اللہ تعالیٰ نے اخلاقیات کے دائرے کی پانچ چیزوں ـــــ فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ـــــکو حرام قرار دیا ہے۔سورۂ اعراف میں ارشاد فرمایا ہے:
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (7: 33)
’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کر کے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘
اِن پانچ محرمات میں سے پہلی چیز فواحش ہے۔ ’فواحش‘ ’فاحشۃ‘ کی جمع ہے، جس کے معنی کھلی بے حیائی کے ہیں۔ اِن سے مراد زنا، اغلام، وطی بہائم اور اِن جیسےجنسی بے راہ روی کے کام ہیں۔ جنسی معاملات کا افشا اورجنسی اعضا کی نمایش بھی اِن میں شامل ہے۔ یہ سب وہ کام ہیں، جنھیں انسانی فطرت برائی سمجھتی ہے اور انسانوں کا اجتماعی ضمیر جن کی شناعت پر متفق ہے۔اِن کا ارتکاب در پردہ کیا جائے یا کھلم کھلا، ہر حال میں ممنوع ہے۔ چنانچہ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’ …بدکاری علانیہ کی جائے یا چھپ کر، ہر حال میں حرام ہے۔ اِس کے لیےجمع کا لفظ (فواحش) اِس لیے استعمال فرمایا ہے کہ یہ زنا، لواطت، وطی بہائم اور اِس نوعیت کے تمام جرائم کو شامل ہو جائے۔ جنسی اعضا دوسروں کے سامنے کھولے جائیں، جنسی معاملات کا افشا کیا جائے یا بدکاری کا ارتکاب ہو، لفظ ’فَوَاحِش‘ اِن سب کا احاطہ کرتا ہے۔‘‘ (البیان 2/ 149)
فواحش کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ اِن کی بے پناہ کشش ترغیب و تحریص کا باعث بنتی ہے۔ انسان اگر ایک بار اِن کی طرف راغب ہو جائے تو پھر جلد ہی اِن کا اسیر بن جاتا ہے۔ یہ بہ تدریج اُس کی عادات میں شامل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد اِن سے چھٹکارا محال ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِن کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ. (الانعام 6: 151)
’’اورفواحش کے قریب نہ جاؤ، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔‘‘
استاذ ِگرامی کے نزدیک: ’’اِس سے مقصود یہ ہے کہ ایسی تمام باتوں سے دور رہو، جو بدکاری کی محرک، اُس کی ترغیب دینے والی اور اُس کے قریب لے جانے والی ہوں۔‘‘1 امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’…’لَا تَقْرَبُوْا‘ کا لفظ اُن برائیوں سے روکنے کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے، جن کا پرچھاواں بھی انسان کے لیے مہلک ہے، جو خود ہی نہیں، بلکہ جن کے دواعی و محرکات بھی نہایت خطرناک ہیں، جو بہت دور سے انسانوں پر اپنی کمند پھینکتی ہیں اور پھر اِس طرح اُس کو گرفتار کر لیتی ہیں کہ اُن سے چھوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے میں آدمی کو کامیابی صرف اُسی صورت میں حاصل ہوتی ہے، جب وہ اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنے دل کی پوری پوری حفاظت کرے اور ہر اُس رخنہ کو پوری ہوشیاری سے بند رکھے، جس سے کوئی ترغیب اُس کے اندر راہ پا سکتی ہو اور ہر ایسے مقام سے پرے پرے رہے، جہاں کوئی لغزش ہو سکتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن3/ 201)
’فَوَاحِش‘ کے لفظ ہی سے واضح ہے کہ یہ کسی متعین عمل کا نام نہیں ہے۔ یہ اصولی تعبیر ہے، جو ہر اُس کام کے لیے اختیار کی جا سکتی ہے، جس میں عریانی، فحاشی اور بے حیائی پائی جاتی ہو۔قرآنِ مجید میں یہ لفظ بے حیائی کی مختلف صورتوں کے لیے آیا ہے۔ اِن میں سے ہر صورت ایک الگ جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ فواحش کسی خاص جرم کا نام نہیں، بلکہ بے حیائی کے تمام جرائم کا سرعنوان ہے۔ قرآن و حدیث میں مذکور اِس کی بعض صورتیں درجِ ذیل ہیں:
زنا،
اغلام،
عریانی،
فحش گوئی،
زنا کی ترغیب،
زنا کا چرچا،
بعض رشتوں میں نکاح،
زنا کار اور پاک دامن مرد و عورت میں نکاح۔
- ۔ البیان 2/ 116۔