مواد پر جائیں

غامدی صاحب کی تحریر و تقریر کا دائرہ (1)

سید منظور الحسن اردو

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی پچاس پچپن برس سے دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اِس دوران میں اُنھوں نے دین کی شرح و وضاحت کی ہے اور اُس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اشکالات، سوالات اور اعتراضات کے جواب دیے ہیں۔ اُن کا بیش تر کام اِسی مثبت دعوت پر مبنی ہے۔

تاہم، اُنھوں نے اِس پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اِس سے آگے بڑھ کر دین کی اُن تعبیرات کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، جو اُن کے نزدیک دین کے بارے میں غلط تصورات کی ترویج کا باعث ہیں۔ اِس کے صلے میں اُنھیں شدید مخالفت اور سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور بالآخر جلا وطنی کی زندگی اختیار کرنی پڑی ہے۔

اِس نقد وجرح پر مستزاد اُن کا قومی امور پر اظہارِ خیال ہے۔ اہل پاکستان اور اہل اسلام کے سیاسی اور سماجی مسائل سے وہ کبھی صرفِ نظر نہیں کرتے۔ اُن کی نوعیت نقوشِ ماضی کی ہو، حالاتِ حاضرہ کی ہو، یا مستقبل کے اندیشوں اور امکانات کی، اگر وہ لوگوں کے علم و عمل کے لیے مسئلہ بن رہے ہیں تووہ اُنھیں اُسی طرح زیرِ بحث لاتے ہیں، جیسے دین کی شرح و وضاحت کے کسی اہم موضوع کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔

غامدی صاحب کے اکثر رفقا و احباب کو اُن کے اِس طرزِ عمل پر تحفظات ہیں۔ اُن کے نزدیک غامدی صاحب کی معاصر آرا و افکار پر جرح وتنقید نے اُن کے مثبت کام کے لیے مخالفت اور مزاحمت کا سامان کیا ہے اور اُن کی دعوت کو محدود کیا ہے۔ قومی و ملی حالات و وقائع پر اُن کی گفتگوئیں ایک جانب اُن کے قیمتی اوقات کی تضیع کا باعث بنی ہیں تو دوسری جانب اُن کی وجہ سے لوگوں میں اصل دینی موضوعات سےدل چسپی میں کمی آئی ہے۔ چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ غامدی صاحب کو خود بھی ایسے متنازع اور اضافی موضوعات پر کلام سے احتراز کرنا چاہیے اور اُن سے مکالمہ کرنے والے میزبانوں کو بھی اِنھیں زیرِ بحث نہیں لانا چاہیے۔

یہ وہ پس منظر ہے، جس میں برادرم محمد حسن الیاس صاحب نے غامدی صاحب سے ہفتہ وار سوال و جواب کی نشست میں، مذکورہ اعتراض کو موضوع بنایا ہے۔ اِس ضمن میں اُن کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔

حسن الیاس صاحب کا استفسار

غامدی صاحب، آپ سے گذشتہ پانچ چھ سالوں میں کم و بیش دو اڑھائی ہزار سے زائد مباحث پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ اِن میں وہ اشکالات بھی ہیں، جو دین اور سماج کے طالبِ علم کی حیثیت سے میرے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں؛ وہ اعتراضات بھی ہیں، جو آپ کے ناقدین آپ پر کرتے رہے ہیں اور وہ سوالات بھی ہیں، جو دنیا بھر میں آپ کے قارئین اور سامعین کی طرف سے شب و روز موصول ہوتے رہتے ہیں۔ اِن کے عنوانات پر نظر ڈالی جائے تو مذہبی، اخلاقی، قانونی، فقہی، سماجی، سیاسی، تاریخی، ہر طرح کے موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں۔اِن میں سے خصوصاً روایتی مذہبیت پر تنقید کے مباحث اور سیاسی اور تاریخی موضوعات کے بارے میں بعض اہل علم اور بعض رفقا و احباب کی راے ہے کہ غامدی صاحب کو اِن موضوعات پر بات نہیں کرنی چاہیے۔

اُن کے موقف اور استدلال کا جائزہ لیا جائے تو اُسے اِن پانچ نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔ آپ عالم دین کے منصب پر فائز ہیں۔ اِس بنا پر آپ کو اُنھی چیزوں پر کلام کرنا چاہیے، جنھیں دین کے مشمولات (content)کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی آپ قرآن پر بات کریں، سنت پر بات کریں، حدیث، اجماع، قیاس، اجتہاد، فقہ پر بات کریں۔ اِسی طرح آپ ایمانیات کو موضوع بنائیں، اخلاقیات کا درس دیں، عبادات کی وضاحت کریں۔غرضیکہ دین کے اخذ و استنباط اور شرح و وضاحت کی ہر بحث پر کلام کریں۔ یہ سب موضوعات آپ کی علمی اور دعوتی ذمہ داری کے عین مطابق ہیں۔ لیکن اِن کے علاوہ جو دیگر موضوعات ہیں، وہ آپ کی منصبی ذمہ داری اور آپ کے دائرۂ فکر و عمل سے باہر ہیں۔اِن پر آپ کو بات نہیں کرنی چاہیے۔

2۔ جب آپ دین کے مثبت بیان سے آگے بڑھتے ہوئے اُن افکار و نظریات کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں، جنھیں لوگ مسلمات کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، یا ایسے مباحث کا تجزیہ کرتے ہیں، جن سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں، یا اُن واقعات کی تردید یا تائید کرتے ہیں، جو تفریق اور گروہ بندی کا باعث بنتے ہیں، یا ایسی شخصیات پر تبصرہ کرتے ہیں، جنھیں بعض لوگ پسند کرتے اور بعض ناپسند کرتے ہیں، تو اِس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ اور نہیں نکلتا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی دعوت، دونوں متنازع ہو جاتے ہیں اور آپ کی مثبت بات کے ابلاغ کے لیے بھی فضا سازگار نہیں رہتی۔ اِن نزاعی موضوعات کی مثالوں میں ’’اسلام اور تصوف‘‘، ’’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ ‘‘، ’’حضرت علی اور امیر معاویہ‘‘، ’واقعۂ کربلا اور یزید‘‘، ’’تحریکِ طالبان‘‘ نمایاں ہیں۔ آپ کو اِس طرح کے موضوعات میں الجھنےکے بجاے خالص دین کو بیان کرنے پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اگر آپ اِس پر اکتفا نہیں کریں گے تو نظریاتی، گروہی اور شخصی وابستگیاں رکھنے والے لوگ آپ کی دعوت کی طرف متوجہ نہیں ہو سکیں گے۔

3۔ سیاسیات، عمرانیات، بین الاقومی تعلقات، قانون، تاریخ، ادب، فلسفہ اور اِس نوعیت کے غیر مذہبی علوم اپنی اپنی فنی اساسات رکھتے ہیں۔ اِن پر گفتگو کے لیےاِن میں اختصاص ضروری ہے۔ آپ کا اختصاص علوم اسلامیہ میں ہے۔ اگر آپ اِس کے علاوہ کسی علم پر بات کرتے ہیں یا کسی علم کو بنیاد بنا کر کوئی راے قائم کرتے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی دسترس سے باہر کے امور میں رہنمائی کر رہے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ماہرِ سیاست یا ماہرِ تاریخ ــــجو اسلامی علوم میں اختصاص نہیں رکھتا ــــ قرآن و سنت پر گفتگو شروع کر دے۔ ’’فوج کا بیانیہ‘‘، ’’تبدیلی کا مذہبی بیانیہ‘‘، ’’مسئلۂ فلسطین‘‘، ’’سعودی عرب میں تبدیلی‘‘، ’’افغانستان کی صورتِ حال، اسباب اور حل‘‘ جیسے عنوانات کی نوعیت ایسے ہی اضافی اور غیر متعلق موضوعات کی ہے۔

پھر آپ نے کچھ تاریخی شخصیات پر بھی بات کی ہے، جنھوں نے مذہب پر، معاشرت پر، سیاست پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ چنانچہ ابن خلدون، شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل، علامہ اقبال، سید سلیمان ندوی، عطا اللہ شاہ بخاری، عنایت اللہ مشرقی، شورش کاشمیری، عنایت اللہ مشرقی، حبیب الرحمٰن کاندھلوی، ڈاکٹر اسرار احمد، غلام احمد پرویز، مولانا اسحاق، مولانا وحید الدین خان، باچا خان، ذوالفقار علی بھٹو اور اِسی سطح کی متعدد دیگر شخصیات کے فکر و عمل کے بارے میں آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ آپ کی اِن گفتگوؤں کا بھی، ظاہر ہے کہ آپ کے اصل کام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4۔ ہماری علمی روایت یہ ہے کہ امت کےجلیل القدر علما نے اپنے دائرۂ عمل سے کبھی باہر قدم نہیں رکھا۔ اُنھوں نے ہمیشہ اُنھی موضوعات پر کلام کیا ہے، جو علوم اسلامیہ کے دائرے میں آتے ہیں۔ آپ کے مقام و مرتبے کا بھی یہی تقاضا ہے کہ آپ کو اِسی روایت پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

5۔ مذکورہ نزاعی اور اضافی موضوعات ہی ہیں، جو آپ کو، آپ کے اہل خانہ کو اور آپ کے تلامذہ و احباب کو معرضِ خطر میں لے آئے ہیں۔ یہی آپ کے لیے اور آپ کے بعض رفقا کے لیے جلا وطنی کی زندگی اختیار کرنے کا سبب بنے ہیں اور اِنھی کے باعث آپ کے بعض قریبی رفقا کو شہید کیا گیا ہے۔ کیا یہ واقعی اتنے ضروری ہیں کہ اِن کے لیے اِس قدر قیمت ادا کی جائے؟

یہ آپ کے دعوتی طرزِ عمل پر نقد کے پانچ نکات ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ذرا کھلے انداز سے اِن پر بات کیجیے اور بتائیے کہ ایک عالم دین کی حیثیت سے آپ کا ان چیزوں کو موضوع بنانا کس قدر بجا ہے اور قرآنِ مجید کے احکام، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور علماے امت کی دعوت کے تاریخی پس منظرمیں اِن کی کس قدر گنجایش ہے؟

غامدی صاحب کا جواب

دعوتِ دین کے لازمی اجزا

دین اللہ کی ہدایت ہے، جو اُس نے پیغمبروں کی وساطت سے انسانوں کو دی ہے۔ یہ دین قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے اور اِسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے طور پر جاری فرمایا ہے۔ اِن دو صورتوں میں یہ امت مسلمہ کے پاس محفوظ ہے اور تاقیامت انسانوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب ہے۔ اِس کی دعوت جب بھی لوگوں کے سامنے پیش کی گئی ہے تو اُس میں تین چیزوں کا التزام کیا گیا ہے۔

ایک یہ کہ اصل بات کو بے کم و کاست بیان کیا جائے۔

دوسرے یہ کہ اُس بات کے مضمرات کو نمایاں کیا جائے۔

تیسرے یہ کہ اُس کے مخالف نقطۂ نظر کی غلطی واضح کی جائے۔

یہ تینوں چیزیں دین کی تفہیم و تبیین اور دعوت و تبلیغ کے لیے ناگزیر ہیں۔

قرآنِ مجید کا اسلوب دعوت

اللہ تعالیٰ نے جب اپنے دین کی دعوت پیش کی ہے تو اُس میں اِن تینوں چیزوں کو شامل کیا ہے۔ چنانچہ جب ہم کلامِ الہٰی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں ایمان و اخلاق اور اعمال و احکام کو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ــــ اگر ایسا کیا جاتا توقرآنِ مجید کی ضخامت چند سورتوں سے زیادہ نہ ہوتی ــــ بلکہ اُن کی توضیح و تشریح کے لیے تمثیلات ہیں، تشبیہات ہیں، تاریخی شواہد ہیں اور مخاطبین کے طرزِ عمل پر بھرپور تبصرے ہیں۔ اِس کے ساتھ مخاطبین کی ناقص معلومات کی تصحیح بھی ہے، بے بنیاد خیالات کی تغلیط بھی ہے، اورباطل افکار کی تردید بھی ہے۔ اِسی بنا پر اِس کی نوعیت یہ ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگذشتِ انذار ہے۔ تاہم، اِن ساری بحثوں میں دین کے اساسی مباحث ہر گز نظر انداز نہیں ہوئے۔ اُن کی حیثیت نقطۂ پرکار کی ہے۔ گویا تمام سیاسی، سماجی، قانونی، تاریخی موضوعات اُنھی سے اٹھتے،اُنھی کے گرد گھومتے اور اُنھی کی طرف لوٹتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوب دعوت

رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین کے سب سےپہلے اور سب سے بڑے عالم تھے۔ اِس حیثیت میں آپ نے دین کی تفہیم و تبیین اور شرح و وضاحت کا فریضہ انجام دیا۔ اِس کا ایک بڑا حصہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں جمع ہے۔ اُس کے مطالعے سے بھی واضح ہے کہ آپ کے اقوال و افعال اصل دین کے بیان، اُس کی شرح و وضاحت اور اُس کے مخالف نظریات کی تنقید و تردید پر مشتمل ہیں۔

علماے امت کا اسلوب دعوت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں علماے صحابہ اور اُن کے بعد تمام علماے امت نے گذشتہ چودہ سو سال میں اِسی طریق کار کو اختیار کیا ہے۔1 اِن میں سے وہ لوگ جو اپنے اپنے زمانے میں دین کی دعوت کا علم لے کر اٹھے، اُن کے کام سے واضح ہے کہ اُنھوں نے دعوت اور اُس کے اثرات سے متعلق ہر بحث کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ امام غزالی، امام ابن تیمیہ، امام شاہ ولی اللہ اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی مثالیں اِس معاملے میں بہت نمایاں ہیں۔ امام غزالی کی ’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘اور ’’المنقذ من الضلال‘‘، امام ابنِ تیمیہ کی ’’منہاج السنۃ‘‘، شاہ ولی اللہ کی ’’ازالۃ الخفا‘‘ اور ’’تفہیمات الالہٰیہ‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے تو اپنے دعوتی کام کی ابتدا ہی جس کتاب سے کی، اُس کا عنوان ہے: ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش“۔ اِن کتابوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جلیل القدر اصحاب علم اپنے سیاسی اور سماجی حالات پر تبصرہ کرتے ہیں، حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں، علما کو مخاطب کرتے ہیں، فقہا پر نقد کرتے ہیں، اربابِ حل و عقد کو توجہ دلاتے ہیں، اہل علم و دانش کی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اِن کی تمام دعوتی جدوجہد اِنھی کاموں سے عبارت ہے۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ہماری تاریخ میں دین کی دعوت کا کام جب بھی ہوا ہے، وہ حالات کی رعایت سے ہوا ہے اور اُس میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور تاریخی نوعیت کے وہ تمام موضوعات زیر ِ بحث آئے ہیں، جو کسی نہ کسی پہلو سے مخاطبین کا مسئلہ ہیں یا اُن کے لیے مزلۂ قدم بن سکتے ہیں یا الجھن کا باعث ہو سکتے ہیں یا مثبت حقائق کو سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔

غامدی صاحب کا اسلوب دعوت

میں دین کے ایک طالب علم کی حیثیت سے دعوتِ دین کی اِسی روایت کے تسلسل میں کھڑا ہوں۔ میں نے اُنھی چیزوں کو موضوع بنایا ہے، جنھیں کارِ دعوت میں موضوع بنانا ضروری ہے۔ میری تصانیف میں ’’البیان‘‘ قرآنِ مجید کی شرح و تفسیر ہے۔ ’’میزان‘‘ مثبت اسلوب میں دین کی شرح و وضاحت ہے۔ ’’الاسلام‘‘ اُسی کا خلاصہ ہے۔ ’’برہان‘‘ میں وہ مضامین جمع ہیں، جن میں معاصر آرا و افکار پر تنقید کی گئی ہے۔ ’’مقامات‘‘ متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، اس میں میری اجتہادی آرا بیان ہوئی ہیں، قومی و ملی اور سیاسی و سماجی موضوعات پر تنقیدات اور تبصرے اور تجاویز ہیں۔ بعض تاریخی مباحث کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اِس میں ’’اسلام اور ریاست ـــایک جوابی بیانیہ‘‘ اور اُس کے علاوہ ’’مسئلۂ قومیت‘‘، ’’اسلامی حکومت‘‘، ’’نفاذِ شریعت‘‘ اور ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ جیسے مضامین سیاسی موضوعات پر مبنی ہیں۔ گفتگوؤں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اُن میں بھی دعوتِ دین کے تعلق سے مثبت چیزوں کی شرح و وضاحت کے ساتھ اُن تمام موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے، جو دعوت کے مخاطبین کےفکر و عمل کا حصہ ہیں۔ یہ میرے کام کا دائرہ ہے۔ یہ میری منصبی ذمہ داری ہے۔ زندگی بھر میں نے نہ اِس سے ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور نہ ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے۔

سوال یہ ہے کہ میں نے جن موضوعات پر اب تک لکھا ہے یا گفتگو کی ہے، اُن میں سے کون سی چیز اِس دائرے سے باہر کی ہے؟

ـــــ اگرچہ اِس دائرے سے باہر کی بھی کسی چیز پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ میں اپنی سوانح تحریر کر سکتا ہوں، سفر نامہ لکھ سکتا ہوں، شعرو ادب پڑھا سکتا ہوں، مختلف زبانوں کی تعلیم دے سکتا ہوں، ادیبوں، شاعروں، محققوں، عالموں، رہنماؤں کے کاموں کو زیرِ بحث لا سکتا ہوں، ملکوں اور قوموں کے عروج و زوال پر بات کر سکتا ہوں، اپنے ہم قوموں کی معاشی اور سیاسی بہتری کے لیے تجاویز دے سکتا ہوں، غرضیکہ اپنی پسند کے ہر موضوع پر اظہار خیال کر سکتا ہوں۔ ـــــ

دعوت میں تاریخی واقعات اور تاریخی شخصیات کے ذکر کی اہمیت

جہاں تک تاریخی واقعات یا شخصیات کو زیرِ بحث لانے کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے ذوالقرنین کا ذکر کیوں کیا ہے؟ اصحابِ کہف کے واقعے کو کیوں بیان کیا ہے؟حضرت یوسف علیہ السلام کی داستانِ حیات کی تفصیل کیوں کی ہے؟

انسانوں کے جذبات و احساسات

جان رکھیے، یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر دعوت کو مخاطبین کے مسائل و مباحث سے بے نیاز ہو کر پیش کیا جائے گا تو وہ موثر نہیں ہو سکے گی۔ مخاطبین اینٹ پتھر اور شجر و حجر نہیں ہوتے۔ اُن کے جذبات و احساسات ہوتے ہیں، اُن کی سیاسی، سماجی اور مذہبی عصبیتیں ہوتی ہیں، تاریخی وابستگیاں ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں اُن کے فکر و عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بعض اوقات تعبیراتِ دین کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر انسانوں سے ہم کلام ہونا ہے تو اُن کے اہم مباحث پر منفی یا مثبت تبصرہ کرنا ضروری ہو گا۔ منفی تبصرے سے اُن کی غلطیوں کی اصلاح ہو گی اور مثبت تبصرے اُن کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوں گے۔

تاریخی واقعات

ہمارے ہاں دیکھیے کہ یہ تاریخی واقعات ہی ہیں، جنھوں نے امت کو اہل سنت اور اہل تشیع کے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کر دیا ہےاور ہم جانتے ہیں کہ اُن واقعات کو محض تاریخی حوادث کے طور پر نہیں دیکھا گیا، مذہبی نظریات کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ ـــــ ایک گروہ کی طرف سے امامت کا نظریہ سامنے آیا، جو بہ تدریج عقیدے کی صورت اختیار کر گیا اور پھر دوسرے گروہ کے اہل علم کو اُس کی تردید کے لیے دورِ اول کے اُن سیاسی واقعات کو زیرِ بحث لانا پڑا،جنھیں اُس نظریے کی اساس کی حیثیت حاصل ہے ـــــ چنانچہ اگر ایسے نظریات کی اصلاح مقصود ہو گی تو اُن کی بنیاد میں پڑے ہوئے واقعات کو لازماً زیرِ بحث لانا پڑے گا۔ مجردات کے اسلوب میں کی گئی بات کو نہ مخاطب سننے کے لیے آمادہ ہو گا، نہ اُس کی سمجھ میں آ سکے گی۔

دین کی مختلف تعبیرات

آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں دین کی مختلف تعبیرات رائج ہیں۔ جنھیں ہم تفہیم ِ مدعا کے لیے دین کی فقہی تعبیر، دین کی سلفی تعبیر، دین کی جہادی تعبیر، دین کی متصوفانہ تعبیر، دین کی سیاسی تعبیر جیسے اسما سے موسوم کرتے ہیں۔ اِن تعبیروں میں دین کے لحاظ سے اگر کوئی ترمیم و اضافہ ہے، کوئی افراط و تفریط ہے یا کوئی کفر، کوئی باطل، کوئی ضلالت، کوئی بدعت داخل ہے تو اُس کی نشان دہی بھی ضروری ہے اور پورے علم و استدلال کے ساتھ تغلیط و تردید بھی لازم ہے۔ یہ دین کی تعلیمات کو انسانی فکر و عمل کی آمیزشوں سے پاک کرنے کا کام ہے۔ اِس کے بغیر دین کے صحیح تصور کو لوگوں کے دل و دماغ میں اتارا ہی نہیں جا سکتا۔

یہ ساری بات منفی پہلو سے کی گئی ہے، اب مثبت پہلو سے بھی اِس کو سمجھ لیجیے۔

دورِ صحابہ کی دینی نوعیت

دیکھیے، قرآن مجید سے واضح ہےکہ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے تین لازمی تقاضے ہیں:

1۔ یہ مانا جائے کہ آپ اللہ کے فقط نبی نہیں تھے، بلکہ اُس کے رسول بھی تھے۔

2۔ یہ مانا جائے کہ آپ کی نبوت الی الخلق کافۃ ہے،2یعنی تمام انسانیت کے لیے ہے۔

3۔ یہ مانا جائے کہ آپ پر نبوت ختم ہو گئی ہے۔ اب تا قیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔

ختم نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی دعوت کا جو اہتمام کیا ہے، وہ دو اجزا پر مبنی ہے:

ایک یہ کہ اپنی مکمل ہدایت کو قرآنِ مجید کی صورت میں پوری طرح محفوظ کر دیا ہے۔

دوسرے یہ کہ بنی اسماعیل یعنی صحابۂ کرام کی جماعت کو ’’شہادت‘‘3کے منصب پر فائز کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا.

(البقرہ 2: 143)

’’اِسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے۔‘‘

یعنی اِس جماعتِ صحابہ کی نوعیت ’ اُمَّۃً وَّسَطًا‘ (درمیانی امت) کی ہے، جس کے ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری طرف دنیا کے باقی سب لوگ ہیں۔ اُس جماعت کی یہ دینی ذمہ داری تھی کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کو وصول کرنا تھا اور پھر اُسے بے کم و کاست باقی دنیا تک پہنچانا تھا۔ وہ دین کی شہادت کے منصب پر فائز تھے۔ یعنی اُنھیں اللہ تعالیٰ نے دین حق کی گواہی کے لیے اُسی طرح منتخب کیا تھا، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اِس حیثیت سے اُن کا فریضہ یہ تھا کہ دین کی جس شہادت کو اللہ کے رسول نے اُن پر قائم کیا ہے، وہ اُسی شہادت کو اقوامِ عالم پر قائم کر دیں۔

صحابۂ کرام کی یہ جماعت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک اِس ذمہ داری پر فائز رہی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت (10ھ) سے لے کر حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت (60 ھ) تک 50 سال کا زمانہ شہادت کی اُس ذمہ داری کا زمانہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام پر عائد کی تھی۔ اِس دور کے حوادث، اِس دور کے واقعات، اِس دور کی شخصیات کا مطالعہ زمانۂ شہادت کا مطالعہ ہے۔ اِس دور کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور اِس کے بارے میں لوگوں میں اگر کوئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں تو اُن کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ یہ ضرورت دین کے علم اور اور دین کی دعوت ، دونوں پہلوؤں سے ہے۔ اِس سے کسی طور صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔

[باقی]

  1. ۔ اِس کا ایک عمومی تعارف حاصل کرنا ہو تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تجدید و احیاے دین‘‘ کا مطالعہ مفید ہو گا۔ اِس کتاب میں اُنھوں نے ائمۂ اربعہ سے لے کر شاہ اسماعیل شہید تک اُن نمایاں علما و مجددین کا ذکر کیا ہے، جنھوں نے دین کو لوگوں کے لیے ایک زندۂ جاوید مسئلہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اِس مقصد کے لیےدین کی شرح و وضاحت کی، اجتہادی امور میں رہنمائی کا کردار ادا کیا، اپنے علم و فہم کے مطابق غلط عقائد و افکار کی بیخ کنی کی اور اُن کی جگہ فکر ِ اسلامی کی صحیح تعبیر کو جاگزیں کیا ۔ مزید برآں اُنھوں نے سیاسی اور سماجی دائروں میں معروضی حالات کو موضوع بنایا اور کسی مداہنت اور مصالحت کے بغیر پوری جرأت وبہادری کے ساتھ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی جدو جہد جاری رکھی۔
  2. ۔ صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے: ’اُرْسِلْتُ اِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً‘، ’’مجھے تمام خلق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘(رقم1167 )
  3. ۔ قرآن کی اصطلاح میں شہادت کے معنی یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اِس طرح واضح کر دیا جائے کہ اِس کے بعد کسی شخص کے لیے اُس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو۔