]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
قرآن: رسول کی سرگذشتِ انذار
غامدی صاحب نے قرآن مجید کو مضمون کے لحاظ سے ’’ایک رسول کی سرگذشتِ انذار‘‘ قرار دیا ہے۔ اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ پورے قرآن کو تاریخی کتاب قرار دینے سے اس کی آفاقیت مجروح ہوتی ہے۔وہ تاریخ میں بند ایک داستان (اساطیر الاولین) بن جاتا ہے اور عام قاری خود کو اس سے متعلق نہیں کرپاتا،کیونکہ یہ کہیں اس سے مخاطب نہیں ہوتا۔
یہ اعتراض قرآن کے موضوع اور قرآن کے مضمون کے فرق کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ قرآن اپنے موضوع کے لحاظ سے خدا کی آفاقی ہدایت اور انذارِ آخرت ہے، لیکن اس کی پیشکش رسول کی سرگذشت انذار کی صورت میں ہوئی ہے۔ یہ اس کا مضمون ہے۔ قرآن کی یہ نوعیت ایک حقیقتِ واقعہ ہے۔ مفسرین کے ہاں شانِ نزول کی روایات کا التزام قرآن کی تاریخی حیثیت ہی کا اظہار کرتا ہے۔
لفظ ’’سرگذشت‘‘کے بجاے ’’رسول کی سرگذشتِ انذار‘‘ کی پوری ترکیب پر غور کیا جائےتو بات واضح ہو جاتی ہے۔ قرآن محض ایک سرگذشت نہیں، یہ محض رسول کی سرگذشت بھی نہیں، بلکہ وہ سیرت کا موضوع ہے، یہ ’’رسول کے انذار کی سرگذشت‘‘ ہے، جہاں انسانوں کے مختلف گروہ رسول کی دعوتِ دین کے مخاطب ہیں اور اسی کے ذیل میں دین و شریعت بیان ہوئے ہیں۔
ایک رسول کی سرگذشتِ انذار ہونے کی بنا پر یہ محض ایک سوانح یا کسی تاریخ کا بیان نہیں رہ جاتا۔ رسول، خدا کا دین لے کر آتا ہے، جو اپنی نوعیت ہی میں آفاقی ہے۔ قرآن اُسی دین کی تبلیغ میں رسول کی سرگرمیوں اور اس کو درپیش حالات کا بیان ہے۔ اس سرگذشت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رسول نے تبلیغ دین کا فریضہ کس اہتمام سے سر انجام دیا، اس کی قوم نے اس کے رد و قبول میں کن رویوں کا اظہار کیا۔ اسے قبول کرنے والوں پر کیا بیتی، اپنے تزکیہ و تطہیر کے لیے وہ کن مراحل سے گزر کر خدا کی رضا کے مستحق ٹھیرے، رسول کے منکرین پر اتمام حجت کیسے ہوا اور کیسے وہ سزا کے مستحق ہو کر سزا یاب ہوئے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ دین کس طرح ایک تدریجی حکمت کے ساتھ تعلیم کیا گیا، اہل ایمان نے اطاعت و مصائب پر صبر سے کام لیا، وہ اپنی درماندگی کا اعتراف کرتے، خدا سے نصرت کی خواست گاری کرتے، فتوحات پر شکر کرتے، لغزش و کوتاہی پر تنبیہات پاتے، نادم ہوتے، اپنی اصلاح کرتےاور خدا سے انعام پاتے نظر آتے ہیں، اور دوسری طرف دوسرے لوگ کھلے حقائق کا انکار کرتے، سرکشی پر اڑتے، مفادات کے اسیر ہوتے، تعصب اور دشمنی میں اندھے بہرے بن جاتے، منافقت اختیار کرتے، بے نقاب ہوتے اور سزا پاتے دکھائی دیتے ہیں۔گویا، خدا کی عدالت لگی ہے، جہاں لوگوں کے اعمال تولنے کے بعد ان کی جزا اور سزا کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ یوں یہ کتاب اخلاق و شریعت کی معلّم ہی نہیں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک زندہ کتاب بن کر سامنے آتی ہے، جس کے ذریعے سے دین کی مجرد تعلیم ہی منتقل نہیں ہوتی، اس کے ساتھ انسانی تعاملات اور رویے بھی منتقل ہوتے ہیں۔ قرآن سے ایک عام قاری کو صرف دین ہی نہیں ملتا، بلکہ اس پر عمل کے انسانی نمونے بھی ملتے ہیں، جو اس کی نفسیات کے تما م پہلوؤں کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح قرآن ہر فرد کے ساتھ پورے طور پر متعلق ہو جاتا ہے،اور یہ دین سکھانے کی بہترین صورت ہے۔
اس سے یہ بھی معلو م ہوتا ہے کہ سرگذشت انذار کےاُس دور میں خدا کی محسوس مداخلت کس طرح اپنے دعاوی اور چیلنجز کی تکمیل کے ساتھ سامنے آئی، جس نے خدا کے وجود، اس کی وحدانیت اور وقوعِ آخرت پر ناقابلِ تردید شہادتیں قائم کر دیں۔ پھر یہ سب حالات بعد والوں کے لیے ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیے گئے تاکہ قیامت تک اس کے پڑھنے والوں پر خدا کی حجت تمام ہوتی رہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، جس نے انسانوں سے کچھ تقاضے کیے ہیں،اور وہ ان سے جواب طلب کرنے کے لیے ایسے ہی آخرت کی عدالت لگائے گا، جیسے اس نے اس دنیا میں ایک قوم کے لیے لگائی تھی۔
غامدی صاحب نے اپنی تفسیر ’’البیان‘‘ کے مقدمے میں جہاں یہ لکھا ہے کہ ’’اپنے مضمون کے لحاظ سے قرآن ایک رسول کی سر گذشت انذار ہے‘‘، وہاں یہ بھی لکھا ہے:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے نتیجے میں خدا کی جو عدالت سر زمین عر ب میں قائم ہوئی، اُس کی روداد اِس حسن ترتیب کے ساتھ اِس کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو قرآ ن مذہب کا یہ بنیادی مقدمہ بالکل آخری درجے میں ثابت کر دیتا ہے کہ خدا کی عدالت پورے عالم کے لیے بھی ایک دن اِسی طرح قائم ہو کر رہے گی۔‘‘(12/1)
یہ وہ اصل ہے جس پر دین کا مقدمہ قائم ہے، وہ محرک ہے، جو فرد کے لیے دین پر عمل کا تقاضا پیدا کرتا ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا یقین پیدا ہوتے ہی فرد کو اپنے تزکیے کی فکر لاحق ہوتی ہےتو قرآن اسے بتاتا ہے کہ یہ تزکیہ اسے اسی طرح حاصل ہوگا، جس طرح پہلوں نے اس دین پر عمل کر کے حاصل کیا۔
کسی عام سرگذشت کے برعکس ’’رسول کی سرگذشتِ انذار‘‘ کے عنوان سے یہ طے نہیں ہو جاتا یا یہ خدشہ پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں دی گئی ہدایات اور احکام اصلاً خاص ہیں اور اب ان کی تعمیم کے لیے کوئی دلیل دیکھی جائے۔ رسول تمام انسانوں کے لیے خدا کا پیغام لے کر آتا ہے، اس لیے اس کی سرگذشت میں ہر بات یہ احتمال رکھتی ہے کہ وہ سب کے لیے ہو، اسی لیے یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کیا چیز انذارِ رسالت کے مخاطبین کے ساتھ خاص ہے، جو اب دیگر لوگوں کے لیے باقی نہیں رہی۔ وہ چند احکام جو قانونِ رسالت یا قانونِ اتمامِ حجت کے نتیجے میں خاص قرار پاتے ہیں انھیں غامدی صاحب نے متعین کر کے پیش کر دیا ہے۔ کسی خلط مبحث کی گنجایش نہیں ہے۔ اس کے بعد اس کہانت کی کوئی حقیقت نہیں رہتی کہ دین کو تاریخ کے کسی دور میں متحجر (Fossilized) کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ان خاص احکام کی ایک فہرست یہاں دی جاتی ہے:
1۔ انکارِ اسلام کی پاداش میں رسول کی مخاطب قوم سے قتال، درحقیقت، خدا کی طرف سے ان کی سزا کا حکم تھا، جو رسول کے اتمام حجت کے بعد صادر کیا گیا تھا۔ عام مسلمانوں کو اس کا حق نہیں کہ تبلیغِ دین کے بعد کسی قوم کے انکار پر ان کے خلاف مسلح اقدام کریں۔ البتہ، ظلم و عدوان کے خلاف جہاد ایک عمومی فریضہ ہے، کیونکہ اس کے رو بۂ عمل ہونے کی علت، یعنی ظلم و عدوان، ایک عام علت ہے۔
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کے بعد کفار سے تعلقات اور معاہدات کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے لیے کفار اور اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت اس بائیکاٹ کا نتیجہ تھا۔ عام غیر مسلموں سے دوستی نہ کرنے کا کوئی عمومی حکم نہیں دیا گیا ہے۔
3۔ مسلم اور غیر مسلم کی گواہی میں فرق بھی دورِ رسالت کا اختصاص تھا، اس کی وجہ بھی اتمامِ حجت کے بعد منکرینِ حق کے ساتھ یہی بائیکاٹ تھا، لیکن اب یہ فرق ملحوظ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہی۔
4۔ عہدِ رسالت میں مسلم اور غیر مسلم میاں بیوی میں تفریق بھی اسی بائیکاٹ کا نتیجہ تھی۔ اس کو بھی عمومی حکم نہیں سمجھا جا سکتا۔
5۔ آپ کے دور میں مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے تھے، اس تفریق کا سبب بھی یہی بائیکاٹ تھا۔ اسے بھی عمومی حکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
6۔ ارتداد الگ سے کوئی جرم نہیں، لیکن یہ درحقیقت کفر ہی تھا اور کفر کی سزا مشرکین کے لیے سورۂ توبہ میں مذکور حکم کے مطابق موت مقرر کی گئی تھی۔وہی سزا مرتدین پر لاگو کی گئی تھی، اسے عام حکم نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ واضح رہنا چاہیے کہ ازواجِ مطہرات کے حجاب کی تخصیص کے معاملے میں غامدی صاحب صحابہ اورمتقدمین علما کے فہم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے حجاب کی تعمیم کا موقف بعد کے ادوار میں سامنے آیا، جب کہ آیتِ جلباب کی تفہیم میں قانونِ رسالت یا قانونِ اتمامِ حجت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، جیسا کہ ایک فاضل ناقدنے سمجھا ہے۔ یہاں لسانی دلالت کی بحث ہے۔ بتایا گیا کہ چادر اوڑھنے کے حکم کی علت اوباشوں کا دفعِ ضررتھا، جسے خود اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا ہے۔1 اس علت کی بنا پر اس حکم کو اُسی صورت حال یا ایسی ہی کسی صورت حال سے متعلق سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ عام حالات کے لیے کوئی ہدایت نہیں ہے۔
غامدی صاحب کے ڈسکورس میں دین کے عام اور خاص احکام میں انتخاب الل ٹپ معاملہ نہیں۔ الفاظ کی دلالت اور احکام کی علتوں کی نوعیت، ان کی تعیین اور ان کے اطلاقات کی پوری سائنس ہے، جو غامدی صاحب نے اپنی کتابوں اور لیکچرز میں پیش کر دی ہے۔
یہ درست ہے کہ قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کرنے سے متعلق عام قاری کو جب یہ باور کرایا جاتا ہے کہ قرآن اپنے قاری سے براہ راست مخاطب نہیں ہوتا، بلکہ اولین مخاطبین کی سرگذشت کی صورت میں خطاب کرتا ہے تو کوہِ طور کی سیر کو آیا سادہ لوح قاری کچھ دل شکنی سی محسوس کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خود کو قرآن کا براہ راست مخاطب سمجھنے کا زاویہ بعض اوقات بڑے غلط نتائج تک لے جاتا ہے۔ مثلاً :
’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ‘ کے مخاطب مخلص صحابہ بھی تھے، کم زور اہل ایمان بھی اور منافقین بھی، جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ ایک عام قاری اگر ہر بار اس خطاب کا مخاطب خود کو سمجھ لے تو اسے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قرآن مجید رسول سے کہتا ہے کہ تم اپنے مخالفوں پر فتح یاب رہو گے، اس دین کو سر زمین عرب میں غالب کرو گے، اُدھر صحابہ سے بھی فتح و نصرت اور خلافت ارضی دیے جانے کے وعدے کرتا ہے، اِدھر ایک عام مسلمان ان بشارتوں اور وعدوں کو خود سے منسوب کرلیتا ہے تو وہ فضاے بدر پیدا کر کے بے تیغ و سپر دشمنوں سے جا بھڑتا ہے،اور امید کرتا ہے کہ گردُوں سے فرشتے اس کی نصرت کے لیے قطار اندر قطار اترتے ہی ہوں گے، مگر جب ناکام ہوتا ہے تو اسے سمجھ نہیں آتا کہ اپنے ایمان پر شک کرے یا خدا کے وعدوں پر۔
قرآن مجید میں خدا نبی سے کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکلات کے بعد آسانی آنے والی ہے اور یہ ضرور آئے گی، اور یہاں اپنے کاروباری مشکلات کے بعد آسانی ملنے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں، جو کبھی پوری ہوتی ہیں اور کبھی نہیں۔
خدا اعلان کرتا ہے کہ حق ضرور غالب آ کر رہے گا اور ادھر مسلمان عدالتوں سے اپنے مقدمات میں انصاف ملنے کی امید میں عمریں گزار دیتے ہیں، مگر ان کے حق کو فتح نہیں ملتی۔ پھر شکوہ اور جواب شکوہ کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ پیغمبر نے خدا کے حکم پر منکرین حق کو مباہلہ کا چیلنج دیا تو یہاں مسلمانوں نے بھی مباہلہ کے چیلنج دے دیے، مگر فریق مخالف پر خدا کا عذاب نشانِ حق بن کر نازل نہ ہوا۔
قرآن جو پیغام ایک پیغمبر کی سرگذشت کے حوالے سے دیتا ہے، جو نشانِ حق وہ قائم کرتا ہے، آخرت کی جواب دہی کا جو مسئلہ وہ سامنے رکھتا ہے، تزکیہ و تطہیر کا جو لائحۂ عمل وہ پیش کرتا ہے، وہ سب نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اپنی دنیا کے مسائل حل کرنے میں اپنی ناکامی کو قرآن اور اسلام پر تھوپ دیا جاتا ہے۔
علوم دینیہ کی کلاسیفیکیشن
غامدی صاحب کے فکر پر ایک اعتراض علوم دینیہ کی زمرہ جاتی تقسیم (کلاسیفیکیشن) پر اٹھایا گیا ہے۔ جاننا چاہیے کہ علوم کے ارتقا میں وہ مرحلہ آتا ہے جب وہ کلاسیفیکیشن کے مرحلے سے گزر کر منقح ہوتے ہیں۔ یہ علمی ارتقا کی اہم ترین منزل ہوتی ہے۔ علوم دینیہ میں کلاسیفیکیشن کا یہ کارنامہ اپنی نہایت میں غامدی صاحب کے ہاتھوں عمل پذیر ہوا ہے۔ اس نے دین میں خلطِ مبحث کا خاتمہ اور استدلال کی بنیادوں کی تنقیح کر دی ہے۔ اہل علم اس کی اہمیت اور اس کی بُنت کی نزاکتوں کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ جناب ڈاکٹر عمار خان ناصر نے فکر غامدی میں علوم دینیہ کی اس کلاسیفیکیشن کے نتائج کو درج نکات میں پیش کیا ہے:
1۔ پیغمبر کے دیے ہوئے دین اور اس پر مترتب ہونے والے علوم وافکار کے مابین امتیاز (اور نتیجتاً دینی روایت کو دین کے مقام پر فائز کر دیے جانے کے مفاسد کا ازالہ)۔
2۔ بنیادی مصادر کی روشنی میں دینی روایت کے نتائج فکر اور رجحانات کی تنقید کا تسلسل۔
3۔ امت کے متواتر تعامل (سنت) اور اخبار آحاد کے درمیان گم گشتہ امتیاز کی ازسرنو دریافت (اور نتیجتاً اساسی دین کی تاریخی قطعیت کا اثبات)۔
4۔ قرآن کے متن کے ساتھ تعامل کے علمی اصولوں کی، زیادہ دقت (precision) کے ساتھ تعیین و تنقیح (اور نتیجتاً ہر الم غلم چیز کو کسی نہ کسی طریقے سے متن کے ساتھ نتھی کر دینے کے رجحان کا سد باب)۔
قرآن کی تاویلِ واحد
فکرِ فراہی میں نظمِ کلام کی بنیاد پرقرآن کی تاویلِ واحد، یعنی لفظ اور جملے کے ایک معنی اور ایک مفہوم کی تعیین کے تصور پر بھی کچھ ناقدین کو اعتراض ہے۔ کلام فہمی میں سیاق و سباق کی اہمیت ایک مسلّمہ امر ہے۔ غامدی صاحب قرآن فہمی کے لیے اسی مسلّمہ اصول کو پوری طرح برتنے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کلامِ الہٰی کی واحد مراد متعین ہو کر سامنے آتی ہے۔ فہم کلام سے یہی مقصود ہوتا ہے، مگر معترضین کا اصرار ہے کہ یہ مسلّمہ باقی ہر کلام میں برت لیا جائے، مگر کلام الہٰی کو اس سے مستثنٰی رکھا جائے تاکہ خدا کا کلام قطعی معانی نہ دے اور ہر کسی کے لیے اس میں اپنا معنی ڈالنے کی گنجایش باقی رہے۔ یہ ضد، غور کیجیے تو علم و ایمان کے لیے بڑے خطرے کی چیز ہے۔ نظمِ کلام، انتشارِ معانی کے دروازے کو بند کرتا اور قرآن کی اس حیثیت کو نمایاں کرتا ہے جو اس نے اپنے لیے خود متعین کی ہے کہ وہ دینی معاملات میں اختلافات کا فیصلہ کرنے آیا ہے۔ اگر قرآن سے کوئی فیصلہ کن بات متعین ہی نہیں کی جا سکتی تو قرآن کا یہ دعویٰ بے معنی اور اس کی افادیت معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہمارے مفسرین بھی ایک سے زائد معانی کے احتمال کی صورت میں وجہِ ترجیح قائم کرتے ہیں۔ یہی چیز فکر غامدی میں نظم کلام اور لسانی دلالتوں کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں طے کی جاتی ہے۔ تاہم اس میں یہ گنجایش رہتی ہے کہ ہمارا سمجھا ہوا مفہوم، ممکن ہے درست نہ ہو، مگر دوسرے مفہوم کی درستی کا فیصلہ بھی نظم کلام اور لسانی دلالتوں کی راہ ہی سے ہوگا۔ تاویل بہرحال واحد ہی ہوگی۔
نتائجِ فکر میں قطعیت
ایک اعتراض غامدی صاحب کے ہاں دلیل یا نتائج کی پیشکش میں قطعیت یا جزم کے اظہار پر بھی کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب کے ہاں قطعیت احتمال کے اسی عمومی دائرے کے اندر ہوتی ہے جس کا لحاظ ہر صاحب علم کرتا ہے۔ غامدی صاحب کے بارے میں جس قطعیت پر اعتراض کیا جاتا ہے،غور کیجیے تو وہ ہر اہل علم کے ہاں پائی جاتی ہے۔ غامدی صاحب کے ناقدین کے بیانات ہی میں اس کے مظاہر دیکھ لیے جا سکتے ہیں۔
دین، فرد اور اجتماع کا تعلق
فکرِ غامدی میں فرد اور اجتماع کے تعلق پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ فرد اجتماع سے الگ کسی ہستی کا نام نہیں ہے، افراد ہی کے مجموعے کا نام اجتماع ہے۔ افراد جب اجتماع تشکیل دیتے ہیں تو دین کے معاشرتی احکام ان سے بھی مخاطب ہو جاتے ہیں۔ ان احکام کو غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ میں ’’قانون سیاست‘‘، ’’قانون جہاد‘‘، ’’قانون معیشت‘‘ وغیرہ کے ابواب میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔
فکرِ غامدی میں دین فرد سے اجتماع کی طرف صعود کرتا ہے، اجتماع سے فرد پر نفوذ نہیں کرتا۔ اس لیے فکر غامدی کی اپروچ میں یہ صورت حال پیدا نہیں ہو سکتی ہے کہ مثلاً مردوں کو ڈاڑھیاں رکھوانے اور عورتوں کو حجاب کرانے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کی جائے۔
مسلمانوں کے سیاسی غلبے سے عدم دل چسپی
دنیا میں مسلمانوں کے غلبے کی کاوشوں کی عدم پذیرائی کا الزام بھی غامدی صاحب کے فکر پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ مسلمانوں کی اگر یہ خواہش ہے کہ ان کا کوئی سیاسی بلاک بنے اور وہ دنیا میں آبرو مند ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ نقطۂ اعتراض صرف یہ ہے کہ اس خواہش کو دینی تقاضا بنا کر پیش نہ کیا جائے، اس لیے کہ اس کی کوئی دینی بنیاد نہیں ہے۔ دین کی فہرست میں یہ زیر بحث نہیں آتا۔ اس پر غامدی صاحب مفصل نقد پیش کر چکے ہیں۔ مظلوم مسلمانوں کو ان کی نصیحت یہ ہے کہ وہ اپنے سے کئی گناطاقت ور دشمن کو ہتھیاروں کے ذریعے سے شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، مسلم اقوام بھی ان کی مدد کرنے کی طاقت اور جرأت نہیں رکھتیں، اس صورت حال میں ان کے لیے واحد قابلِ عمل حل یہی ہے کہ وہ مظلومانہ جدوجہد کریں، خود کو پر امن رکھیں اور اپنی تعلیمی اور معاشی حالت کی درستی پر توجہ مرکوز کر دیں۔
غامدی صاحب بھی مسلمانوں کو آبرومند دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ان کے نزدیک آبرومندی کا راستہ علم کی پر امن راہ سے ہو کر گزرتا ہے، خاک و خون کی وادیوں میں زار و زبوں ہو کر نہیں۔
- ۔ الاحزاب 33 :59۔ ’ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ‘، (اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔)