]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول — مسیح کی آمد
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ دیگر پیشین گوئیوں کی طرح، اِس نزول کو علامتی طور پر ایک ریاست سمجھا گیا ہے۔ یہ علامتی تشریح کتابِ دانیال میں پیش کیے گئے رؤیا سے مطابقت رکھتی ہے، جہاں بابل کی سلطنت کے آخر کے دور کو ایک انسان سے تشبیہ دی گئی ہے۔1
یہ ریاست، انسانیت کے نجات دہندہ یا خدا کی طرف سے ’چنے گئے‘، یعنی ایک مسیح کی مانند، یاجوج و ماجوج کے مابین عظیم معرکے میں ایک فیصلہ کُن کردار ادا کرتی ہے۔ جرمنی کی فاشسٹ ریاست کے نتیجے میں یورپی اقوام کا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونا، جسے سورۂ کہف2 میں صور پھونکنے سے پہلے یاجوج اور ماجوج کے ’’ایک دوسرے پر موجوں کی طرح ٹکرانے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اِسی ہول ناک تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، یہ ریاست دجال (جھوٹے مسیحا)، یعنی سوویت یونین کے خلاف بھی صف بندی کرتی ہے — وہ طاقت جو انسانیت کو مصائب سے نجات کے جھوٹے وعدے دیتی رہی، مگر درحقیقت یہ الحاد، ریاستی ظلم و ستم اور مذہبی جبر کو فروغ دینے کا ذریعہ بنی۔ دوسری جنگِ عظیم سے لے کر سرد جنگ کے اختتام تک، امریکہ نے اِس پس منظر میں اِس علامتی کردار کو ادا کیا۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا دائرۂ کار حدیث میں بیان کیا گیا ہے، جہاں اُن کے دجال سے جنگ کرنے اور یاجوج و ماجوج کا مقابلہ کرنے کا ذکر ہے۔ ہمیں اپنی توقعات کو اِنھی واقعات تک محدود رکھنا چاہیے جو احادیث میں بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ یہ واپسی حقیقی معنوں میں نبی کی واپسی نہیں، بلکہ ایک علامتی مظہر ہے۔ اگر دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ کے دوران میں امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر نمایاں کردار ادا نہ کرتا تو دنیا سائنسی ترقی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں نہایت خوف ناک حد تک مختلف ہوتی، کیونکہ فاشسٹ اور کمیونسٹ ریاستوں کا تسلط عالمی حالات کو شدید متاثر کر سکتا تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے خلاف دلائل
اِس مضمون کا مقصد یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو جسمانی یا علامتی طور پر ثابت کیا جائے۔ معروف اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی صاحب نے اِس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔3
قرآن سے دلائل
جاوید احمد غامدی صاحب کے دلائل، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے خلاف ہیں، کئی قرآنی حوالوں پر مبنی ہیں:
قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی تفصیل
قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو بیان کرتا ہے — اُن کی معجزاتی پیدایش سے لے کر اُن کی وفات، رفع اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے تک۔ تاہم، قرآن میں قیامت سے پہلے اُن کے نزول کا کوئی ذکر نہیں ملتا، جو جسمانی نزول کے تصور کے خلاف ایک اہم دلیل ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور رفع کا ذکر
قرآن واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے بچانے4 اور اُن کی وفات کے بعد اُن کے رفع 5 کرنے کا واضح بیان موجود ہے۔
رفع کے بعد الوہیت کی لاعلمی
سورۂ مائدہ6 میں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی لوگوں کو اپنی یا اپنی والدہ کی عبادت کا حکم نہیں دیا۔ وہ مزید واضح کرتے ہیں کہ اُن کے رفع کے بعد انسانوں کے اعمال کا گواہ اللہ ہے اور اُنھیں اِن کے بعد کے حالات کا علم نہیں تھا۔
یہ لاعلمی اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ زمین پر واپس نہیں آئے تاکہ اِن واقعات کا مشاہدہ کر سکیں۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ یہ بیان صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے۔ تاہم، تاریخی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کو الٰہی حیثیت دینے کا واقعہ 431ء میں مجمعِ افسس (Council of Ephesus) میں پیش آیا، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے صدیوں بعد کا واقعہ ہے۔
عیسائیت کی ابتدائی صدیوں میں اُن کی والدہ کو الٰہی حیثیت میں نہیں پوجا گیا تھا اور یہ تصور بعد میں ارتقا پذیر ہوا۔ یہ حقائق اِس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جو سوال کیا جائے گا، وہ صرف اُن کے رفع سے پہلے کے پیروکاروں تک محدود نہیں، بلکہ اُن کے بعد آنے والے تمام عیسائیوں سے بھی متعلق ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی وفات اور رفع کے بعد اِس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔
جسمانی نزول کے خلاف اسلامی علما کی آرا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی واپسی پر بھی کئی علما نے سوال اُٹھائے ہیں۔ اِن میں سے کچھ آرا یہاں بیان کی جا رہی ہیں:7
• مولانا محمود حسن (مشہور حنفی اسکالر) — اُنھوں نے متعلقہ احادیث کو یہودی روایات سے متاثر قرار دیا اور اِن کی صداقت پر تنقید کی۔
• مولانا عبید اللہ سندھی ––اُن کے مطابق یہودیوں نے اِن احادیث کو مسلمانوں کے غلبے کو کم زور کرنے کے لیے گھڑا۔
• علامہ محمود شلتوت (مصری اسکالر) — اُنھوں نے اِن احادیث کو تنقیدی نظر سے پرکھا اور اِن کی صداقت پر سوال اُٹھایا۔
• مولانا شبیر احمد ازہر میرٹھی ––اُنھوں نے اِن احادیث کو ختمِ نبوت کے اصول سے متصادم قرار دیا۔
• مولانا ابوالکلام آزاد –– اُن کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اُسی وقت تسلیم کیا جا سکتا ہے جب قرآن اِس کا واضح طور پر ذکر کرے۔
• علامہ محمد اقبال — اُنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے تصور کو اسلام سے باہر کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا۔
• قمر احمد عثمانی (دیوبندی عالم) — اُنھوں نے ختمِ نبوت کے اصول کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے امکان کے منافی قرار دیا۔
عمومی غلط فہمی کا ازالہ
سورۂ نساء کی آیت 159 میں ہے:
’’اِن اہلِ کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔‘‘
یہ آیت اکثر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نزول کے حق میں پیش کی جاتی ہے۔
تاہم، اِس آیت کا سیاق و سباق واضح کرتا ہے کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے اہلِ کتاب کے بارے میں ہے۔ یہ ایک انتباہ کے طور پر پیش کی گئی ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلے قرآن کو اللہ کی کتاب کے طور پر تسلیم کریں گے، چاہے وہ اِس کا اقرار نہ کریں۔ قیامت کے دن یہ اعتراف اُن کے خلاف شہادت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
صحیح احادیث کا علامتی مفہوم
اِس مضمون میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق صحیح احادیث کو مستند تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اِن احادیث میں بیان کردہ قیامت سے پہلے کے واقعات کو جسمانی واپسی کے بجاے تشبیہات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
[ باقی]
- ۔ دانیال4:7۔
- ۔ الکہف 18: 99۔
- ۔ نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر 2023، غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ۔
- ۔ النساء 4: 157۔
- ۔ آل عمران 3: 55۔
- ۔ المائدہ 5: 116-117۔
- ۔ نزول مسیح، سید منظورالحسن، نومبر 2023ء، غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ۔