دجال سے پہلے تاریخی واقعات کو ایک اور حدیث میں اکٹھا بیان کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب، پھر فارس، پھر روم اور آخر میں دجال پر فتح کی پیشین گوئی فرمائی۔1
یہ تاریخی واقعات سے مطابقت رکھتی ہے: مسلمانوں کے ہاتھوں عرب کی مکمل فتح 633ء میں، فارس کی فتح 651ء میں، بازنطینی (رومی) سلطنت کا خاتمہ 1453ء میں اور افغانستان میں سوویت افواج کی شکست، جس کے بعد 1991ء میں سوویت یونین کا انہدام ہوا۔
دجال کی خصوصیات
احادیث میں دجال کی کئی نمایاں خصوصیات بیان کی گئی ہیں، جنھیں ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
پیشانی پر ’’کافر‘‘ کا نشان –– سوویت یونین کا الحاد اور مذہب دشمنی کا علانیہ اظہار
جیسے کتابِ مکاشفہ میں ’’سمندر کے جانور‘‘ — جو رومی سلطنت کی علامت تھا — کے سروں پر گستاخانہ الفاظ تحریر تھے،2 ویسے ہی دجال کے ماتھے پر ’’کافر‘‘ لکھا ہوگا،3 جسے ہر مسلمان، خواہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، بہ آسانی پہچان سکے گا۔4
پیشانی انسانی جسم کا سب سے نمایاں حصہ ہے، جو کھلی اور ناقابلِ انکار شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دجال کی پیشانی پر ’’کافر‘‘ لکھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی پہچان اور کفر پوشیدہ نہیں، بلکہ علانیہ ہوگا۔ اسی طرح سوویت یونین نے بھی مذہب سے انکار کو چھپایا نہیں، بلکہ اسے ایک نظریاتی فخر کے طور پر اپنایا۔ سوویت یونین انسانی تاریخ میں واحد ریاست کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کی سرکاری نظریاتی پالیسی نے تمام موجودہ مذاہب کے خاتمے، مستقبل میں مذہبی عقائد کے فروغ کی روک تھام اور طویل المدتی مقصد کے طور پر ریاستی الحاد کے قیام کی باقاعدہ کوشش کی۔ 5 ریاستی سطح پر سائنسی دہریت کو فروغ دیا گیا اور مذہب کو ایک پس ماندہ، غیر سائنسی عقیدہ قرار دے کر اس کے مکمل خاتمے کو ایک سرکاری ہدف بنایا گیا۔ اس نظریے کا عملی مظاہرہ نہ صرف مذہبی اداروں کی بندش، بلکہ خاص طور پر ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں پر ریاستی جبر اور دباؤ کی صورت میں بھی ہوا۔
کوئی ہمیں نجات نہیں دے گا
نہ خدا، نہ زار، نہ کوئی ہیرو
ہم اپنی آزادی جیتیں گے
اپنے ہی ہاتھوں سے
انٹرنیشنل کے اشعار (جو 1922ء سے 1944ء تک سابقہ سوویت یونین کے قومی ترانے کا حصہ تھے)، جو کمیونزم کے الحادی اور مذہب مخالف نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔
دجال کی ایک آنکھ اور گھنگریالے بال ہونا –– سوویت نظام کی عملی و نظریاتی خامیاں
حدیث میں دجال کا ایک آنکھ سے اندھا ہونا کمیونزم کے محدود نقطۂ نظر کی علامت ہے، جو صرف ایک بے طبقہ اور بے ریاست معاشرے کے تصور پر مرکوز ہے۔6 یہ نظریہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ انسانی باہمی انحصار کو نظر انداز کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کمیونزم کی ناکامیاں اور اس کے نفاذ کے دوران میں ہونے والے تباہ کن نقصانات نمایاں ہوئے۔ اسی طرح، دجال کے گھنگریالے بال اس کے بدصورت اور بے ڈھنگے پن کی نشانی ہیں، جو بند اور کنٹرول شدہ معاشروں، طاقت کے ذریعے سے مسلط کردہ مساوات، آزادی اظہار کی عدم موجودگی، اور سماجی و سیاسی جبر کی شکل میں سامنے آئیں۔ یوں، دجال کا یہ ظاہری بگاڑ کمیونزم کے نظریاتی اور عملی تضادات کی علامت بن جاتا ہے، جو ایک مثالی سماج کے بجاے ظلم، دباؤ اور استبداد کی راہ ہموار کرتا ہے۔
دجال بطور جھوٹا مسیح –– سوویت نظام کی طرف سے انسانیت کے مسائل کے حل کا دعویٰ
کمیونزم نے مساوات اور انصاف کا جھوٹا وعدہ کیا، لیکن عملاً ایک سخت گیر، جابرانہ اور غیر انسانی نظام قائم کیا۔ یہ نظام دجال کے ’’جھوٹے مسیح‘‘ ہونے کی علامتوں سے مماثلت رکھتا ہے—ایسا مسیحا جو انسانوں کو نجات کا جھوٹا خواب دکھاتا ہے، مگر انھیں ایک نئے ظلم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سوویت ریاست نے غربت، طبقاتی ناانصافی اور سرمایہ داری کے خلاف حقیقی عوامی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے سوشلسٹ جنت کا فریب پھیلایا۔ اس فریب کے نتیجے میں پرتشدد انقلابات، جبری اجتماعی زراعت، طبقاتی تطہیر اور مذہب و آزادی اظہار پر بے مثال پابندیاں مسلط کی گئیں۔ سوویت پالیسیوں کا مجموعی اثر یہ تھا کہ انسان کو خدا سے کاٹ کر ریاست کی اطاعت پر مجبور کیا گیا، جو دجالی فتنہ کی عملی شکل تھی۔
دجال کی جنت اور دوزخ –– سوویت نظام کے وعدوں اور حقیقت میں تضاد
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ دجال جس جنت کی طرف بلائے گا،وہ درحقیقت جہنم ہوگی؛ اور دجال کی آگ یا جہنم ٹھنڈی اور میٹھے پانی کے مانند ہوگی، اس لیے انسان کو وہی چننا چاہیے۔7
کمیونسٹ نظام نے بھی زمین پر جنت، برابری اور انصاف کا وعدہ کیا تھا۔ مگر عملی طور پر یہ وعدہ ایک خوف ناک دھوکا ثابت ہوا۔ سرمایہ داری کو استحصال کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، لیکن خود کمیونسٹ ریاستیں جبر، قحط اور ظلم کی بدترین مثال بن گئیں۔ سوویت یونین میں جبری مزدوری، گولاگ کیمپوں اور سیاسی تطہیر کے نتیجے میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بنے۔ چین میں ’’ آگے کی جانب ایک عظیم پھلانگ‘‘ کے دوران میں 1958ء سے 1962ء تک، ریاستی پالیسیوں کے باعث اندازاً ڈیڑھ سے ساڑھے پانچ کروڑ افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔
اس کے برعکس، اسی دور میں سرمایہ دارانہ معاشروں نے معاشی ترقی، سائنسی ایجادات اور فرد کی آزادی میں نمایاں پیش رفت کی۔ یہ تضاد اس حدیث کی علامتی سچائی کو واضح کرتا ہے—دجال کی پیش کردہ جنت دراصل تباہی کا راستہ تھی، جب کہ اس کے مخالف سمت میں نجات کی حقیقی راہیں پوشیدہ تھیں۔
دجال بطور جھوٹا نبی – سوویت نظام کی طرف سے انسانیت کی رہنمائی کا دعویٰ
دجال کو جھوٹا نبی8 کہا گیا ہے، کیونکہ وہ جھوٹے طور پر اقتدار، اخلاقی برتری اور انسانیت کی رہنمائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایک حقیقی نبی جو الہٰی ہدایت فراہم کرتا ہے، کے برعکس، دجال شیطان کا نمایندہ ہے—بالکل کتاب مکاشفہ کے ’’جھوٹے نبی‘‘کے مانند، جو شیطان کی آواز میں بولتا ہے۔9 سوویت نظام نے دہریت کو ریاستی پالیسی کا درجہ دیا، اور مذہب کو ’عوام کے لیے افیون‘ قرار دے کر سرکاری طور پر مساجد، گرجا گھروں اور مذہبی اداروں کو بند کرایا۔ اس نظام نے الحاد اور مادہ پرستی کو فروغ دیا، جو خدا کے انکار اور اخلاقی اقدار کی بے توقیری پر مبنی تھا۔
دجال کا دورانیہ (1917ء–1991ء)
احادیث کے مطابق، دجال کا دورانیہ 40 دن ہوگا، ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا اور بقیہ دن عام دنوں کی طرح۔10
بالکل اسی طرح، جیسے کتاب دانیال11 اور کتاب مکاشفہ12 میں پیشین گوئیوں میں ریاضی کی پہیلیاں پیش کی گئی ہیں، یہ بھی ایک ریاضی کی پہیلی ہے۔ اس پہیلی میں ’’دن‘‘ ادوار کی نمایندگی کرتے ہیں۔ اگر الٹا پڑھا جائے تو پہلا دور ایک ہفتہ، یعنی 7 دن کا، دوسرا دور ایک مہینا، یعنی 30 دن کا اور باقی 38 (کل 40 دنوں میں سے) عام دنوں کی طرح، یعنی یہ 38 ادوار کی نمایندگی نہیں کرتے ۔ ’’ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن حقیقی وقت میں ایک سال کے مساوی ہے۔
یہ ادوار—7 سال، 30 سال اور 38 سال—دجال کے اثرات کے مختلف مراحل کی نمایندگی کرتے ہیں:
• پہلا دور – 7 سال (انقلابی ابتدا – لینن کا دور): 1917ء کے فروری انقلاب کے بعد، لینن کی روس واپسی جمادی الثانی 1335 ہجری13 میں ہوئی، جس کے بعد کمیونسٹوں میں سے بالشویک گروہ ایک طاقت کے طور پر اٹھا اور اسی سال انقلاب برپا کیا۔ لینن کی یہ واپسی اس کی وفات، جو جمادی الثانی 1342 ہجری14 میں واقع ہوئی، سے ٹھیک سات سال قبل ہوئی، جو ایک ہفتے کے دورانیے کی علامتی نمایندگی کرتی ہے۔ لینن کے دور میں انقلابی تحریکوں نے زور پکڑا اور سوویت ریاست کی بنیاد رکھی گئی ۔
• دوسرا دور – 30سال (طاقت کا عروج – اسٹالن کا دور): اسی طرح، جمادی الثانی 1372 ہجری15 میں اسٹالن کی موت واقع ہوئی، جو لینن کی وفات کے ٹھیک 30 اسلامی سال بعد کا واقعہ ہے، اور یہ مہینے کے دورانیے کی علامتی نمایندگی کرتی ہے۔ اسٹالن کے دور میں اقتدار کو مضبوط کیا گیا، سوویت یونین کو تیزی سے صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا، اور ساتھ ہی عوام پر سخت جبر اور خوف کا نظام نافذ کیا گیا۔ اسٹالن کی حکمرانی میں سوویت ریاست نے ایک عالمی طاقت کا درجہ حاصل کیا۔
• تیسرا دور – 38 سال (زوال کا آغاز اور انجام): اس کے بعد کے ادوار میں سوویت یونین کی قیادت اور کمیونسٹ تحریک کی شدت میں وہ نمایاں پہلو نظر نہیں آیا جو لینن اور اسٹالن کے عہد میں تھا۔ اسٹالن کی موت کے بعد کمیونزم نے، بلاشبہ دنیا بھر میں پھیلاؤ حاصل کیا اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں انقلابات اور حکومتوں پر گہرے اثرات ڈالے۔ مگر اندرونی ناکامیاں، اقتصادی مسائل، قوم پرستی کی تحریکیں اور سرد جنگ کے بین الاقوامی دباؤ نے سوویت یونین اور کمیونسٹ بلاک کو بہ تدریج کم زور کر دیا۔ بالآخر، اسٹالن کی موت کے ٹھیک 38 اسلامی سال بعد، جمادی الثانی 1410 ہجری16 میں دیوارِ برلن کے گرنے کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی کی اجارہ داری کو ختم کر دیا گیا۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں کمیونزم کے زوال کی علامت بن گیا، جس کے بعد سوویت یونین کے ٹوٹنے اور عالمی سطح پر کمیونسٹ تحریک کے کم زور پڑ جانے کا عمل تیزی سے اسٹالن کی موت کے ٹھیک 40 اسلامی سال بعد، جمادی الثانی 1412 ہجری17 میں مکمل ہوا۔
دجال کی تعداد –– 30 کمیونسٹ ریاستیں
حدیث کے مطابق، تقریباً تیس دجال ہوں گے، جو نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے۔18
یہ تعداد تقریباً دنیا میں ماضی کی تیس کمیونسٹ ممالک سے مطابقت رکھتی ہے۔ جھوٹے نبیوں کی طرح، کمیونسٹ حکومتوں نے خود کو مطلق سچائی کا علم بردار بنا کر پیش کیا، اپنے نظریے کو انسانیت کے لیے واحد روشنی قرار دیا اور طاقت کے ذریعے سے اطاعت مسلط کی۔
اس تناظر میں سوویت یونین کو مرکزی دجال سمجھا گیا ہے۔ کچھ کمیونسٹ ریاستیں مختصر مدت کے لیے قائم رہیں اور بعد میں سابق سوویت یونین میں ضم ہو گئیں، جب کہ بعض میں مخلوط نظام پایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے حدیث میں ’’تقریباً‘‘ کا ذکر کیا گیا۔ ان ریاستوں میں سے تمام یا تو تحلیل ہو چکی ہیں یا اصلاحات کے ذریعے سے اپنے نظریات بدل چکی ہیں۔19
دجال کا دنیا کا سفر
حدیث20 میں دجال کے دنیا کے سفر کو ہوا سے اُڑائی گئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اس کی تیز رفتاری اور عالمی اثرات کی علامت ہے۔ اسی طرح کمیونزم بھی دنیا کے ہر براعظم میں پھیلا، مگر آخرکار بارش کی طرح تھم کر ختم ہو گیا۔
دجال کی آزمایش سے بڑی کوئی آزمایش نہیں ہوگی
حدیث21 میں دجال کی آزمایش کو سب سے بڑی آزمایش کہا گیا ہے۔ اپنے عروج کے وقت دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کمیونسٹ حکومتوں کے زیر اثر تھی۔22 یہ انسانی تاریخ میں مذہبی جبر اور آزادیوں کی خلاف ورزی کے وسیع ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس نے اربوں افراد کو متاثر کیا۔
مسلمان دجال کی آزمایشوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں پناہ لیں گے
احادیث23 ایک ایسے وقت کا ذکر کرتی ہے جب مسلمان شدید فتنوں، بشمول دجال کے ظہور، کے دوران میں اپنے دین کی حفاظت کے لیے پہاڑوں اور وادیوں جیسے دور دراز مقامات کی طرف ہجرت کریں گے۔ تاریخی طور پر، ایسے افراد جنھوں نے اپنے مذہبی عقائد کو محفوظ رکھنے کے لیے پناہ لی، ان میں اباکان کے پہاڑوں جیسے علاقوں کے لوگ شامل ہیں۔24
دجال سے حفاظت کے لیے سورۂ کہف کی تلاوت
احادیث25 میں سورۂ کہف کی تلاوت کی خاص تاکید کی گئی ہے، جو دجال کے فتنے جیسے عظیم امتحانات کے دوران میں مومنوں کے ایمان، عزم اور بصیرت کو تقویت بخشتی ہے۔ یہ ہدایت اس واقعے سے مماثلت رکھتی ہے جو ’’اصحابِ کہف‘‘ کے بارے میں بیان ہوا—جنھوں نے مذہبی جبر اور آزمایش کے دور میں حق پر قائم رہنے کے لیے ہجرت کی اور اللہ کی پناہ میں جا بسے۔
[ باقی]
- ۔ Sahih Muslim 2900: https://sunnah.com/muslim:2900
- ۔ Revelation 13:1–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.1-10.NIV
- ۔ Sahih Bukhari 1555: https://sunnah.com/bukhari:1555
- ۔Sahih Muslim 2934b: https://sunnah.com/muslim:2934b
- ۔ فروز، پال۔ ’’سوویت روس میں جبری سیکولرائزیشن: ایک دہری اجارہ داری کیوں ناکام ہوئی؟‘‘ جرنل برائے سائنسی مطالعۂ دین، جلد 43، شمارہ 1 (مارچ 2004ء): صفحات 35–50۔ شائع کردہ: وائیلی۔ الحاد کی تاریخ: https://doi.org/10.1017/9781108562324.047
- ۔ Sahih Muslim 169b: https://sunnah.com/muslim:169b
- ۔ Sahih Bukhari 3450, 3451, 3452: https://sunnah.com/bukhari:3450
- ۔ Sahih Bukhari 7121: https://sunnah.com/bukhari:7121
- ۔ Revelation 19:20 : https://www.bible.com/bible/111/REV.19.20.NIV
- ۔ Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
- ۔ Daniel 9:24-27: https://www.bible.com/bible/111/dan.9.24-27.NIV
- ۔ Revelation 13:18: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.18.NIV
- ۔ اسلامی مہینا، ترکی کے اسلامی کیلنڈر کنورٹر کے مطابق 16 ؍ اپریل1917ء کے حساب سے نکالا گیا:https://webspace.science.uu.nl/~gent0113/islam/diyanetcalendar.htm
- ۔21؍ جنوری 1924 ء کے مطابق۔
- ۔ 5؍ مارچ 1953ء کے مطابق ۔
- ۔ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے 23 ؍جنوری 1990ء کو پارٹی کی طاقت پر اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا، جس سے کثیر الجماعتی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
- ۔ 26 ؍ دسمبر 1991ء کے مطابق۔
- ۔ Sahih Bukhari 7121:https://sunnah.com/bukhari:7121
- ۔ 1۔ چین (پیپلز ریپبلک آف چائنہ) – 1949ء سے 1978ء-1980 ءکی دہائی تک (ڈینگ ژیاوپنگ کے تحت اقتصادی اصلاحات)۔2۔ کیوبا – 1959ء سے 2002ء (نظریاتی زور مارتی (خوسے مارتی) اور کاسٹرو ازم پر دیا گیا)۔3۔ ویتنام (سوشلسٹ ریپبلک آف ویتنام) – 1976ء سے 1986ء تک Đổi Mới) اصلاحات(۔4۔ لاوس (لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1975ء سے 1986ء تک (نیو اکنامک میکانزم اصلاحات)۔5۔ شمالی کوریا (ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا) – 1948ء سے 1992ء (جوچے نظریہ سے بدل دیا گیا)۔6۔ سوویت یونین (یو ایس ایس آر) – 1922ء سے 1991ء تک (پیریستروئیکا اور زوال)۔7۔ مشرقی جرمنی (جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1949ء سے 1990ء تک (مغربی جرمنی کے ساتھ دوبارہ اتحاد)۔8۔ پولینڈ (پیپلز ریپبلک آف پولینڈ) – 1947 ءسے 1989ء تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔9۔ چیکوسلوواکیہ (چیکوسلوواک سوشلسٹ ریپبلک) – 1948ء سے 1989ء تک (ویلویٹ انقلاب)۔10۔ ہنگری (ہنگری کی عوامی جمہوریہ) – 1949ء سے 1989ء تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔11۔ رومانیہ (سوشلسٹ ریپبلک آف رومانیہ) – 1947ء سے 1989ء تک (چاؤشسکو کے زوال)۔12۔ بلغاریہ (پیپلز ریپبلک آف بلغاریہ) – 1946 ء سے 1990ء تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔13۔ البانیا (پیپلز سوشلسٹ ریپبلک آف البانیا) – 1946ء سے 1992ء تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔14۔ یوگوسلاویہ (سوشلسٹ فیڈرل ریپبلک آف یوگوسلاویہ) – 1943ء سے 1992ء تک (آزاد ریاستوں میں تقسیم)۔15۔ منگولیا (منگولین پیپلز ریپبلک) – 1924ء سے 1990ء تک (جمہوری اصلاحات)۔16۔ جنوبی یمن (پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف یمن) – 1967ء سے 1990ء تک (شمالی یمن کے ساتھ اتحاد)۔17۔ افغانستان (ڈیموکریٹک ریپبلک آف افغانستان) – 1978ء سے 1992ء تک (کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ)۔18۔ انگولا (پیپلز ریپبلک آف انگولا) – 1975ء سے 1991ء تک (کثیر جماعتی نظام اور اقتصادی اصلاحات)۔19۔ موزمبیق (پیپلز ریپبلک آف موزمبیق) – 1975ء سے 1990ء تک (کثیر جماعتی جمہوریت)۔20۔ بینن (پیپلز ریپبلک آف بینن) – 1975ء سے 1990ء تک (جمہوری اصلاحات)۔21۔ کانگو-برازاویلے (پیپلز ریپبلک آف کانگو) – 1969ء سے 1991ء تک (جمہوریت کی طرف منتقلی)۔22۔ ایتھوپیا (ڈیرگ حکومت، بعد میں پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف ایتھوپیا) – 1974ء سے 1991ء تک (ڈیرگ حکومت کا خاتمہ)۔23۔ کمبوڈیا (ڈیموکریٹک کمپوچیا، خمیر روج کے تحت) – 1975ء سے 1979ء تک (ویتنامی حملے کے بعد زوال اور پیپلز ریپبلک آف کمپوچیا کا قیام)۔24۔ کمپوچیا (پیپلز ریپبلک آف کمپوچیا) – 1979ء سے 1993ء تک (اقوام متحدہ کے زیرنگرانی امن معاہدوں کے بعد جمہوریت کی طرف منتقلی)۔25۔ تانو تووا (تووان پیپلز ریپبلک) – 1921ء سے 1944ء تک (سوویت یونین کے ذریعے سے الحاق)۔26۔ بیرونی منگولیا (1924ء سے قبل منگولین پیپلز ریپبلک) – 1921ء سے 1924ء تک (منگولین پیپلز ریپبلک کا پیش خیمہ)۔27۔ صومالیہ (صومالی ڈیموکریٹک ریپبلک) – 1969ء سے 1991ء تک (ناکام ریاست بننے کے بعد زوال)۔28۔ نکاراگوا (ساندنیستا حکومت کے تحت) – 1979ء سے 1990ء تک (1990ء کے انتخابات میں امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن سے شکست کے بعد اقتدار کا خاتمہ)۔29۔ گرینیڈا (ماریس بشپ کی نیو جیول موومنٹ کے تحت) – 1979ء سے 1983ء تک (داخلی تنازعات کے بعد امریکی فوجی مداخلت سے خاتمہ)۔30۔ چلی (سالواڈور آلینڈے کے تحت پاپولر یونٹی) – 1970ء سے 1973ء تک (اگسٹو پنوشے کی قیادت میں امریکی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے سے حکومت کا خاتمہ)۔
- ۔ Sahih Muslim 2937a: https://sunnah.com/muslim:2937a
- ۔ Sahih Muslim 2946a: https://sunnah.com/muslim:2946a
- ۔ Princeton University Press, The Rise and Fall of Communism, accessed at:https://assets.press.princeton.edu/chapters/s11095.pdf
- ۔ Sahih Bukhari 19: https://sunnah.com/bukhari:19 Sahih Muslim 2945a: https://sunnah.com/muslim:2945a
- ۔ https://en.wikipedia.org/wiki/Lykov_family
- ۔ Sahih Muslim 809a: https://sunnah.com/muslim:809