]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
قیامت کی نشانیاں: دیگر اہم حوالہ جات
فتنۂ اول سے متعلق احادیث
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متعدد احادیث ایسی موجود ہیں جو فتنۂ اول سے متعلق پیشین گوئیاں بیان کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ کے گھروں کے درمیان فتنوں کے گرنے کی جگہیں اُسی طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح بارش کے قطرے گرتے ہیں۔1 یہ مضمون اُن تمام احادیث کا مکمل احاطہ نہیں کرتا، تاہم اِن میں سے چند اہم اور منتخب احادیث ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔
دریاے فرات سے سونے کے پہاڑ کا ظہور ––
عراق کی دولت اور وسائل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ عنقریب دریاے فرات ایک سونے کے پہاڑ کو ظاہر کرے گا، اور جب لوگ اُس کے بارے میں سنیں گے تو وہ اُس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔2 لیکن جو لوگ اُس خزانے کے قریب موجود ہوں گے، وہ کہیں گے: اگر ہم نے اِن لوگوں کو (اُس خزانے میں سے) لینے دیا تو یہ سارا لے جائیں گے۔ چنانچہ وہ آپس میں جنگ کریں گے اور سو میں سے ننانوے افراد مارے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار فرمایا کہ جو بھی اُس وقت موجود ہو، اُسے اُس خزانے میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے۔3
کتابِ مکاشفہ میں ذکر کردہ ’’خدا کے چھٹے غضب کے پیالے‘‘4 کے نتیجے میں ’’فرات کے خشک ہونے‘‘ کی پیشین گوئی ملتی ہے تاکہ ’’مشرق کے بادشاہ‘‘ آسانی سے اُس سے گزر سکیں۔5 یہ منظرنامہ بازنطینی-ساسانی جنگوں (602ء-628ء) کی علامت ہے، جن میں ساسانی افواج دریاے فرات عبور کرکے بازنطینی علاقوں پر حملہ آور ہوئیں۔ یہاں ’’فرات کے خشک ہونے‘‘ سے مراد حقیقت میں ایک بڑی رکاوٹ کا خاتمہ ہے، جو ساسانیوں کے لیے فوجی پیش قدمی کو آسان بنانے کی علامت بنتا ہے۔ اِن جنگوں کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں شدید نقصان اٹھانے کے بعد کم زور ہو گئیں، جس نے مسلمانوں کی فتح کی راہ ہموار کی۔
اِسی تناظر میں دریاے فرات سے ’’سونے کے پہاڑ‘‘ کا ظہور ساسانی سلطنت کی بے پناہ دولت، وسائل اور زرخیز زمینوں کا مظہر ہے، جس کا ظہور مسلمانوں کے ہاتھوں ساسانی سلطنت کی حتمی شکست اور اِس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کی صورت میں ہوا۔ یہ تعبیر تین اہم وجوہات پر مبنی ہے:
1۔ پہلی یہ کہ ’’سونے کا پہاڑ‘‘ ایسی دولت یا خزانے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہو، بالکل اسی طرح، جیسے جنگ کے بعد مالِ غنیمت کو قبضے میں لینا ممکن ہوتا ہے۔ ساسانی سلطنت کے زوال کے بعد، اُس کے وسائل تیزی سے مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے، جس نے اُسے ’’سونے کا پہاڑ‘‘ بننے کی تعبیر دی۔
2۔ دوسری یہ کہ فتنۂ اول میں ہونے والی مہلک جنگیں بنیادی طور پر سیاسی اور معاشی تنازعات کی شکل میں رونما ہوئیں۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد قیادت کا حق قریش کو سونپا تھا،6 اِس لیے بنو امیہ اور قریش کے وہ بااثر سردار جنھیں قبائلی نظم، خاندانی اثر و رسوخ اور ابتدائی مہاجرین کی اکثریتی حمایت حاصل تھی، سب سے پہلے یہ دولت اور اقتدار حاصل کرنے والے بنے۔ اِسی وجہ سے اُنھیں اِس حدیث میں ’’خزانے کے قریب‘‘ موجود افراد کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اِس کے برعکس، ’’خزانے کی طرف لپکنے والوں‘‘ میں عراق و مصر کے سپاہی، کوفہ کے ناراض جنگ جو، اور نو مسلموں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ یہ گروہ خلافت میں مساوی سیاسی و مالی شرکت کے خواہاں تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔ بعد ازاں، اُنھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی حمایت اختیار کر لی۔ خصوصاً کوفہ کے جنگ جوؤں کی حمایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے کوفہ ہجرت کی اور وہیں اپنی حکومت کا مرکز قائم فرمایا۔
3۔ تیسری یہ کہ فتنۂ اول کی دو بڑی جنگیں—جنگِ جمل (656ء) اور جنگِ صفین (657ء) — دریاے فرات کے قرب و جوار میں لڑی گئیں۔ یہ خون ریز جنگیں اسلامی تاریخ کے سنگین ترین تصادم میں شمار ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ’’سو میں سے ننانوے افراد مارے جائیں گے‘‘ اُن جنگوں میں ہونے والے بے پناہ جانی نقصان کی واضح تصویر کشی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، جنگِ جمل میں تقریباً دس سے بیس ہزار افراد شہید ہوئے، جب کہ جنگِ صفین میں شہادتوں کی تعداد ستر ہزار تک جا پہنچی۔
یہ تمام حالات اُس حدیث کی علامتی تعبیر کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں جس میں ’’خزانے کے قریب‘‘ موجود افراد اور ’’خزانے کی طرف دوڑنے والوں‘‘ کے درمیان پیدا ہونے والے خوف اور بے یقینی نے سیاسی اور اقتصادی تنازعات کو جنم دیا، جہاں ’’خزانے کے قریب‘‘ لوگ سوچنے لگے کہ ’’اگر ہم دوسروں کو اِس میں سے لینے دیں تو وہ سب کچھ لے جائیں گے‘‘، اور یہی اندیشہ شدید کشمکش کا باعث بنا۔ اِن واقعات کی شدت اور نتائج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہات اور پیشین گوئیوں کے عین مطابق ثابت ہوئے۔
شیطان کے سینگ کا ظہور — نجد کا کردار
احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام اور یمن کے لیے دعاے برکت فرمائی، جب کہ نجد کے بارے میں فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ظاہر ہوں گے7 اور یہ کہ شیطان کا سینگ اسی جانب سے طلوع ہوگا — یعنی مدینہ کے مشرق کی سمت سے، جہاں نجد واقع ہے۔8
نجد کے قبائل، جو اپنی جنگی صلاحیتوں کے لیے مشہور تھے، کو خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی سرحدوں پر بہ طور فوجی آبادکار آباد کیا تاکہ اسلامی فتوحات میں اِن کی مہارتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم، اسی خطے کے بعض گروہوں کا کردار فتنوں میں نمایاں رہا۔ جیسا کہ:
* مسیلمہ کذاب جیسے جھوٹے مدعیانِ نبوت کی حمایت، جو کہ یمامہ (نجد کا ایک علاقہ) سے تعلق رکھتاتھا۔
* کوفہ، جو عراق میں واقع تھا اور جہاں نجد سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہوئی تھی، وہیں سے اٹھنے والے گروہوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف بغاوت اور بعد میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے تنازعات میں نمایاں اور فعال کردار ؛ اور
* بعد ازاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے علیحدگی اختیار کر کے خوارج کی صورت میں نمودار ہونا۔
ان تمام تاریخی واقعات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں کی گئی تنبیہات اور پیشین گوئیوں کا فتنۂ اول میں عملی ظہور سمجھا جا سکتا ہے، جن میں نجد کو فتنوں کا مرکز اور ’’قرن الشیطان‘‘ کی سرزمین قرار دیا گیا تھا۔
ماضی میں موت کی تمنا — ندامت اور فتنہ کے سایے میں
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا وقت آئے گا کہ ایک شخص، دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش، میں اِس کی جگہ ہوتا۔ 9
یہ تمنا در حقیقت محض موت کی خواہش نہیں، بلکہ شدید ندامت، اضطراب، اور فتنہ و فساد سے نجات کی آرزو کو ظاہر کرتی ہے۔ فتنۂ اول میں ایسے واقعات حقیقتاً پیش آئے، جن میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو فتنۂ اول کے معرکوں کے بعد شدید رنج و افسوس لاحق ہوا۔ مثال کے طور پر، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ، جنگِ جمل کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے — جو اُس وقت شہید ہو چکے تھے — تو آپ نے سواری سے اتر کر اُن کا چہرہ صاف کیا، اُن پر رحمت کی دعا کی اور فرمایا:
’’کاش، میں اِس دن سے بیس سال پہلے وفات پا چکا ہوتا۔‘‘10
یہ جملہ حضرت علی کے دل میں موجود درد، ندامت، اور فتنہ سے نفرت کا عکاس ہے — ایک ایسا احساس جو محض سچے اور مخلص لوگوں کے دلوں میں جنم لیتا ہے۔
فتنۂ اول کا اختتام— حضرت حسن کے بارے میں پیشین گوئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح قائم کرے گا۔11
یہ پیشین گوئی اُس وقت پوری ہوئی جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کے شرائط حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھے۔ شرائط منظور کیے جانے کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی اور اِس طرح فتنۂ اول کا خاتمہ ہوگیا۔
[باقی]
- مسلم، رقم 2889۔
- مسلم، رقم 2895۔
- بخاری، رقم 7119۔
- کتابِ مکاشفہ میں ساتواں اور آخری خدا کے غضب کا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاتھوں روم اور فارس کی سلطنتوں کی تباہی ہے، جب کہ چھٹا خدا کا غضب کا پیالہ، اِس سے پہلے ساسانی سلطنت کی طرف سے شروع کی گئی جنگیں ہیں جو کتاب ِمکاشفہ میں بتائی گئی تفصیلات سے مطابقت رکھتی ہیں۔
- مکاشفہ 12:16۔
- بخاری، رقم 3495۔
- بخاری، رقم7094۔
- بخاری، رقم 7092۔
- بخاری، رقم 7115۔
- طبرانی، رقم 202۔
- بخاری، رقم 2704۔