خواہشِ دُنیا کو منزل کا نشاں، سمجھا نہیں
اِس زمیں کو میں کبھی بھی آسماں، سمجھا نہیں
جانشینِ مسندِ پیغمبری ہے وہ مگر
اپنے رُتبے کو امیرِ کارواں، سمجھا نہیں
ہے اطاعت اک تقاضا، بس محبت اصل ہے
پر یہ باریکی مزاجِ طالباں، سمجھا نہیں
معترض ہے ساقیِ فطرت کی جو تقسیم پر
مُمتحِن کا وہ طریقِ امتحاں، سمجھا نہیں
تُو حقیقت کو گماں کہہ کر زیاں پر ہے مصر
تجھ کو میں اے صاحبِ وہم و گماں، سمجھا نہیں