ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
پاکستان کی تاریخ میں اسی (80) کی دہائی بڑی اہمیت کی حامل رہی۔ فوجی قیادت ہی سہی، مگر دس برس سیاسی استحکام کے گزرے اور وقتی طور پر ایک خاص قسم کی علمی ، معاشی اور سماجی ترقی نظر آئی۔ اسی ضمن میں نوجوانوں میں دینی علوم اور مذہبی تحریکات میں خاص شغف دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے محرکات کا جائزہ لینا اس وقت ہمارا موضوع نہیں جس میں بہت سارے منفی اور مثبت اثرات شامل ہیں۔
ان اثرات میں سب سے نقصان دہ مذہبی پہلو یہ تھا کہ جہاد کا ایک بہت ہی گم راہ کن تصور حکومتی سرپرستی میں ایک ’’ فیشن‘‘ کے طور پر نئی نسل میں پھیل گیا ۔ اس نے آگے جا کر پاکستان پر ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کیے ۔ جب کہ اس دور کا ایک محدود سا مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیلی وژن پر دینی علوم پر پروگرام دکھائے جانے لگے ۔ ان میں سے ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کے لیکچرز نوجوان نسل میں قرآن فہمی کی طرف دل چسپی کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئے ۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کا شمار انھی نوجوانوں میں کیا جا سکتا ہے۔ وہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی وساطت سے قرآن کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر اسرا ر صاحب کے متعلقین و متاثرین کی دو اقسام ہیں ۔ ایک وہ جو اسلام کی سیاسی نشاۃ ثانیہ میں دل چسپی رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو علوم اسلام میں خاص طور ہر قرآن کے فہم میں دل چسپی رکھتے تھے ۔ برادرم شہزاد صاحب کا تعلق ان لوگوں سے تھا جو قرآن فہمی کے بے پناہ جذبے اور اشتیاق کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے متعلق ہوئے تھے۔اور وہ دل ہی دل میں اعلیٰ سطح پر اسلامی علوم میں مہارت کو زندگی کا نصب العین بنا چکے تھے ۔ یہ 1988 ءکا زمانہ تھا جب ان کے ذہن میں قرآن فہمی اور دین اسلام کے بارے میں کچھ سوالات پیدا ہوئے ۔
ڈاکٹر صاحب کے علم کا ایک بڑا ذریعہ کیونکہ مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ تھی، اس لیے شہزاد صاحب کو توجہ دلائی گئی کہ وہ اپنے سوالات کا جواب براہِ راست مولانااصلاحی سے کیوں نہیں حاصل کر لیتے ۔ تب انھیں یہ معلوم ہوا کہ مولانا اصلاحی فاضلیہ کالونی لاہور میں آپا نثار فاطمہ ( مشہور سیاست دان احسن اقبال کی والدہ اور مولانا اصلاحی کی خواہر نسبتی ) کے گھر ہفتہ وار درس قرآن دیتے ہیں ۔ شہزاد صاحب وہاں پہنچے ۔ درس کے اختتام پر انھوں نے بہ طور خاص سوالات کرنے کی اجازت مانگی ۔ لیکن انھیں یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی کہ مولانا ثقل سماعت کے باعث انھیں آسانی سے سن نہیں سکتے ۔ تب انھوں نے لکھ کر سوالات کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی ۔
اس موقع پر وہاں پر ہمارے ایک دوسرے دوست انیس مفتی مرحوم موجود تھے۔ مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب وصف عطا فرمایا تھا ، وہ تھا جوہر شناسی ۔ ان کے ذہنِ رَسا نے شہزاد صاحب کے اندر تلاش حق کا جذبہ ہی موجزن نہیں دیکھا، بلکہ ان کی طبعی شرافت کو بھی بھانپ لیا تھا۔
انھوں نے نوٹ کیا کہ پاسِ ادب مانع ہو رہا ہے اور شہزاد صاحب زیادہ بلند بول نہیں پا رہے۔ اسی لیے مولانا اصلاحی سماعت کے آلہ کے باوجود انھیں نہیں سن سکے تھے ۔ پھر جب انھیں لکھنے کا سہا را لینا پڑا تو اس ماحول میں نہ مولانا اپنے ضعفِ عمری کے سبب ان تک ابلاغ کر سکے اور نہ وہ اپنا یہ احساس ان تک پہنچا سکے کہ وہ بات پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے ۔ جیسے تیسے شہزاد صاحب نے مولانا سے بہت ضروری سوالات پوچھ لیے لیکن ان کے چہرے پر تشنگی کے واضح آثار تھے۔ تب انیس صاحب آگے بڑھے اور شہزاد صاحب کو استاد محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے بارے میں بتایا کہ وہ مولانا ہی کے شاگرد ہیں ۔ وہ اگر چاہیں توان سے رابطہ کرکے اس قسم کی ساری علمی تشنگی آسودہ کر سکتے ہیں ۔
پیاسے کو کنویں کا معلوم ہو تو وہ بھلا کہاں رکتا ہے۔ وہ جلد ہی ماڈل ٹاؤن، لاہور میں واقع 51-E میں غامدی صاحب کے سامنے موجود تھے اور یوں لگتا ہے کہ آج بھی وہیں بیٹھے ہیں۔
تاریخ پھر دہرائی گئی۔ جس طرح استاد محترم مولانا اصلاحی کے پاس پہنچے تھے اور انھوں نے ان سے کہا تھا کہ قرآن کا مدعا پانا اگرچہ زیادہ مشکل نہیں، لیکن قرآن شناسی چیز دیگر است۔ اس کے لیے کبھی کبھی انسان کا اپنا سایہ بھی اس کاساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ غامدی صاحب نے چند ہی ملاقاتوں کے بعد جان لیا تھا کہ شہزاد صاحب کی تمناے بے تاب یہ قیمت چکانے کے لیے بھی تیار ہے ۔ اور اس کے بعد سب کچھ تاریخ ہے ۔
یہ وہ دور تھا جب 1982ء میں فورٹریس اسٹیڈیم کی ایک دکان سے چلنے والا دانش گاہ معارف اسلامی المورد کا قافلہ جگہ جگہ پڑاؤ ڈالتا، زمانے کی گردشوں کو سہتا ،معاشرے کی بے اعتنائی سے نبردآزما ہوتے ہوتے ذرا تھک کر کچھ دیر سانس لینے رک چکا تھا ۔ اس دور سے ساتھ چلنے والے ہم سب دوستوں کی باقاعدہ کلاسز بے قاعدہ ہو چکی تھیں ۔اور ہر کوئی اپنے اپنے مورچے میں پناہ لے چکا تھا ۔
خدا کی قدرت دیکھیے کہ انھیں دنوں کچھ دیگر بلند ہمت اور با صلاحیت طالب علم بھی شہزاد سلیم صاحب کے ساتھ ہی اس تازہ دم دستے کے ساتھ آئے تھے ۔ان میں برادرم معز امجد ، جناب آصف افتخار اور جناب رؤف حیدر کے نام بہت نمایاں ہیں ۔
مجھے یاد ہے کہ ہم پرانے دوستوں میں شہزاد صاحب کی اس دبنگ آمد کا خاص چرچا ہوا اور مجھے ان سے خصوصی طور پر ملاقات کا بہت اشتیاق ہوا۔ میں ان کے پاس انجینئرنگ یونیورسٹی جا پہنچا ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں انھیں خبردار کرنے گیا تھا ۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ سول انجینئرنگ کے آخری سال میں پڑھنے والا یہ نوجوان اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر آمادہ ہو چکا ہے ۔ میں بھی چونکہ ماضی میں اس طرح کا قدم اٹھا چکا تھا اور اس کے نا خوشگوار نتائج سے گزر رہا تھا ، اس لیے مناسب سمجھا کہ اپنے طور پر انھیں مشورہ دوں کہ اس راہ کے لیے کوئی بھی قیمت اگرچہ زیادہ نہیں، لیکن رکاوٹوں کو بڑھانے کے بجاے انھیں کم کرنے کی حکمت عملی بھی ذہن میں رکھنی چاہیے، مگر شہزاد سلیم کے نہایت پختہ عزم اور بہت اطمینان بخش لائحہ عمل نے مجھے زیادہ بولنے نہ دیا ۔ میں یہ خوش گوار احساس لیے پلٹا کہ رکے ہوئے قافلے کا سفر پھر سے شروع ہونے والا ہے ۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد یہ خبر ملی کہ ا ستاذ محترم جناب جاوید احمد غامدی کو شہزاد سلیم صاحب سمیت نئے آنے والوں کے اخلاص اور صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد ہے ۔ چنانچہ اس تازہ دم دستے کے ساتھ مل کر الطاف محمود مرحوم کے تعاون سے معارف اسلامی المورد نے ایک نئے عزم کے ساتھ منزل مراد کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔الطاف صاحب غامدی صاحب کے دیرینہ دوست تھے اور دینی کاموں میں بہت کھلے دل سے مالی تعاون کرتے تھے ، یہاں تک کہ وہ اس مقصد کے لیے قرضہ بھی اٹھا لیتے تھے ۔ ’’المورد‘‘ کے علمی قافلے کے دوبارہ آغاز میں ان کے ساتھ معز امجد ، آصف افتخار اور دیگر تازہ دم احباب بھی ساتھ تھے ۔اسی دور کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مضمون ’’قافلہ در قافلہ ‘‘ میں استاذ محترم اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’87ء کے بعد ابتلا اور تعطل کا ایک زمانہ اِس (المورد )پر بھی گزراہے، مگر 1991ء میں ہمارے دوست الطاف محمود کی مساعی سے اِس کے احیا کے بعد، اللہ کا شکر ہے کہ اِس کے کاموں میں کبھی کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔‘‘
ایچی سن کالج میں تعلیم کی وجہ سے شہزاد صاحب کی انگریزی زبان میں مہارت نے ’’المورد‘‘ کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ شہزاد سلیم نے انگریزی جریدے ’’ رینی ساں‘‘ کا اجرا کیا۔ یہ 1990ء کا زمانہ تھا ۔ اگرچہ معز امجد اور آصف افتخار بھی انگریزی کا تعلیمی پس منظر رکھتے تھے، لیکن پروردگار کی مشیت اور ان کی یہ حالت کہ
جذبۂ بے اختیار ِشوق دیکھا چاہیے
سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
یہ سہرا شہزاد سلیم کے سر باندھنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔ نہ صرف ’’رینی ساں‘‘، بلکہ انھوں نے استاد محترم کی ساری کتب کو انگریزی زبان میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ چند تصانیف کو چھوڑ کر شاید ہی استاد محترم کی کوئی تصنیف ایسی ہو جس کا ترجمہ انھوں نے نہ کیا ہو۔ ’’میزان‘‘ ، ’’البیان‘‘، ’’الاسلام‘‘ وغیرہ۔ یہ پورے ایک ادارے کا کام تھا جو شہزاد صاحب نے تن تنہا کر ڈالا۔ عربی اور فارسی میں بھی اسی درجے کی مہارت حاصل کی جس سے انھیں یہ سارا کام کرنے میں بہت مدد ملی۔ طلب علم میں انھوں نے استاد محترم کی شاگردی اور رہنمائی میں علم کی ساری وادیاں قطع کر ڈالیں ۔
شہزاد صاحب اب ’’المورد‘‘ کے ناظم اعلیٰ بن چکے تھے ۔ اور ان کی سرکردگی میں مادر علمی بھر پور طریقے سے اپنا کام شروع کر چکی تھی ۔میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اسی دور میں ’’المورد‘‘ علوم اسلامیہ کی ایک جدید یونیورسٹی کا روپ دھارتی نظر آتی تھی ۔ بہت سارے نئے طلبہ اس کے ساتھ جڑ چکے تھے۔ انھی میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر محمد عامر گزدر کاہے ۔ان کی نظامت کے دوران میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے کتنے ہی باب رقم ہوئے۔ ان کا احاطہ کرنے کے لیے پوری ایک کتاب کے صفحات درکار ہوں گے ۔ استاد کی علمی وراثت کو سمیٹتے ہوئے انھوں نے اپنا تحقیقی کام بھی جاری رکھا۔ ویلز یونیورسٹی یو کے سے تاریخ قرآن پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جو اب کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم سے بڑھ کر کون یہ جانتا ہو گا کہ شبلی و فراہی کے جاری کردہ اس قافلے کو امین احسن نے ’’تدبر قرآن‘‘ کے ذریعے سے تناور درخت کی شکل دی تھی۔ اور جاوید احمد غامدی صاحب نے اس کی نشوونما بھی کی اور اس کی داشت پرداخت کرکے ان بزرگوں کے اس خواب کو پورا کرنے کی ہر ممکن سعی کی کہ علم و عرفان کا یہ قافلہ پیچھے کی طرف چلتا جائے ، چلتا جائے حتیٰ کہ دوبارہ صحابہ کے دور میں مل جائے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں صحابہ کے لیے دین کا مقصد تزکیۂ نفس تھا۔ اور آج جس طرح آشناے حرم استاد محترم کی طرف دیکھتے ہوئے اس حیرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کا علم بڑا ہے یا ان کا کردار ، اسی طرح شہزاد صاحب نے بھی اپنے استاد کی اسی روایت کو آگے بڑھایا ہے ۔ وہ اس علمی قافلے میں بہت سے لوگوں سے بعد میں شریک ہوئے تھے، لیکن وہ سب سے آگے بڑھ گئے تھے۔ اور اتنا بڑھے کہ کسی کو انکار کا یارا نہیں ۔ یہ سبقت علم اور تنظیم ہی میں نہیں تعلق خاطر میں بھی ہے۔ ادارے کے سینئر رفقا سے لے کر عام کارکن تک ان کی لیڈر شپ کو ایک خادم صادق کے روپ میں دیکھتے ہیں ۔ وہ ہر اس بندے کا دکھ ، تکلیف اور مشکل کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے جس کا انھیں علم ہوا ہو اور جس تک ان کی رسائی ہوئی ہو۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کی نظامت اسی حادثے کے اثرات کے تحت ختم ہوئی جس کا میں نے آغاز میں ذکر کیا تھا۔ فوجی اقتدار کا عشرہ اپنے مہلک اثرات دکھانے لگا تھا۔ جہادی کلچر دہشت گردی کے اژدہا کا روپ دھار گیا تھا اور اس اژدہے کا سب سے پہلا اور سب بڑا دشمن وہی فکر و شعور تھا جس کے پاس اس کا سب سے موثر جواب تھا۔ادارہ المورد !
اپنے چار رفقا کو خون میں نہلانے کے بعد استاد محترم کی زندگی بھی خطرے پڑ گئی ۔ وہ اپنا مورچہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے، مگر دشمن اتنا کم ظرف اور بے اصولا تھا کہ وہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پیسنے پر آمادہ تھا۔تب استاد محترم کو ہجرت کرنا پڑی ۔ اس حادثے کے بعد ’’المورد‘‘ ایک نئے روپ اور نئے رنگ کے ساتھ سامنے آیا۔ دشمن نے اس کے لیے زمین تنگ کی تھی، لیکن پروردگار نے اس کے لیے آسمان کھول دیا۔ ’’المورد‘‘ اب دنیا کے پانچ بر اعظموں میں اللہ کے دین کی آواز بن چکا ہے۔ شہزاد سلیم صاحب استاد محترم کے بعد واحد اسکالر ہیں جن کی المورد کے ہر ادرے سے وابستگی ہے ۔ وہ ہر ادارے کی آنکھ کا تارا ہیں ۔ ’’المورد‘‘ امریکہ اور جی سی آئی ایل نے ان کی بے پناہ خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دنیے کے لیے جو مجلس آراستہ کی ، یہ ان کے لیے محبت کا ایک ٹوکن ہے ۔ ڈاکٹر عمار خاں ناصر نے کیا خوب کہا ہے کہ یہ اس ایوارڈ کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ڈاکٹر سلیم شہزاد کے دامن میں آراستہ ہوا ہے !
اس موقع پر ایک نثری نظم ان کی نذر :
عمر بھر کی لگن
تم نے حق کو دل و جاں سے پکارا،
آیات کے سمندر میں
روح کا سہارا ڈھونڈا۔
وفا کی تلاش میں گزری عمر،
ہر موڑ پر قرآن نے
تمھارے قدموں کو روشنی دی۔
آزمایشوں کی آندھیاں چلتی رہیں،
مگر تمھارا چراغ نہ بجھا،
یقین کی شمع
اندھیروں کے مقابل ڈٹی رہی۔
یہ کلامِ الٰہی
تمھارے لیے صبح کا اُجالا بنا،
ہر تاریکی میں
سحر کی کرن بن کر اُبھرا۔
تمھاری آنکھوں کی بصیرت نے
دلوں کو سکون دیا،
تمھاری لگن نے
محبت کو جنون بنایا۔
دعا ہے
تم ہمیشہ روشنی میں گام زن رہو،
قرآن کا نور
تمھارے دل و جاں کو
ہمیشہ منور رکھے۔