مواد پر جائیں

علم و نظر سے ماورا اپنے حریمِ ذات میں

جاوید احمد غامدی اردو

علم و نظر کے روبرو آئنۂ صفات میں

جلوہ نما ہے روز و شب، ایک نئی ادا کے ساتھ

تجھ کو جہاں بھی دیکھیے عالمِ شش جہات میں

تیری کتاب کے سوا، دیکھ چکا میں شرق و غرب

کچھ بھی ٹھہر نہیں سکا سیلِ تغیرات میں

عقل ہے آج بھی اگر اپنے جنوں کی نقش بند

عشق بھی تو اسیر ہے اپنے ہی واردات میں

تیرے کلام میں کوئی حرف کہاں تھا پیچ کا

میں ہی الجھ کے رہ گیا اپنے توہمات میں

دستِ فرنگ میں ترے مینا و جام واژگوں

کیا نہیں اور مے کہیں مے کدۂ حیات میں؟

تیرے کرم سے پے بہ پے اترے ہیں آسماں سے آج

قافلہ ہاے رنگ و بو میرے تخیلات میں