مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (13)

محمد سعد سلیم اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

تعبیر سے متعلق سوالات

دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ میں سوویت یونین کا کردار

دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں، سوویت یونین اتحادی افواج کے ساتھ تھا اور نازی جرمنی کی مخالفت کر رہا تھا (جسے احادیث میں یاجوج و ماجوج سے تعبیر کیا گیا ہے)۔ تاہم، جنگ کے بعد سرد جنگ کے دوران میں، سوویت یونین ایک کمیونسٹ طاقت کے طور پر مذہبی عقائد اور اخلاقی اقدار کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیے رہا، کمیونزم اور الحاد کو فروغ دیا اور عالمی اثر و رسوخ میں امریکہ کا حریف بنا۔ اِس طرح اُس نے دجال جیسے کردار کا مظاہرہ کیا، جس سے اِس کے کردار میں بہ ظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے۔

احادیث میں بیان کردہ واقعات میں ایک ہی قوت مختلف تاریخی سیاق و سباق میں مختلف علامتی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح کی مثال ہمیں آسمانی کتب میں بھی نظر آتی ہے۔ مثلاً بابل کی سلطنت کو کتاب دانیال میں ایک ظالمانہ اور بت پرست طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے حضرت سلیمان علیہ السلم کے ہیکل کو تباہ کیا۔1 لیکن قرآن (سورۂ بنی اسرائیل) میں اُنھی بابلیوں کو ’’میرے بندے‘‘ کہا گیا ہے، جب اللہ نے اُنھیں بنی اسرائیل پر بہ طور عذاب مسلط کیا۔2 قرآن کا یہ بیان بابلیوں کے عقائد کی تائید نہیں کرتا، بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ جابر قوتیں بھی مخصوص حالات میں الٰہی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں،جس طرح سوویت یونین، جو دجالی صفات کی حامل تھی، دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کا حصہ تھی۔

یہ مثالیں اِس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ علامات کو اِن کے تاریخی اور دینی سیاق و سباق میں سمجھنا چاہیے اور اِنھیں جامد یا مستقل کرداروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ کے دوران میں اخلاقی مسائل

حدیث میں مستقبل کی پیشین گوئیوں کے واقعات میں مختلف ریاستوں کے عمومی کردار کی نشان دہی کی گئی ہے، مگر اِن میں بیان کردہ کرداروں کے ہر عمل کی اخلاقی منظوری کی ضمانت نہیں دی گئی۔

مثال کے طور پر، امریکہ کی فسطائیت اور کمیونزم مخالف کوششوں کے باوجود، جاپان پر ایٹم بم گرانا، کوریا میں بے دریغ بم باری اور ویتنام میں جنگی جرائم تاریخی حقائق ہیں، جن میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ دینی نقطۂ نظر سے، اِن اقدامات کو اخلاقی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حدیث اُن کی اخلاقی درستگی یا منظوری کا عندیہ نہیں دیتی۔

امریکہ کے اپنے مفادات

کیا امریکہ نے یہ سب کچھ محض اپنے مفادات کے تحت کیا یا اِس نے شعوری طور پر ایک مسیحا کا کردار ادا کیا؟ یہ مضمون یہ تجویز کرتا ہے کہ تاریخ میں پیش آنے والے واقعات صرف انسانی ارادوں کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ خدائی تقدیر کا حصہ بن کر قیامت کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ میں امریکہ کی مداخلت بہ ظاہر اُس کے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے تحت تھی، مگر اِس کے اقدامات نادانستہ طور پر ایک بڑے، پیشین گوئی شدہ عالمی بیانیے کی تکمیل کا ذریعہ بنتے چلے گئے۔

یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں مسیح کے آنے کے تصورات

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق جو احادیث بیان ہوئی ہیں، وہ یہودی اور عیسائی تصورات سے بالکل مختلف اور جداگانہ ہیں اور ایک بالکل منفرد حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں پہلے یہودیوں اور پھر عیسائیوں کی پیشین گوئیوں سے متعلق چند بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں:

• یہودی پیشین گوئیاں: بنی اسرائیل کے انبیا نے پیشین گوئی کی تھی کہ پہلے معبد (ہیکل) کی تباہی کے بعد یہود دوبارہ یروشلم لوٹیں گے، معبد کی دوبارہ تعمیر ہوگی، شمالی اقوام اُس معبد کی بے حرمتی کریں گی اور آخرکار اللہ تعالیٰ یہود کو اُن اقوام پر فتح عطا فرمائے گا۔ اِنھی پیشین گوئیوں کے تسلسل میں اللہ کی طرف سے ایک ’’مسیح‘‘ — یعنی مسح شدہ اور منتخب نبی — کے ظہور کی بشارت دی گئی۔

• تاریخی تکمیل: یہ پیشین گوئیاں تاریخ میں پوری ہو چکی ہیں: دوسرا معبد 516 قبل مسیح میں تعمیر ہوا، پھر یونانی دور میں خصوصاً سلوقی یونانیوں نے یروشلم میں مداخلت کی اور 167 قبل مسیح میں معبد کی بے حرمتی کی۔ اِس کے بعد یہود کو اُن اقوام پر غیر معمولی فتح حاصل ہوئی، جسے تاریخ میں ’’مکابی بغاوت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اِس دور کے کچھ ہی عرصے بعد، حضرت عیسیٰ کو نبی بنا کر بھیجا گیا اور اُنھیں مسیح قرار دیا گیا۔ یہودی تاریخ میں پہلے آنے والے مسیحی کرداروں کے برعکس، جنھیں یہودی مذہبی اداروں کے اندر رسمی طور پر مسح یا تسلیم کیا گیا، حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کے ذریعے سے مسح فرمایا، نہ کہ کسی ادارہ جاتی یا رسمی مذہبی عمل کے ذریعے سے۔3

• مسیح کے تصور میں بگاڑ: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، اکثر یہودیوں نے اِن پیشین گوئیوں کو تاریخی واقعات سے جوڑنے کے بجاے، مختلف پیشین گوئیوں کو ملا کر مسیح کے تصور کو ایک برگزیدہ اللہ کے رسول کے بجاے ایک عالمی فاتح اور بادشاہ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ مسیح کے اُس نئے تصور کی بنیاد درحقیقت اُن کے ذاتی مفروضات اور مذہبی تشریحات پر تھی، نہ کہ وحی کی روشنی میں حاصل ہونے والے کسی درست فہم پر۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد یہود دنیا کی امامت سے معزول کر دیے گئے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی بعثت کے دوران میں اِس کا واضح اعلان فرمایا4اور قرآن مجید نے بھی اِس حقیقت کی تصدیق کی ہے۔5

دوسری طرف، عیسائیوں کا ماننا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے اور اُن کے پیروکار ہزار سال تک دنیا پر حکومت کریں گے۔ یہ تصور، یہود کے مانند، مختلف پیشین گوئیوں کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ اِس فرق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں عیسائی پیشین گوئیوں سے متعلق چند بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں:

• مسیح کی واپسی: انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا جو ذکر ملتا ہے، وہ درحقیقت یہودیوں کے انکارِ مسیح کے نتیجے میں 66 سے 70 عیسوی کے دوران میں اُن پر نازل ہونے والے عذابِ الٰہی کی پیشین گوئی کا ایک علامتی بیان ہے، جس کا انجام 70 عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی تباہی اور معبد کی بے حرمتی کی صورت میں ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اُس عذاب کی وضاحت اِس انداز سے فرمائی کہ اِن کے انکار کرنے والوں کی موجودہ نسل کے ختم ہونے سے پہلے یہ واقعات پیش آئیں گے۔ اِس میں ہیکل کے ایک پتھر کے دوسرے پر باقی نہ رہنے کی پیشین گوئی بھی شامل ہے، جو تاریخی حقائق سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔6

• ایک ہزار سالہ حکومت:حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتابِ مکاشفہ میں دنیا پر لوہے کے عصا سے حکومت کرنے کا اختیار ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا ہے جسے ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے القابات سے پکارا گیا ہے۔7 یہ القابات واضح طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے سے وہ طاقتیں زوال پذیر ہوئیں جنھیں کتابِ مکاشفہ میں علامتی طور پر پیش کیا گیا تھا: سمندر کا جانور، جس کی تعبیر رومن سلطنت کے طور پر کی جاتی ہے؛ زمین کا جانور، جو کلیسا کی نمایندگی کرتا ہے؛ اور سرخ جانور، جسے فارسی سلطنت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِن فتوحات نے ایک عالمی مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ مسلم خلافت — جو خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ تک پھیلی — تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے رہی اور یہ بالکل اسی پیشین گوئی کی تکمیل تھی جو کتابِ مکاشفہ میں بیان کی گئی تھی۔8 سترہویں صدی میں یورپی اقوام کا ’’عہدِ دریافت‘‘ اپنے اختتام کو پہنچا اور اِس کے بعد یورپی نوآبادیاتی طاقتیں، جنھیں مکاشفہ میں یاجوج و ماجوج کہا گیا ہے،9 مسلم دنیا سمیت کئی خطوں پر تسلط قائم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئیں۔ اِس نوآبادیاتی یلغار کے نتیجے میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی زوال پذیر ہوئی۔

• حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور ’’مردِ فتنہ‘‘: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا سب سے واضح ذکر عہدِ جدید میں اُس وقت سامنے آتا ہے جب ’’مردِ فتنہ‘‘ کے ظہور کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جو اسلامی تصورِ دجّال سے بہت قریب تر ہے۔10 یہ نمایاں مشابہت احادیث کے اُس بیانیے کے مطابق ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا سامنا کرتے اور اُسے شکست دیتے ہیں۔ اِس تصور کو اِس مضمون میں علامتی طور پر سوویت یونین کی نمایندگی اور سرد جنگ کے دوران میں امریکہ کے کلیدی کردار سے تعبیر کیا گیا ہے۔

• حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور مردوں کا زندہ ہونا: عہدِ جدید کی متعدد آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کو مردوں کے اٹھنے کے ساتھ جوڑتی ہیں، جس دوران میں اِنھیں گواہی دینے والے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔11 یہ تصور قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں موجود قیامت کے دن کے اِس بیانیے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنے ماننے والوں کے سامنے شہادت دیں گے۔12

مختصراً یہ کہ یہود و نصاریٰ کے مسیح کی آمد سے متعلق تصورات قرآن، احادیث اور خود اُن کی اپنی کتابوں کی تعلیمات سے متضاد ہیں، کیونکہ اُن کے یہ تصورات مختلف پیشین گوئیوں کے امتزاج، مذہبی قیاس آرائیوں کے ذریعے سے اِن کی تشریح کرنے اور اِن کے تاریخی تناظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہیں۔ مزید یہ کہ اُن کی کتب میں اِس موضوع سے متعلق تمام پیشین گوئیاں تاریخ کے صفحات میں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔

یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ مستقبل کی پیش گوئیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کے بجاے ماضی کے واقعات کو کھلے دل و دماغ اور گہری بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور جب کسی پیش گوئی کی تکمیل کی علامات ظاہر ہوں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے نہ صرف ہمیں اُن نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع عطا فرمایا، بلکہ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کی روشنی میں اُنھیں پہچاننے کی توفیق بھی دی۔

[ باقی]

  1. دانیال 1:7-28۔
  2. بنی اسرائیل 17: 5۔
  3. متی 3: 16۔
  4. متی 21: 43۔
  5. آل عمران 3: 55۔
  6. متی 24۔
  7. مکاشفہ 15:19۔
  8. مکاشفہ 4:20-6۔
  9. مکاشفہ 7:20-9۔
  10. تھسلنیکیوں 2: 3-8۔
  11. یوحنا 28:5-29۔
  12. المائدہ 5: 116-117۔