مواد پر جائیں

علامات قیامت اور تاریخی واقعات: بائیبل اور قرآن کی روشنی میں (6)

محمد سعد سلیم اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

قرآن میں یاجوج و ماجوج کا خروج – یورپی پھیلاؤ کا عہد

سورۂ انبیاء1 میں یاجوج و ماجوج کے قیامت سے قبل خروج کا ذکر ہے۔

شمالی اور مغربی اقوام کا یورپ سے نکلنا — یعنی اُن کا خروج — مختلف موجوں مرحلوں میں وقوع پذیر ہوا۔ ڈاکٹرین آف ڈسکوری اور پوپ کے 1493ء میں جاری کردہ ’’انٹر کیٹرا‘‘2 جیسے احکام نے ہسپانوی اور پرتگالی توسیع کو جھوٹی خدائی توثیق دی، جس کے بعد واسکو ڈی گاما 1497ء میں ہندوستان کے لیے روانہ ہوا۔ نیچے اہم یورپی نوآبادیاتی طاقتوں اور اِن کے زیرِ اثر علاقوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جو شمالی اور مغربی یورپ سے منسلک ہیں۔ یہ فہرست ان اقوام کے عالمی غلبے اور دنیا بھر میں اِن کی نوآبادیاتی وسعت کو واضح کرتی ہے۔

• پرتگال: افریقہ، ایشیا، برازیل

• اسپین: امریکہ، فلپائن

• نیدرلینڈز: انڈونیشیا، کیریبین

• فرانس: امریکہ، افریقہ، ایشیا

• برطانیہ: دنیا بھر میں (امریکہ، ہندوستان، افریقہ، ایشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ)

• ڈنمارک-ناروے: گرین لینڈ، کیریبین، ہندوستان

• سویڈن: شمالی امریکہ، کیریبین

• بیلجیم: کانگو، روانڈا، برونڈی

• اٹلی: لیبیا، ایتھوپیا، صومالیہ

• جرمنی: افریقہ، بحر الکاہل

حدیث میں یاجوج و ماجوج کی دیوار میں شگاف پڑ جانا–

یاجوج و ماجوج کے قریب الوقوع خروج کی نشانی

قرآن میں ذوالقرنین کے واقعے کو ایک حقیقی واقعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاجوج اور ماجوج کی رہائی کو علامتی طور پر اِسی واقعے سے بیان کیا۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار میں سوراخ کے بڑھنے کو اُن کے قریب الوقوع خروج کی نشانی قرار دیا۔3

یاجوج اور ماجوج کا آخری معرکہ

بائیبل، قرآن اور احادیث میں یاجوج و ماجوج کے قیامت سے پہلے آخری بڑے معرکے کو بیان کیا گیا ہے۔ اِن واقعات کی تاریخی مطابقت دوسری جنگِ عظیم کے اِن مناظر سے ملتی ہے، جب یورپی اقوام ہر سمت سے حملہ آور ہو کر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔

نیا عہدنامہ میں یاجوج اور ماجوج کا آخری معرکہ–

دوسری جنگِ عظیم کا علامتی بیان

کتابِ مکاشفہ میں شیطان، یاجوج و ماجوج کو جنگ کے لیے جمع کرتا ہے۔ پھر آسمان سے ایک آگ نازل کی جاتی ہے، جو اُنھیں کھا جاتی ہے — جو اُن کی مکمل ہلاکت کی ایک طاقت ور علامت ہے۔4 یہ علامتی آگ یاجوج و ماجوج کے عظیم معرکے، یعنی دوسری عالمی جنگ کی نمایندگی کرتی ہے۔ اِس آگ میں اُن کا جل کر ختم ہونا نہ صرف نازی جرمنی کی فیصلہ کُن شکست کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ جنگ کے بعد نوآبادیاتی نظام کے زوال کی علامت بھی بنتا ہے۔

قرآن میں یاجوج و ماجوج کا ہر بلندی سے اُترنا اور باہمی تصادم –

نازی جرمنی کا اچانک اُبھار اور دوسری جنگِ عظیم میں یورپی اقوام کا ٹکراؤ

سورۂ انبیاء 5 میں یاجوج و ماجوج کے تصادم کے پہلے مرحلے کو یاجوج اور ماجوج کے ہر بلند مقام سے حملہ آور ہونے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد ’’وعدۂ حق‘‘، یعنی قیامت کے قریب آنے کا بیان ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے، جس طرح کوئی طاقت ور فوج بلندی سے تیزی کے ساتھ دشمن پر حملہ آور ہو، جو اُن کی جارحیت، برق رفتاری اور ناقابلِ مزاحمت عسکری قوت کی علامت ہے۔ یہ ذکر دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں نازی جرمنی کے تیز رفتار حملوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے احادیث میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

مزید برآں، سورۂ کہف6 میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن کا ذکر فرماتے ہیں، جب یاجوج اور ماجوج ’’موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے‘‘ اور صور پھونک دیا جائے گا۔ قرآن ہمیشہ وقت کو سیاق و سباق کے مطابق بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ اعراف7 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین چھ دنوں میں پیدا کیے گئے، جہاں ’’دن‘‘ سے مراد ایک مکمل دَور یا زمانہ ہے۔ اِسی اصول کے تحت، یاجوج اور ماجوج کے تصادم کا ’’دن‘‘ عالمی واقعات کے آخری دَور کو ظاہر کرتا ہے۔سورۂ کہف کا بیان دوسری جنگِ عظیم کے مجموعی منظرنامے سے مشابہ ہے، جب یورپی اقوام — جو یاجوج و ماجوج کی نمایندہ ہیں — سمندر کی لہروں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔

احادیث اِس بات کو اُجاگر کرتی ہیں کہ اِس تصادم اور صور پھونکنے کے درمیان ایک مختصر خوش حالی کا دَور ہوگا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم اِس درمیانی دَور میں ہیں۔

احادیث میں یاجوج اور ماجوج کے واقعات

احادیث میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق واقعات، دوسری جنگِ عظیم سے مطابقت رکھتے ہیں:

یاجوج اور ماجوج کا ہر بلندی سے حملہ آور ہونا — نازی جرمنی کا حملہ آورہونا

حدیث میں یاجوج و ماجوج کی آخری عظیم جنگ کے آغاز کو سورۂ انبیاء کی قرآنی تعبیر ’’ہر بلندی سے حملہ آور ہوں گے‘‘ کے ذریعےسے بیان کیا گیا ہے۔

تاہم، جہاں قرآنِ مجید میں لفظ ’فُتِحَتْ‘ ، ’’وہ کھول دیے جائیں گے‘‘ استعمال ہوا ہے، 8وہاں حدیث میں اِس کی جگہ ’يَبْعَثُ اللّٰہ‘، ’’اللہ اُنھیں بھیجے گا‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔9 یہ تبدیلی اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ یاجوج و ماجوج کا ابتدائی ظہور (مثلاً نوآبادیاتی دَور میں) پہلے ہی ہو چکا تھا، لیکن اللہ نے اُنھیں آخری اور فیصلہ کُن جنگ کے لیے بھیجا۔

اِس تناظر میں، یہ بیان یاجوج و ماجوج کے ہی ایک حصے، یعنی نازی جرمنی، کی دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں تیز رفتار، جارحانہ اور وسیع پیمانے پر کی گئی علاقائی توسیع کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ نازی فوجی قوت اور اُن کی برق رفتار حربی حکمتِ عملیوں نے ابتدائی مراحل میں یورپ کے مختلف حصوں میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ فتوحات حاصل کیں۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا، جیسے کوئی حملہ آور بلند مقام سے اچانک اور تیز رفتاری کے ساتھ نیچے اُتر کر مخالفین کو تہس نہس کر دے۔

یاجوج اور ماجوج کا طبریہ کی جھیل کا پانی پینا —

نازی جرمنی کا مقبوضہ علاقوں کے وسائل کا استحصال

حدیث 10 میں یاجوج اور ماجوج کا طبریہ کی جھیل کا پانی پینے کا ذکر ہے۔

طبریہ کی جھیل، جسے بحیرۂ جلیل بھی کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شام کے علاقے میں واقع ایک اہم میٹھے پانی کا ذخیرہ تھی، جس سے عرب بہ خوبی واقف تھے۔ حدیث میں یاجوج و ماجوج کا اِس جھیل کا پانی پی جانا دراصل اِس امر کی علامت ہے کہ نازیوں نے مقبوضہ علاقوں میں موجود قدرتی وسائل — جیسے تیل، خوراک اور صنعتی ساز و سامان — کو بے دردی سے استعمال کیا۔ اِن وسائل کی شدید طلب نے نہ صرف مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دیا، بلکہ جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ خود جرمنی کی معیشت اور جنگی طاقت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔

یاجوج اور ماجوج کا بیت المقدس پہنچنا اور آسمان کی طرف تیر چلانا —

نازیوں کا یہودیت اور عیسائیت پرحملہ

حدیث11میں یاجوج و ماجوج کے بیت المقدس کے قریب پہنچنے کا ذکر ہے، جب وہ کہیں گے: ’’ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا، اب آسمان والوں کو ماریں گے۔‘‘ وہ تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، جو خون میں لت پت واپس آئیں گے۔

دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں نازی جرمنی کی غیر متوقع کامیابیاں اُس کے حکمرانوں کے تکبر میں اضافے کا باعث بنیں۔ آسمان سے ’’خون آلود تیروں‘‘ کا آنا جرمنی کے مذہب پر طاقت کے ذریعے سے حملے کی علامت ہے۔ بیت المقدس، جو دَورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود و نصاریٰ کا مرکز و مسکن تھا، نازیوں نے اِنھی دونوں مذاہب کو بالخصوص نشانہ بنایا، مثلاً:

• پادریوں اور علما کو گرفتار یا قتل کیا گیا۔

• یہودی عبادت گاہیں تباہ کی گئیں۔

• ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودی قتل کیے گئے۔

• عیسائی یہوواہ کے گواہوں کو قید یا قتل کیا گیا۔

• گرجا گھروں کو بند یا حکومتی کنٹرول میں لیا گیا۔

• نازی مخالف مسیحیوں کو قتل کیا گیا۔

علاوہ ازیں، نازی قیادت، خاص طور پر ہینرک ہیملر (Heinrich Himmler) نے ہٹلر (Adolf Hitler) کو مسیحائی شخصیت کے طور پر پیش کیا اور جرمن نسلی برتری و صوفیانہ عقائد پر مبنی ایک نیا نظریاتی مذہب بنایا۔ نازیوں نے نیٹشے (Friedrich Nietzsche)کے ’’خدا مر چکا ہے‘‘ (God is dead) کے فلسفے کو فروغ دیا اور روایتی مذاہب کے خاتمے کے ذریعے سے اپنی نظریاتی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، جو اُن کی طاقت اور اعتماد کے بڑھنے کی علامت تھی۔

یاجوج و ماجوج کا حضرت عیسیٰ اور اُن کے ساتھیوں کو کوہِ طور پر گھیرنا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے کوہِ طور کی طرف جانے اور یاجوج و ماجوج کے محاصرہ کرنے سے متعلق تفصیلات اِس باب میں بیان نہیں کی گئیں۔ یہ واقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے باب میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں۔

یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں کیڑے پڑنا — ہِٹلر کی خودکشی

حدیث 12 میں اللہ کا کیڑے بھیجنے کا ذکر ہے، جو یاجوج اور ماجوج کی گردنوں پر حملہ کریں گے اور وہ سب ایک ہی جان کے مرنے کی طرح مر جائیں گے۔

یہ تشبیہ نازی جرمنی کے زوال کو بیان کرتی ہے۔ یہاں ’’گردنوں میں کیڑے پڑنے‘‘ کی تعبیر اُس اچانک خودکشی کی علامت ہے، جو ہٹلر(Adolf Hitler) نے اپریل 1945ء میں کی — جیسے یاجوج و ماجوج کی گردنوں پر کیڑوں کا حملہ ہو، جس نے اُن کے اقتدار و اختیار کی رگ کاٹ کر رکھ دی ہو۔ ہٹلر کی موت کے فوراً بعد نازی حکومت نے چند ہی دنوں میں، مئی 1945ء میں مکمل طور پر غیر مشروط ہتھیار ڈال دیے — بالکل اُسی منظر کے مانند جسے حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب یاجوج و ماجوج کی گردنوں پر کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ یکایک ہلاک ہو جاتے ہیں۔

تعبیر سے متعلق سوالات

دجال اور یاجوج و ماجوج کے متوازی بیانیے

صحیح مسلم کی حدیث13 میں دجال کے واقعات پہلے اور یاجوج و ماجوج کے واقعات بعد میں بیان کیے گئے ہیں۔ اِس ترتیب سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ دجال کی موت یاجوج و ماجوج کے حملے سے پہلے ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ دونوں واقعات ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئے، جیسا کہ متوازی بیانیوں میں عام طور پر ہوتا ہے، جہاں ایک موضوع کو مکمل بیان کر کے دوسرے متوازی موضوع کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے — خواہ دونوں واقعات تاریخی طور پر ایک ہی دَور میں واقع ہوئے ہوں۔

اِس سیاق میں، دجال سے مراد سوویت یونین ہے، جو 1922ء میں قائم ہوا اور 1991ء میں ختم ہوا؛ جب کہ یاجوج و ماجوج سے مراد نازی جرمنی ہے، جس نے 1939ء سے 1945ء کے دوران میں دوسری جنگِ عظیم میں مہلک حملے کیے۔ چونکہ سوویت یونین کا ظہور نازی جرمنی سے پہلے ہوا، اِس لیے حدیث میں اُس کا تذکرہ اور انجام پہلے بیان کیا گیا، جب کہ یاجوج و ماجوج کے واقعات کو بعد میں تفصیل سے بیان کیا گیا — جیسا کہ متوازی بیانیوں میں عمومی طور پر ہوتا ہے۔

مزید برآں، حدیث کے مطابق دجال کی ہلاکت کے بعد سات سال کا ایک پُرامن دَور آئے گا، جس کے اختتام پر ٹھنڈی ہوائیں چلیں گی، جو ہر اُس شخص کی روح قبض کر لیں گی، جس کے دل میں رتی برابر بھی ایمان موجود ہوگا۔14 اگر یہ مفروضہ اختیار کیا جائے کہ یاجوج و ماجوج کا فتنہ دجال کے بعد ظاہر ہوا اور پھر اُن کے بعد یہ ہوائیں چلیں، تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ یاجوج و ماجوج کا عظیم فساد اُسی سات سالہ پُرامن دَور میں برپا ہوا — جو کہ اُس دَور کے ’’پُرامن‘‘ ہونے کے تصور سے سراسر متصادم ہے۔ یہ تضاد اِس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یاجوج و ماجوج کا خروج دجال کے فتنے کے ساتھ متوازی تھا، یعنی دونوں فتنوں کا ظہور ایک ہی تاریخی عرصے میں ہوا۔ حدیث میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بعد میں آنا صرف اسلوبِ بیان اور ترتیبِ تفصیل کا حصہ ہے، نہ کہ اِس سے مراد زمانی ترتیب ہے۔

احادیث میں یاجوج اور ماجوج اور نازی جرمنی

احادیث میں خاص طور پر نازی جرمنی کو یاجوج و ماجوج سے تعبیر کیا گیا ہے، حالاں کہ دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کی دیگر یورپی اقوام بھی شامل تھیں، جو تاریخی و نسلی اعتبار سے یاجوج و ماجوج اقوام کا حصہ ہیں۔ اِس تخصیص کا مقصد دراصل وضاحت اور صاف گوئی ہے تاکہ یہ مغالطہ پیدا نہ ہو کہ یہ احادیث جنگ کے کس فریق کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔

یاجوج و ماجوج کی پہچان ہمیشہ شمال کی اُن اقوام سے کی گئی ہے، جو دوسری قوموں پر چڑھائی کر کے تباہی مچاتی ہیں اور اُن کے وسائل کو بے دریغ لوٹتی ہیں۔ یہی صفات نازی جرمنی کے طرزِ عمل میں پوری شدت کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اِس وجہ سے نازی جرمنی کو خصوصاً اِن احادیث میں یاجوج و ماجوج سے تشبیہ دی گئی ہے تاکہ مفہوم میں ابہام باقی نہ رہے۔

[ باقی]

  1. ۔ الانبیاء21: 96۔
  2. ۔ “Doctrine of Discovery (1493),” Gilder Lehrman Institute of American History, accessed May 17, 2025, https://www.gilderlehrman.org/history-resources/ spotlight-primary-source/doctrine-discovery-1493.
  3. ۔بخاری، رقم 3346۔
  4. ۔ مکاشفہ 7:20-9۔
  5. ۔ الانبیاء 21: 96-97۔
  6. ۔ الکہف 18: 99۔
  7. ۔ الاعراف 7: 54۔
  8. ۔ الانبیاء 21: 96۔
  9. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  10. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  11. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  12. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  13. ۔ مسلم، رقم 2937۔
  14. ۔ مسلم، رقم 2940۔