مواد پر جائیں

علم و اخلاق کا امتزاج — ڈاکٹر شہزاد سلیم

ثاقب علی اردو

[یہ مضمون ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کے لیکچرز سے حاصل شدہ تاثرات اور میرے ذاتی مشاہدات پر مبنی ہے، جسے تحریری شکل دینے میں AI (ChatGPT)کی مدد لی گئی ہے۔ مصنف]

میرا پہلا تعارف ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب سے 2013ء میں یوٹیوب کے ایک کلپ کے ذریعے سے ہوا۔ اُس وقت میرے ذہن میں یہ تاثر موجود تھا کہ ڈاڑھی یا روایتی اسلامی حلیے کے بغیر کوئی عالم نہیں ہو سکتا، لیکن جب میں نے انھیں سنا تو یہ خیال ٹوٹ گیا اور دل میں یہ بات اتر گئی کہ تقویٰ اور علم کا تعلق ظاہر سے زیادہ باطن کے ساتھ ہے۔

میری بدقسمتی یہ رہی کہ میں ان کی کتابوں سے زیادہ استفادہ نہ کر سکا، لیکن یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان کے بے شمار لیکچرز اور کلپس سننے کا موقع ملا۔ آیندہ اس مضمون میں جو کچھ بھی میں بیان کروں گا، وہ انھی لیکچرز سے اخذ کردہ مشاہدات اور تاثرات پر مبنی ہوگا۔

قرآن مجید کا تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر صاحب کی ایک نہایت قیمتی سیریز ’’قرآن کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ ہے۔ اس میں وہ قرآن مجید کی چند آیات منتخب کرتے اور مختلف نمایندہ تفاسیر سے اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ تقابلی انداز میں یہ واضح کرتے ہیں کہ کس مفسر نے کیا نقطۂ نظر اختیار کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک عام طالب علم میں دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سورۂ نساء میں بیان کردہ وراثت کے مسائل میں نے پہلی بار انھی لیکچرز کے ذریعے سے صحیح طور پر سمجھے۔ اس سے پہلے بارہا کوشش کی، لیکن پوری طرح کامیابی نہ ہوئی تھی۔ جب ڈاکٹر صاحب نے ان نکات پر روشنی ڈالی اور طلبہ کے سوالات کے جوابات دیے تو میرے تمام ابہام دور ہو گئے۔

میرے نزدیک قرآن کو سمجھنے کے خواہش مند، خصوصاً وہ طلبہ جو مکتب فراہی کے تناظر میں قرآن کے تقابلی مطالعے کے ذریعے سے غور کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ سیریز نہایت اہم ہے۔

اسلام اسٹڈی سرکل

’’اسلام اسٹڈی سرکل‘‘ بھی ان کی ایک نہایت اہم سیریز ہے۔ اس کے ذریعے سے ہی میرا بائیبل سے پہلا تعارف ہوا۔ قرآن و حدیث تو ہم پڑھتے رہتے ہیں، مگر یہ جاننا میرے لیے حیرت انگیز تھا کہ بائیبل میں بھی بہت سی حکمت بھری اور غور طلب باتیں موجود ہیں اور یہ حقیقت مجھے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سے معلوم ہوئی۔ اس سیریز میں وہ قرآن، حدیث اور بائیبل، تینوں کے اقتباسات پیش کرتے اور ان پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس گفتگو کا مرکزی پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اخلاق کو درست کرے۔ اور کیوں نہ ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔1 آج کے دور میں جب مسلمانوں میں اخلاقی بحران پیدا ہو چکا ہے، یہ بات اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ اخلاق کے پہلو کو بار بار بیان اور اجاگر کیا جائے۔ اس امتزاج سے اللہ اور بندے کے تعلق کا پہلو اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے اور سننے والے کو ایک جامع اور ہمہ گیر بصیرت حاصل ہوتی ہے۔

اس سیریز کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ پروگرام میں حاضرین کے سوالات لیے جاتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب مختصر، مگر تسلی بخش انداز میں ان کے جوابات دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوال و جواب کے بجاے کسی خاص موضوع کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور سب حاضرین کو گفتگو کا موقع دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نشست میں یہ موضوع لیا جا سکتا ہے کہ ’’غصے پر قابو کیسے پایا جائے؟‘‘۔ پھر ہر طالب علم اپنی اپنی راے بیان کرتا ہے۔ اس عمل کے تین بڑے فائدے ہیں: ایک یہ کہ انسان خود بھی سوچنے پر مجبور ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ مختلف آرا سن کر ایک مسئلے کو کئی پہلوؤں سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور تیسرا یہ کہ اجتماعی بصیرت کے ذریعے سے ایک جامع اور متوازن نقطۂ نظر سامنے آتا ہے۔

اسلام سے متعلق غلط فہمیاں

اسی طرح یو ٹیوب پر ان کی سیریز ’’اسلام سے متعلق غلط فہمیاں‘‘ میرے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ کم و بیش پانچ سو کے قریب مختصر ویڈیوز پر مشتمل اس سلسلے میں وہ چند منٹوں میں بڑے پیچیدہ سوالات کو نہایت واضح اور موثر انداز میں بیان کر دیتے ہیں۔ ان کے جواب سن کر پیچیدگیاں سادہ اور مشکل سوالات آسان لگنے لگتے ہیں۔ اگر ایک طالب علم ان تمام کلپس کو سنتا ہے تو اس کی اسلام سے متعلق غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہوں گی ۔ یہ کلپس فراہی مکتبِ فکر کو سمجھنے کے لیے بہت مددگار ہیں ۔

ڈاکٹر صاحب کی شاعری

ڈاکٹر شہزاد سلیم کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے الفاظ نہیں، بلکہ اخلاقیات کی خوشبو اور کردار کی روشنی قاری کے دل میں اتر رہی ہو۔ ان کے اشعار دین کے اس وسیع اور جامع تصور کو زندہ کر دیتے ہیں جس کا مرکز انسان کی اخلاقی تربیت ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ دل کو سنوارنے، نفس کو سدھارنے اور معاشرے میں خیر پھیلانے کا ایک مکمل ضابطہ ہے۔

ان کی شاعری کی ایک اور انوکھی خوبی یہ ہے کہ اس کی انگریزی اتنی سادہ، رواں اور شفاف ہے کہ گویا علم کا چشمہ سب کے لیے یکساں بہ رہا ہو۔ ایک طالب علم نہ صرف ان کے اشعار سے عمدہ انگریزی سیکھ سکتا ہے، بلکہ ان میں چھپے جذبات اور احساسات کو بھی محسوس کر سکتا ہے۔ یہ وہ جذبات ہیں جو شاید کتابوں کی خشک سطور میں کبھی نہ مل سکیں، لیکن ان کے کلام میں بہتے ہوئے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔

یوں ڈاکٹر شہزاد سلیم کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی روح کی خوب صورتی، دین کی اصل روح اور انسانیت کی معراج دیکھ سکتے ہیں۔

خدا اور بندے کا تعلق

ڈاکٹر صاحب کی گفتگو محض علمی پہلو تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اللہ اور بندے کے تعلق کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ وہ اکثر روزمرہ زندگی سے ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو براہِ راست دل پر اثر کرتی ہیں اور سننے والے کو شکر کی کیفیت میں جینے پر آمادہ کر دیتی ہیں۔ ان کا اندازِ بیان نہایت سادہ اور دل نشین ہے۔

مثال کے طور پر ایک بار انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ولیمہ میں شریک تھے۔ جب سب لوگ اندر جا چکے تو باہر کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ ولیمہ ختم ہونے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ کچھ بچے اور لوگ اندر آئے اور سالن اور گوشت کی بچی ہوئی ہڈیاں کھانے لگے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ قریبی بستی کے رہنے والے ہیں، جو ہر شادی میں آ جاتے ہیں اور یوں بچا ہوا کھانا کھا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ شکر کے پس منظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے اکثر لوگ کبھی یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہمیں باقاعدہ کھانا نصیب ہو رہا ہے، جب کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو دوسروں کے بچے ہوئے کھانے پر گزارا کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور موقع پر انھوں نے ایک مریضہ کا ذکر کیا، جسے سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ یہ واقعہ انھوں نے اس لیے سنایا کہ سننے والا لمحہ بھر کو رکے اور سوچے کہ ہمارے لیے یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ ہم بغیر کسی تکلیف کے سانس لے رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جنھیں سانس لینے میں بہت تکلیف ہتی ہے۔ یہ سب سن کر دل میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنا کتنا ضروری ہے۔

بہ حیثیت موٹیویشنل اسپیکر

بعض اوقات ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں ایک موٹیویشنل اسپیکر کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جب وہ اینگر مینجمنٹ، پیرنٹنگ اور کامیاب زندگی کے اصول جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو نہ صرف علمی پہلو لیے ہوتی ہے، بلکہ عملی زندگی کے مسائل کے حل بھی پیش کرتی ہے۔ ان کے اندازِ بیان میں ایسا توازن ہے کہ سننے والا ایک طرف علم حاصل کرتا ہے اور دوسری طرف حوصلہ، سکون اور زندگی کے لیے ایک نئی رہنمائی بھی پاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ڈاکٹر صاحب جیسے علما کے دور میں پیدا کیا اور ان سے سیکھنے اور سمجھنے کا موقع عطا فرمایا۔

خیال و خامہ

  1. ۔ سنن ابی داؤد،رقم 4799۔