مواد پر جائیں

فکری گم راہی کے اسباب (2)

گفتگو: محمد حسن الیاس / ترتیب و تدوین: شاہد رضا اردو

[جناب محمد حسن الیاس صاحب (ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن، غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ) کے بحرین کے دورے 2022ء میں دیے گئے لیکچر سے اخذ واستفادہ پر مبنی ]

3۔ اصل کو فرع اور فرع کو اصل بنا لینا

فکری گم راہی کا ایک بڑا سبب اصل کو فرع اور فرع کو اصل کی جگہ پر رکھنا ہے۔ اللہ کے دین اور شریعت میں کچھ چیزیں اصل اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، جب کہ کچھ چیزیں ان کی تفہیم و تشریح کے ذرائع کے طور پر معاون ہیں۔ دنیا میں عمومی عقلی اور قانونی اصول یہی ہے کہ ہمیشہ فروعات کو اصل کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، نہ کہ اصل کو فروعات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، جب کوئی وکیل عدالت میں کوئی دلیل پیش کرتا ہے تو اس دلیل کو آئین کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے، نہ کہ آئین کو کسی مخصوص دلیل کی روشنی میں بدلا جاتا ہے۔ اطلاقات کو ہمیشہ اصل قانون کے تابع رکھا جاتا ہے، کیونکہ اصل، معیار اور میزان ہوتی ہے، جب کہ اطلاقات اس کی تفہیم اور اطلاق کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔

یہی اصول دین میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہمارے دین میں اصل قرآن مجید ہے، جب کہ حدیث اس اصل دین کی شرح و وضاحت یا تفہیم و تبیین کے طور پر آتی ہے، یعنی حدیث میں اصل دین کی ہدایت کے عقلی اور لسانی مضمرات کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اس حیثیت سے حدیث فرع ہے، یعنی دین کے اصولی ماخذ کے اطلاقات میں شامل ہے۔ لہٰذا حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے گا، نہ کہ قرآن کو حدیث کی روشنی میں۔ اگر قرآن کو حدیث کی روشنی میں سمجھنے کا اصول تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اصل کو فرع کے تابع کر دیا گیا ہے، جو علمی اور دینی، دونوں لحاظ سے ایک سنگین غلطی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نہ اصل کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے گا اور نہ ہی فرع کو۔

مزید برآں، جب اصل کو فرع کے تابع کیا جاتا ہے تو اس کی حیثیت مجروح ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اصل ماخذ اپنی برتر حیثیت کھو دیتا ہے، کیونکہ جب کسی متن کو بار بار تاویل اور تنسیخ کے دائرے میں داخل کر دیا جائے تو اس کی قطعی حیثیت کم زور ہو جاتی ہے۔

یہی وہ فکری مغالطہ ہے جو بعض مذہبی فکر میں پایا جاتا ہے، جہاں یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن کی تاویل حدیث کی روشنی میں کی جائے گی۔ یہ نقطۂ نظر دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن نے خود اپنے بارے میں کہا ہے کہ وہ قطعی فیصلہ کرنے والا ہے اور اختلافات اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، نہ کہ اس پر مختلف آرا کی بنیاد پر تشریحات مسلط کی جائیں گی۔ اگر اس اصول کو نظرانداز کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قرآن مجید، جو میزان، فرقان، حکم اور مہیمن تھا، جس کی بنیاد پر فیصلے ہونے تھے، اس کی یہ حیثیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ، کیونکہ خود اسے سمجھنے کے لیے اُن چیزوں کا محتاج کر دیا جائے گا جنھیں اس کی روشنی میں سمجھنا تھا۔ نتیجتاً، ہر آیت میں تخصیص، تحدید، ترمیم اور تغیر کر دیا جائے گا۔ یہ وہ فکری گم راہی ہے، جو دین کے بنیادی ڈھانچے کو کم زور کرنے کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا، دین کو اس کے اصل ماخذ پر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن دین کی اصل بنیاد ہے اور حدیث اس کی وضاحت اور تفہیم کا ذریعہ ہے۔ فروعات کو اصل پر مقدم کرنا دین میں فکری گم راہی کو جنم دیتا ہے اور دینی اصولوں کی تشریح میں الجھاؤ پیدا کرتا ہے۔ جو مذہبی فکر اس ترتیب کو بگاڑتی ہے، وہ درحقیقت دین کی بنیادی تعلیمات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہی حقیقی فکری گم راہی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دو جرائم کے علاوہ کسی کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًاۣ بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَا اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا. (المائدہ5: 32)

’’(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا تھا کہ جو شخص کسی انسان کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو وہ گویا تمام انسانوں کے قتل کا مرتکب ہوا۔ اور جس نے کسی ایک جان کو زندگی دی، اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ موت کی سزا صرف دو جرائم کے لیے مقرر کی گئی ہے: قتل اور فساد فی الارض۔ اب اگر کوئی حدیث میں کسی تیسرے جرم کی بنیاد پر موت کی سزا بیان کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ چونکہ حدیث میں یہ ذکر ہے، اس لیے قرآن کی یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے یا اس آیت کے الفاظ تو یہی کہہ رہے ہیں، لیکن اس کا مفہوم وہ نہیں جو ظاہر میں نظر آ رہا ہے، کیونکہ ہمارے پاس ایک اور ذریعۂ علم موجود ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قرآن کی بنیادی حیثیت مجروح ہو جائے گی۔جب کسی کلام کی ایک دفعہ حجیت کم کر دی جائے تو پھر اس کے دوسرے احکام بھی اسی طرز پر تاویل، تخصیص اور ترمیم کی نذر ہو سکتے ہیں، جس سے اصل ماخذ اپنی فیصلہ کن حیثیت کھو دیتا ہے۔ یہی وہ فکری گم راہی ہے جو بعض مذہبی فکر میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن کی تاویل حدیث کی روشنی میں کی جانی چاہیے۔ یہ اصول دین کے بنیادی نظریے کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن نے اپنے بارے میں خود کہا ہے کہ وہ قطعی فیصلہ کرنے والا ہے اور اختلافات اسی کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے، نہ کہ اسے خود اختلافات کا موضوع بنا دیا جائے۔ اگر یہ طرزِ فکر اختیار کر لیا جائے تو پھر قرآن کی ہر آیت کے کئی مختلف معانی گھڑے جا سکتے ہیں اور کسی بھی واضح حکم کو بدلنا ممکن ہو جائے گا۔ یہی وہ راستہ ہے، جو فکری گم راہی کی طرف لے جاتا ہے۔

4۔ اصول و ماخذمیں بدعت پیدا کرنا

فکری گم راہی کا چوتھا سبب دین میں کسی نئی چیز کو ماخذ کے طور پر تسلیم کرنا اور اسے دین کا لازمی جز بنا دینا ہے۔ ہمارے ہاں اطلاقات میں نذر و نیاز، چالیسواں اور چلے جیسی بدعات عمومی طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن فکر میں بدعت پیدا کرنا اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

فکر میں بدعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ماخذ، یعنی قرآن اور سنت کے ساتھ کوئی نیا ماخذ شامل کر دیا جائے اور اسے دین کی مستقل بنیاد بنا دیا جائے۔ یہ عمل دین کے خدائی اصولوں کو مسخ کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اللہ نے دین کو مکمل اور محفوظ کر دیا ہے اور اس میں کسی انسانی اضافے یا تدوین کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز دین میں ماخذ کے طور پر شامل نہیں کی، اگر اسے دین میں حجت مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وحی ناقص تھی اور اسے کسی انسانی ذریعے سے مکمل کرنے کی ضرورت پیش آ گئی، جو واضح طور پر باطل نظریہ ہے۔

ہمارے نزدیک دین میں قطعی حجت صرف قرآن اور سنت ہیں، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور تعلیمات سے ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث اور اجماع کا درجہ تشریحی ہے، نہ کہ بنیادی ماخذ کا۔ چنانچہ حدیث ہو یا اجماع، ان کی حیثیت قرآن اور سنت کی روشنی میں متعین ہوگی، نہ کہ انھیں مستقل طور پر دین کے اصولی ذرائع میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ اصول نہایت بنیادی اور فیصلہ کن ہے، کیونکہ اگر دین کی صداقت اور اصولوں کا دار و مدار اجتماعی اتفاق (consensus) پر رکھا جائے تو پھر حقیقت صرف راے دہندگان کی تعداد سے مشروط ہو جائے گی، جو سراسر غیر علمی اور غیر منطقی تصور ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مسیحی عقائد کی مثال لی جا سکتی ہے۔ مسیحی دنیا میں اربوں افراد اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، شریعت منسوخ ہو چکی ہے اور کفارے کا عقیدہ ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر کسی فکری نظریے کے درست ہونے کا معیار اجتماعی اتفاق ہوتا تو پھر ہمیں عیسائیوں کے عقیدے کو بھی دینِ حق ماننا پڑے گا، کیونکہ ان کے مذہبی پیشوا اور علما صدیوں سے یہی کہتے آ رہے ہیں اور اس پر ان کی پوری امت کا اجماع ہے۔

لیکن دین کا اصول یہ نہیں کہ جس چیز پر اکثریت کا اجماع ہو، وہی حق بن جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو مشرکین مکہ کا شرک بھی حق ہوتا، کیونکہ وہ بھی اپنی اکثریتی راے کی بنیاد پر اپنے باطل عقائد کو درست سمجھتے تھے۔ لیکن قرآن نے ہر دور میں حق کا معیار اکثریت کو نہیں، بلکہ وحی کو قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں دلیل کا معیار افراد کی تعداد نہیں، بلکہ اللہ کی ہدایت ہے۔ کوئی بھی مذہبی فکر، چاہے وہ کتنے ہی لوگوں میں مقبول ہو، اگر وہ قرآن و سنت کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی تو وہ حجت نہیں بن سکتی۔ لہٰذا دین میں کسی نئی چیز کو ماخذ بنانا بدعتِ فکر ہے، جو دین کو ایک الہٰی حقیقت سے نکال کر انسانی آرا اور قیاس پر منحصر کر دیتی ہے۔

چنانچہ، دین میں اصل ماخذ صرف قرآن و سنت ہیں اور جو بھی فکر ان سے باہر نکل کر کسی نئی بنیاد پر استوار کی جائے گی، وہ دین میں تحریف اور فکری گم راہی کا سبب بنے گی۔

5۔علم و عقل اور تاریخی مسلمات کا انکار

جب بھی آپ کسی کلام کو پڑھتے ہیں تو علم اور عقل کے مسلمات(axioms of knowledge and reason) عام طور پر اس میں صراحتاً بیان نہیں کیے جاتے، بلکہ یہ پہلے سے ہی متعین اور تسلیم شدہ ہوتے ہیں۔ ان کا وجود کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا، کیونکہ وہ انسانی تجربے، تاریخ اور اجتماعی شعور میں پہلے سے راسخ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم یہ سوال کبھی نہیں کرتے کہ قرآن کس قوم کی طرف نازل ہوا؟ اگر کوئی یہ مطالبہ کرے کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ یہ بنی اسمٰعیل کی طرف آیا؟ تو یہ ایک غیر علمی اور غیر منطقی بات ہوگی۔ قرآن اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا، کیونکہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسمٰعیل میں مبعوث ہوئے۔ اسی طرح ہم یہ سوال بھی کبھی نہیں اٹھاتے کہ اللہ نے تورات کس کو دی؟ اگر کوئی یہ مطالبہ کرے کہ قرآن میں لکھا ہوا دکھایا جائے کہ تورات ایک کتاب تھی، یہ فلاں وقت میں نازل کی گئی، اسے موسیٰ علیہ السلام نے تسلیم کیا اور انھوں نے اپنی قوم کو دی تو یہ ایک خالص مغالطہ (logical fallacy) ہوگا، کیونکہ یہ بات بھی تاریخی طور پر مسلمہ ہے اور کسی دلیل کی محتاج نہیں۔

ہمارے ہاں فکری گم راہی کی ایک شکل یہ بنی کہ لوگوں نے مسلماتِ تاریخ کو بھی چیلنج کرنا شروع کر دیا اور علمی بددیانتی کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ آج کل آپ سنتے ہوں گے کہ انجیل کا مطلب محض خوش خبری ہے اور ہر وہ خوش خبری جو کسی کے پاس ہو، وہ انجیل ہے۔ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ تورات کا مطلب قانون ہے، لہٰذا ہر وہ قانونی ضابطہ جو کسی نے بنایا، وہ تورات ہے۔ یہ رویہ تاریخی حقائق کے صریح انکار اور فکری انحراف کی ایک خطرناک مثال ہے۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ علم اور عقل کے مسلمات اور تاریخی حقائق (established historical facts) کو کسی متن میں بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ وہ پہلے سے تسلیم شدہ ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کے بانی تھے۔ جب کبھی ہم یہ گفتگو کرتے ہیں تو ہمیں یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ محمد علی جناح کون تھے، کہاں پیدا ہوئے، ان کے والدین کون تھے، ان کا پس منظر کیا تھا، کیونکہ یہ چیزیں پہلے سے معلوم اور مشترکہ ہیں۔ اسی اصول کا اطلاق قرآن پر بھی ہوتا ہے۔ قرآن جن تاریخی اور عقلی مسلمات پر مبنی ہے، وہ اس کے نزول کے وقت اہل عرب اور اہل کتاب کے لیے اتنے واضح تھے کہ ان کی وضاحت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

یہ وہ پانچویں بڑی فکری گم راہی ہے جس کی بنیاد پر تاریخی حقائق کو مسترد کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ اگر کسی فکری مکتبے کو پرکھنا ہے تو اسے انھی اصولوں پر جانچا جائے گا۔ وہ مکتب فراہی ہو یا کوئی اور نظریہ، سب کو انھی معیارات پر پرکھا جائے گا۔ اگر کسی فکر میں ان اصولوں کی خلاف ورزی پائی جائے تو سب سے پہلے یہی جانچنا ہوگا کہ یہ بنیادی غلطیاں کیسے پیدا ہوئیں؟

قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ عربی زبان میں ہے، متشابہات کے درپے نہ ہو، اصل کو فرع اور فرع کو اصل کی جگہ پر نہ رکھو، بدعت نہ پیدا کرو۔ اگر کوئی فکر ان میں سے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے تو وہ فکری گم راہی پر مبنی ہوگی۔ یہی وہ بنیادی پیمانے ہیں جن پر ہر مذہبی فکر کو پرکھا جانا چاہیے۔ دین کو سمجھنے کے لیے کسی نئی بنیاد کی ضرورت نہیں، بلکہ پہلے سے موجود عقلی، علمی اور تاریخی مسلمات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جو فکر ان اصولوں سے انحراف کرتی ہے، وہ تحریف دین اور گم راہی کا باعث بنتی ہے۔