مواد پر جائیں

فرعون کی لاش اورقرآن مجید کا بیان تفسیری آرا کا ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

(سوال وجواب کے اسلوب میں)

(1)

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

سوال: کیا فرعون کی لاش کے بارے میں قرآن مجید نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ اُس کی لاش کو اللہ تعالیٰ قیامت تک باقی رکھ کر لوگوں کے لیے نشانِ عبرت بنا ئیں گے؟

جواب: جی نہیں، یہ بات قرآنِ مجید میں کہیں بیان نہیں ہوئی ہے۔

سوال:کیا یہ بات قرآن میں مذکور ہے کہ اِس کی لاش کو اللہ تعالیٰ بعد کی نسلوں یا زمانوں کے لیے محفوظ رکھیں گے تا کہ لوگ اِس کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہیں؟

جواب: نہیں، اِس بات کی صراحت بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بالکل نہیں فرمائی۔

سوال: اگر ایسا ہے تو پھر فرعون کی لاش کے بارے میں قرآن کی نسبت سے بالعموم ہمارے ہاں مسلمانوں میں یہ تصور اتنی شہرت کیسے پا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج تک فرعون کی لاش کو محفوظ رکھا ہوا ہے؟

جواب: تحقیق وتدبر سے اِس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی کہ قرآن کے بہت سے اردو مترجمین و مفسرین کو اِس حوالے سے غلطی لگی ہے، چنانچہ اُنھوں نے سورۂ یونس (10) کی آیت نمبر 92 میں، جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کے بارے میں کلام فرمایا ہے؛ آیت کے مفہوم کو اردو زبان میں درست طور پرمنتقل نہیں کیا۔ پھر غالبًا بعد میں آنے والے مترجمین نے اپنے متقدمین ہی کے ترجمے پر اعتماد کرتے ہوئے الفاظ کے معمولی تفاوت کے ساتھ وہی مفہوم بیان کیا، جو اکثر علما ومفسرین اور محققین کے نزدیک درست نہیں ہے۔ چنانچہ اِس مشہور واقعہ کے بارے میں اِس طرح یہ تصور ہمارے ہاں شائع وذائع ہوا اور اِس کی تفسیر بھی متاخرین کے اردو تراجم و تفاسیر میں اِسی ترجمے کی رعایت سے کردی گئی۔

سوال: آپ کی تحقیق کے مطابق بر صغیر پاک وہند کے اصحاب علم میں وہ پہلا مفسر ومترجم کون ہے، جس سے زیرِ بحث آیت کے ترجمہ وتفسیر میں یہ تساہل ہوا ہے؟

جواب: میرے اب تک کے استقصا کے مطابق اِس آیت کے ترجمہ وتفسیر میں سب سے پہلے یہ علمی غلطی مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کو لگی ہے۔اِس سے پہلے عربی یا اردو زبان کی کسی تفسیر میں مجھے آیت کا وہ مفہوم ومدعا نہیں ملا جو مولانا آزاد نے اپنی تفسیر ’ترجمان القرآن‘ میں بیان فرمایا ہے1 اور پھر اُن کے بعد عصر حاضر کے اور بالخصوص دبستانِ شبلی کے کئی علما نے اپنی تفاسیر میں گویا مولانا آزاد ہی کے ترجمہ وتفسیر کو اپنے اپنے اسلوب میں بیان کیا ہے۔

سوال:مولانا آزاد کے بعد یہ اردو کے کون سے مشہور قرآنی تراجم وتفاسیر ہیں، جن میں آپ کے خیال میں اِس آیت کے ترجمہ وتفسیر میں اہلِ علم سے تساہل ہوا ہے؟

جواب:مولانا ابو الکلام آزاد کے علاوہ اِس حوالے سے سید ابو الاعلیٰ مودودی، امام امین احسن اصلاحی، مولانا وحید الدین خاں،مفتی تقی عثمانی صاحب اور استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کے تراجم وتفاسیر مثال کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں، جن کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

1۔مولانا آزاد نے ترجمہ کیا ہے: ’فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘،’’پس آج ہم ایسا کریں گے کہ تیرے جسم کو (سمندر کی موجوں سے) بچالیں گے، تا کہ تُو اُن لوگوں کے لیے جو تیرے بعد آنے والے ہیں، (قدرتِ حق کی) ایک نشانی ہو‘‘۔2

2۔مولانا مودودی لکھتے ہیں:’’اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تُو بعد کی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنے۔‘‘3

3۔امام اصلاحی کا ترجمہ ہے: ’’پس آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔‘‘4

4۔ مولانا وحید الدین خاں لکھتے ہیں:’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تُو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔‘‘5

5۔مفتی تقی عثمانی صاحب نے اِس طرح ترجمہ کیا ہے: ’’لہٰذا آج ہم تیرے (صرف) جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔‘‘6

6۔استاذ جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں: ’’سو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تو (خدا کے عذاب کی) نشانی بن کر رہے۔‘‘7

اِن تراجم میں یہ بات قابلِ توجہ وتدبر ہے کہ قرآن کی تعبیر’لِمَنْ خَلْفَكَ‘ کا مفہوم ’’بعد کی نسلوں کے لیے‘‘، ’’اپنے بعد والوں کے لیے‘‘، ’’اپنے بعد آنے والوں کے لیے‘‘ اور ’’اپنے بعد کے لوگوں کے لیے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس میں غلطی یہ ہوئی ہے کہ ’خَلفَ‘ کے لفظ کو ’بَعدَ‘ کے مفہوم میں سمجھ کر ترجمہ کر لیا گیا ہے، جب کہ یہاں قرآنی لفظ ’خَلفَ‘ظرفِ مکان ہے، نہ کہ ظرفِ زمان۔ جیسے لفظ ’سامنے‘ کے مقابلے میں ہم ’پیچھے‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، یہ بالکل اِسی مفہوم میں ہے۔

سوال: کیا یہ لفظ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی ظرفِ مکان ہی کے مفہوم میں وارد ہوا ہے؟ قرآن کی کسی دوسری مثال سے بھی وضاحت کردیجیے۔

جواب: جی، قرآنِ مجید میں یہ لفظ ہر جگہ مکانی ظرفیت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ انفال (8) کی آیت 57 میں دیکھ لیجیے، جہاں یہ اِسی طرح ضمیرِ خطاب کی طرف مضاف ہو کر آیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:’فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ‘۔ اِس آیت میں ’خَلْفَهُمْ‘ کی تعبیر اور اِس کا مفہوم درجِ ذیل تین تراجم کی روشنی میں بہ غور دیکھ لیجیے:

1۔ امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کا ترجمہ اِس طرح کرتے ہیں: ’’پس اگر تم انھیں جنگ میں پا جاؤ تو انھیں ایسی مار مارو کہ جو اِن کے پیچھے ہیں ان کو بھی تتر بتر کر دو تاکہ ان کے ہوش ٹھکانے ہوں۔‘‘

پھر امام اصلاحی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں: ’’مطلب یہ ہے کہ ابھی تو یہ جو کچھ کر رہے ہیں پردے میں کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی سامنے آنے کی جرأت نہیں کر رہا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی گروہ سامنے آنے کی جرأت کرے اور جنگ کے میدان میں تمھیں مل جائے تو انھیں ایسی مار ماریو کہ ان کے بھی پرخچے اڑ جائیں اور جو ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے پر تول رہے ہیں ان کے پر و بال بھی جھڑ جائیں۔‘‘8

2۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اِس آیت کے ترجمے میں لکھتے ہیں: ’’لہٰذا اگر کبھی یہ لوگ جنگ میں تمھارے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو سامان عبرت بنا کر اِن لوگوں کو بھی تتر بتر کر ڈالو جو اِن کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ یاد رکھیں۔‘‘

مفتی صاحب کا تفسیری نوٹ یہ ہے: ’’مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی جنگ میں کھل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آجائیں تو انھیں ایسا سبق سکھایا جائے کہ نہ صرف ان کو بد عہدی کے انجام کا پتا لگ جائے بلکہ جو کفارِ مکہ اِن کو پیچھے سے اکساتے رہتے ہیں ان کو بھی ایسی عبرت ہو کہ ان کے منصوبے تتر بتر ہو کر رہ جائیں۔‘‘9

3۔استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کا ترجمہ ہے: ’’سو اِنھیں لڑائی میں پاؤ تو اِن کو ایسی مار مارو کہ جو اِن کے پیچھے ہیں، اُن کو بھی تتر بتر کر دو تاکہ وہ سبق حاصل کریں۔‘‘

اور توضیحی نوٹ میں استاذ غامدی لکھتے ہیں:’ ’یعنی لڑائی کے لیے ابھی سامنے نہیں آئے، مگر پیچھے بیٹھے ہوئے پر تول رہے ہیں۔‘‘10

مندرجہ بالا آیت کی مثال میں دیکھ لیجیے کہ ’خَلْفَهُمْ‘کی تعبیر کا مذکورہ بالا تینوں اہل علم نے ترجمہ و تفسیر ظرفِ مکان ہی کی رعایت سے ’’پیچھے موجود لوگوں‘‘ کے مفہوم میں کیا ہے۔ یہاں اگر ترجمہ بدل کر ظرفِ زمان کے طور پر اِس طرح کردیا جائے کہ ’’سو اِنھیں لڑائی میں پاؤ تو اِن کو ایسی مار مارو کہ اِن کے بعد آنے والے لوگوں یا نسلوں کو بھی تتر بتر کر دو‘‘ تو اِس ترجمے کی غلطی بالبداہت واضح ہوجاتی ہے۔

غرض یہ کہ قرآن کی اِس مثال سے بھی واضح ہے کہ ’خَلفَ‘ کے لفظ کو ’بَعدَ‘ کے زمانی معنی میں کسی طرح نہیں لیا جاسکتا۔ بلکہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے جہاں کہیں بھی ’خَلْفَهُمْ‘، ’خَلْفَكُمْ‘، ’مِنْ خَلْفِهِمْ‘ یا ’مِنْ خَلْفِهِ ‘ وغیرہ کی تعبیر اختیار کی ہے، وہاں ہم اگر لفظ ’خَلفَ‘ کی جگہ ’بَعدَ‘ رکھ دیں تو آیت کا معنی بالکل باطل ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ اعراف (7) کی آیت 17 میں قرآن نے ابلیس کا یہ قول نقل کیا ہے: ’ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ‘،’’پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ضرور اِن پر تاخت کروں گا اور تو اِن میں سے اکثرکو اپنا شکرگزار نہ پائے گا‘‘۔

سوال:متاخرین اہلِ علم سے زیرِ بحث آیت کے ترجمے میں یہ تساہل کیوں ہوا ہے، آپ کی راے میں اِس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

جواب: میری طالب علمانہ راے میں اِس کی درجِ ذیل دو وجوہات ہوسکتی ہیں:

ایک یہ کہ ماضی کی بعض تفاسیر میں اِس آیت کے الفاظ ’خَلْفَكَ ‘ کی وضاحت میں ’بَعْدَكَ‘ کی تعبیر سے متاثر ہو کر بہت سے متاخرین اہلِ تفسیر نے اِس کا ترجمہ اِسم ظرفِ زمان کے لحاظ سے کردیا ہے، مثال کے طور پر ’’تفسیرِ جلالین‘‘ میں علامہ سیوطی نے اِس مرکب، یعنی ’خَلْفَكَ ‘ کا مفہوم، ’بَعْدَكَ‘ کی تعبیر سے واضح کیا ہے،11چنانچہ اردو کے بہت سے مترجمین نے عربی کی اِس تعبیر کو معنی کے لحاظ سے ’خَلْفَكَ‘ کا مترادف سمجھ کر ’بعد کے زمانوں اور نسلوں‘ کے معنی مراد لے لیے ہیں؛ جب کہ دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو بعض قدیم مفسرین کی ’مَنْ بَعْدَكَ‘ کی توضیح سے بھی فرعون کی موت کے بعد اُسی زمانے میں وہاں موجود لوگ مراد تھے، جو اِس کی لاش کا مشاہدہ کرنے والے تھے، نہ کہ بعد کی نسلوں اور زمانوں کے لوگ۔اِن مفسرین کی مراد یہی تھی، اِس مقدمے کی دلیل وہ تفصیل ہے، جو اِن اہل تفسیر نے اِس آیت کے تحت خود بیان کی ہے۔12 اور بعد کی نسلوں اور زمانوں میں فرعون کی لاش کے وجود وبقا اور اِس کے مشاہدے کو متقدمین اہلِ تفسیر نے بالکل بیان نہیں کیا۔

دوسری بڑی وجہ یہ ہوئی ہے کہ عصرِ حاضر میں مولانا ابو الکلام آزاد ہی کے زمانے میں مصر میں کچھ قدیم لاشیں دریافت ہوئیں اور پھر عین اُسی زمانے پہلی مرتبہ دنیا میں اِس خبر کی شہرت بھی ہوئی ہے کہ فرعونِ موسیٰ کی لاش آج بھی قاہرہ کے ایک عجائب خانے میں محفوظ وموجود ہے، دراں حالیکہ یہ مقدمہ علمِ آثار کی رو سے بالکل ثابت نہیں ہے13۔چنانچہ مولانا آزاد کی پیروی میں متاخرین کے ہاں اِس آیت کا ترجمہ وتفسیر کرتے ہوئے بالخصوص اِس خبر کے بارے میں قلتِ علم و تحقیق کی وجہ سے غالبًا یہ خارجی شہرت بھی اثر انداز ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے خود قرآنِ مجید کی اصل الفاظ وتعبیر پر تنبہ نہیں رہا۔

غرض یہ کہ ایک طرف قلتِ تدبر کی وجہ سے لفظ کے معنیٰ کی تعیین میں غلطی ہوئی اور دوسری طرف تحقیق کے بجاے عصر حاضر میں اِس خبر کی شہرت کا اثر لیا گیا کہ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں مصر ہی میں فرعونِ موسیٰ کی لاش دریافت ہو گئی تھی۔ چنانچہ اِسی بنا پر قرآن کی بات کا اصل مدعا سمجھنے میں لغزش ہوئی ہے۔

سوال: زیرِ بحث آیت کے درست اردو ترجمہ وتوضیح کی مثالیں آپ کے نزدیک ہمیں کن اہلِ علم کے ہاں مل سکتی ہیں؟

جواب: میرے اب تک کے استقصا کے مطابق اردو تراجم میں قرآن کے اولین مترجم مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی اور مولانا شاہ عبد القادر محدث دہلوی نے اور پھر اِن کے بعدمولانا اشرف علی تھانوی،14 مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع عثمانی نے قرآن کی عربیت کے لحاظ سے زیرِ بحث آیت کا اپنے تراجم وتفاسیر میں بالکل درست ترجمہ کیا ہے۔ لفظ کے مفہوم کی تعیین میں اِن اصحابِ علم کو کوئی غلطی نہیں لگی۔ شاہ عبد القادر صاحب اور مفتی شفیع عثمانی صاحب نے آیت کے حاشیہ وتفسیر میں بھی اِس کی جو توضیح بیان کی ہے، اُس میں بھی اِنھوں نے ایسا کوئی مفہوم بیان نہیں کیا، جس سے یہ متبادر ہوتا ہو کہ فرعون کی لاش کو بعد کے زمانوں تک باقی رکھنے کا قرآن نے کوئی دعویٰ کیا ہے۔

1۔شاہ رفیع الدین صاحب نے آیت کا لفظی ترجمہ اِس طرح کیا ہے:’فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘،’’پس آج نجات دیں گے ہم تجھ کوساتھ بدن تیرے کے تا کہ ہو تو واسطے اُن لوگوں کے کہ پیچھے تیرے ہیں نشانی‘‘۔15

2۔شاہ عبد القادرصاحب نے آیت کا با محاورہ ترجمہ اِس طرح کیا ہے: ’فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً‘،’ ’سو آج بچاویں گے ہم تجھ کو تیرے بدن سے،تو ہووے تُو اپنے پچھلوں کو نشانی‘‘۔

اِس کی توضیح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں: ’’جیسا کہ بے وقت ایمان لایا، بے فائدہ،ویسے ہی اللہ نے مر گئے پیچھے اِس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا کہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔اِس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ‘‘۔16

3۔مولانا اشرف علی تھانوی کا ترجمہ ہے:’’ آج ہم تیری لاش کو (پانی میں تہ نشین ہونے سے) نجات دیں گے تا کہ اُن کے لیے موجب عبرت ہو جو تیرے بعد موجود ہیں‘‘۔17

4۔مولانا شبیر احمد عثمانی نے اِس آیت کا ترجمہ اِن الفاظ میں کیا ہے: ’’سو آج بچائے دیتے ہیں ہم تیرے بدن کو، تا کہ ہووے تو اپنے پچھلوں کے واسطے نشانی‘‘۔ 18

5۔مفتی محمد شفیع عثمانی نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں اِس آیت کا ہو بہو یہی ترجمہ کیا ہے جو شبیر احمد عثمانی صاحب نے بیان کیا ہے۔ پھر ’’خلاصۂ تفسیر‘‘ میں مفتی صاحب لکھتے ہیں: ’’سو (بجاے نجاتِ مطلوبہ کے) آج ہم تیری لاش کو ( پانی میں تہ نشین ہونے سے) نجات دیں گے تاکہ تو اُن کے لیے موجبِ عبرت ہو جو تیرے بعد (موجود) ہیں (کہ تیری بد حالی اور تباہی دیکھ کر مخالفتِ احکامِ الہٰیہ سے بچیں) ‘‘۔19

اِن پانچوں تراجم میں دیکھ لیجیے کہ ترجمہ اسمِ ظرفِ مکان ہی کی رعایت سے کیا گیا ہے۔’ ’بعد کی نسلوں کے لیے‘‘، ’’اپنے بعد والوں کے لیے‘‘، ’’اپنے بعد آنے والوں کے لیے‘‘ جیسے کوئی الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں۔

سوال: زیرِ بحث آیت کی شرح ووضاحت میں کیا کوئی حدیثِ نبوی وارد ہوئی ہے؟

جواب: جی نہیں، اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود کوئی بات ارشاد فرمائی ہے اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کسی سوال کے جواب میں اِس آیت کے بارے میں آپ کا کوئی ارشاد کہیں نقل ہوا ہے۔ حدیث وآثار کے تمام مصادر اِس سے بالکل ساکت ہیں۔

سوال: اِس آیت کے بارے میں کسی صحابی کا کوئی اثر روایتوں میں نقل ہوا ہے؟

جواب: ابن جریر طبری اور حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیروں میں طبقۂ صحابہ میں سے صرف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور تابعین کے بعض علما کی نسبت سے زیرِ بحث آیت کے بارے میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ فرعون کے سمندر میں غرق ہو کر ہلاک ہونے کی خبر پر بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے ـــــ جو سیدنا موسیٰ کے ساتھ سمندر پار کرچکے تھے ـــــ شک کا اظہار کیا تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر سمندر نے فرعون کی لاش کو نگلنے کے بجاے باہر لا کر زمین پر ایک ذرا اونچی جگہ پر ڈال دیا تا کہ سیدنا موسیٰ کی قوم اِسے اِس طرح اپنی آنکھوں سے مردہ حالت میں دیکھ کر اِس کی ہلاکت کا یقین حاصل کرلیں۔ 20 سیدنا ابن عباس کے سوا اِس باب میں کسی دوسرے صحابی سے کوئی اثر منقول نہیں ہے۔

سوال: کیا امہاتِ تفاسیر میں کسی مفسر نے زیرِ بحث آیت سے یہ مفہوم اخذ کیا ہے کہ قرآن نے یہاں فرعون کی لاش کو بعد کے زمانوں کے لیے محفوظ رکھنے کی بات فرمائی ہے تا کہ آیندہ آنے والے زمانوں میں انسان اِس لاش کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہیں؟

جواب: جی نہیں۔ آیت کا یہ مدعا طبری، زمخشری اور رازی نے بھی اپنی تفاسیر میں بیان نہیں کیا۔ اِسی طرح قرطبی، بیضاوی، ابن کثیر، سیوطی اور شوکانی کی تفاسیر میں بھی اِس آیت کی یہ توضیح کسی مفسر نے بیان نہیں کی ہے۔ یہ معنی ومفہوم اگر وہ قرآن کی اِس آیت سے سمجھ لیتے اور بیان کرتے تو اِس کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ یہ سب اپنے اپنے زمانوں میں اِس لاش کا مصداق بھی زیر بحث لاتے اور کسی نہ کسی علاقے میں اِس کی موجودگی کا پتا بھی دیتے، جب کہ یہ حقیقت ہے کہ فرعون کا یہ واقعہ قرآن سے بھی دو ہزار سال قدیم ہے اور خود نزولِ قرآن کے کم و بیش 13 سو سال بعد تک بھی فرعون کی لاش کا دنیا میں کہیں کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔

سوال:اوپر جو واقعہ سیدنا ابن عباس اور دوسرے علماے سلف کی نسبت سے نقل ہوا ہے کہ فرعون کی لاش کی صورت میں نشانی در اصل بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو فرعون کی موت کی یقین دہانی کے لیے دکھائی گئی تھی، اِس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: جی، یہ واقعہ سلف وخلف کے اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے۔ مفتی شفیع عثمانی صاحب نے بھی ’’معارف القرآن‘‘ میں اِسے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اِس کا واقعہ یہ ہے کہ دریا سے عبور کرنے کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہلاک ہونے کی خبر دی تو وہ لوگ فرعون سے کچھ اِس قدر مرعوب ومغلوب تھے کہ اِس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ فرعون ہلاک نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی رہنمائی اور دوسروں کی عبرت کے لیے دریا کی ایک موج کے ذریعے سے فرعون کی مردہ لاش کو ساحل پر ڈال دیا، جس کو سب نے دیکھا اور اُس کے ہلاک ہونے کا یقین آیا اور اِس کی یہ لاش سب کے لیے نمونۂ عبرت بن گئی۔ پھر معلوم نہیں کہ اِس لاش کا کیا انجام ہوا۔ جس جگہ فرعون کی لاش پائی گئی تھی، آج تک وہ جگہ ’جبل ِفرعون‘ کے نام سے معروف ہے‘‘۔ 21

راقم الحروف کے نزدیک تفاسیر میں منقول اِس واقعے پر دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو درایت کے اعتبار سےدرجِ ذیل چار اشکالات وارد ہوتے ہیں:

1۔ایک یہ کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا یہ واقعہ اگر واقعی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا تابعین کے بعض اہل علم نے بیان کیا ہے تو اپنے زمانے سے کم وبیش دو ہزار سال قبل کے اِس واقعے کا ماخذ اِن حضرات کے پاس کیا تھا، جب کہ اِس واقعے سے متعلق تورات بھی بالکل خاموش ہے اور خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد خود صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی موجود نہیں ہے؟

2۔دوسرے یہ کہ سیاقِ آیت اور موقع ِ کلام کی روشنی میں اِس تفسیر سے جو مدعا بنتا ہے، وہ اِس طرح ہے کہ عہدِ موسیٰ میں اللہ تعالیٰ نے فرعون سے مخاطب ہو کر عین اُس کی موت کے وقت اُس کی توبہ کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اب تو اپنے انجام سے بالکل نہیں بچ سکتا، البتہ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو، جو عنقریب تیری موت کی خبر پر شک کریں گے، تیری موت کی نشانی اُنھیں آنکھوں سے دکھانے کی غرض سے ہم تیرے مردہ جسم کو سمندر سے بچا کر زمین پر بنی اسرائیل کے سامنے ڈال دیں گے۔

اِس توضیح کی روشنی میں دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو آیت کا مقدمہ یہ بنتا ہے کہ جس موقع پر اللہ تعالیٰ فرعون کو عین اُس کی موت سے قبل اُس کی توبہ کو رد فرما کر اُس کی ہلاکت اور برے انجام کی وعید براہِ راست سنا رہے ہیں، عین اُس وقت بنی اسرائیل کے لوگوں کا اُس کی موت کے بارے میں شک، جو ابھی معرض وجود میں بھی نہیں آیا تھا، اُس کو رفع کرنے کا اپنا بندوبست بھی اللہ تعالیٰ خود فرعون سے بیان فرما رہے ہیں۔یعنی مدعا اگر یہی ہے تو سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ بات خود فرعون کو مخاطب کر کے اُس کی موت سے قبل کیوں کہی جائے گی؟ فرعون کی ہلاکت کو نہ تسلیم کرنے کا اظہار اگر بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے کیا تھا تو ظاہر ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد یہ انھوں نے سیدنا موسیٰ کے سامنے کیا ہوگا۔ چنانچہ عقلی اقتضا تو یہی ہے کہ ایسے شک کو دور کرنے کا بندوبست اللہ تعالیٰ خود سیدنا موسیٰ کو بتائیں گے، نہ کہ فرعون کو اُس کی ہلاکت سے پہلے۔ چنانچہ یہ بات کسی طرح معقول نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرعون سے اِس کی موت سے پہلے فرما یا کہ اب بنی اسرائیل کو چونکہ تیری موت کا یقین نہیں آئے گا، لہٰذا میں تجھے بتا رہا ہوں کہ تیری لاش کو اُن کی یقین دہانی کے لیے سمندر سے نکال کر میں اُن کے سامنے ڈال دوں گا۔

3۔تیسرے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ فرعون سے مخاطب ہوکر فرما رہے ہیں: ’’میں چاہتا ہوں کہ تیری لاش تیرے پیچھے جو لوگ موجود ہیں، اُن کے لیے نشانی بنے‘‘ تو یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُس موقع پر فرعون کے پیچھے موجود یہ لوگ کون ہیں؟ اِس کا جواب یہی ہے کہ فرعون کے پیچھے جو لوگ ہیں، وہ اِس کی اپنی قبطی قوم اور اِسے اپنا معبود ماننے والے اِس کے متبعین ہیں، جو اِس معرکے کے بعد پیچھے مصر میں اِس کے منتظر بیٹھے تھے۔ لہٰذا ’لِمَنْ خَلْفَكَ‘ کا مصداق تو درحقیقت یہی بن سکتے ہیں۔ جہاں تک بنی اسرائیل کا تعلق ہے، جو اصحابِ موسیٰ تھے اور فرعون کے تعاقب کے موقع پر وہ اِس سے آگے چل رہے تھے، نہ کہ پیچھے۔ قرآن کے بیان کے مطابق فرعون خود اِن کے پیچھے تھا اور وہ آگے نکل کر سمندر پا رکر چکے تھے۔چنانچہ اِس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو بنی اسرائیل یہاں فرعون سے خطاب میں ’مَنْ خَلْفَك‘ کا مصداق نہیں بن سکتے، اِس لیے کہ نہ وہ اِس کی اپنی قوم کا حصہ تھے اور نہ اِس موقع پرمحلِ وقوع کے لحاظ سے اِس کے پیچھے تھے۔ لہٰذا صاف واضح ہے کہ فرعون کے پیچھے تو صرف اِس کی اپنی قوم تھی، جو واقعتاً اپنے اِس معبود کی واپسی کی منتظر بھی تھی اورفرعون کی ہلاکت اور اِس پر خدا کے عذاب کو اِن کے لیے نشانی بنانا ہی بالکل معقول و موزوں بات بنتی ہے۔

4۔چوتھے یہ کہ اوپر مذکورمفتی شفیع صاحب کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش ایک متعین جگہ پر پائی گئی تھی، جو آج تک ’جبل ِفرعون‘ کے نام سے معروف ہے اور اِس کی لاش کو بہ یک وقت بنی اسرئیل نے بھی دیکھا تا کہ وہ فرعون کی موت کا یقین حاصل کر لیں اور ساتھ ہی فرعون کی اپنی قوم نے بھی یہ لاش دیکھی تا کہ وہ اپنے معبودِ باطل کے اِس رسوا کن انجام سے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ فرعون کی موت کے وقت قرآن کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل سمندر کے دوسرے پار پہنچ چکے تھے، جب کہ فرعون کی قبطی قوم پیچھے اپنے ہی علاقے میں موجود تھی، لہٰذا جبلِ فرعون کے مقام پر لاش کی موجودگی کو تسلیم کر کے یہ بات کیسے تصور کی جاسکتی ہے کہ دونوں قوموں کے لوگوں نے اِسی مقام پر بہ یک وقت یہ لاش دیکھی تھی؟ خشکی پر یہ جگہ دونوں میں سے کسی ایک ہی مقام پر متصور کی جاسکتی ہے، اور وہ معلوم ہے کہ بحرِ احمر کا مغربی ساحل ہی ہے۔ لہٰذا قومِ فرعون کے ساتھ ضمنًا یہ بھی متصور کرنا کہ اِسی مقام پر پڑی ہوئی یہ لاش قومِ موسیٰ نے بھی سمندر کے دوسرے پار سے دیکھ لی تھی، عقلاً محال ہے۔ اِس لیے کہ اِس کالازمی تقاضا ہے کہ دونوں قوموں کو مغربی ساحل پر جبلِ فرعون کے پاس موجود مانا جائے، جو قرآن کے بیان کے مطابق ممکن نہیں ہے۔

مندرجہ بالا داخلی نقد سے یہ متحقق ہوتا ہے کہ اِس آیت کے تحت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب واقعے کو خود قرآنِ مجید کا متن بھی قبول نہیں کرتا اور اِس پر متعدد عقلی اعتراضات بھی وارد ہوتے ہیں۔

[باقی]

  1. ۔ ترجمان القرآن، ابو الکلام آزاد، سورۂ یونس آیت 92، 2/168-169۔
  2. ۔ ترجمان القرآن، ابو الکلام آزاد، سورۂ یونس آیت 92، 2/168-169۔
  3. ۔ تفہیم القرآن، سید ابو الاعلیٰ مودودی، سورۂ یونس آیت 92، 2/310۔
  4. ۔ تدبر قرآن، مولانا امین احسن اصلاحی، سورۂ یونس آیت92، 4/73۔
  5. ۔ تذکیر القرآن،مولانا وحید الدین خاں، سورۂ یونس آیت92، ص554۔
  6. ۔ آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمدتقی عثمانی، سورۂ یونس آیت 92، 2/657۔
  7. ۔ البیان، جاوید احمد غامدی، سورۂ یونس آیت 92، 2/456۔
  8. ۔ تدبر قرآن، مولانا امین احسن اصلاحی، سورۂ انفال آیت 57، 3/495، 499۔
  9. ۔ آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمدتقی عثمانی، سورۂ انفال آیت 57، 1/543۔
  10. ۔ البیان، جاوید احمد غامدی، سورۂ انفال آیت 57، 2/305-306۔
  11. ۔ تفسیر الجلالین، سیوطی208۔
  12. ۔جامع البيان فی تاويل القرآن، ابو جعفر الطبری 15/194۔
  13. ۔ آگے اِس کی تحقیق بالتفصیل بیان ہوگی۔
  14. ۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے اِن تینوں اصحابِ علم کا زمانہ وہ تھا، جب مصری عجائب گھر میں دریافت ہونے والی لاشوں کا واقعہ ابھی دنیا میں رونما نہیں ہوا تھا۔
  15. ۔ فائق البیان فی معانی کلمات القرآن، شاہ رفیع الدین، سورۂ یونس، آیت 92، ص 521۔
  16. ۔ موضح القرآن، شاہ عبد القادر محدث دہلوی، سورۂ یونس، آیت 92، ص 283۔
  17. ۔ تفسیر بیان القرآن، مولانا اشرف علی تھانوی،سورۂ یونس، آیت 92، 2/ 198۔
  18. ۔ تفسیر عثمانی، مولانا شبیر احمد عثمانی،سورۂ یونس، آیت 92،2/ 106۔
  19. ۔ تفسیر معارف القرآن، مفتی محمد شفیع عثمانی، سورۂ یونس، آیت 92، 4/ 565- 567۔
  20. ۔ تفسیر ابن جریر طبری، سورۂ یونس، آیت 92، 15/196۔تفسیر ابن کثیر، سورۂ یونس، آیت 92، 4/294۔
  21. ۔ تفسیر معارف القرآن، مفتی محمد شفیع عثمانی، سورۂ یونس، آیت 92، 4/567۔