تعبیر کے مطابق، یہ ’’ہوائیں‘‘ کسی سیاسی کردار کے غائب ہو جانے کی علامت نہیں، بلکہ اُس ایمان کے خاموشی سے ختم ہو جانے کی طرف اشارہ ہیں جو کبھی عالمی اخلاقی اور قانونی نظام کو متحرک رکھتا تھا۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام محض ایک اسٹریٹیجک انتظام نہ تھا، بلکہ اُسے ایک مشترکہ اخلاقی زبان سہارا دیتی تھی، جو اتحادوں کو ایک مشترکہ تہذیبی منصوبے کے عہد کے طور پر پیش کرتی تھی۔ نیٹو کے قیام کے معاہدے، یعنی واشنگٹن ٹریٹی، میں اُس کے دستخط کنندگان نے اپنے آپ کو اِس عزم کے ساتھ بیان کیا کہ وہ ’’اپنی اقوام کی آزادی، مشترک ورثہ اور تہذیب کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘ اِس معاہدے کا آرٹیکل 5 — کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا — ساخت کے اعتبار سے ایک عہدِ ازدواج کے مشابہ ہے۔ اِس میں یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ایک فریق دوسرے کو پہنچنے والی چوٹ کو اپنی چوٹ سمجھے، خواہ فوری مفاد کچھ بھی ہو۔ مارشل پلان کے ذریعے سے سابق دشمنوں کی تعمیرِ نو نہایت بڑی مالی لاگت پر کی گئی اور اُس کی توجیہ کسی محض لین دین یا مفاد کے حساب سے نہیں، بلکہ ایک اخلاقی تصور کے تحت کی گئی۔ تاریخی اعتبار سے یہ امر غیر معمولی تھا، کیونکہ ماضی میں فاتح قوتیں عموماً شکست خوردہ اقوام سے تاوان وصول کرتی تھیں، نہ کہ اُن کی بحالی میں سرمایہ کاری کرتی تھیں۔ اِسی طرح بریٹن ووڈز کے ادارے، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور اقوامِ متحدہ کا منشور عارضی تدابیر کے طور پر نہیں، بلکہ تہذیب کے لیے ایک اخلاقی معماری کے طور پر پیش کیے گئے۔
یہ دعویٰ مقصود نہیں کہ یہ نظام کبھی کامل طور پر نافذ یا بے عیب رہا۔ سرد جنگ کے دوران میں امریکہ نے بعض آمریتوں کی تائید کی، نوآبادیاتی سلطنتیں کئی دہائیوں تک باقی رہیں، اور قوت کی سیاست ہمیشہ اِس اخلاقی بیانیے کے نیچے کارفرما رہی۔ تاہم یہاں ایک بنیادی فرق موجود ہے: ایک شوہر جو گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، مگر پھر بھی اپنے عہد کو پابند سمجھتا ہے، اور ایک ایسا شخص جو علانیہ یہ اعلان کر دے کہ نکاح محض سہولت کا معاہدہ ہے۔ سرد جنگ کا عالمی نظام پہلی نوعیت کا تھا۔ اُس کی اخلاقی زبان بارہا پامال ہوئی، مگر وہ پھر بھی رویوں کو محدود کرتی رہی، کیونکہ اُس کی حیثیت ایک معیار کے طور پر برقرار تھی۔
ویتنام میں امریکی کارروائی اگرچہ متنازع تھی، مگر اُسے جنوبی ویتنام کے حقِ دفاع کی حمایت کے تحت ذمہ داریوں کی بنا پر جائز قرار دیا گیا اور اُسے SEATO کے تحت ذمہ داریوں کے حوالے سے جائز قرار دیا گیا۔ اِسی طرح 1953ء میں ایران کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائی کو خفیہ رکھا گیا، کیونکہ اُسے اِس عہد یا اخلاقی نظام کے تحت علانیہ جائز قرار دینا ممکن نہ تھا۔ درحقیقت اِس خفیہ پن کی ضرورت خود اِس امر کا اعتراف تھی کہ اِس عہد کی اخلاقی اتھارٹی بدستور موجود تھی۔
لیکن 1990ء کی دہائی کے اواخر سے، جب مغربی قیادت میں گلوبلائزیشن مستحکم ہوئی اور چین سے کم قیمت اشیا پر ساختی انحصار بڑھنے لگا، اِس عالمی نظام پر اعتماد بہ تدریج کم ہونے لگا۔ ریاستیں بدستور کارفرما رہیں، مگر جنگ کے بعد قائم ہونے والے اِس بین الاقوامی نظام کی انصاف پسندی، پابندی کی قوت اور اخلاقی جواز پر یقین خاموشی سے کم زور ہوتا چلا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ ہوا ہر اُس جان کو لے جائے گی جس میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ قومی سطح پر یہ شرط مکمل طور پر پوری ہوتی نظر آتی ہے۔ آج کوئی بھی ریاست اِس یقین کے تحت کام نہیں کرتی کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے دور کے اخلاقی اور قانونی معاہدے عالمی طور پر قابلِ نفاذ یا فطری طور پر مقدس ہیں۔ اِس کے برعکس، اِس اجتماعی عالمی نظم کی ’’روح‘‘ بڑی حد تک رخصت ہو چکی ہے، اور اِس کی جگہ ہر ملک اپنا فائدہ دیکھنے اور اپنے مفادات میں الجھنے لگا ہے۔
[ باقی]
- ۔ بخاری، رقم 2476۔
- ۔ بخاری، رقم 2476۔
- ۔ بخاری، رقم 2476۔
- ۔ بخاری، رقم 2476۔
- ۔ مسلم، رقم 2940۔
- ۔مسلم، رقم 2940۔
- ۔ مسلم، رقم 117۔
- ۔ مسلم، رقم 2937۔