[جناب محمد حسن الیاس صاحب (ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن، غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ) کے بحرین کے دورے 2022ء میں دیے گئے لیکچر سے اخذ واستفادہ پر مبنی ]
کسی بھی فکر میں گم راہی کو پرکھنے کے لیے پانچ اسباب ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی دینی افکار و تعبیرات موجود ہیں، اگر کسی فکر میں ان میں سے کوئی ایک پہلو بہ طور اصول پایا جائے تو وہ گم راہی کی فکر ہے۔ اسلام کی علمی روایت میں وجودپذیر ہونے والے دینی رجحانات پر نقد کا تسلسل انھی پانچ اسباب کی بنیاد پر رکھا جائے گا۔ یہ وہ معیارات یا فلٹرز ہیں جن کی بنیاد قرآن مجید یا علم و عقل کے مسلمات میں پائی جاتی ہے۔ ان کو اپنی واقعیت میں چیلنچ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ فکری گم راہی کے درج ذیل پانچ اسبا ب ہیں:
1۔زبان نطق ہے، اُسے منطق بنایا جائے
2۔ متشابہات کے درپے ہونا
3۔ اصل کو فرع اور فرع کو اصل بنا لینا
4۔ اصول و ماخذمیں بدعت پیدا کرنا
5۔علم و عقل اور تاریخی مسلمات کا انکار
1۔ زبان نطق ہے، اُسے منطق بنایا جائے
اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ایک خاص زبان میں ہے اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔ زبان محض متفرق الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے، جو ہم بولتے، سنتے اور سمجھتے ہیں۔ یہ کسی فرد، گروہ یا عہد کی ایجاد نہیں، بلکہ صدیوں کے تعامل، ثقافتی ارتقا اور تواتر کے ذریعے سے وجود میں آتی ہے۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ہمارے اردگرد موجود اشیا کے لیے متعین الفاظ ایک مشترک مفہوم رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے سامنے رکھی ہوئی میز کو سب ’’میز‘‘ ہی کہیں گے۔ ہم اس حقیقت کو آج نئے سرے سے ایجاد نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ زبان کے تاریخی تسلسل کا نتیجہ ہے۔
اسی اصول کا اطلاق قرآن مجید پر بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام ایک زندہ اور متعین زبان، یعنی عربی میں نازل کیا، جو ایک معلوم تاریخی تسلسل سے ہم تک منتقل ہوئی اور اپنے مسلمہ نحوی اصول رکھتی ہے۔لفظ،جملے کا حصہ بن کر اپنے سیاق و سباق سے ایک مفہوم متعین کرتا ہے۔ چنانچہ کلام سے اخذ معانی کا سفر انھی آفاقی قواعد اور متواتر معنی کی روشنی میں ہونا ہے۔ چنانچہ قرآن کو سمجھنے کے لیے لازم ہے کہ اسے اسی زبان کے قواعد و اصول کی روشنی میں پڑھا جائے، نہ کہ کسی مجرد منطقی قیاس یا فلسفیانہ نظریے یا پھر الفاظ کی خود ساختہ اصل معنی کی تجرید کے عقلی اطلاقات کی بنیاد پر۔
فکری گم راہی کی پہلی سیڑھی یہی ہے کہ انسان اللہ کی کتاب کو زبان کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی خارجی منطق یا عقلی موشگافی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب اللہ کا کلام ایک معلوم اور زندہ زبان میں ہے تو اسے سمجھنے کا درست طریقہ بھی وہی ہوگا، جو اس زبان کے ماہرین، تاریخی تعامل اور اہل علم نے متعین کیا ہے۔ زبان کو نظر انداز کر کے محض منطق کی بنیاد پر قرآن کی تعبیر کرنے کا مطلب، درحقیقت اس کے اصل مفہوم کو مسخ کرنا اور اپنی ذاتی راے کو وحی پر مسلط کرنا ہے، جو فکری انحراف اور گم راہی کا سبب بنتا ہے۔
لہٰذا، قرآن مجید کو سمجھنے کا پہلا اصول یہی ہے کہ اسے اُس زبان کے قواعد، اس کے عرف اور اس کے اسالیب کی روشنی میں پڑھا جائے، جس میں وہ نازل ہوا، نہ کہ کسی مجرد عقلی استدلال کی روشنی میں، جو خود بدلتے نظریات اور شخصی آرا کا محتاج ہے۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ. (الاعراف7:33)
’’میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘
یہاں ’اِنَّمَا ‘ کا لفظ حصر (restriction) پیدا کرتا ہے، یعنی اللہ نے صرف ان چند چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ’اِنَّمَا ‘ کا مفہوم حصر پیدا نہیں کرتا تو سوال یہ ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر یہ کہہ رہا ہے؟ اُس کی بات کی دلیل خود زبان کے نظائر کی روشنی میں کیا ہے؟ زبان کے قواعد گھر بیٹھ کر بہ زعم خویش اختراع نہیں کیے جا سکتے۔ زبان کا ایک تاریخی تسلسل ہوتا ہے اور اس کے الفاظ متعین معانی رکھتے ہیں،جو تواتر سے نکلے ہوتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف قرآن کی تفہیم تک محدود نہیں، بلکہ ہر علمی متن کی تعبیر اسی اصول پر کی جاتی ہے۔ اگر ہمارے سامنے ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare)کی کوئی کتاب رکھی جائے تو سب سے پہلے یہی پوچھا جائے گا کہ یہ کس زبان میں ہے؟ اس زبان میں کسی لفظ کا کیا مفہوم ہوتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی لفظ کا مطلب گھڑ لے تو وہ علمی بددیانتی ہوگی۔
چنانچہ ہمارے ہاں جو بڑی گم راہیاں پیدا ہوئیں، اس کا پہلا سبب یہ تھا کہ ہم نے زبان کا دامن چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں فکری آرا کے وہ شاہکار خزائن دریافت ہوئے جن کی دریافت سے امت کی علمی تاریخ ہمیشہ محروم رہی ۔مثلاً آخری پارے کی سورتیں پڑھ کرپہاڑ اڑنے والی قیامت کی نشانی1 کے بارے میں کہا کہ اس سے مراد تو صنعتی انقلاب(industrial revolution) ہے اور جنوں سے مراد تو صحرا کی مخلوق ہے۔ یہ تمام نظریات کو زبان تسلیم نہیں کرتی ہے۔ قرآن مجید نے ارشاد فرمایا کہ:
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ. (الشعراء26:193-195)
’’اِس کو روح الامین لے کر اترا ہے۔ تمھارے دل پر، اِس لیے کہ دوسرے پیغمبروں کی طرح تم بھی خبردار کرنے والے بنو۔ نہایت صاف عربی زبان میں۔‘‘
قرآن مجید نے خود کو ’بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ‘ کہا ہے، یعنی یہ ایک واضح اور بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مطالب کسی ابہام یا الجھاؤ کا شکار نہیں ہو سکتے۔ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو کائنات کے سب سے بڑے اور اہم ترین سوالات کے جوابات، دین کے بنیادی اصول اور آخری حجت فراہم کرے اور وہ اس قدر غیر واضح ہو کہ کوئی بھی اس کے معانی کو اپنی مرضی کے مطابق بدل سکے۔ یہ بات خود عقل کے خلاف ہے کہ اللہ ایک نبی کو زمین پر بھیجے، فیصلہ کن استدلال پیش کرے اور پھر وہ استدلال اس قدر مبہم ہو کہ ہر شخص اسے اپنے من پسند معنی پہنا سکے۔ کسی بھی زبان میں جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس کے ایک متعین مفہوم ہوتے ہیں اور بولنے والا یہ ہرگز برداشت نہیں کرتا کہ اس کی گفتگو کو من مانی تشریحات میں تقسیم کر دیا جائے۔
یہ اصول صرف قرآن تک محدود نہیں، بلکہ ہر علمی اور قانونی متن پر لاگو ہوتا ہے۔ عدالت میں جج کبھی بھی اپنا فیصلہ شاعری یا مبہم الفاظ میں نہیں لکھتا کہ ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق اس سے نتیجہ اخذ کر لے۔ عدالت میں فیصلے دو ٹوک اور واضح ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں کسی کی جان اور حقوق کا فیصلہ ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کی کتاب، جو قیامت تک کے لیے انسانیت کے لیے فیصلہ کن حجت ہے، کسی مبہم یا لچک دار مفہوم کی حامل ہو؟
لہٰذا، قرآن کی ایک متعین تاویل ہے، جو اس کی اصل زبان اور سیاق و سباق کے مطابق ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی عالم دین کے نام پر کوئی بات کہتا ہے تو اس سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ اگر آپ قرآن کی کوئی حقیقت بیان کر رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ قرآن میں کہاں بیان ہوئی ہے اور اُس کی زبان کیسے ان تشریحات کو قبول کرتی ہے؟
قرآن کو سمجھنے کے لیے کسی بیرونی منطق، قیاس آرائی یا شخصی آرا کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے اس کی اپنی زبان اور اس کے اپنے اصولوں کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔
2۔ متشابہات کے درپے ہونا
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دین ہمیں دیا ہے، وہ دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہے: محکمات اور متشابہات۔ محکمات وہ آیات ہیں جو بالکل واضح، دو ٹوک اور غیر مبہم ہیں۔ یہ دین کے بنیادی عقائد، شریعت کے احکام اور اخلاقی اصولوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان کے معانی، مفہوم و مدعا میں کسی قسم کی پیچیدگی یا ابہام نہیں ہوتا اور یہی آیات دین کی اصل بنیاد ہیں۔ دوسری طرف متشابہات وہ آیات ہیں جن کے معنی متعین ہیں، لیکن وہ ایسی حقیقتوں پر مشتمل ہیں جنھیں ہماری عقل اور حواس مکمل طور پر گرفت میں نہیں لے سکتے اور جن کا حقیقی ادراک صرف آخرت میں ممکن ہوگا۔ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ انسان کے علم کا دائرہ متعین اور محدود ہے۔ انسان اپنی فطرت کے ظاہری اور باطنی حاصلات اور عقلی استنباط کے نتائج سے ہی علم حاصل کرتا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے ۔
چنانچہ ہم انسان حقائق سے اپنا تعلق پہلے سے موجود تصورات کی مثالوں کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا ذہن اسی ذخیرۂ الفاظ اور تجربات کی مدد سے حقیقت کا ادراک کرتا ہے، جو ہمارے حواس نے ہمیں فراہم کیا ہے، لیکن کائنات میں بعض حقائق ایسے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے اُس طرح نہیں رکھ سکتے، جس طرح وہ حقیقت میں ہیں، بلکہ صرف ہمیں ہمارے علم کی رعایت سے سمجھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنت اور جہنم کی اصل حقیقت، خدا کا وجود اور اس کی صفات اور عرش و آسمان کی کیفیات وہ چیزیں ہیں، جنھیں ہم اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ ہم خود ان کا مشاہدہ نہ کر لیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا فہم دینے کے لیے تشبیہ اور مثالوں کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔لہٰذا جنت کی حقیقت کو سمجھانے کے لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بہتی نہریں ہوں گی، خوشبو دار باغات ہوں گے، وہاں کی نعمتیں ایسی ہوں گی جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جہنم کے عذاب کو سمجھانے کے لیے آگ، زنجیروں اور ابلتے پانی کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا:’لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ‘(اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو کسی اور چیز کے ساتھ مکمل طور پر تشبیہ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ وہ انسانی تجربے سے ماورا ہیں۔
چونکہ متشابہات کی حقیقت کا مکمل علم ہمارے پاس نہیں ہو سکتا، اس لیے قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ جو لوگ دین میں گم راہی اختیار کرتے ہیں، وہ انھی متشابہات میں الجھتے ہیں اور ان کی من مانی تشریحات، مصداقات اور حقائق متعین کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ’دلوں میں ٹیڑھ رکھنے والے‘ کہا ہے، کیونکہ وہ متشابہات کو بنیاد بنا کر دین میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس،’ راسخون فی العلم‘ (پختہ علم رکھنے والے) وہ لوگ ہوتے ہیں، جو محکمات کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور دین کو ان واضح اصولوں کی بنیاد پر سمجھتے ہیں، نہ کہ مبہم تشبیہوں اور ظاہری مثالوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
لہٰذا، قرآن کی تفہیم میں سب سے اہم چیز یہی ہے کہ متشابہات کو ان کی حد میں رکھا جائے اور محکمات کو دین کی بنیاد سمجھا جائے۔ جو لوگ دین کے نام پر محض غیر واضح باتوں میں الجھتے ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق قرآن کی تاویل کرتے ہیں، وہ دراصل فکری گم راہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں بار بار تلقین کرتا ہے کہ ہم دین کو اس کی اصل بنیاد، یعنی محکمات کی روشنی میں سمجھیں اور متشابہات کے معاملے میں غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗ٘ اِلَّا اللّٰهُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ.
(آل عمران3: 7)
’’وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے جس میں آیتیں محکم بھی ہیں جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِس کے برخلاف جنھیں اِس علم میں رسوخ ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اِنھیں مانتے ہیں، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی چیزوں کو وہی سمجھتے ہیں جنھیں اللہ نے عقل عطا فرمائی ہے ۔‘‘
جب کوئی مذہبی فکر یا عالم متشابہات کے دائرے میں داخل ہو کر گفتگو کرے تو فوراً یہ سوال پیدا ہونا چاہیے کہ آیا یہ علمی طور پر درست ہے یا محض قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ متشابہات وہ حقائق ہیں، جن کی حقیقت کا مکمل ادراک انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے واضح طور پر بتایا ہے کہ جو لوگ ان کی حقیقت کے پیچھے پڑتے ہیں، ان کے دلوں میں ٹیڑھ اور کجی ہوتی ہے۔ ان کا رویہ علمی جستجو پر مبنی نہیں، بلکہ فکری گم راہی کا نتیجہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا فہم انسانی حواس اور علم کے دائرے سے باہر ہے۔
صوفیانہ روایت میں پیدا ہونے والی اصل خرابی بھی اسی رجحان کا نتیجہ ہے۔ خدا کی ذات، جس کا ادراک انسانی علم اور حواس سے ممکن نہیں، اس کی حقیقت میں غوطہ زن ہو کر تخیل کے گھوڑے دوڑانا اور اس کے بارے میں مختلف تصورات قائم کرنا بنیادی فکری گم راہی ہے۔ یہ رجحان ہمیں مختلف صوفیانہ نظریات میں نظر آتا ہے، جہاں لوگ خدا کے ’’حقیقی مواجہے‘‘ اور ’’قرب کے متبادل راستے‘‘ تلاش کرنے لگتے ہیں، اس کی ذات کے بارے میں کائناتی تجسیم کے تصورات پیش کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے خدا کو عرش پر جا کر دیکھا یا اس سے ملاقات کی۔ یہ تمام خیالات اسی بنیادی فکری غلطی سے پیدا ہوئے ہیں کہ انسان نے اپنے دائرۂ علم میں رہنے کے بجاے اس میدان میں قدم رکھ دیا جہاں جانے کا کوئی ذریعۂ علم ہمارے پاس موجود نہیں۔
قرآن مجید نے واضح کر دیا ہے کہ محکمات ہی دین کی اصل بنیاد ہیں، کیونکہ وہ غیر مبہم اور قطعی دلائل پر مشتمل ہیں۔ ہم نہیں جان سکتے کہ خدا کہاں ہے اور اس کی کیفیت کیا ہے، اس لیے کسی صوفی، شیخ یا بزرگ کے روحانی تجربات کو خدا کی حقیقت کا ذریعہ ماننا نہ صرف غیر علمی ہے، بلکہ دینی لحاظ سے بھی محلِ نظر ہے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو انسانی تجربے کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، کیونکہ وہ ہر چیز سے بلند اور ماورا ہے۔اسی طرح جنت اور جہنم کے بارے میں بھی قرآن نے ہمیں جو کچھ بتایا ہے، وہ محض تشبیہات اور مثالوں پر مبنی ہے تاکہ ہم ان کا ایک عمومی تصور حاصل کر سکیں۔ جب قرآن کہتا ہے کہ ’’جو تم چاہو گے، وہ تمھیں جنت میں ملے گا‘‘ تو اس کا حقیقی مفہوم اور کیفیت انسانی فہم سے باہر ہے۔ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ جنت کی اصل حقیقت کیا ہے اور وہ اس وقت کس حالت میں موجود ہے، کیونکہ اس کا مشاہدہ ہم نے خود نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقائق کو مثالوں کے ذریعے سے بیان کیا ہے تاکہ انسانی ذہن کو ایک عمومی آگاہی دی جا سکے، لیکن ان کی حتمی حقیقت کا ادراک نہ کیا جائے۔
لہٰذا، متشابہات کی غیر ضروری تاویل اور ان کی حقیقت کی کھوج میں پڑنا فکری گم راہی کا سبب بنتا ہے۔ قرآن نے اس روش کو ان لوگوں کا طرزِ فکر قرار دیا ہے جن کے دلوں میں انحراف پایا جاتا ہے۔ دین کو سمجھنے کے لیے محکمات پر توجہ مرکوز رکھنا ہی علمی دیانت کا تقاضا ہے، جب کہ متشابہات کے پیچھے پڑ کر ان کی غیر ضروری تشریح اور قیاس آرائی میں مبتلا ہونا محض غیر مستند اور قیاسی علمی روایت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
[باقی]
- ۔ القارعہ101: 5۔’وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ‘(اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے)۔