تعارف
یہ مضمون بائیبل اور قرآن کی پیشین گوئیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے قیامت کی نشانیوں کو سمجھنے کے لیے ایک منفرد فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ احادیث میں بیان کردہ قیامت کی نشانیاں جغرافیائی، سماجی اور تاریخی تغیرات کی پیچیدہ عکاسی کرتی ہیں، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیا کی صورت میں دکھائی گئیں۔ اس مضمون میں ان نشانیوں کی تعبیر الہامی کتب کی روشنی میں کی گئی ہے۔
یہ علامتی انداز نہ صرف ان اہم پیغامات کو موثر طریقے سے بیان کرتا ہے، بلکہ انھیں نسل در نسل منتقل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ مستقبل کے مخصوص حالات کو ایک حد تک پوشیدہ رکھتا ہے۔ جب ان پیشین گوئیوں کو تاریخی تناظر میں غیر جانب دار اور وسیع ذہن کے ساتھ پرکھا جائے تو یہ متعدد تاریخی حقائق سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کا مقصد ماضی کے انسانی اعمال کی اخلاقی توثیق یا تنقید نہیں، بلکہ اللہ کے کامل علم، قدرت اور تاریخ میں اس کی حاکمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
اس مضمون کے تین بنیادی مقاصد ہیں: پہلا مقصد یہ ہے کہ خدا کو کائنات کے خالق اور پروردگار کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی دعوت دی جائے—ایسا رب جو نہ صرف مومنین، بلکہ غیر مومنین پر بھی حاکم ہے—تاکہ الہٰی حاکمیت کی عالم گیریت کو نمایاں کیا جا سکے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ پیشین گوئیوں کی روشنی میں عصرِ حاضر کے دور کی درست شناخت کی جائے تاکہ مسلمان اپنی فکری اور عملی سمت کا تعین کسی غلط مفروضے کی بنیاد پر نہ کریں۔ تیسرا اور نہایت اہم مقصد یہ ہے کہ واضح کیا جائے کہ یہ پیشین گوئیاں قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کردہ موجودہ دینی فرائض کے علاوہ کسی نئی مذہبی ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرتیں۔ اس وضاحت کے نتیجے میں اہلِ ایمان غیر ضروری فکری و عملی بوجھ سے آزاد ہو کر اپنی اصل دینی ذمہ داریوں پر یک سوئی سے توجہ دے سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، حدیث میں دجال کے فتنے کے دوران میں پہاڑوں میں پناہ لینے کا ذکر قرآن کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے جو مذہبی جبر کے وقت ہجرت کی تلقین کرتا ہے۔ یہ الہٰی رہنمائی کا تسلسل ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیشین گوئیاں احکام دینے کے بجاے مومنین کو تاریخی اور عالمی واقعات میں خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
یہ تجزیہ بنیادی طور پر عدنان اعجاز صاحب کی تشریحات سے اخذ شدہ ہے، جن کی بصیرت نے اس مضمون میں پیش کیے گئے فریم ورک اور نقطۂ نظر کو تشکیل دیا ہے۔ ان کے کام تک رسائی یوٹیوب چینلز کے ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ مضمون کا دعویٰ ہے کہ قیامت کی بہت سی نشانیاں بڑے عالمی واقعات کی نمایندگی کرتی ہیں، جن میں سے کئی شاید پہلے ہی وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔ مضمون کے تمام حدیث کے حوالہ جات صرف صحیح مسلم اور صحیح بخاری پر مبنی ہیں تاکہ اس کی درستی اور اعتبار کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل کی پیشین گوئیاں
اللہ نے اپنی مخلوق کو سیدھے راستے پر گام زن کرنے کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا، جنھیں اپنے مشن کی تکمیل کے لیے وحی الہٰی عطا کی گئی۔ اس وحی میں بعض اوقات مستقبل کے واقعات کی جھلکیاں شامل ہوتیں، جو اللہ کے علمِ کامل کی واضح گواہی تھیں۔ کچھ مواقع پر یہ واقعات واضح الفاظ میں بیان کیے گئے، جیسا کہ قرآن مجید کی سورۂ روم میں رومیوں کی ساسانیوں پر فتح کا ذکر، جب کہ دیگر مواقع پر یہ وحی رؤیا کی صورت میں پیش کی جاتی۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک خواب میں آسمانی اجسام کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، جو ان کی آزمایشوں کے بعد ان کے خاندان کی طرف سے عزت و تکریم کی علامت تھا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک رؤیا میں اپنے بیٹے کی قربانی کا منظر دکھایا گیا، جو ان کے اور ان کے بیٹے کے لیے ایک عظیم آزمایش تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے اسے اطاعت کی آزمایش سمجھتے ہوئے عظمت کا رویہ اپنایا اور اس پر من و عن عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اللہ کی مداخلت نے قربانی کو روک دیا ، کیونکہ اس خواب کی تعبیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان، یعنی اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے نذر کر دینا تھی ۔ اس آزمایش میں اللہ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت اور ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادگی نے ان کے اس عمل کو بندگی، وفاداری اور خلوص کی عظیم مثال بنا دیا۔
تاہم، رؤیا کی علامتی نوعیت اسے اکثر غلط فہمی کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال کتاب مکاشفہ میں ملتی ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی۔ یہ متن مختلف علامتی رؤیا پر مشتمل ہے، جن میں آفات، تاریخی واقعات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ذکر شامل ہے۔ کتاب مکاشفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’ذبح شدہ برہ‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو انبیا کی معصومیت، قربانی اور اللہ کے لیے مکمل وفاداری کی علامت ہے۔ یہ تمثیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب ، جسے اوپر بیان کیا گیا ہے، سے مشابہت رکھتی ہے، جس میں قربانی کا تصور اللہ کی رضا اور حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کی نشان دہی کرتا ہے۔ تاہم، عیسائیوں نے ’’ذبح شدہ برہ‘‘ کی اس علامت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت کا حوالہ سمجھ لیا ۔ یہ غلط تشریح اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علامتی رؤیا کو سمجھنے میں پہلے سے اپنائے گئے خیالات، جو محکم علمی طریقے سے حاصل نہ کیے گئے ہوں، غلط نتائج کی طرف لے جاتے ہیں۔
پیشین گوئیوں کو سمجھنے کے بنیادی اصول
اس مضمون میں حدیث میں بیان کردہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا میں دکھائی گئی پیشین گوئیوں کی تفہیم کے لیے درج ذیل اصولوں کو بنیاد بنایا گیا ہے:
پہلا اصول – انسانی و حیوانی علامات کی تعبیر
احادیث میں پیشین گوئیوں کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس طرح سابقہ الہامی کتابوں، جیسے کتابِ دانیال اور مکاشفہ میں بھی مستقبل کے واقعات کو خواب اور رؤیا کی شکل میں بیان کیا گیا۔ ان متون میں جانوروں اور انسانوں کی علامات مختلف طاقتوں، جیسے سلطنتوں، ملکوں اور تنظیموں کی نمایندگی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کتاب دانیال میں بابل کی سلطنت کے آخری دور میں اس سلطنت کو ایک انسان اور اس کے بعد آنے والی یونانی سلطنت کو ایک جانور کی صورت میں حضرت دانیال علیہ السلام کے خواب میں دکھایا گیا، جو اسی علامتی طرزِ بیان کا حصہ ہے جس کے تحت احادیث میں ’’دجال‘‘ کو ایک انسان اور ’’زمین کا جانور‘‘ کو ایک جانور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
دوسرا اصول – مقامات کے علامتی معانی
احادیث میں مذکور جغرافیائی مقامات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے تاریخی، سیاسی اور تہذیبی سیاق و سباق میں سمجھنا اسی طرح ضروری ہے، جس طرح قرآن کی صحیح تفہیم کے لیے اُس زمانے کی عربی زبان اور اس کے لسانی پس منظر سے واقفیت لازم ہے۔ یہ علامتی اندازِ بیان احادیث کو ایسی معنویت عطا کرتا ہے جو وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور جغرافیائی تقسیم کے باوجود بھی برقرار رہتی ہے، کیونکہ ان احادیث میں اُن مقامات کے نام اور مفاہیم استعمال کیے گئے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معروف اور معنی خیز تھے۔
مثال کے طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قسطنطنیہ کو رومیوں کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا اور جب یہ فتح ہوا تو اس وقت بھی یہ رومیوں کا دارالحکومت تھا، اس لیے حدیث میں قسطنطنیہ کو اس کے اصلی نام سے ہی بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شام کا خطہ بازنطینی (رومی) عیسائیوں کے زیرِ اقتدار تھا۔ لہٰذا ان پیشین گوئیوں میں جو اُس دور سے متعلق ہیں، ’’شام‘‘ سے مراد حقیقی خطۂ شام ہی ہے، کیونکہ اُس وقت تک بازنطینی سلطنت کا وہاں اقتدار قائم تھا۔ البتہ بعد کی پیشین گوئیوں میں ’’شام‘‘ ایک علامتی مفہوم اختیار کر لیتا ہے، جو عیسائی طاقتوں کے زیرِ اثر علاقوں کی نمایندگی کرتا ہے۔
اسی تناظر میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کچھ ہی عرصے بعد خلافت کا مرکز عرب سے باہر منتقل ہوا۔ لہٰذا بعد کے ادوار میں مدینہ کا ذکر صرف ایک شہر کے طور پر نہیں، بلکہ پوری مسلم امت کی نمایندہ علامت کے طور پر ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مدینہ اسلامی ریاست کا مرکز تھا۔ انھی اصولوں کی روشنی میں دیگر مقامات، جیسے دمشق، لد، اصفہان اور یمن کو بھی ان کے زمانی اور تہذیبی سیاق میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ ان سے متعلق احادیث کی تعبیر درست ہو سکے۔
تیسرا اصول – صرف ایک واضح مفہوم
جس طرح زبان میں ایک جملہ اپنے سیاق و سباق میں ایک ہی واضح مفہوم رکھتا ہے، اسی طرح انبیا کے رؤیا (خوابوں) کی بھی صرف ایک درست تعبیر ہوتی ہے۔
قیامت کی دس بڑی نشانیاں
آیندہ حصوں میں قیامت سے پہلے پیش آنے والے اہم واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعات قیامت کی دس بڑی نشانیوں پر مبنی ہیں، جن کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا میں دکھایا گیا۔ مثال کے طور پر دجال کو معراج کے واقعے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا ، جو ایک رؤیا تھا ۔
زمین کا جانور (دابۃ الارض)
قیامت کی نشانیوں میں، ریاستوں، سلطنتوں، بادشاہتوں اور تنظیموں کو اکثر جان دار مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو طاقت ور قوتوں کو سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے ایک علامتی انداز ہے۔ یہ علامتی اظہار مختلف مذہبی متون، جیسے بائیبل، قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں نمایاں ہے۔ زمین کا جانور (دابۃ الارض) ان روایات میں ایک اہم استعارہ کے طور پر سامنے آتا ہے، جو جابر، وسیع اور اکثر ظالم ریاستوں کی نمایندگی کرتا ہے۔
پرانے عہد نامے سے مثالیں
پرانے عہد نامے میں، خاص طور پر صحیفۂ دانیال میں، حضرت دانیال علیہ السلام کے خوابوں میں جانوروں کی علامات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ جانور طاقت ور اور ظالم سلطنتوں کی تمثیل کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ بائیبل کے موجودہ قدیم ترین نسخے یونانی زبان میں تحریر کیے گئے، جس میں ’’تھریون‘‘ کا مطلب ’’جانور‘‘ تھا، جو عربی لفظ ’دابۃ‘ سے مماثلت رکھتا ہے اور دونوں زبانوں میں مشترکہ علامتی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت دانیال علیہ السلام کے خوابوں میں یہ جانور بڑی سلطنتوں کی نمایندگی کرتے ہیں، جو اپنی طاقت، ظلم اور وسعت کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ کچھ جانوروں کو کئی سروں کے ساتھ دکھایا گیا، جو ایک سلطنت کے مختلف خاندانوں، گروہوں یا دھڑوں کی نمایندگی کرتے ہیں، جب کہ ان کے سینگ بادشاہوں، حکمرانوں یا بااثر رہنماؤں کی علامت ہیں ۔
چار جانور
چار جانوروں کا ذکر صحیفۂ دانیال1 میں ملتا ہے۔ یہ جانور ایک کے بعد ایک آنے والی عالمی سلطنتوں کی نمایندگی کرتے ہیں، جیسا کہ حضرت دانیال علیہ السلام کو وضاحت کی گئی 2:
• پہلا جانور: پہلا جانور ایک شیر کے مانند ہے، جس کے عقاب کے پر ہیں، جو بعد میں ایک انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اسے انسانی دماغ دیا جاتا ہے۔ یہ بابل کی سلطنت (605-539 قبل مسیح) کی نمایندگی کرتا ہے۔ یہ سلطنت اپنی طاقت، غلبے اور تیز رفتاری کے لیے مشہور تھی۔
• دوسرا جانور: دوسرا جانور ریچھ کے مانند ہے، جو مادی-فارس کی ہخامنشی سلطنت (331-539 قبل مسیح) کی نمایندگی کرتا ہے۔ یہ سلطنت اپنی بے پناہ طاقت اور فتح کے لیے مشہور تھی اور اپنی درندگی کے سبب خوف پیدا کرتی تھی۔
• تیسرا جانور: تیسرا جانور ایک چیتے کے مانند ہے، جس کے چار پر اور چار سر ہیں۔ یہ یونانی سلطنت (146-331 قبل مسیح) کی نمایندگی کرتا ہے، جو اسکندر اعظم کے زیرِ قیادت دنیا پر چھا گئی۔ اسکندر کی موت کے بعد یہ سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہو گئی، جو اس کے جرنیلوں کے زیرِ کنٹرول آئیں۔
• چوتھا جانور: چوتھا جانور لوہے کے دانتوں اور دس سینگوں کے ساتھ نہایت خوف ناک اور دہشت انگیز ہے۔ یہ رومی سلطنت (146 قبل مسیح سے) کی نمایندگی کرتا ہے، جو بے مثال طاقت اور غلبے کی علامت تھی۔ اس کے لوہے کے دانت اس کی بے رحمی اور طاقت ور تسلط کو ظاہر کرتے ہیں، جب کہ دس سینگ بادشاہوں یا حکمرانوں کی علامت ہیں۔
مینڈھا اور بکرا
صحیفۂ دانیال میں بیان کردہ ایک اور رؤیا میں مینڈھے اور بکرے کا ذکر ملتا ہے۔3 حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام کو اس رؤیا کی وضاحت کی۔4 مینڈھا دو سینگوں کے ساتھ ہخامنشی سلطنت کی نمایندگی کرتا ہے، اور یہ سینگ ہخامنشی سلطنت میں مادی اور فارس کی مشترکہ طاقت کی علامت ہیں۔ بکرا یونانی سلطنت کی نمایندگی کرتا ہے، جو مینڈھے کو شدت کے ساتھ ٹکر مار کر زمین پر گرا دیتا ہے اور اسے شکست دیتا ہے۔ بکرے کی آنکھوں کے درمیان ایک نمایاں سینگ اسکندر اعظم کی طاقت اور قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔ بکرے کے سینگ کا ٹوٹنا اور اس سے چار چھوٹے سینگوں کا نمودار ہونا اسکندر اعظم کی موت کے بعد اس کی سلطنت کے چار حصوں میں تقسیم ہونے کی علامت ہے۔ یہ رؤیا تاریخ کے دھارے میں بڑی سلطنتوں کی طاقت، ان کا عروج اور زوال بیان کرتا ہے۔
نئے عہد نامہ سے مثالیں
جانوروں کے استعارے کا تسلسل نئے عہد نامے میں بھی جاری رہتا ہے، خاص طور پر کتاب مکاشفہ میں، جس میں تین علامتی جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سمندر کا جانور
کتاب مکاشفہ میں بیان کیا گیا یہ جانور رومی سلطنت کی نمایندگی کرتا ہے،5 جو اپنی طاقت ور بحری قوت اور سمندر کے ذریعے سے پھیلنے والے وسیع اثر و رسوخ کے لیے مشہور تھی۔ اس کا سمندر سے ابھرنا روم کی بحری طاقت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کے سات سر سات شاہی ادوار کی نمایندگی کرتے ہیں، اور ہر سر پر تحریر گستاخانہ الفاظ اس کے خدا کے خلاف سرکشی اور تکبر کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جانور کو بیالیس مہینوں تک غرور اور کفر کے کلمات کہنے کی طاقت دی گئی۔6 یہ بیالیس مہینے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد 66ء سے 70ء میں رومیوں اور یہودیوں کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کا انجام 70ء میں رومیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے معبد کی بے حرمتی اور مکمل تباہی پر ہوا۔
زمین کا جانور
کتاب مکاشفہ میں ذکر کردہ زمین کا جانور زمین پر مبنی ایک اتھارٹی کی علامت ہے، جو جھوٹے پیغامات کے ذریعے سے عوام کو دھوکا دیتی ہے۔ اسے ’’جھوٹا نبی‘‘ کہا گیا ہے، جو شیطانی اثر و رسوخ کے تحت کام کرتے ہوئے جھوٹے نظریات پھیلانے کی نمایندگی کرتا ہے۔ یہ جانور اپنی طاقت سمندر کے جانور کی اتھارٹی سے حاصل کرتا ہے۔7 تاریخی طور پر، یہ کونسل آف نائسیا (325 ء) کے بعد کلیسا کے ایک ادارے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ کلیسا نے رومی سلطنت کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ان مخالف عیسائیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کیا جو نائسین عقائد کے مخالف تھے، جیسے کہ آریئن، ڈوناٹسٹ، مارسیونائٹس اور مونٹینسٹ۔ اس کے دو سینگ8 کلیسا کے قسطنطنیہ اور روم کے دھڑوں کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔
کتاب مکاشفہ میں سمندر اور زمین کے جانور کی شکست9 رومیوں کی وہ شکست ظاہر کرتی ہے جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں ہوئی، جس نے نہ صرف روم اور کلیسا کی طاقت اور و اثر و رسوخ کو کم زور کیا، بلکہ ان کے طریقۂ کار، فلسفہ اور نظریات پر بھی گہرا اثر ڈالا ۔
سرخ رنگ کا جانور
کتاب مکاشفہ میں ذکر کردہ یہ جانور فارسی سلطنت کی نمایندگی کرتا ہے۔10 اس کے سات سر11 سات مختلف خاندانوں کی علامت ہیں۔ چھٹا سر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے پارتھیوں سے مطابقت رکھتا ہے، جب کہ ساتواں سر ساسانی سلطنت کی نمایندگی کرتا ہے۔12 اس کے دس سینگ ان آخری دس ساسانی بادشاہوں13 کی نمایندگی کرتے ہیں، جنھوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے جنگ کی۔14
قرآن میں جانور کا ذکر
قرآن پاک کی سورۂ نمل15 میں زمین سے نکلنے والے جانور (دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ) کا ذکر ملتا ہے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم قریش کے لوگوں کے کفر اور انکار کے جواب میں بیان کی گئی ہے۔ اس جانور کا ظہور ان کے کفر کے لیے ایک تنبیہ اور سزا کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ سزا اس وقت ٹل گئی جب قریش کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔16 اس سیاق و سباق میں زمین سے نکلنے والے جانور کے ’’بولنے‘‘ کو اس کے متکبر اور گستاخانہ اعمال کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، جو عوام پر نفسیاتی اور جذباتی دباؤ ڈالتے ہیں، جیسا کہ مختلف سلطنتوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ متعدد بار ان کے یروشلم میں معبد کی بے حرمتی سے کیا۔
قیامت سے پہلے ’’زمین کا جانور‘‘ کا احادیث میں ذکر
ان بصیرتوں کی روشنی میں، احادیث میں ذکر کردہ ’’زمین کا جانور‘‘، جو قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے، ایک طاقت ور اور جابر زمینی سلطنت کی علامت ہے۔ یہ سلطنت عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو زمینی فتوحات کے ذریعے سے پھیلاتی ہے۔ اس کا کردار سمندر کے جانور کے برعکس ہے، جو بحری طاقتوں کی نمایندگی کرتا ہے۔
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی تیرھویں صدی کے منگول حملوں کے ساتھ پوری ہوئی۔ منگول سلطنت، جو تاریخ کی سب سے بڑی زمینی سلطنتوں میں سے ایک تھی، نے وسیع علاقوں میں تباہی مچائی، جغرافیائی و سیاسی ڈھانچوں کو تبدیل کیا، اور ایک گہری میراث چھوڑی۔ ان کی بے مثال زمینی فتوحات، جابر حکمرانی، اور عالمی تہذیبوں پر ان کے اثرات ’’زمین کے جانور‘‘ کی علامتی تشریح کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
[ باقی]
- ۔ Daniel 7:1–28: https://www.bible.com/bible/111/DAN.7.NIV
- ۔ Daniel 7:17–27: https://www.bible.com/bible/111/dan.7.17-27.NIV
- ۔ Daniel 8:1–27:https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.1-27.NIV
- ۔ Daniel 8:19–25: https://www.bible.com/bible/111/DAN.8.19-25.NIV
- ۔ Revelation 13:1–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.1-10.NIV
- ۔ Revelation 13:5–10: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.5-10.NIV
- ۔ Revelation 13:11–18: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.11-18.NIV
- ۔ Revelation 13:11: https://www.bible.com/bible/111/REV.13.11
- ۔ Revelation 19:19-21: https://www.bible.com/bible/111/REV.19.19-21
- ۔ Revelation 17:3–14: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.3-14.NIV
- ۔ Revelation 17:7: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.7.NIV
- ۔ Revelation 17:10: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.10.NIV
- ۔ خسرو دوم (590–628ء) – ساسانی سلطنت کا پہلا بادشاہ، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے خلاف لڑا۔قباد دوم (شیرویہ) (628ء)۔اردشیر سوم (628–629ء)۔شہر براز (629ء)۔بوران دخت (629–631ء)۔آزرمی دخت (631ء)۔ہرمز ششم (631ء)۔خسرو سوم (631ء)۔ہرمز پنجم (631ء)۔یزدگرد سوم (632–651ء) – ساسانی سلطنت کا آخری بادشاہ۔
- ۔ Revelation 17:12–14: https://www.bible.com/bible/111/REV.17.12-14
- ۔ Quran 27:82: https://quran.com/27/82
- ۔ https://www.javedahmedghamidi.org/#!/quran?chapter =27¶graph=35&type=Ghamidi