]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
جاوید احمد غامدی صاحب کا ترجمۂ قرآن، نظمِ کلام کی روشنی میں قرآن مجید کا ایک مربوط اور مسلسل ترجمہ ہے۔ تفسیری حواشی کے ساتھ یہ ’’البیان‘‘ کے عنوان سے اور مجرد ترجمے کی صورت میں ’’القرآن الکریم‘‘ کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ انگریزی کے قالب میں اسے ڈاکٹر شہزاد سلیم نے ڈھالا ہے۔ یہ ترجمہ علامہ حمید الدین فراہی کے اصولِ تفسیر کے تتبع میں، مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ کے مباحث کے خلاصوں اور غامدی صاحب کے اپنے فہمِ قرآن کا نتیجہ ہے۔
قرآن مجید کے اردو تراجم میں معدودے چند کے سوا، عام طو ر پر زبان و بیان کے جو نامانوس الفاظ اور اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں، وہ قاری کے لیے قرآن فہمی میں مددگار نہیں ہوتے۔ پھر قرآن مجید کی آیات کا باہمی ربط واضح نہ ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ نہیں آتا کہ قرآن میں خطاب کا رخ کیسے اور کیوں بدل گیا، ابھی ایک بات چل رہی تھی بیچ میں دوسری کیوں شروع ہوگئی۔ یہ سب قاری کو مخمصے میں ڈال دیتا ہے۔
غامدی صاحب کا ترجمہ اردو کے معروف محاورے میں ہے۔ ان کے ترجمے سے یہ بات مبرہن ہو کر سامنے آتی ہے کہ قرآن مجید ایک مربوط اور منظم کلام ہے۔ آیات اور آیات کے پیروں کے درمیان ربط ہے۔ ہر سورۃ کا ایک مرکزی مضمون ہے۔ سورتیں جوڑوں کی صورت میں ہیں۔ پھر ان کے گروپ ہیں، جو اپنا ایک مرکزی موضوع رکھتے ہیں، اور یہ سارے گروپ ایک خاص معنوی ربط کے ساتھ ایک وحدت میں پروئے ہوئے ہیں۔ ان امور کا تعارف ’’البیان‘‘ اور ’’القرآن الکریم‘‘ کے مقدمے میں کرا دیا گیا ہے۔
قرآن مجید میں نظمِ کلام کی اہمیت کم و بیش سبھی مانتے ہیں، تاہم اسے کما حقہ باور نہ کرسکنے کی ایک بڑی وجہ روایتی اندازِ تفسیر ہے، جس میں ہر آیت اور سورۃ کو شان نزول کی تفسیری روایات کے تحت دیکھنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح آیات کے ربط پر توجہ نہیں ہو پاتی۔نیز، قرآن مجید اپنی تفہیم کے لیے تفسیری روایات کے ایسے خارجی ذریعے کا محتاج دکھائی دیتا ہے جو کئی لحاظ سے قابل اعتبار بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کو اس کی نزولی ترتیب کے بجاے، ایک نئی ترتیب سے مرتب کرایا تھا۔ اس کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اس اہتمام کی کوئی وجہ نہ تھی۔ شانِ نزول کی روایات ہی سے قرآن کو سمجھنا اگر اصل ہوتا قرآن کو اس کی تاریخی یا نزولی ترتیب کے مطابق ہی مرتب کرایا جاتا ۔
البتہ، قرآن مجید اپنا ایک تاریخی پسِ منظر رکھتا ہے جس سے آگاہی اس کی تفہیم کے لیے لازم ہے۔ ان تاریخی معلومات میں قرآن مجید سے قبل دیِن ابراہیم کی روایت، گذشتہ الہامی کتب کے حوالے، قرآن کے مختلف مخاطبین، ان کے مختلف عقائد و نظریات اور رویے، ان کے مسلمات ِعلم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مختلف مراحل اور اس دوران میں پیش آنے والے واقعات، ان سب کا ذکرو اشارہ قرآن کی آیات خود کرتی ہیں۔ انھی کے تحت شان نزول کی بعض روایات کا درست محل بھی متعین ہو جاتا ہے۔مطالعۂ قرآن سے پہلے اس تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے۔
غامدی صاحب نے متن ِقرآن کو پیروں میں تقسیم کیا ہے۔ اِس سے ہر پیرے کی خاص معنوی وحدت نمایاں ہو تی ہے۔ پھرترجمے ہی میں آیات کا ربط واضح کیا ہے۔ چنانچہ قاری ایک مربوط اور مسلسل کلام پڑھتا ہے۔ اسے معلوم ہونےلگتا ہے کہ ایک آیت کا دوسری آیت سے، آیات کے پیراگرافوں کا ایک دوسرے سے اور ایک سورۃ کا دوسری سورۃ سے اور سورتوں کے ایک گروپ کا دوسرے گروپ سے کیا ربط ہے۔ یوں پورا قرآن ایک وحدت کی شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔
غامدی صاحب نے قرآن مجید کے موضوع کو بھی متعین کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگذشت انذار ہے۔ ان کی دعوتی سرگرمیوں اور اس دوران میں پیش آنے والے واقعات کی داستان ہے، جو ہمارے لیے سامان عبرت ہے۔ اس سے قرآن کا دائرہ طے ہوتا ہے کہ وہ کن امور کو موضوع بناتا ہے اور کون سے امور اس کا موضوع نہیں بن سکتے۔ مثلاً یہ سائنس یا معاشیات سکھانے کی کتاب نہیں، بلکہ انذار آخرت کی کتاب ہے۔ آخرت میں کامیابی تزکیۂ نفس پر منحصر ہے اور تزکیۂ نفس کے لیے خدا نے ایمان و اخلاق اور قانون و شریعت کی تعلیم و ہدایت نازل کی ہے، اسے اختیار کیا جائے۔ یہ اس لیے بھی نہیں ہے کہ جو جو واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئے یا جن جن امور میں آپ کو اپنے حالات کی وجہ سے کوئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑی، وہ بھی لازمی اختیار کرنی چاہیے۔ ویسےحالات اگر پیش آ جائیں تو اس میں بھی آپ کے اسوہ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی، مگر ان حالات کو پیدا کرنے کی کوشش کرنا کوئی دینی فریضہ نہیں۔ دینی فرائض درپیش حالات میں دین کی متعلقہ ہدایات اور اعمال پر عمل کرنا ہے۔
اتمام حجت کا قانون وہ نظریاتی فریم ہے جس کے تحت آیات کا درست تناظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیوں میں سے جو نبی رسالت کے منصب پر فائز ہوتے، وہ اپنی قوم کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتے۔ ان کےاتما م حجت کے بعد ان کی قوم کا فیصلہ دنیا ہی میں کر دیا جاتا تھا۔ ان کےمنکرین ذلت و عذاب کا شکار ہو کر خائب و خاسر ہو جاتے اور مومنین اس عذاب سے نجات پا کر کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ یہ رسولوں کی موجودگی میں خدا کا ایک خصوصی معاملہ تھا۔ اسے عام کلیہ یا قاعدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس تناظر میں قرآن مجید کی بعض ہدایات کی تخصیصی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ مثلاً کفار کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے اور وہ آ بھی جاتا ہے۔ یہ معاملہ عام لوگوں کے لیے نہیں جو دین کا انکار کر دیں۔ ان کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔ یہ عذاب خدا کے قانون عدل کا زمینی ظہور ہے تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت پکڑیں اور آخرت کے بارے میں متنبہ ہوں جہاں ان کی عدالت لگے گی۔
ذریت ابراہیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد کا ایک خصوصی قانون بھی ہے، جس کے مطابق وہ اگر ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورا اتریں گے اور خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت میں کوتاہی نہیں برتیں گے تو آخرت کے اجر سے پہلے اس دنیا میں بھی سرفرازی پائیں گے اور اگر اس میں کوتاہی برتیں گے اور خدا کی نافرمانی کریں گے تواسی دنیا میں ذلت سے دوچار بھی ہوں گے۔ اس کے تحت بنی اسرائیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے حالات قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کی فتح و نصرت اور عروج و زوال کا یہ قانون بھی عام نہیں، مگر عام لوگوں کے لیے اس میں عبرت کا بڑا سامان ہے۔
قران مجید کے کچھ خاص اسالیب ہیں۔ ان میں سے ایک ایجاز یعنی بیان میں اختصار برتنا ہے۔ اس کی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اسلوب عربوں کے ہاں رائج تھا۔ ایسا کلام جس میں سب کچھ کھول کر رکھ دیا جائے کہ قاری کو کوئی ادنیٰ ذہنی مشقت نہ کرنی پڑے، ان کے نزدیک ایک معمولی کلام کی خصوصیت تھی۔ یہ اسلوب ہمارے ہاں شاعری میں بھی برتا جاتا ہے۔ مثلاً
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
دونوں مصرعوں کے درمیان معنوی ربط مبہم نہیں، مگر مذکور نہیں، اس کی دریافت زبان و اسلوب سے واقف ذہین قاری کو لطف دیتی اور متکلم کی ذکاوت اور قادر الکلامی پر دلیل ہوتی ہے۔
دوسرے یہ کہ خدا یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ذی فہم قاری سے مخاطب ہے۔ جو باتیں خود بخود سمجھ آ جانی چاہییں وہ قاری کی ذہانت اور کلام میں اس کی ذہنی شمولیت کی توقع پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔ چنانچہ جب وہ اسے پا لیتا ہے تو گویا اسے اپنی دریافت سمجھتا ہے اور خود کو کلام سے ہم آہنگ محسوس کرتا ہے۔
تیسرے یہ کہ قرآن مجید کے اوّلین مخاطبین کے سامنے وہ سارے حالات اور قرائن موجود تھے جس میں قرآن نازل ہو رہا تھا، اس لیے قبل از خطاب مفہوم باتوں یا معلومات کو مذکور کیے بغیر کلام شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہ اسالیب اوروہ حالات چونکہ بعد کے لوگوں کے علم میں نہیں ہوتے، اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ترجمے میں ان محذوفات کا اظہار کر دیا جائے تاکہ عام قاری پورے پس منظر اور ربط کے ساتھ کلام کو سمجھ سکے۔ عام گفتگو میں بھی یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ مشترکات کی بنا پر understood باتوں کو مذکور کیے بغیر بات کی جاتی ہے۔ باہر کے کسی شخص کے لیے یہ باتیں مکمل طور پر قابل فہم نہیں ہوتیں جب تک کہ اسے گفتگو کے محذوفات سے آگاہ نہ کر دیا جائے۔
تفاسیر میں قرآن مجید کے محذوف روابط کو بعض اوقات تفسیری حواشی میں بیان کیا جاتا ہے۔ ’’تدبر قرآن‘‘ میں اس کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے، لیکن غامدی صاحب نے ترجمے ہی میں ان محذوفات کو کھول دیا ہے۔مثلاً سورۂ نمل کی ان دو آیات اور ان کا ترجمہ دیکھیے:
اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَ لَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ. قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ. (27:37-38)
’’تم اپنے بھیجنے والوں کے پاس واپس جاؤ، اب ہم اُن پر ضرور ایسے لشکر لے کر آئیں گے کہ وہ اُن کے مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے اور ہم اُنھیں وہاں سے اِس طرح ذلیل کرکے نکال دیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ (سلیمان کو اندازہ تھا کہ اب وہ آ ہی جائیں گے۔ چنانچہ) اُس نے کہا: اے اہل دربار، تم میں سے کون اُس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، اِس سے پہلے کہ وہ لوگ مطیع و فرماں بردار ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائیں؟‘‘
پہلی آیت میں سلیمان علیہ السلام ملکہ سبا کے سفیروں کو حملے کی دھمکی دے رہے ہیں اور دوسری میں اس یقین پر کہ وہ آ ہی جائے گی، ملکہ سبا کا تخت منگوانے کا ذکر کر رہے ہیں۔ درمیان کی بات کی تفہیم قاری کی ذہانت پر چھوڑ دی گئی ہے۔
اسی اسلوب کی دوسری مثال کے لیے درج ذیل آیت اور اس کا ترجمہ دیکھیے:
لِّیَسۡـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدۡقِہِمۡ ۚ وَ اَعَدَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا.
(الاحزاب 33: 8)
’’تاکہ اللہ راست بازوں سے اُن کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے اور منکروں اور منافقوں سے اُن کے کفر و نفاق کے بارے میں، اور منکروں کے لیے تو اُس نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
یہاں ’منکروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں سوال کرے‘، محذوف تھا جس کی طرف اشارہ ’اور منکروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے‘، سے ہو رہا تھا۔ اس کو ترجمہ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس طرح قرآن کا مکمل مدعا قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔
غامدی صاحب کے ہاں جو محذوفات کلام کا لازمی یا فطری تقاضا ہوں انھیں قوسین میں بھی نہیں لکھاجاتا۔ البتہ وضاحتی نوعیت کے بیانات اور محذوفات کو قوسین میں لکھا جاتا ہے۔
قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب معطوف علیہ کا حذف ہے۔ایک بات جب از خود واضح ہو رہی ہوتو اسے حذف کر دیا جاتا ہے۔ اس کی نشان دہی حرف عطف اور معطوف کے ذریعے سے کر دی جاتی ہے۔ مثال ملاحظہ کیجیے:
وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ ۙ وَ مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَاتُؤۡتُوۡنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡیَتٰمٰی بِالۡقِسۡطِ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا. (النساء، 4: 127)
’’وہ تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ اُن سے کہہ دو کہ اللہ تمھیں اُن کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جن عورتوں کے حقوق تم ادا نہیں کرنا چاہتے، مگر اُن سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اُن کے یتیموں سے متعلق جو ہدایات اِس کتاب میں تمھیں دی جارہی ہیں، اُن کے بارے میں اور (دوسرے) بے سہارا بچوں کے بارے میں بھی فتویٰ دیتا ہے کہ عورتوں کے حقوق ہر حال میں ادا کرو اور یتیموں کے ساتھ ہر حال میں انصاف پر قائم رہو اور (یاد رکھو کہ اِس کے علاوہ بھی) جو بھلائی تم کرو گے، اُس کا صلہ لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ وہ اللہ کے علم میں رہے گی۔‘‘
اس کی وضاحت میں غامدی صاحب اپنے استاد مولانا امین احسن اصلاحی کا اقتباس نقل کرتے ہیں:
’’یہاں کلام میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں ہے جو ’وَاَنْ تَقُوْمُوْا‘ کا معطوف علیہ بن سکے۔ اِس وجہ سے لازماً یہاں محذوف ماننا پڑے گا اور یہ محذوف سیاق کلام کی روشنی میں معین کیا جائے گا۔ چنانچہ یہاں ’وَاَنْ تَقُوْمُوْا‘ سے پہلے یہ مضمون محذوف ہوگا کہ اِن عورتوں کو اِن کے مہر دو، اِن کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو، پھر اِس کے اوپر ’وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بِالْقِسْطِ‘ کا عطف موزوں ہو گا۔ یعنی اور یتیموں کے لیے عدل کی حفاظت کرنے والے بنو۔ گویا فتوے میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ مہر اور عدل کی شرط جس طرح عام عورتوں کے معاملے میں ہے، اُسی طرح یتیموں کی ماؤں کے بارے میں بھی ہے اور آیت ’وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا‘ میں عورتوں کے ساتھ عدل کا اور آیت ’وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ‘ میں اداے مہر کا جو حکم ہے تو وہ یتیموں کی ماؤں سے متعلق ہی ہے، جن سے تم نکاح تو کرنا چاہتے ہو، لیکن مہر اور عدل کی کھکیڑ میں پڑنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اِس طرح گویا قرآن نے آیات 3-4 کے اجمال کو کھول دیا اور اِس فتوے کے ذریعے سے اُن میں دیے ہوئے احکام کو مزید مؤکد کر دیا۔‘‘(تدبرقرآن2/397)
قرآن کاایک اور خاص اسلوب تقابل کے الفاظ کا حذف ہے۔ یہ عربی کا خاص اسلوب ہے۔اس سے ناواقف قاری کے لیے اس کا اظہار ناگزیر ہے۔ درج ذیل آیت تقابل کے الفاظ کے حذف کی ایک عمدہ مثال ہے۔
وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ. (الانعام 6: 38)
’’(دیکھتے نہیں ہو کہ) زمین پر جتنے جانور اپنے پاؤں سے چلتے ہیں اور فضا میں جتنے پرندے اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں، سب تمھاری ہی طرح امتیں ہیں (اور سمجھانے کی حد تک تو) ہم نے اپنی کتاب میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اِس کے بعد (یہی باقی ہے کہ ایک دن) یہ اپنے پروردگار کے حضور میں اکٹھے کر دیے جائیں گے۔‘‘
غامدی صاحب اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’اِن میں مقابل کے بعض الفاظ عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گئے ہیں۔ مثلاً جملے کے پہلے حصے میں ’فِی الْاَرْضِ‘ (زمین میں) ہے تو دوسرے حصے میں ’فی السمآء‘ (فضا میں) کا لفظ نہیں آیا۔ اِسی طرح دوسرے حصے میں ’یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ‘ (اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں) کے الفاظ ہیں تو پہلے حصے میں ’تدب علی رجلیہا‘ یا ’أرجلہا‘ (اپنے پاؤں پر چلتے ہیں) کے الفاظ محذوف ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔‘‘
فہمِ کلام کی ایک بنیادی ضرورت تعیینِ خطاب ہے۔ یعنی یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ متکلم اور مخاطب کون ہیں۔ خطاب کا رخ کس طرف ہے، قرآن میں یہ ہر دفعہ لفظوں میں بیان نہیں ہوتا۔ قرآن کے مختلف مخاطبین تھے۔ ان میں سچے مومنین، کم زور مومنین، مشرکین، منافقین، یہود اور نصاریٰ اور ان میں بھی ایک سے زائد گروہ شامل تھے۔ مومنین کے مختلف طبقات بشمول منافقین اور کم زور مومنین کو بھی مومنین کے زمرے میں مخاطب کیا گیا ہے۔ ایک مخاطب کی جگہ دوسرا سمجھ لینے سے سارا مفہوم الٹ کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کے اولین مخاطبین آیت کےلہجے کے فرق ہی سے سمجھ لیتے تھے کہ خطاب کا رخ کس طرف ہے۔ لیکن ایک عام قاری کے لیے ، جو اس ماحول سے متعلق نہیں، ان امور کی نشان دہی ضروری ہو جاتی ہے۔ غامدی صاحب ترجمے میں مخاطبین کا تعین کرتے ہیں، جس سے بات کو اس کے درست تناظر میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
متکلم کی تبدیلی کی ایک مثال تضمین کی صورت میں ہوتی ہے، یعنی کسی فرد کا کوئی بیان نقل کرتے ہوئے، اسے مطابق حال بنانے کے لیے ایک دوسرے متکلم کی بات شامل کر دی جاتی ہے۔ غامدی صاحب کے ترجمے میں اس کی رعایت کی گئی ہے کہ جہاں تضمین ہے وہاں واضح کر دیا جائے۔ مثلاً سلیمان علیہ السلام کے ساتھ ہدہد کے مکالمے میں اللہ تعالیٰ کے کلام کی تضمین کی یہ مثال ملاحظہ کیجیے:
فَمَکَثَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ فَقَالَ اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ وَ جِئۡتُکَ مِنۡ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ. اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ. وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ. اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ. اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ.
(النمل 27: 22-26)
’’پھر زیادہ دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور اُس نے عرض کیا: مجھے وہ بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے۔ میں سبا (کے ملک) سے ایک یقینی خبر آپ کے پاس لایا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت اُن پر حکمرانی کر رہی ہے، اُسے ہر طرح کا سازوسامان میسر ہے اور اُس کا بہت بڑا تخت بھی ہے۔ میں نے اُس کو اور اُس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ شیطان نے اُن کے اعمال اُن کے لیے خوش نما بنا دیے ہیں اور اُنھیں صحیح راہ سے روک دیا ہے، سو راستہ نہیں پا رہے ہیں۔ (یقیناً شیطان ہی نے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو زمین اور آسمانوں کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘
ہدہد کی اس تقریر میں آخری دو آیات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’یہاں سے آگے تضمین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہدہد کی بات کے ساتھ اپنی بات کو ملا کر اُسے مطابق حال کر دیا ہے۔ اِس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ استاذ امام کے الفاظ میں، ’مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ‘ کے صیغہ ہاے خطاب ہدہد کی زبان سے بالکل ناموزوں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی فرما سکتا ہے۔‘‘
سورۂ احزاب میں ایک ہی واقعہ کے بارے میں مومنین کے دو مختلف طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ دونوں مقامات پر ایک ہی طرح کے مومنین سمجھ لیے جائیں تو تضادلازم آتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ایک جگہ کم زور مومنین یا منافقین سمجھے جائیں جس کا قرینہ آیت ہی میں موجودہے اور دوسری جگہ سچے اہل ایمان۔ درج ذیل آیت میں ملاحظہ کیجیے کہ بات عام مومنین سے خطاب کے ساتھ شروع ہوئی ہے اور درمیان میں انھی میں پائے جانے والے منافقین اور کم زور ایمان والوں کو بغیر امتیاز پیدا کیے مخاطب کر لیا گیا ہے، کیونکہ بہ طور گروہ وہ انھی کا حصہ تھے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا. اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا. ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا. وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا.
(الاحزاب، 33: 12-9)
’’ایمان والو، (تم اِن کی پروا نہ کرو، تمھارے لیے اللہ کافی ہے، اور) اپنے اوپر خدا کی عنایت کو یاد رکھو، جب تم پرفوجوں کی فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں جو تم کو نظر نہیں آئیں اور (یقین رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس کو برابر دیکھنے والا ہے۔یاد کرو، جب وہ تمھارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی تم پر چڑھ آئے تھے، جب (خوف کے مارے) آنکھیں بہک گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آگئے تھے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔اُس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔اور جب منافقین کہتے تھے اور وہ بھی جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے، وہ نرا فریب ہی تھے۔‘‘
جب کہ اسی واقعے سے متعلق مضبوط ایمان والوں کا طرز عمل درج ذیل آیت میں بیان ہواہے، چنانچہ وہاں ’’سچے اہل ایمان‘‘ کہہ کر واضح کر دیا گیا ہے۔
وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا. (الاحزاب 33: 22)
’’اور سچے اہل ایمان (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ اُنھوں) نے جب لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اُس کے رسول کی بات بالکل سچی تھی۔ اور (اُن کے اندر کوئی کم زوری پیدا کرنے کے بجاے) اِس چیز نے اُن کے ایمان و اطاعت ہی کو اور بڑھا دیا۔‘‘
تعیین خطاب کے باب میں ضمائر کے مراجع کی تعیین بھی غامدی صاحب کے ترجمے کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ موقعِ کلام سے واقف سامع کے لیے انتشار ضمائر حسنِ کلام کا باعث ہوتی ہیں، لیکن ناواقف کے لیے اس میں التباس کا خدشہ ہوتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس کے حل کی ایک عمدہ مثال درج ذیل آیت میں دیکھیے:
حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ. (يوسف 12 : 110)
’’(یہ عذاب کے لیے جس طرح جلدی مچا رہے ہیں، اِن کے اگلے بھی اِسی طرح مچاتے رہے)، یہاں تک کہ جب اُن کے رسول اُن سے مایوس ہو گئے اور وہ لوگ بھی خیال کرنے لگے کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا (کہ اُن پر کوئی عذاب آنے والا ہے) تو ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر اُن کو بچا لیا گیا جنھیں ہم چاہتے تھے (کہ بچا لیں) اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔‘‘
ترجمے میں خیال رکھا گیا ہے کہ عربی کے افعال کا ترجمہ فعل کے معنی کے مختلف مدارج کے لحاظ سے کیا جائے۔ یعنی کہیں فعل سے ارادۂ فعل مراد ہوتا ہے، کبھی اسی فعل کو اس کے کامل معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے۔ مثلا ’’ایمان لانا‘‘ کے افعال کے مختلف مطالب ترجمے یا حواشی میں واضح کیے جاتے ہیں کہ اس سے مراد ’’ایمان لانے والے‘‘ یا ’’جو ایمان لانا چاہتے ہیں‘‘، یا ’’جو ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں‘‘ وغیرہ ہوتا ہے ۔ اس سے قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس گروہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ مثلاً درج ذیل آیت میں ’یؤمنون‘ کا ترجمہ دیکھیے:
اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِیَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ.
(النمل 27: 86)
’’(یہ نشانیاں مانگتے ہیں)؟ کیا اِنھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات کو تاریک بنایا کہ اُس میں آرام کریں اور دن کو روشن کر دیا کہ اُس میں کام کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو ماننا چاہیں۔‘‘
اسی طرح ’کفروا‘ کا ترجمہ کہیں’’انکار کیا‘ ‘ اور کہیں ’’نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا ہے‘‘، یا اپنے ’’انکار پر قائم رہے‘‘ کیا گیا۔
’’البیان‘‘ اور ’’القرآن الکریم‘‘ میں ہر سورۃ کا زمانۂ نزول اس کے مضامین سے طے کر کے سورۃ کے آغاز میں بطور تعارف بیان کیا گیا ہے۔ جس سے معلو م ہو جاتا ہے کہ یہ سورۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن کے کس مرحلے میں نازل ہوئی۔ یہ مراحل، ابتدائی دعوت انذار، انذارِ عام، اتمام حجت، ہجرت و براءت اورجزاوسزا کی صورت میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس سے قاری کے لیے سورۃ کے مضامین کو ان کے درست تناظر میں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ نیز، اس بحث کی ضرورت نہیں رہتی ہے کہ سورہ مکی ہے یا مدنی۔ یہاں نہ صرف مکی اور اور مدنی کا تعین ہو جاتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ یہ مکی اور مدنی دور میں کس مرحلے میں نازل ہوئی ۔
قرآن سے درست استفادے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ خیال ہے کہ اس کے الفاظ اور جملوں کے ایک سے زائد معانی ہوتے ہیں۔ کسی ایک معنی کی حتمی تعیین نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسا ہے تو قرآن مجید کے اس دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ وہ دینی اختلافات میں ایک فیصلہ کن اتھارٹی، میزان اور فرقان بنا کر بھیجا گیا ہے۔ فکر فراہی کے اساتذہ نے قرار دیا ہے کہ تعدُّد معنی کے احتمال کی خصوصیت شعر و ادب میں تو حسن کلام قرار پا سکتی ہے، لیکن ابلاغِ معنی اور فیصلہ کن اتھارٹی کے طورپر متعارف کروائے گئے کلام کے لیے یہ نقص ہے۔ غامدی صاحب نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ لغت میں ہر لفظ کے متعدد معنی ہوتے ہیں، لیکن ایک مصنف جب کسی لفظ کو جملے میں استعمال کرتا اور اسے ایک خاص سیاق و سباق میں پیش کرتا ہے تو کوئی ایک ہی معنی اس کے پیش نظر ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا نظم اس کے الفاظ کے قطعی طور پر ایک ہی معنی متعین کرتا ہے۔ اسی تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
قرآن مجید عربی مبین میں، معروف الفاظ و محاورے میں نازل ہوا ہے۔ قاری کے قلت تدبر، قلت علم یا پہلے سے بنے ہوئے تصورات اور تعصبات کی بنا پر کلام مدعا تک نہ پہنچ سکنا، قاری کا قصورِ فہم ہے، کلام کا نقص نہیں۔ قرآن مجید قطعی الدلالت ہے اور اپنا مفہوم واضح کرنے کا تمام سامان رکھتا ہے۔ اس کی زبان صدیاں گزرنے کے بعد بھی زندہ ہے۔ اس کے الفاظ کے معانی کبھی گم نہیں ہوئے۔ قرآن اپنی بات کو دہرا دہرا کر مختلف اسالیب میں پیش کرتا ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔ اس کےفہم میں اختلاف کا فیصلہ بھی اسی کے الفاظ کی دلالت اور نظم کلام کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔
سورۂ آل عمران میں ایک مقام پر قرآن مجید نے اپنی آیات کو محکم اور متشابہ میں تقسیم کیا ہے۔ متشابہ کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وہ آیات ہیں جو ذو معنی یا محتمل الوجوہ ہیں۔ درحقیقت، متشابہ سے مراد الفاظ کے وہ مصداقات ہیں جن کی حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی، معنی ان کا بھی قطعی ہوتا ہے جیسے جنت اور جہنم۔ ان کا معنی معلوم ہے، مگر ان کی حقیقت ان کے مشاہدے کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ سورۂ آل عمران میں اس موقع پر ’تاویل‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ انٹر پریٹیشن کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کے یہ معنی ایک علمی اصطلاح کے طور پر بعد میں رائج ہوئے۔ اس کا اصل معنی ’’حقیقت‘‘ ہے۔ اسی معنی میں یہ سورۂ یوسف میں استعمال ہوا ہے۔ جب یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر پوری ہوئی اور ان کے والدین اور ان کے بھائی ان کے سامنے جھک گئے تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے خواب کی تاویل، یعنی حقیقت ہے۔
وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا. (يوسف 12: 100)
’’(اپنے گھر پہنچ کر) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب بے اختیار اُس کے لیے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان، یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اُس کو حقیقت بنا دیا۔‘‘
غامدی صاحب کا ترجمۂ قرآن، یہ بات بالکل واضح کر کے دکھا دیتا ہے کہ قرآن ایک مربوط، غیر محتمل اور قطعی الدلالت کلام ہے۔ قرآن مجید کے ترجمے میں الفاظ کے معروف معانی، جملوں کے معروف اسالیب، الفاظ کے مواقعِ استعمال، عربی محاورے کی باریکیوں کی رعایت، ربط کلام، مخاطبین کی تعیین، محذوفات کے اظہار جیسی خصوصیات نے قرآن فہمی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی