مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (14)

محمد سعد سلیم اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

سرد جنگ کے دوران میں حضرت عیسیٰ کی علامتی تعبیر کے لیے امریکہ کو ایک معقول امیدوار بنانے والی وجوہات کیا ہیں؟

یہ استدلال نہ تو محض اِس بنیاد پر قائم ہے کہ امریکہ کی اکثریتی آبادی عیسائی تھی اور نہ ہی صرف اِس وجہ سے کہ بعض احادیث میں مذکور واقعات کو دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ کے تناظر میں امریکی کردار کے ساتھ مماثل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اصل اور فیصلہ کن پہلو اُس طرزِ اثر و نفوذ کی نوعیت ہے جس کے ذریعے سے امریکی قوت نے عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کیا، نیز اُس بین الاقوامی نظم کی ماہیت ہے جس کی تشکیل، استحکام اور ترویج میں امریکہ نے مرکزی حیثیت اختیار کی۔

اگرچہ کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ نے عسکری قوت بھی استعمال کی، تاہم عالمی منظرنامے میں اُس کی موجودگی زیادہ تر معاشی معاونت، ادارہ جاتی قیادت اور ثقافتی کشش کے ذریعے سے ظاہر ہوئی۔ یوں اُس کا اثر و رسوخ بڑی حد تک اُس ذریعۂ کار سے بروے کار آیا جسے جدید سیاسیات میں عموماً نرم قوت (Soft Power) کہا جاتا ہے۔

مزید برآں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد غیر معمولی طاقت اور برتری حاصل کرنے کے باوجود امریکہ نے روایتی فاتح سلطنتوں کے برعکس وسیع پیمانے پر علاقوں کو ضم کرنے یا براہِ راست نوآبادیاتی توسیع کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ اِس کے بجاے اُس نے تباہ حال خطوں کی تعمیرِ نو، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام میں سرمایہ کاری کی۔ اِس کی سب سے نمایاں مثال مارشل پلان ہے، جس کا مقصد مفتوحہ اقوام کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا نہیں، بلکہ اُنھیں خود کفیل اور مستحکم بنانا تھا۔

سفارتی سطح پر امریکہ نے کثیرالجہتی نظاموں اور بین الاقوامی اداروں کی سرپرستی کی، جو کم از کم نظری سطح پر چھوٹے ممالک کو بھی قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام میں آواز اور شرکت کا موقع فراہم کرتے تھے۔ اِس طرزِ عمل نے ایسی قیادت کا تاثر پیدا کیا جو اپنی حیثیت صرف جبر سے نہیں، بلکہ تعاون، باہمی رضامندی اور مشترکہ خوش حالی کے اصولوں کے ذریعے سےقائم کرنا چاہتی تھی۔

اِس نوعیت کا اثر و نفوذ علامتی اعتبار سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُس مشن کے ساتھ مناسبت رکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے جس میں اناجیل کی روایت کے مطابق اُن کی اتھارٹی سیاسی غلبے یا جغرافیائی توسیع کے بجاے اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر قائم تھی۔ تاہم، روایات میں اُن کے آیندہ کردار کا ایک پہلو دجال کے ساتھ براہِ راست مقابلہ بھی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقی نمونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد اور مزاحمت کا عنصر بھی شامل ہوگا۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ دجّال کی ہلاکت کے بعد بیان کیے گئے واقعات میں امریکہ اب اُس سابقہ طرزِ عمل کے اندر کارفرما دکھائی نہیں دیتا۔ یہ تبدیلی خصوصاً ٹرمپ دور کے بعد کے زمانے میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔

دھواں

حدیث میں دھوئیں کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، لیکن اِس کے بارے میں مزید وضاحت موجود نہیں ہے۔ دیگر مذہبی صحیفوں میں بھی اِس کا واضح ذکر نہیں ملتا۔ ایک بڑی نشانی ہونے کے لیے، یہ واقعہ عالمی سطح پر نمایاں ہونا چاہیے۔

صنعتی انقلاب کے بعد انسانی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافے نے نامیاتی ایندھن کے بے تحاشا استعمال کو فروغ دیا، جو دھوئیں اور فضائی آلودگی کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا سبب بنے۔ یہ انقلاب انسانی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا، جس نے ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

دھواں، سموگ اور فضائی آلودگی آج کے شہروں کا ایک تلخ حصہ ہیں، جہاں یہ صحت کے مسائل، ماحولیاتی خرابی اور معیارِ زندگی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ مظاہر عالمی سطح پر اربوں انسانوں کو متاثر کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر حدیث میں بیان کردہ دھوئیں کی علامت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

مشرق، مغرب اور جزیرۂ عرب میں زمین کا دھنس جانا

حدیث میں قیامت کی تین بڑی نشانیوں کے طور پر مشرق، مغرب اور جزیرۂ عرب میں زمین کے دھنسنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اِن نشانیوں کی تفصیلات محدود ہیں، لیکن اِنھیں صرف زمین کے دھنسنے تک محدود کرنے کے بجاے اِن کا مفہوم سماجی اور سیاسی بحرانوں کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ بحران ایسے حالات کی نمایندگی کرتے ہیں، جہاں کوئی قوم داخلی تنازعات اور خانہ جنگی کی وجہ سے اپنے ہی وزن تلے دب کر تباہ ہو جاتی ہے۔

کتابِ مکاشفہ میں سات مہریں، سات نرسنگے اور سات غضب کے پیالے تاریخی واقعات کی نمایندگی کرتے ہیں، جو شدت میں بتدریج بڑھتے ہیں۔ یہ واقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے شروع ہو کر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے عروج پر پہنچے۔ ساتویں گرہ کھولنے کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے اور ساتواں نرسنگا خدا کی بادشاہت کے اعلان کی علامت ہے،1 جو ساتویں صدی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے ذریعے سے مسلمانوں کی ریاست کے قیام کی نمایندگی کرتا ہے۔ اسی طرح ساتواں غضب کا پیالہ2 زلزلوں، شہروں، پہاڑوں اور جزیروں کے خاتمے کا ذکر کرتا ہے، جو روم اور فارس کی حکمران تہذیبوں کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔

چونکہ سماجی اور سیاسی ڈھانچوں کے خاتمے کی قدرتی حادثات سے تشبیہ کی مثال موجود ہے، اِس لیے یہ پیشین گوئیاں ارضیاتی حادثات کے بجاے سماجی اور سیاسی بحرانوں کی عکاسی کر سکتی ہیں، جہاں قومیں اندرونی تنازعات کے باعث تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اِس تناظر میں، اُن پیشین گوئیوں کے تین ممکنہ مظاہر درج ذیل ہیں:

مشرق (عراق–2006ء)

عراق 2003ء میں امریکی حملے اور 2006ء میں خانہ جنگی کے دوران میں سماجی اور سیاسی انتشار کا شکار ہوا۔ اِن واقعات سے نہ صرف سیاسی ڈھانچا ٹوٹا، بلکہ تعلیم، معیشت، صحت، زراعت اور دیگر بنیادی شعبے بھی تباہ ہو گئے، جو حدیث میں ’’زمین کا دھنس جانے‘‘ کے بیان سے مشابہت رکھتا ہے۔

مغرب (لیبیا–2011ء)

عرب میں مغرب کو تاریخی طور پر شمالی افریقہ سے جوڑا جاتا ہے، اور یہ 2011ء کے عرب بہار کے دوران میں لیبیا کے زوال کے ساتھ میل کھاتا ہے۔ طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام سے لیبیا میں نہ صرف سیاسی ادارے منہدم ہوئے، بلکہ ملک کی اقتصادی پیداوار، تیل کی صنعت، تعلیمی نظام اور دیگر شعبہ جات بھی مفلوج ہو گئے۔

جزیرۂ عرب (یمن–2014ء)

یمن تاریخی طور پر عرب کا حصہ نہیں ہے البتہ، جزیرہ نماے عرب3 کا حصہ ہے۔ یمن 2011ء کے عرب بہار کے بعد بڑھتی ہوئی شورش اور 2014 ءمیں مکمل خانہ جنگی کا شکار ہوا۔ یمن میں 2014ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے بدترین انسانی بحران جاری ہے۔ یہاں نہ صرف حکمرانی کا فقدان ہے، بلکہ قحط، بے روزگاری، صحت کے نظام کی تباہی، اور تعلیمی اداروں کی بندش جیسے مسائل نے زمین کو بہ ظاہر ’’بنجر‘‘ بنا دیا ہے—ایک ایسا خطہ جو اب نہ صرف سیاسی، بلکہ عملی طور پر ’’غیر پیداواری‘‘ ہو چکا ہے۔

ان تینوں مقامات پر ’’زمین کا دھنس جانا‘‘ زندگی کے ہر شعبے میں ہمہ جہتی ناکامی میں ظاہر ہوا ہے۔ عراق کے انہدام کے بعد، لیبیا اور پھر یمن میں عدم استحکام پیدا ہوا، جو حدیث میں بیان کردہ زمین کے دھنس جانے کی نشانیوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

یمن سے آگ

حدیث کے مطابق، جزیرہ نماے عرب میں زمین دھنسنے کے واقعے کے بعد یمن، خصوصاً عدن کے نچلے علاقوں سے ایک آگ نکلے گی،4 جو لوگوں کو محشر — یعنی جمع ہونے کی آخری جگہ — کی جانب لے جائے گی۔5 یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی؛ جہاں وہ قیام کریں گے، یہ بھی وہیں رکے گی۔6

حدیث میں بیان کردہ یہ نشانی غالباً ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ دیگر نشانیوں کی طرح، اِس کا مقصد پیشین گوئی نہیں۔ اِن نشانیوں کو مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی کے بجاے موجودہ یا ماضی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

[ باقی]

  1. مکاشفہ 15:11-19۔
  2. مکاشفہ 17:16-21۔
  3. “Arabian Peninsula,” Wikipedia, last modified May 17, 2025, https://en.wikipedia.org/wiki/Arabian_Peninsula.
  4. مسلم، رقم 2901۔
  5. مسلم، رقم 2901۔
  6. مسلم، رقم2901۔