عطیہ فیضی معروف دانش ور تھیں۔ ممبئی کے ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم پائی تھی۔ علوم وفنون کی شیدائی تھیں۔ علامہ شبلی رحمہ اللہ کی علمی وسعتوں اور علامہ اقبال رحمہ اللہ کے شعر و ادب کی فدائی تھیں۔ اس دور کا ایک نام ور یہودی آرٹسٹ سیموئل رہا مین عطیہ فیضی پر فریفتہ ہو گیا۔ اس نے عطیہ سے التجا کی کہ آپ مجھ سے شادی کر کے میری رفیقۂ حیات بن جائیے۔ یہ بات سن کر عطیہ چونک اٹھیں۔ انھوں نے رہامین سے کہا: میں مسلمان ہوں، تم کافر ہو، میرا تمھارا کیا جوڑ ؟ میں تو تم سے شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ رہامین نے تڑپ کر جواب دیا کہ میں آج اور ابھی یہودیت کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہتا ہوں اور نہایت خوش دلی سے اسی وقت اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہوں … رہامین کے مسلمان ہو جانے اور عطیہ فیضی سے شادی کر لینے کی خبر علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے سنی تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ انھوں نے معاً یہ شعر کہا اور یہی شعر ان کا وثیقۂ شادمانی بن گیا۔
بتان ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے
علامہ شبلی رحمہ اللہ کے جذبۂ ایمانی کا تو یہ حال تھا کہ کسی کافر کے مسلمان ہو جانے پر پھولے نہ سماتے تھے، لیکن انھیں کیا معلوم تھا کہ بعض علماے ہند خود انھی کی تصانیف ’’الکلام“ اور ’’علم الکلام‘‘ کو تحریف کی باڑھ پر رکھ کر انھی پر تیغ تکفیر چلا دیں گے اور اس کی لپیٹ میں قرآنی علوم کے ماہر اجل اور تقویٰ و پرہیز گاری کے نادر روزگار نمونہ و نمایندہ امام حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کو بھی لے لیں گے۔
ملال یہ ہے کہ علامہ شبلی رحمہ اللہ اور حضرت فراہی رحمہ اللہ کے خلاف 32 صفحات پر مشتمل کفر کے فتوے پر دستخط کرنے والے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہما اللہ بھی شامل تھے، تاہم بعد ازاں حضرت تھانوی رحمہ اللہ اور دیگر فہیم علما نے اپنا سقم فہم محسوس کر کے اس فتوے سے رجوع فرمانے کا اعلان کر دیا۔
ہوائیں آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ گو علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کے خلاف کفر کا یہ فتویٰ کار بے خیر سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ یہ فتویٰ باد صرصر کے جھونکے کی طرح آیا اور وقت کی گردشوں میں نابود ہو گیا۔ لیکن اس فتوے کے رد میں علماے حق نے جو گراں مایہ تحریریں سپرد قلم کیں ان سے نہ صرف علوم عظیمہ عیاں ہو کر سامنے آئے، بلکہ کفر و ایمان کا فرق بھی پوری وضاحت سے عیاں ہو گیا۔
گڑے مردے اکھاڑنا اچھی بات نہیں، مگر حقیقت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ علامہ شبلی رحمہ اللہ کے خلاف جن عبارات و ملفوظات کو بنیاد بنا کر تکفیر کی جو تیغ بے دریغ چلائی گئی اس کا جائزہ ہم بعد میں لیں گے۔ سردست ہم استاذ العلما امام حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کا ماجرا سناتے ہیں کہ بعض اصحاب غرض علما نے انھیں کس خطا پر ہدف کفر بنایا فی الحقیقت ان کی خطایہ تھی۔
اس خطا پر انھیں مارا کہ خطاوار نہ تھے
بعض لوگ بڑی آسانی سے مسلمان کو کافر کہہ دیتے ہیں۔ کافر بڑا سخت لفظ ہے حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا، کسی کا فر کو مسلمان کہنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ ہم نے آج کل یہ طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ اپنا جو ایک مسلک قرار دے لیا ہے بس وہی اسلام ہے۔ جو اس کے خلاف ہو، وہ کافر ہے اور ایمان سے خارج ہے۔
کفر کیا چیز ہے؟ اور کافر کسے کہتے ہیں؟ اہل لغت نے کفر کے متعدد معنی لکھے ہیں مثلاً: چھپانا، اندھیرا چھانا، ناشکری کرنا، معاف کر دینا، گناہوں کا کفارہ ادا کرنا، توحید، نبوت یا شریعت کا انکار کرنا یا تینوں کا انکار کرنا۔ ان تمام معنی پر غور کیجیے تو پتا چلے گا کہ ’’کفر‘‘ کے اندر چھپانے کا معنی قدر مشترک اور جوہری حیثیت کا حامل ہے۔ یہ بات صراحت سے جان لینی چاہیے ’’کفر‘‘ کا اصل مطلب ہے ”چھپانا‘‘ ۔ عرب حضرات اکثر اوقات کسانوں کو کافر کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں، اس لیے کہ کسان بیج کو زمین میں چھپا دیتے ہیں۔ شرعی لحاظ سے دین حنیف کی (بنیادوں) میں سے کسی بھی چیز کا انکار کفر ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کا پیروکار صریحاً کافر ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد جن مسلمانوں نے اداے زکوٰۃ سے انکار کیا تھا، خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے اسی طرح جنگ کی تھی جس طرح کافروں سے جہاد کیا جاتا ہے۔ کافر در اصل اسی کو کہتے ہیں جو دل اور (زبان) سے منکر حق ہو اور جو شخص زبان سے اللہ رب العزت کی ذات عالی کا انکار کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ اس کی زبان ہی اس کے دل کی ترجمان ہے۔
بیسویں صدی میں اسلامی دنیا نے جن بڑی علمی ہستیوں کو پیدا کیا، ان میں سے ایک نام امام حمیدالدین فراہی رحمہ اللہ کا ہے۔ ان کی نکتہ رسی، دقیقہ سنجی، ناقدانہ راے، محققانہ طرز فکر کا ایک زمانہ معترف ہے۔ بقول سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ وہ بیک وقت عربی کے سوق عكاظ، فارسی کے بلبل شیراز بھی تھے۔ علوم عربیہ کے خزینہ اور فنون ادبیہ کے ناقد بھی۔ وہ اپنے وقت کے رازی بھی تھے، غزالی بھی، ابن تیمیہ بھی تھے، زمخشری بھی۔
امام حمید الدین فراہی رحمہ اللہ نے ایسا کون سا غضب ڈھا دیا تھا کہ بعض علما انھیں دائرۂ اسلام ہی سے خارج کرنے کے درپے ہو گئے؟ اس کا سبب تکفیر سازی پر تلے ہوئے مدعیان علم نے حضرت فراہی رحمہ اللہ کے ایک نا تمام مضمون کو ٹھہرایا جو انھوں نے اپنی نجی یادداشت کے لیے بہ طور اشاریہ لکھا تھا۔ امام فراہی رحمہ اللہ اس مضمون کے ذریعے سے ترجمۂ قرآن کی مشکلات سامنے لانا چاہتے تھے۔ یہ مضمون امام فراہی رحمہ اللہ کی نجی یادداشت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اشاعت کے لیے نہیں لکھا گیا تھا، اس لیے نہ تو مکمل تھا نہ اس میں ادب و انشا اور ترتیب و تہذیب کا وہ اہتمام و التزام تھا جو پبلک تحریروں کے لیے عموماً ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس مضمون کی ایک ایک سطر پڑھیں تو پورا مضمون قرآن کی عظمت و جلالت سےلبریز ہے۔
ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ مدرستہ الاصلاح، اعظم گڑھ کے ترجمان کی حیثیت سے شائع ہوتا تھا۔ یہ اپنے طرز کا ایک منفر د رسالہ تھا جس میں نہایت بلند پایہ اور معیاری و مذہبی مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کی خصوصیت امام فراہی رحمہ اللہ کے افکار و خیالات کی اشاعت بھی تھی ۔ امام فراہی رحمہ اللہ کے شاگرد رشید مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ اس کے مدیر تھے۔ مولانا اصلاحی رحمہ اللہ نے امام فراہی رحمہ اللہ کی نا تمام نجی یادداشتیں فروری 1936 کے ’’الاصلاح‘‘ میں ’’خیالات اثناے ترجمۂ قرآن“ کے عنوان سے شائع کر دیں اور اس پر بغرض انتباہ ایک نوٹ لکھ دیا کہ یہ ’’مضمون ناتمام حالت میں ہے، اس لیے کہیں کہیں عبارت چھوٹی ہوئی ہے، بعض جگہ سخت ابہام ہے۔ ناظرین غور سے ملاحظہ فرمائیں۔‘‘ اس انتباہ کا تقاضا تھا کہ لوگ قرآن مجید کے ترجمے کے وقت اس مضمون کے بیش قیمت مطالب سے استفادہ کرتے ، جو بات سمجھ میں نہ آتی اسے چھوڑ جاتے کہ یہ تحریر نا تمام ہے۔ اگر الفاظ و عبارت میں کوئی سقم نظر آتا، اس سے درگزر کرتے کہ یہ مصنف کی نظر ثانی اور حک و اصلاح کی محتاج ہے۔
امام فراہی رحمہ اللہ کے اس مضمون میں سے دو باتیں لے کر اور علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ کی کتابوں ’’الکلام‘‘ اور ’’علم الکلام‘‘ میں سے بعض اقتباسات دے کر بعض مولویوں نے 32 صفحات پر مشتمل تکفیر کا فتویٰ شائع کر دیا اور اسی لپیٹ میں مدرستہ الاصلاح کے اساتذہ، طلبہ، کارکنوں کو کافر بنا ڈالا۔ تھوڑی دیر کے لیے اگر یہ بات مان لی جائے کہ علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ (العیاذ باللہ ) کافر ہیں، لیکن مدرستہ الاصلاح کے اساتذہ اور اس کے تمام متعلقین کیسے کافر ہو گئے؟ اس سوال کا جواب فتویٰ میں یہ دیا گیا کہ مدرستہ الاصلاح کے علما و اساتذہ اس لیے کافر ہیں کہ وہ مولانا شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کو بزرگ و محترم سمجھتے ہیں۔ اگر وہ ان دونوں کافروں سے اپنی نفرت و بیزاری کا اعلان کر دیں تو یہ مفتیان دین ان لوگوں کو پھر اسلام و ایمان کے حلقے میں لے لیں گے۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ مفتیان دین نے مدرستہ الاصلاح کے علما و اساتذہ کی نجات کے لیے ایک دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔
فتویٰ میں علامہ شبلی رحمہ اللہ کی تحریروں میں سے جو اقتباسات دیے گئے ، وہ تمام تر فریب کاری اور بددیانتی پر مشتمل تھے۔ علامہ شبلی رحمہ اللہ منکرین خدا کے دلائل نقل کر رہے ہیں، فتویٰ میں وہ ان کے عقائد کی حیثیت سے پیش کیے گئے۔ علامہ شبلی رحمہ اللہ دوسروں کے خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں، وہ ان کے ذاتی خیالات قرار دیے گئے ۔ بعض جگہ علی سبیل التنزل (بطریق فرض) حریف کا کوئی دعویٰ تسلیم کر کے اس کی تردید کر رہے ہیں، اس کو ان کا مسلک بتا کر پیش کیا گیا۔ غرض تمام عبارتیں سیاق و سباق سے چھین کر، پوری بے دردی سے مسخ کر کے، مفتیوں کے سامنے رکھ دی گئیں کہ وہ کسی طرح اس شخص کو کافر بنا دیں جو ’’الکلام“ اور ’’علم الکلام‘‘ ہی کا مصنف نہیں ہے، ’’الفاروق‘‘ اور ’’سیرۃ النبی‘‘ کا بھی مصنف ہے اور ان بے درد مفتیوں نے پوری بے باکی سے علم وتحقیق کی گردن پر ہمیشہ کے لیے چھری چلادی۔
امام فراہی رحمہ اللہ کی فرد قرار داد جرم کے لیے مصالحہ، امام رحمہ اللہ کی اس نا تمام یادداشت سے فراہم کیا گیا جو ’’الاصلاح‘‘ میں ’’اثناے ترجمۂ قرآن“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس مضمون میں دو باتیں تکفیر کا باعث سمجھی گئیں حالانکہ ان دو میں سے ایک بھی تکفیر کی مستوجب نہیں تھی۔ ان یادداشتوں میں ایک بات یہ بھی کہی گئی تھی کہ قرآن کریم میں کہیں کہیں قافیے کی رعایت اور عبارت کی روانی کا لحاظ کر کے مروجہ اصول نحو کی پیروی نہیں کی گئی یا الفاظ آگے پیچھے کیے گئے ہیں۔ امام فراہی رحمہ اللہ زور دیتے تھے کہ جہاں بھی ایسا ہوا ہے، ترجمے میں بھی قرآن کریم کی اسی طرح پیروی کی جائے اور لفظ کو آگے پیچھے سے ہٹایا نہ جائے۔ ان یادداشتوں میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ بہت سے لوگ قرآن کریم کی ہر سورت پر مسلسل و مربوط اور متحد المقصد مضمون کی حیثیت سے غور کرنا چاہتے ہیں۔ مزید برآں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سورت کا جو عنوان ہے، وہی اس سورت کا موضوع ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آدمی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اصل حقیقت جب کہ یہ ہے کہ سورتوں کے عنوانات کا سورتوں کے موضوع اور مطلب سے کوئی تعلق نہیں ۔ سورتوں کے یہ عنوانات صرف سورتوں کے امتیاز کے لیے کسی خاص لفظ کی مناسبت سے رکھ دیے گئے ہیں۔ یہی مذاق عرب تھا جس کی پیروی سورتوں کے عنوانات رکھنے میں روا رکھی گئی ہے۔
اسی طرح قرآن کریم میں پاروں اور رکوعوں کی تقسیم ہے۔ اس تقسیم سے جو طالبان علم یہ سمجھتے ہیں کہ اس پارہ یا رکوع پر مضمون ختم ہو گیا ہے اور دوسرے پارے یا رکوع سے دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے، ان کا یہ سمجھنا ٹھیک نہیں کیونکہ قرآن کریم 30 پاروں میں تقسیم ہے۔ رکوع دس دس آیتوں کا ایک ایک حصہ ہے۔ یہ معنوی تقسیم نہیں ہے، بلکہ لفظی تقسیم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عام لوگ نماز میں آسانی سے قرآن کریم کا ایک مناسب حصہ پڑھ سکیں ۔ امام فراہی رحمہ اللہ کی یاد داشتوں کے بہت سے مضامین اسی طرح کے علمی موضوعات سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مضمون کو سمجھنے میں بعض مدعیان علم کو سخت ٹھوکر لگی۔ علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کے مضامین کی تشریحات کے لیے ’’الاصلاح‘‘ میں مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا بدرالدین اصلاحی، مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی اور مولانا امین احسن اصلاحی رحمہم اللہ کے مضامین شائع ہوئے۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی رحمہ اللہ نے اپنے رسالے ’’صدق‘‘ میں بڑی تفصیل سے لکھا۔ علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کے خلاف فتویٰ دینے والے حضرات کی نسبت بعض علماے کرام نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ ان حضرات نے امام فراہی رحمہ اللہ کے مضامین کے سیاق و سباق کی عبارتوں پر غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ سیاق و سباق کے متن پر دھیان دیتے تو انھیں بعض الفاظ پر خلجان میں مبتلا ہونے کی نوبت ہی نہ آتی۔
علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کے خلاف کفر کے فتوے کا شور مچا تو تمام اسلامیان ہند سناٹے میں آگئے۔ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ دیوبندی علما کے ساتھ مدرستہ الاصلاح تشریف لائے۔ دیوبند کے وفد کی آمد پر مولانا اصلاحی رحمہ اللہ نے نعرہ لگایا:
بیا ورید گر ایں جا بود سخن دانے
غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد
مدرسے میں مولانا مدنی رحمہ اللہ کا وعظ ہوا۔ انھوں نے مدرستہ الاصلاح کی خدمات کو نہایت حوصلہ افزا الفاظ میں سراہا۔ مدرسے کے طلبہ، اساتذہ، کارکنوں اور عام حاضرین جلسہ کو نصیحتیں فرمائیں اور مشورے دیے۔ علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کی تحریروں کے متعلق اپنی راے قلم بند فرما دی جو ’’الاصلاح‘‘ میں شائع ہوئی، حضرت مدنی رحمہ اللہ کے خطوط کا مجموعہ ’’مکتوبات شیخ الاسلام‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں شائع ہوا جسے مولانا نجم الدین اصلاحی رحمہ اللہ نے مرتب کیا اور یہ مجموعہ مولانا مدنی رحمہ اللہ کی زندگی میں شائع ہوا۔ ایک خط میں مسئلۂ تکفیر کے سلسلے میں مولانا مدنی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’…آپ حضرات کے جوابات دیکھ کر مجھے کلی اطمینان ہو گیا ہے اور جو شکوک و شبہات مجھے مولوی محمد فاروق صاحب کے کھلے مفروضے کو دیکھنے اور دیگر حضرات کے کلمات کی بنا پر پیدا ہوئے تھے، وہ سب رفع ہو گئے۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ ان حضرات نے ایسے سخت گزار خطرناک راستے یعنی تکفیر مومنین کو کیوں اختیار فرمایا ہے، حالانکہ اس کے مماثل امور کے لیے نہایت شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ کیا آپس کے نزاعات نفسانیہ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ افتراء ات اور بہتانوں کا طومار باندھ کر تکفیر کے فتاویٰ حاصل کیے جائیں ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے ’’الاصلاح‘‘ کے پرچے دیکھے، مجھ کو ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس کا کوئی صحیح حل نہ ہو سکتا ہو…۔‘‘(مکتوبات شیخ الاسلام 2/ 320- 319)
مولانا نجم الدین اصلاحی رحمہ اللہ حضرت مدنی رحمہ اللہ کے اس مکتوب کو نقل کرنے کے بعد
حاشیے میں لکھتے ہیں:
’’شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی مدظلہ کے اس قول فیصل نے قبر تکفیر کے ایک ایک ستون اور ایک ایک اینٹ کو منتشر کر دیا، غوغاے تکفیر اور کافرگری کا ناس ہو گیا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہما اللہ اور دیگر مفتیان ہند نے بعض تشریحی مضامین پڑھے اور مولانا مدنی کے محاکمہ پر تکفیر سے رجوع کر لیا۔‘‘
(مکتوبات شیخ الاسلام2/ 320-319)
مولانا عبد الماجد دریابادی رحمہ اللہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے مقربین میں سے تھے۔ مشہور مفسر، مقالہ نویس اور ماہنامہ ’’صدق‘‘ کے مدیر تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ نے انھیں ایک خط لکھا۔ مولانا اصلاحی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’مولانا تھانوی کا فتویٰ شائع ہو گیا۔ مولانا شبلی اور مولانا حمیدالدین فراہی کافر ہیں۔ اور چونکہ مدرسہ ان ہی دونوں کا مشن ہے، اس لیے مدرستہ الاصلاح مدرسۂ کفر و زندقہ ہے اور اس کے تمام متعلقین کا فر و زندیق ہیں، یہاں تک کہ جو علما اس مدرسے کے جلسوں میں شرکت کریں، وہ بھی ملحد و بے دین ہیں۔ افسوس کہ اصل فتویٰ نہ مل سکا۔ مل جاتا تو اصل یا نقل آپ کی خدمت میں بھیج دیتا۔ عام مولویوں کی شکایت فضول ہے۔ ان سے توقع ہی کسے تھی، البتہ بڑی مایوسی مولانا تھانوی سے ہوئی۔ جن دو عبارتوں پر مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کی تکفیر کی گئی ہے ہر چند کہ میرے نزدیک وہ بالکل واضح ہیں ، تا ہم آپ کی ہدایت کی تعمیل میں ان دونوں کی تشریح جون کے پرچے الاصلاح میں چھپ گئی ہے۔“
(حکیم الامت از مولانا عبدالماجد دریابادی 418)
مولانا عبدالماجد دریا بادی رحمہ اللہ نے مولانا اصلاحی رحمہ اللہ کا خط موصول ہونے کے بعد ایک مفصل خط مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کو لکھا۔ انھوں نے علامہ شبلی اور امام فراہی رحمہما اللہ کے بارے میں لکھا کہ ایسے لوگوں کے خلاف کفر کا فتویٰ حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ مولانا تھانوی رحمہ اللہ نے خط کا جواب دیا اور فتویٰ سے رجوع کرنے کے بارے میں بتایا۔ مولانا در یا بادی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’حکیم الامت‘‘ میں پوری روداد شامل کی۔ اس میں انھوں نے شبلی و فراہی رحمہما اللہ کے بارے میں مولا نا تھا نوی رحمہ اللہ کا ذہن صاف کرنے اور رجوع کرانے کا سہرا اپنے سر باندھا ہے۔ ممکن ہے دونوں بزرگوں مولانا مدنی اور مولانا دریا بادی رحمہما اللہ نے اپنے اپنے طور پر حق ادا کیا ہو۔
یہ فتویٰ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کی نظر سے گزرا تو انھیں بے حد ملال ہوا۔ انھوں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’مولا نا حمید الدین فراہی مرحوم جن کی عبارت پر یہ ہنگامہ بپا کیا گیا ہے، ان علماے حق میں سے تھے جن کا سرمایۂ امتیاز صرف علم ہی نہیں عمل بھی ہوتا ہے اور اس دوسری جنس کی کم یابی کا جو عالم ہے، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ میں جب کبھی ان سے ملا، مجھ پر ان کے علم سے زیادہ ان کی عملی پاکی کا اثر ہوا۔ وہ پورے معنوں میں ایک متقی اور راست باز انسان تھے۔ ان کے دل کی پاکی اور نفس کی طہارت دیکھ کر رشک ہوتا تھا۔‘‘
علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ نہ صرف علم و فضل میں یکتاے زمانہ تھے، بلکہ اپنی صحت اعتقاد اور زہد و تقویٰ کے لحاظ سے خواص امت میں سے تھے۔“
یہ فتویٰ افسوس ناک ہی نہیں، علما کے لیے باعث شرم بھی تھا۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ آپ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ ( جولائی 1936) میں تحریر کیا:
’’مومن کو کافر کہنے میں اتنی ہی احتیاط کرنی چاہیے، جتنی کسی شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے میں کی جاتی ہے، بلکہ یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کسی کو قتل کرنے سے کفر میں مبتلا ہونے کا خوف تو نہیں ہے، مگر مومن کو کافر کہنے میں یہ خوف بھی ہے کہ اگر فی الواقع وہ شخص کا فرنہیں ہے اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان موجود ہے تو کفر کی تہمت خود اپنے اوپر پلٹ آئے گی۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہو، اور جس کو اس کا کچھ بھی احساس ہو، وہ کبھی کسی مسلم کی تکفیر کی جرأت نہیں کر سکتا۔ جو شخص مسلمان کی تکفیر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی اس رسی پر قینچی چلاتا ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو جوڑ کر ایک قوم بنایا گیا ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ علماے دین میں کافروں کو مسلمان بنانے کا اتناذوق نہیں، جتنا مسلمانوں کو کافر بنانے کا ذوق ہے۔“
مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ ’’الاصلاح‘‘ ( ستمبر 1936) میں لکھتے ہیں:
’’ یہ کس قدر درد انگیز حالت ہے کہ ہمارے علما نے اپنی بے احتیاطی سے اپنی سب سے بڑی طاقت بالکل کھو دی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے صحابہ رضی اللہ عنہم جس سے آنکھیں پھیر لیتے تھے، اس سے آسمان وزمین آنکھیں پھیر لیتے تھے۔ احادیث و سیر میں نہ جانے کتنے واقعات اس قسم کے مذکور ہیں۔ اور ایک یہ زمانہ ہے کہ ہمارے علما کے تکفیر کے فتووں پر لوگ ہنستے ہیں اور جن کی تکفیر کی جاتی ہے انھیں مبارک باد دیتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو صرف شخصی پہلو سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کے اجتماعی انجام پر بھی غور کرتے ہیں اور اس انقلابی حالت پر بڑا رنج ہوتا ہے۔ ہماری یہ خواہش نہیں ہے کہ فتویٰ نویسی یوں بے وقعت ہو جائے، بلکہ ہماری دلی آرزو یہ ہے کہ علما اپنے صحیح منصب کو حاصل کریں اور مسلمانوں میں فتویٰ نویسی کا صحیح وقار قائم ہو۔ لیکن جو لوگ ابھی مولا ناشبلی اور مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کے کفر و ایمان کا فیصلہ نہیں کر سکے، ان سے آیندہ کیا امیدیں کی جا سکتی ہیں؟ اس وقت اس مسئلے سے متعلق کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ ان شاء اللہ کسی آیندہ فرصت میں، ہم کتاب و سنت کی روشنی میں فتویٰ نویسی اور اس کے لوازم و شرائط پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ فی الحال صرف اتنا عرض کریں گے کہ علما خود کو عدالت الہٰیہ کا ترجمان سمجھیں اور جو کچھ کہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول کی سنت کی روشنی میں کہیں۔ خدا نے قرآن اور رسول کو حکم ٹھہرایا ہے۔ عالمگیر یہ اور تار خانیہ کی پیروی کا حکم نہیں دیا ہے۔“
الحمد للہ، بعد ازاں مولانا تھانوی رحمہ اللہ اور فتویٰ پر دستخط کرنے والے دیگر علما نے اپنا سقم فہم محسوس کر کے فتویٰ سے رجوع کر لیا۔ امام حمید الدین فراہی اور علامہ شبلی رحمہما اللہ جوار رحمت الہٰی میں پہنچ چکے اور ان کا معاملہ اس کی عدالت کے سپرد ہے جو دلوں کے بھید اور نیتوں کے اسرار و خفایا کو اچھی طرح جانتا ہے اور احکم الحاکمین ہے۔