مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (2)

محمد سعد سلیم اردو

مغرب سے سورج کا طلوع ہونا

احادیث میں قیامت کی بڑی نشانیوں میں مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ’’کسی تہذیب پر سورج کا طلوع ہونا‘‘ مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں ایک استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جو کسی تہذیب کے اثر و رسوخ، طاقت اور عروج کی علامت ہے۔ اس استعارے میں سورج کا ذکر تہذیبوں کے عروج و زوال کے تاریخی ادوار کو نمایاں کرتا ہے، جہاں طاقت اور قیادت مختلف خطوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ کسی تہذیب پر سورج کا طلوع ہونا عام طور پر اس تہذیب کے عروج کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کسی تہذیب پر سورج کا غروب ہونا عام طور پر اس کے زوال کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

علاماتِ قیامت کے تناظر میں، مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کی تشریح مغربی تہذیب کے عروج کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ عروج کا سفر بارھویں صدی کے قرون وسطیٰ کے نشاۃِ ثانیہ سے شروع ہوا، جو یورپ میں فکری اور علمی بیداری کا دور تھا، جس میں یونانی اور عربی علوم کے تراجم کے ذریعے سے قدیم دانش کی بازیافت، سکولاستیک فلسفے کی ترقی، یونیورسٹیوں کا قیام اور قانون، سائنس، اور تعمیرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس دوران میں عوامی ادب میں ترقی، مذہبی اصلاحات، اور صلیبی جنگوں کے نتیجے میں ثقافتی تبادلوں نے یورپی تہذیب و دانش کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔ بعد میں چودھویں سے سترھویں صدی کی نشاۃِ ثانیہ اور سولھویں ویں صدی کی اصلاحی تحریکوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ۔ ان تحریکوں نے یورپ میں فکر، سائنس، اور طرز حکمرانی میں گہرے انقلابات برپا کیے، جو بالآخر مغرب کو ایک غالب عالمی طاقت کے طور پر قائم کرنے کا باعث بنے۔

زمین کے جانور کے ساتھ قربت

حدیث میں مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کو قیامت کی نشانیوں میں پہلی نشانی کہا گیا اور زمین کے جانور کو اس کے فوراً بعد کی ایک بڑی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا۔ مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کی یہ نشانی دس بڑی نشانیوں میں سب سے پہلے پوری ہوئی۔ قرونِ وسطیٰ کے بارھویں صدی کی نشاۃِ ثانیہ کے بعد زمین کا جانور، جس کی علامتی تشریح تیرھویں صدی میں منگول سلطنت ہے، کے نکلنے کا واقعہ رونما ہوا۔

ایمان لانے کا فائدہ نہ ہونا – ایک تنبیہ

حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو لوگ اسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ بعض احادیث میں زمین کے جانور اور دجال کو بھی ان نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے جن کے ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانا کسی نفع کا باعث نہیں ہو گا۔ اسی نوعیت کی ایک تنبیہ ہمیں سورۂ انبیاء میں یاجوج و ماجوج کے حوالے سے بھی ملتی ہے، جہاں لوگ یاجوج و ماجوج کی رکاوٹ ٹوٹنے کے بعد اعتراف کریں گے کہ ’’بے شک ہم ظالم تھے‘‘۔

یہ احادیث اور قرآن کی آیت ایک واضح تنبیہ ہے، کیونکہ یہ نشانیاں قیامت کے قریب واقع ہوں گی۔ اور یہ قیامت کے دن کا منظرنامہ ہے کہ کسی شخص کا ایمان لانا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور لوگ اعتراف کریں گے کہ ’’بے شک ہم ظالم تھے‘‘۔ یہ تنبیہ ان نشانیوں کے قیامت سے قریب الوقوع ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نشانیاں قیامت سے کتنی قریب ہیں، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ پیغام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ مہلت ختم ہونے سے قبل ایمان لے آئیں اور خالص توبہ کے ذریعے سے اپنی اصلاح کرلیں، اس سے پہلے کہ رجوع کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔

دجال – جھوٹے مسیح کی آمد

دجال، جس کا مطلب ’’بڑا جھوٹا‘‘ ہے، کو ’المسیح الدجال‘ بھی کہا جاتا ہے، جس کا ترجمہ ’’جھوٹا مسیح‘‘ ہے۔ ’مسیح‘ (عبرانی مشیاح سے، جس کا مطلب ’’مسح کیا گیا‘‘ ہے) قدیم اسرائیل میں ان افراد کے لیے استعمال ہوتا تھا جو بادشاہ، نبی یا کاہن کے طور پر خدا کی طرف سے چنے جاتے اور تیل سے مسح کیے جاتے۔ وقت کے ساتھ، مسیح کا تصور محض ایک مسح شدہ فرد سے نجات دہندہ کے تصور میں تبدیل ہوگیا، جو تاریخی جدوجہد، نجات کی امیدوں اور مذہبی تشریحات کا نتیجہ ہے۔

اسی سیاق میں مسیح الدجال وہ ہستی ہے جو خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتی ہے اور انسانی فطرت میں موجود مصائب و مشکلات سے نجات کی امید سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ نجات کی طلب بہ ذات خود کسی مخصوص مذہبی پہلو کی حامل نہیں ہوتی۔ روایات کے مطابق، اس کی پیشانی پر ’’کافر‘‘ لکھا ہو گا، جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ دجال خدا کا منکر ہوگا، اور نتیجتاً اس کے وعدے کسی الہامی یا مذہبی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔

زمین کے جانور کے برعکس، جو محض طاقت اور جبر کی علامت ہے، دجال انسانی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بعد کے ادوار میں بابلی سلطنت کو انسانی شکل میں پیش کیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دجال محض ایک عسکری قوت پر مبنی سلطنت نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جو گم راہ کن عقائد کے ساتھ لوگوں کو اپنے جھوٹے وعدوں پر یقین دلاتی ہے۔

دجال کی شناخت

دجال کے ظہور سے پہلے کے واقعات

دجال کی آمد سے پہلے، متعدد احادیث میں مسلمانوں کی تاریخ کے چار اہم واقعات کا ذکر ملتا ہے، جو نہ صرف مسلم و عیسائی کشمکش کے بڑے سنگ میل ہیں، بلکہ امت کی اجتماعی آزمایش کا بھی مظہر ہیں۔ یہ چار واقعات درج ذیل ہیں:

1۔ جنگ یرموک — جس میں مسلمانوں نے بازنطینی (رومی) سلطنت کو فیصلہ کن شکست دی۔

2۔ پہلی صلیبی جنگ کا معرکۂ انطاکیہ — جو شام کے شمالی علاقے میں پیش آیا اور صلیبی یلغار کا نقطۂ آغاز بنا۔

3۔ قسطنطنیہ کی فتح — جس کے ذریعے سے عثمانی ترکوں نے بازنطینی دارالحکومت پر مسلم پرچم لہرایا۔

4۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد عثمانی سلطنت کا زوال — جب خلافت نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اگرچہ ان واقعات کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان میں ایک گہرا ربط موجود ہے۔ پہلے تین واقعات کا تعلق رومی (بازنطینی) سلطنت سے ہے، جب کہ آخری تین واقعات میں ترک مسلمان نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جو اناطولیہ میں آباد ہو کر اسلامی دنیا کا عسکری و سیاسی مرکز بنے۔

رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان بڑی جنگ – جنگ یرموک (636ء )

حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شدید جنگ شام سے آنے والی فوج سے ہوگی، جس میں مسلمان شہادت یا فتح کے عزم کے ساتھ لڑیں گے۔ ابتدائی تین دنوں کی لڑائی میں دونوں فریق سخت نقصان اٹھائیں گے، مگر کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہیں نکلے گا۔ چوتھے دن مسلمانوں کا دستہ دشمن کو شکست دے گا۔ جنگ اتنی خوف ناک ہوگی کہ فضا میں اڑنے والا پرندہ بھی اس کے اثرات سے بچ نہ سکے گا۔ آخر میں، اتنے زیادہ لوگ قتل کیے جائیں گے کہ جنگ کے بعد گنتی کی جائے گی تو سو میں سے صرف ایک شخص زندہ بچے گا۔

یہ واقعہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے جلد ہی بعد پیش آنے والے عظیم الشان معرکہ– جنگِ یرموک– کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو شام کے بازنطینی عیسائیوں کے خلاف لڑی گئی۔ یہ جنگ چھ دنوں تک جاری رہی، جن میں پہلے دن ابتدائی جھڑپیں اور حالات کا جائزہ لینے کی کوششیں ہوئیں، جب کہ پانچویں دن بازنطینیوں کی طرف سے جنگ بندی کی پیشکش اور آخری معرکے سے پہلے ازسرِنو صف بندی کی گئی۔ اسی لیے حدیث میں صرف چار دنوں کی شدید لڑائی کا ذکر آیا ہے۔

دوسرے، تیسرے اور چوتھے دن سخت ترین معرکے دیکھنے میں آئے، جن میں جانی نقصان بھی غیر معمولی تھا۔ ان دنوں میں مسلمان افواج کی صفوں کو مجتمع رکھنے اور دشمن کے شدید دباؤ کو روکنے میں برق رفتار گھڑسواروں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں خصوصاً حضرت عکرمہ بن ابی جہل اور اُن کے چار سو جان نثار مجاہدین شامل تھے، جنھوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دشمن پر ٹوٹ پڑنے کی حکمتِ عملی اپنائی—جو حدیث میں مذکور ’شرطۃ الموت‘، یعنی موت کے دستے کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

چھٹے دن—جو حقیقی معنوں میں شدید لڑائی کا چوتھا دن تھا—مسلمانوں نے فیصلہ کن حملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم برداروں کو شان دار فتح عطا فرمائی، اور بازنطینی افواج مکمل طور پر پاش پاش ہو گئیں۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ میدان جنگ کے اوپر پرندوں کا نہ گزر سکنے کی تفصیل میدانِ جنگ میں تیروں کی بارش اور گرد و غبار کے اٹھنے کو ظاہر کرتا ہے، جو جنگ کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ جنگ تاریخ عالم کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جاتی ہے، جس نے شام میں مسلمانوں کے غلبے کی بنیاد رکھی۔

رومیوں کا دابق یا اعماق میں اترنا اور مسلمانوں سے لڑنا – پہلی صلیبی جنگ کا معرکہ انطاکیہ (1098ء)

حدیث میں رومیوں کا دابق یا اعماق میں اترنا، مدینہ سے بہترین سپاہیوں پر مشتمل فوج کا ان کے مقابلے کے لیے آنا، رومیوں کا مسلمانوں کے قبضے سے جنگی قیدیوں کو چھڑانے کا مطالبہ اور ایک تہائی مسلمانوں کا فرار، ایک تہائی کا شہید ہونا اور ایک تہائی مسلمانوں کا کبھی آزمایش میں نہیں ڈالا جانا بیان کیا گیا ہے۔

یہ منظرنامہ تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران میں واضح طور پر سامنے آیا، جب بازنطینی سلطنت نے سلجوقی ترکوں کے خلاف فوجی مدد کے لیے یورپی عیسائی طاقتوں کو پکارا۔ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد، عیسائیوں کے مقدس مقامات — بالخصوص یروشلم — کو مسلمانوں کے قبضے سے ’’آزاد‘‘ کرانا تھا۔ احادیث میں صلیبیوں کے ان عزائم کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے، گویا ان کے نزدیک یہ مقدس مقامات مسلمانوں کی قید میں تھے، جنھیں وہ ہر قیمت پر بازیاب کرانا چاہتے تھے۔

پہلی صلیبی جنگ میں صلیبیوں نے اناطولیہ میں فتوحات کے بعد شمالی شام کا رخ کیا۔ ان کا پہلا بڑا ہدف انطاکیہ تھا، جو اس خطے کا ایک مرکزی اور کلیدی شہر تھا۔ شمال کی جانب سے انطاکیہ تک پہنچنے کے لیے وہ اعماق کے علاقے سے گزرے ، جو حدیث میں مذکور ہے۔

انطاکیہ پر صلیبیوں کے قبضے کے بعد، موصل کے اتابک، ترک سپہ سالار كربوغا کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر انطاکیہ کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ یہ فوج مسلمانوں کے مشہور اور تجربہ کار جنگ جو گروہوں پر مشتمل تھی۔ مسلم مورخ ابن الاثیر کے مطابق، یہ لشکر پہلے دابق میں پڑاؤ ڈالتا ہے، اور پھر انطاکیہ کی طرف بڑھتا ہے۔ حدیث میں جس ’’مدینہ سے نکلنے والی فوج‘‘ کا ذکر ہے، وہ دراصل مسلمانوں کی افواج کی علامت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ منورہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا اور لشکر وہیں سے روانہ ہوا کرتے تھے۔

حدیث کے مطابق مسلمانوں کے تین گروہوں کا ذکر ملتا ہے:

1۔ ایک تہائی وہ جو میدانِ جنگ سے فرار اختیار کریں گے: ابن الاثیر بیان کرتے ہیں کہ جنگ کے دوران میں تقریباً پوری مسلمان فوج میدان چھوڑ کر بھاگ گئی، سواے ایک چھوٹے سے دستے کے۔ حدیث کے مطابق یہ فرار کی راہ اختیار کرنے والا گروہ ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔

2۔ ایک تہائی وہ جو شہید ہوں گے: ابن الاثیر کے مطابق ایک چھوٹے سے دستے کے مجاہدین، جو سرزمینِ مقدس سے تعلق رکھتے تھے، ثابت قدم رہے اور انھوں نے اللہ کی رضا اور شہادت کی طلب میں لڑائی جاری رکھی۔ صلیبی فوج نے ان میں سے ہزاروں کو شہید کر دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں حدیث میں ’افضل الشہداء‘، یعنی ’’سب سے بہترین شہدا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

3۔ اور ایک تہائی وہ جنھیں آزمایش میں کبھی ڈالا ہی نہیں جائے گا، یعنی وہ ترک مسلمان جنھوں نے صلیبی جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔

یہ تقسیم انطاکیہ کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست کی علامت ہے۔

اس جنگ کے اثرات تاریخ پر بہت گہرے رہے، کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد اور عسکری قوت صلیبیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ تاہم، اس غیر متوقع شکست نے صلیبیوں کو مزید حوصلہ دیا، جس کے نتیجے میں وہ 1099ء میں یروشلم پر حملہ آور ہوئے اور بالآخر اسے فاطمیوں سے چھیننے میں کامیاب ہو گئے۔

مسلمانوں کا قسطنطنیہ کو فتح کرنا (1453ء)

حدیث میں ایک تہائی مسلمانوں کا بعد میں جیت جانا اور قسطنطنیہ کو فتح کرنا، جنھیں آزمایش میں کبھی نہیں ڈالا گیا، ان ترک مسلمانوں کی نمایندگی کرتا ہے جنھوں نے پہلی نو صلیبی جنگیں (1096ء-1272ء) ، جو بنیادی طور پر عیسائیوں کے مقدس مقامات کے حصول کے لیے لڑی گئیں، کے دوران میں صلیبی جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔ اس گروہ نے سلطنت عثمانیہ کے تحت 1453ء میں قسطنطنیہ کو فتح کر کے مشرقی رومی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔

مسلمانوں کا تلواریں لٹکانا اور دجال کا ظہور – عثمانی سلطنت کا ہتھیار ڈالنا (1918ء) اور سوویت یونین کا قیام (1922ء)

حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکا کر مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جا رہا ہو گا، شیطان پکارے گا: ’’مسیح تمھارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔‘‘ یہ خبر سن کر مسلمان روانہ ہوں گے، لیکن یہ جھوٹ ہوگا۔ پھر جب وہ شام پہنچیں گے اور جنگ کے لیے صف بندی کر رہے ہوں گے، عین اسی وقت دجال نمودار ہو جائے گا۔

یہاں ’’تلواریں درختوں سے لٹکانے‘‘ سے مراد 1918ء میں معاہدۂ مدروس کے تحت عثمانی سلطنت کا ہتھیار ڈالنا ہے، جب کہ ’’مالِ غنیمت کی تقسیم‘‘ درحقیقت فاتح قوتوں—برطانیہ، فرانس، اٹلی اور یونان—کے درمیان عثمانی علاقوں اور وسائل کی تقسیم کی علامتی تعبیر ہے۔

انھی ایام میں کمیونزم ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرا اور 1920ء میں آذربائیجان، آرمینیا اور عثمانیوں کے کئی سابقہ علاقوں پر کمیونسٹوں نے قبضہ کر لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے حدیث میں شیطان کی پکار ’’مسیح تمھارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے‘‘ کے ذریعے سے علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شیطان کی جانب سے مسیح کے ظہور کا یہ جھوٹا اعلان دراصل اُس کمیونسٹ پروپیگنڈے کی نمایندگی کرتا ہے، جس کے ذریعے سے کمیونسٹ ریاست کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا—ایسی ریاست جو عوام کو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصال سے ’’رہائی‘‘ دلانے اور مزدوروں و کسانوں کے لیے ’’برابری‘‘ اور سوشلسٹ نظام کی شکل میں ایک مثالی معاشرتی خواب کو حقیقت بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شام عیسائیوں کے زیرِ تسلط تھا، لہٰذا مسلمانوں کا شام پہنچنا علامتی طور پر 1920ء میں معاہدۂ سیور کے تحت یورپی عیسائی فاتحین کے عثمانی سلطنت کے علاقوں پر با ضابطہ قبضے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح، احادیث میں بیان کردہ مسلمانوں کی ’’صف بندی‘‘ ترکی میں ایک نئی سیاسی ترتیب کے قیام کی علامت ہے۔ نومبر 1922ء میں ترکی کی قومی اسمبلی نے با ضابطہ طور پر عثمانی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کیا اور اسی دوران میں، دسمبر 1922ء میں، سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا—یہ وہی لمحہ تھا جب روایات کے مطابق دجال کا ظہور ہوا۔

مسلمانوں کے دس گھڑ سوار – ترکی کی قومی تحریک کے دس رہنما

حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمان دجال کی خبر سنیں گے تو وہ ہر چیز چھوڑ کر دس گھڑسواروں کو طلیعہ (پیش رو دستہ) کے طور پر روانہ کریں گے۔ یہ منظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ’’کتابِ مکاشفہ‘‘ میں بیان کردہ گھڑسواروں کی مانند ہے، جہاں گھڑسوار قیادت اور رہنمائی کی علامت کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

مذکورہ حدیث میں بھی ان دس گھڑسواروں سے مراد مسلمانوں کے دس رہنما ہیں۔ ان کی تعبیر ترکی کی قومی تحریک کی وہ دس نمایاں سیاسی و عسکری شخصیات ہیں جنھوں نے ابتدا میں کمیونسٹوں اور بعد ازاں مغربی طاقتوں سے کامیاب مذاکرات کیے ۔ حدیث میں ان کو اس دن کے بہترین گھڑ سوار بتایا گیا ہے، جو در حقیقت بہ طور سفارت کار اور رہنما ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان میں خاص طور پر مصطفیٰ کمال اتاترک، یوسف کمال ٹینگیرشینک، کازم کارابیکر اور بعد میں عصمت انونو جیسے رہنماؤں نے بے مثال سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا اور کمیونسٹوں اور مغربی طاقتوں، دونوں سے بہترین معاہدے حاصل کیے۔ 1921ء میں ترکی کی قومی تحریک نے کمیونسٹوں کے ساتھ سرحدوں کے تعین اور مالی امداد اور عسکری حمایت پر معاہدے کیے، لیکن تحریک کے رہنماؤں نے ترکی کو کمیونزم کے نظریاتی اثر سے محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں 1923ء میں معاہدۂ لوزان کے ذریعے سے مغربی طاقتوں سے مکمل خود مختاری حاصل کی اور عثمانی سلطنت کے برعکس ترکی کو نوآبادیاتی تسلط سے بچایا۔ یہ ایک نادر سفارتی کامیابی تھی، جس میں ترکی نے دونوں عالمی طاقتوں سے فائدہ اٹھایا، مگر کسی کا تابع نہیں بنا۔

بنی اسحٰق کے ستر ہزار افراد – باکو شہر کے شیعہ مسلمان (1918ء-1920ء)

حدیث میں ایک ایسے شہر کا ذکر ملتا ہے جس کی ایک سمت خشکی اور دوسری سمت سمندر ہے۔ بنی اسحٰق کے ستر ہزار افراد بغیر اسلحہ کے اس شہر پر حملہ کریں گے اور’لا إلہ إلا اللّٰہ واللّٰہ اکبر‘ کے تین بار کہنے کے بعد یہ شہر ان کے لیے کھل جائے گا۔ شہر پر قبضے کے بعد وہ مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے بعد اسے تقسیم کریں گے، لیکن دجال کے ظہور کی خبر سنتے ہی لوٹ جائیں گے۔

اس حدیث کی تعبیر موجودہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے 15؍ ستمبر 1918ء کے واقعات ہیں۔ یہ شہر بحرِ خزر کے کنارے واقع ہے— ایک طرف خشکی اور دوسری طرف سمندر۔ اس پیشین گوئی میں شیعہ مسلمانوں کو علامتی طور پر ’’بنی اسحٰق‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح بنی اسحٰق، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک علیحدہ مذہبی شناخت رکھتے تھے، اسی طرح شیعہ مسلمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کے اندر ایک مسلکی امتیاز کے حامل گروہ کے طور پر سامنے آئے۔ حدیث میں بنی اسحٰق کی ’’ستر ہزار‘‘ کی تعداد کا ذکر دراصل اُس وقت باکو میں موجود شیعہ آبادی کی طرف اشارہ ہے، جو تقریباً ستر ہزار کے قریب تھی۔

تاریخی طور پر باکو میں 15؍ ستمبر 1918ء کو عیدالاضحٰی کا دن تھا، جب پہلی جنگ عظیم کے دوران میں عثمانی افواج باکو میں داخل ہوئیں۔ برطانوی اور آرمینیائی افواج ایک رات قبل ہی باکو کا انخلا کرچکی تھیں، جس کے باعث عملی طور پر شہر کا دفاع ختم ہو چکا تھا۔ حدیث میں ذکر کردہ ’لا إلٰه إلّا اللّٰه واللّٰه أكبر‘ کے الفاظ اس دن عیدالاضحٰی کی مناسبت سے ایامِ تشریق کی تکبیروں کو ظاہر کرتے ہیں۔ حدیث کے مطابق تین مرتبہ یہ کلمات کہے جانے کے بعد شہر کا ’’کھل جانا‘‘ علامتی طور پر عیدالاضحٰی کے تیسرے دن، مقامی شیعہ آبادی کی نمایندہ آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کی جلاوطن قیادت کا واپس آنا اور باکو میں 17؍ ستمبر 1918ء کو باقاعدہ اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔

حدیث میں مذکور ’’مالِ غنیمت‘‘ سے مراد اُس دور میں باکو کے وسیع تیل کے ذخائر ہیں، جن پر آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کی شیعہ مسلمان قیادت کو عارضی طور پر کنٹرول حاصل ہوا۔ اس قیادت نے ان وسائل کو اقتصادی اور سفارتی مقاصد کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، اپریل 1920ء میں جب بالشویک کمیونسٹ افواج نے باکو پر حملے کی دھمکی دی تو یہ قیادت اپنی مختصر خودمختاری اور حاصل شدہ وسائل چھوڑ کر واپس جلاوطنی میں چلی گئی، جو حدیث میں دجال کے ظاہر ہونے کی خبر سن کر واپس پلٹنے کی تعبیر ہے ۔

[ باقی]

تحریروتحقیق:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی