مواد پر جائیں

فطرت کی ہدایت اور انبیا کی ہدایت کا باہمی تعلق جناب جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو سے ماخوذ

سید منظور الحسن اردو

انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ہمارے ہاں عام طور پر اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ لوگ ابتدا میں راہِ راست پر تھے۔ پھر بہ تدریج اُن میں خرابی بڑھ گئی۔ وہ دین سے بیگانہ ہو گئے۔ توحید کے بجاے شرک کو اختیار کر لیا، اخلاقی حدود کی خلاف ورزی شروع کر دی، دوسروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ شروع کیا۔ جب اُن میں بگاڑ بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کا ہاتھ پکڑا اور اُن کی رہنمائی فرمائی۔ یہ ہمارے ہاں نبیوں اور کتابوں کے نزول کے مقصد کا عمومی بیان ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا آغاز اِسی بات سے کیا ہے:

الحمد للّٰه الذي فطر الأنام على ملة الإسلام والاهتداء، وجبلهم على الملّة الحنيفية السمحة السهلة البيضاء ثم إنهم غشيهم الجهل، ووقعوا أسفل السافلين، وأدركهم الشقاء. فرحمهم ولطف بهم وبعث إليهم الأنبياء، ليخرجهم بهم من الظلمات إلى النور، ومن المضيق إلى الفضاء.

(1/21)

’’تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں، جس نے مکلف مخلوق جن و انس کو مذہبِ اسلام اور راہ یابی پر پیدا کیا اور سیدھی، نرم، آسان اور روشن ملت پر اُن کی تخلیق فرمائی۔ پھر اُن پر نادانی چھا گئی اور وہ انتہائی پستی میں جا پڑے اور بدبختی نے اُن کو دبوچ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُن پر مہربانی فرمائی اور اُن کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ فرمایا اور اُن کی طرف حضرات انبیا کو مبعوث فرمایا تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور تنگی سے کشادگی کی طرف نکالے۔ ‘‘

میں اِس معاملے کو ذرا مختلف زاویے سے دیکھتا ہوں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنیادی ہدایت اُس کی فطرت میں ودیعت فرمائی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ وہ اگر فطرت کے الہامات کی روشنی میں کوئی انحراف اختیار کیے بغیر اپنی راہ تلاش کرنا چاہے تو بالاجمال اُس راہ کو تلاش کر سکتاہے۔ اِس کی بنیاد پر اُس کا مواخذہ ہوگا، اُس سے پوچھا جائے گا۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے، جن میں پیغمبر مبعوث نہیں ہوئے یا اُن تک پیغمبروں کی دعوت نہیں پہنچی۔ قرآنِ مجید بیان کرتا ہے کہ قیامت میں بعض لوگ یہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ اُن کو یا اُن کے آبا کو تو کوئی انذار کرنے والا، بتانے والا نہیں ملا، یعنی اُن تک یہ دعوت نہیں پہنچی۔ چنانچہ میں اِس بات کو بہ طورِ اصول مانتا ہوں کہ فطرت میں جو احکام دیے گئے ہیں، اُن کے لیے بھی انسان جواب دہ ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں ہے کہ پیغمبر آئیں گے تو پھر جواب دہ ہوگا، بلکہ وہ اُس الہام کے لیے بھی جواب دہ ہو گا، جواللہ نے اُس کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ آسٹریلیا میں بہت سے لوگ قدیم زمانوں سے آباد ہیں اور جدید دنیا سے غیر متعلق ہیں۔ یورپ سے جب مسیحی وہاں گئے تو اُنھوں نے اُنھیں وہاں دیکھا۔ اِسی طرح امریکہ میں بھی صدیوں سے ایسے لوگ آباد ہیں، جو مہذب دنیا سے الگ رہے ہیں۔ اِن کے علاوہ اور بھی بہت سے علاقے ہیں۔ اِن کےہاں پیغمبروں کی روایت نظر نہیں آتی۔ بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُنھیں فطرت کی ہدایت پر چھوڑ دیا گیاہے۔ آخرت میں اِن کا مواخذہ الہام فطرت کی بنیاد پر ہو گا۔ یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ اُنھوں نے فطرت کی رہنمائی میں کیسی زندگی بسر کی ہے۔ اُنھوں نے اگر فطرت کی رہنمائی کی پیروی کی ہے تو جزا کے مستحق ہوں گے او ر اگر اُس سے انحراف کیا ہےتو مواخذے میں آئیں گے۔ البتہ، چونکہ وہ نبوت کی رہنمائی سے فیض یاب نہیں ہوئے، اِس لیے اُن سے رعایت کی جائے گی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کسی انسان کو بچپن میں لے جاتا ہے، کسی کو جوانی میں لے جاتا ہے، کسی کو بڑی عمر دیتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو جتنا موقع دیا گیا ہے، وہ اُس کے لحاظ سے مسئول ہے۔

فطرت کے اِس الہام کی نوعیت اصولی اور اجمالی ہے۔یعنی اِس میں قانون و شریعت کی طرح تفصیلات نہیں ہیں۔ اِس فطری ہدایت سے انسان چونکہ انحراف کرتا ہے، اِس لیے اُسے خبردار کرنے کے لیے اللہ نے پیغمبر بھیجے ہیں۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِس فطرت کے الہام کے ساتھ پیغمبری سے نوازا اور ابتدائی انسانوں کو جو رہنمائی درکار تھی، وہ اُنھیں عطا فرما دی۔ بنی آدم اِسی روایت کو لے کر دنیا میں پھیلے۔ پھر اُن میں جب اختلافات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام اور کتابوں کو نازل فرمایا۔ اُن کا مقصد لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنا تھا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ.

(البقرہ 2: 213)

’’لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر(اُن میں اختلاف پیدا ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے اور اُن کے ساتھ قول فیصل کی صورت میں اپنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان وہ اُن کے اختلافات کا فیصلہ کر دے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ یہ دین کوئی خارج کی چیز نہیں ہے، جو اوپر سے تم پر لادی جا رہی ہے۔ یہ عین تمھاری فطرت کا ظہور ہے۔ اِس سے اختلاف کرو گے تو گویا اپنے ساتھ اختلاف کرو گے اور اپنے باطن میں چھپے ہوئے خزانے سے اپنے آپ کو محروم کر لو گے۔جب یہ فرمایا ہے کہ ’کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً‘ تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک ہی دین پر تھے، ایک ہی ہدایت پر تھے۔ اِس ہدایت کو لے کر وہ دنیا میں آئے تھے۔ اِس سے اُنھوں نے ابتدا کی تھی۔ چنانچہ نبوت کی رہنمائی کوئی خارج کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ اُسی اصولی ہدایت پر مبنی ہے، جو اللہ نے انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائی ہے۔ گویا فطرت کی ہدایت بیج کی طرح ہے اور نبیوں کی ہدایت کی نوعیت اُس بیج سے پھوٹنے والے برگ و بار کی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ . (الروم 30: 30)

’’تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، (اے پیغمبر)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے۔‘‘

نبوت کی یہ رہنمائی تفصیلی ہے۔اِس میں ایک پورا نظام فکر ہے۔ زیادہ تر انسانیت اِس سے متمتع ہوئی ہے۔ نبوت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں نبی بھیجے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت کو خاص کیا ہے اور دنیا کے وسطی علاقے میں اپنی توحید کے مراکز بنائے ہیں اور بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل کی قوموں کے ذریعے سے دنیا کی قوموں تک پیغام پہنچایا ہے۔ پیغمبروں کی وساطت سے ملنے والی یہ رہنمائی پیغمبروں کی کتابوں کی صورت میں، اُن کے قائم کردہ سنن کی صورت میں اور اُن کے آثار کی صورت میں معلوم و معروف ہے۔

الہام فطرت اور الہام نبوت کی ان دونوں صورتوں کے ساتھ اللہ نے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔ یہ عقل انسانی فطرت کے ساتھ روزِ اول سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ پھر جب یہ نبوت کی ہدایت کو پا لیتی ہے تو اُس میں کارفرما اصولوں کوبھی دریافت کر لیتی ہے۔ یہ اصول ایک نظام فکر کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ یہ جب ایک بار دریافت ہو جاتے ہیں تو پھر ہر زمانے اور ہر طرح کے حالات کے لیے کارآمد ہو جاتے ہیں۔ یعنی زمانے کے بدلنے اور حالات کی تبدیلی سےجو نئی صورتیں سامنے آتی ہیں، اُن پر اللہ کی ہدایت کے اطلاق کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اِسی کو ہم اجتہاد سے تعبیر کرتے ہیں۔