ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
شہزاد سلیم صاحب کی جو شخصیت ہے اور جو کام انھوں نے کیا ہے، اُس کی بنا پر وہ بے شک اس ایوارڈ کو deserve کرتے ہیں۔ اس دنیا کے ایوارڈ تو جو ہیں ،سو ہیں، وہ آخرت میں بھی ایوارڈ کے مستحق ہوں گے، انشااللہ۔
شہزاد سلیم صاحب کا جو علمی کام ہے، وہ دو پہلوؤں سے بہت اہم ہے:
ایک یہ کہ انھوں نے غامدی صاحب کے بہت سے لٹریچر کو انگریزی زبان میں ٹرانسلیٹ (translate) کیاہے۔ اس چیز نے ہم جیسے لوگوں کے لیے ـــــ جو اتنی سخت اردو سے واقف نہیں ہیں یا جن کو انگلش میں چیزیں زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آتی ہیں ـــــ دین کو سمجھنے میں بہت آسانی پیدا کی۔ ان کی یہ بہت بڑی خدمت ہے کہ انھوں نے غامدی صاحب کے کام کو ایک بہت بڑی audience کے لیے آسان انگلش میں ٹرانسلیٹ (translate) کر کے accessible (قابل رسائی)بنایا۔
دوسراان کا کام، obviously یہ ہے کہ نہ صرف انگریزی زبان میں ٹرانسلیٹ (translate) کیا، بلکہ اس سارے کام کو لوگوں تک پہنچانے میں بھی بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔
تیسری بات یہ کہ ان کا بات کرنے اور سمجھانے کا جو طریقہ ہے، وہ ہم جیسے عام لوگوں کے لیے بہت ہی زیادہ آسان ہے، یعنی دین کے مشکل نالج (knowledge) کو آسان اور بڑے ہی summarize طریقے سے سمجھاتے ہیں۔
مجھ جیسے ایک non scholarly student کا بھی ان کے ساتھ بہت ہی اچھا experience ہوا کہ انھوں نے میری کتاب کو بہت ہی personalize توجہ دی اور پھر مجھے one on one بہت کچھ سکھایا ، which tells you about the character of that person ۔ جب بھی ان سے دین کا علم حاصل کرنے کوئی آتا ہے، خواہ وہ کوئی اسکالر ہو یا میرے جیسا عام آدمی تو اس کو پوری توجہ سے ، اخلاص کے ساتھ اور بڑے seriously سنتے اور اس کو handle کرتے ہیں۔
خطاب: امتنان الٰہی*
ترتیب: شاہد محمود
ہم دردی، عزم اور استقامت کا پیکر
ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
کم وبیش چالیس سال سے شہزاد کو جانتا ہوں۔ معاف کیجیے گا، میرے لیے آپ اور تم میں فرق کرنا مشکل ہو گا۔ بہرحال کوشش کروں گا کہ شہزاد صاحب ، بلکہ ڈاکٹر صاحب کہہ کر اُن کا ذکر کروں ۔
یہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں میرے کلاس فیلو تھے۔ میرا رول نمبر 29 ہوتا تھا، ان کا 14 تھا۔ اس دور کی ہماری بہت سی یادیں ہیں، جن میں زیادہ تر شہزاد کی معصومیت سے متعلق ہیں۔ اس تقریب میں ان کے اچھے اخلاق و کردار کے حوالے سے جو باتیں ہوئی ہیں، وہ بالکل درست ہیں، میں ان پر stamp لگا سکتا ہوں۔
ایک بات جو میں نے ان میں دیکھی ، وہ دوسرں کے لیے ہمدردی کا جذبہ تھا۔ انسان تو انسان، اگر انھیں راہ چلتے ہوئے کوئی کتا بھی نظر آجاتا جسے کوئی مار رہا ہو یا وہ بھوکا لگ رہا ہو، تو یہ اس کے بارے میں بھی غمگین ہو جاتے تھے۔ یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ petsسے محبت امریکہ کے کلچر کا حصہ ہے، لیکن ہمارے پاکستانی کلچر میں کتے کی پروا نہیں کی جاتی ۔
* ڈاکٹر شہزاد سلیم کے کلاس فیلو۔ * ڈاکٹر شہزاد سلیم کے کلاس فیلو۔ دوسری اہم بات شہزاد کا مذہبی زندگی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرنا اور پھر اس پر جم جانا ہے۔ یہ رویہ واقعی مثالی تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بارے میں جو فیصلہ کیا، آج تک اس پر قائم ہیں۔ یہ واقعی قابل تعریف ہے ۔ شہزاد کا تعلق جس background سے ہے، مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو پتا ہے کہ نہیں کہ بہت پڑھی لکھی فیملی ہے، جس کو ہم اپنے ہاں ماڈرن فیملی کہہ سکتے ہیں۔ شہزاد یہ سب کچھ چھوڑ کر اُس راہ پر پوری دل جمعی کے ساتھ چلتے رہے، جسےانھوں نے راہِ راست سمجھا ۔ فارسی میں میں نے کہیں پڑھا تھا :’ایں سعادت بزور بازو نیست‘ ۔ یہ اللہ کی بہت بڑی دین ہے۔
تیسری اہم بات ان کی commitment ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی ایسا pressure نہیں تھا کہ دینی کام کے ساتھ اس طرح وابستہ رہتے، جس طرح کہ مستقل وابستہ رہے۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی معاشی مجبوریاں تھیں یا کوئی اور اس طرح کا پہلو تھا۔ basically خلوص، ہم دری اور اس ادارے کے vision پر یقین تھا، جس کی وجہ سے یہ اس قابل ہوئے۔
جب یہ اس طرف آئے تو ہمارے دو تین اور احباب بھی تھے، جنھوں نے یہ راستہ چنا۔ ان میں سے واحد شہزاد سلیم صاحب ہیں ،جو ماشاءاللہ ابھی تک سو فی صد اس راستے پر قائم ہیں اور اس تحریک کے ساتھ پورے عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ ان کے مقام میں مزید ترقی دے اور ان کے عزم میں مزید ثبات عطا فرمائے اور یہ اسی طرح دین کی خدمت انجام دیتے رہیں۔ آمین۔
گفتگو: کوکب شہزاد*1
- * اہلیہ ڈاکٹر شہزاد سلیم ۔