مواد پر جائیں

قاری یا صاحب ِ قرآن

محمد ذکوان ندوی اردو

[زیر نظر مقالہ اِس سے قبل ماہنامہ ’’اشراق‘‘ ہند (مئی 2022ء) میں شائع ہو چکا ہے۔ اب ماہِ رمضان المبارک کی نسبت سے، اِسے مزید اضافے کے ساتھ دوبارہ شائع کیاجارہا ہے۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن آپ کی سیرت اور آپ کا عملی اُسوہ تھا: ’کان خُلُقُ رسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم القرآن‘ (مسند احمد، رقم 25813)، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآنی ہدایات کے عین مطابق تھے۔ قرآن ہی آپ کی پسند و ناپسند اور آپ کے قول و عمل کا معیار بن گیا تھا۔گویا آپ صرف قاری نہیں، بلکہ خود ایک زندہ قرآن تھے۔

سیرت ِ رسول کے مطابق، قاری وہ ہے جو کتاب اللہ کی رہنمائی میں چل کر خود ایک چلتا پھرتا قرآن بن جائے۔یہی وجہ ہے کہ عہد ِ رسالت میں آج کل کی طرح محض تجوید اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کو ’’قاری‘‘ نہیں سمجھا جاتا تھا۔اُس وقت ’’قاری‘‘سے مراد قرآن کے الفاظ و معانی کا عالم اور اُس کے حدود کو ملحوظ رکھ کر زندگی گزارنے والا انسان تھا۔

قاری کا اصل مفہوم

چنانچہ حافظ ا بن حجر عسقلانی (وفات: 852 ہجری)کتاب ’’فضائل القرآن‘‘ (بَابُ القُرّا ءُ مِنْ أصْحابِ رسُول ِ اللّٰہ صَلی اللّٰہُ علیہ وسلّم) میں لفظ ’القُرّاء‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’أي الذین اشتھروا بحفْظِ القرآنِ والتصَدّ ِيْ لِتعْلیمِہ. وھذا اللفظُ کان في عُرْفِ السّلَفِ أیضاً لِمَنْ تفقّہ فيْ القرآن‘ (فتح الباری 9/60)، یعنی ’ قاری‘ یا ’قراء ‘ سے مراد حفظ ِقرآن اور اُس کی تعلیم و تعلم میں منہمک رہنے والے حضرات ہیں۔نیز ’ قاری‘ یا ’قراء ‘ کا یہ لفظ اِسی طرح سلف کے درمیان اُس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو قرآن میں تفقہ کا درجہ رکھتا ہو۔

قرآن کے علم وعمل کو اُس سے الگ کرکے محض تجوید اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کے لیے ’قاری‘ کی اصطلاح ایک مبتدعانہ اصطلاح ہے، جو رسول اور اصحاب ِ رسول کی زندگی میں بالکل ایک اجنبی ظاہرے کی حیثیت رکھتی تھی۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی( وفات: 1176ہجری) نے قرآن میں تفقہ کے بجاے تجوید و قراءت میں غیر ضروری انہماک (تعمّق الناس في تجوید القرآن) کو دورِ آخر کے فتنوں میں سے ایک فتنہ قرار دیتے ہوئے باقاعدہ ایک عنوان قائم کرکے اُس کے تحت اِس ظاہرے پر نکیر کے لیے چند اقوالِ رسول نقل کیے ہیں۔ مثلاً ذیل میں درج ایک روایت ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے۔ ہمارے درمیان عجمی اور بدو لوگ بھی تھے۔اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو میں آپ نے فرمایا: ’اقرؤوا فکُلّ حَسَن، وسَیَجِيْئُ أقوامٌ یُقیمُونہ کما یُقام الْقِدْحُ، یتعجّلونہ ولا یتأجّلونہ‘ (ابوداؤد، رقم 830)، یعنی پڑھو، سب ٹھیک پڑھ رہے ہیں۔ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو قرآن کے حروف کو تیر کے مانند ٹھیک کریں گے۔ اِس قراءت سے اُن کا مقصد محض دنیا کا حصول ہوگا۔ وہ اِس سے اجر ِ آخرت کے امید وار نہ ہوں گے (ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء 1 /203)۔

قرآن میں تفقہ کے بجاے تجوید وقراء ت میں غیر ضروری انہماک پر روشنی ڈالتے ہوئے امام ابوحامد الغزالی(وفات:505ہجری)اپنی کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘میں فرماتے ہیں :

وحجب الفہم أربعۃ: أولہا أن یَکونَ الْہَمُّ مُنْصَرِفًا إِلَی تَحْقِیقِ الْحُرُوفِ بإخراجہا من مَخَارِجِہَا، وَہَذَا یَتَوَلَّی حِفْظَہُ شَیْطَانٌ وُکِّلَ بِالْقُرَّاءِ لِیَصْرِفَہُمْ عَنْ فَہْمِ مَعَانِي کَلَامِ اللّٰہِ عَزَّ وجل، فلا یزال یَحمِلہم علی تردیدِ الحَرْفِ یُخَیِّلُ إِلَیْہِمْ أنَّہ لَمْ یَخْرُجْ مِنْ مَخْرَجِہ. فَہَذَا یَکُونُ تَأمُّلُہ مَقْصُورًا عَلَی مَخَارِجِ الْحُرُوفِ فأنَّیٰ تَنْکَشِفُ لَہُ الْمَعَانِي؟ وَأعْظَمُ ضُحْکَۃٍ لِلشَّیْطَانِ مَنْ کان مُطیعًا لِمِثْلِ ہذا التلبیسِ. (1/669)

’’فہم قرآن کے راستے میں چار رکاوٹیں حائل ہیں، اِن میں سے ایک یہ ہے کہ ساری توجہ حروف کو مخارج سے نکالنے کی طرف مبذول کردی جائے۔ اِس عمل کا ذمے دار ایک شیطان ہے جو اِن قاریوں پر مسلط کردیاگیاہے، تاکہ وہ اُنھیں قرآن مجید کے معانی کو سمجھنے کے بجاے دوسری طرف پھیر دے، چنانچہ وہ مسلسل اِن قاریوں کو حروف کے باربار اداکرنے کی طرف پھیرتا رہتاہے اور باربار یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ یہ حرف اپنے مخرج سے نہیں نکلا۔ ایسی حالت میں، جب کہ قاری کی تمام تر توجہ محض مخارجِ حروف پر مبذول ہوکررہ جائے تو پھر اُس پر قرآن کے معانی کس طرح منکشف ہوسکتے ہیں؟ ایسا شخص جو شیطان کی طرف سے پیداکردہ اِس قسم کے فریب میں مبتلاہوجائے، وہ شیطان کے لیے صرف ایک عظیم مضحکہ بن کر رہ جاتاہے۔ ‘‘

قرآن کی مطلوب قراء ت

خوش الحانی یا حسن ِصوت ہرگز کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ اِس کا اہتمام مطلوب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’زَیِّنُوا القرآنَ بأصْواتِکم‘ (ابو داؤد رقم1468)، یعنی اپنے حسن ِصوت کے ذریعے سے تلاوت ِ قرآن کو خوب صورت بناؤ۔

البتہ، اللہ اور اُس کے رسول کے نزدیک وہی خوش الحانی مطلوب ہے جو مصنوعی نہ ہو، جس میں خود پڑھنے والے کی شخصیت شامل ہوگئی ہو، جس میں محض اداے مخارج اورعجمی اِشباع کے بجاے خون ِدل و جگر سے نوا کی پرورش کی گئی ہو اور رگِ ساز میں خود صاحب ِ ساز کا لہو رواں دکھائی دے رہاہو۔

چنانچہ طاؤس بن کیسان تابعی(وفات: 106ہجری)کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اچھی آواز او ر بہترین تلاوت کس کی ہے؟آپ نے فرمایا: ’مَنْ إذا سَمِعْتَہ یَقْرأ، أُرِیْتَ أنّہ یَخْشَی اللّٰہَ‘(سنن الدارمی، رقم 3490)، یعنی سب سے اچھی تلاوت اُس قاری کی ہوتی ہے، جس کو تم پڑ ھتے ہوئے سنو تو محسوس ہو کہ اُس پر اللہ کا خوف طاری ہے۔گویا یہی وہ علما اور قراء ہیں جن کے متعلق ارشاد ہوا ہے: ’إنّھُم إذا رُؤوْا، ذُکِرَاللّٰہُ‘ (تخریج المسند، شعیب الارنوؤط، رقم 27599)، یعنی وہ سچے اہل ایمان جنھیں دیکھ کر خدا یاد آجائے۔

تغنی بالقرآن

اِس سلسلے میں احادیث و آثار کی مختلف روایتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ایک ارشاد اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے: ’لیسَ منّا مَنْ لمْ یتغنَّ بالقراٰن‘ (بخاری، رقم 7527)، یعنی جو شخص قرآن کو پاکر بھی غنی نہ ہو سکا، وہ ہم میں سے نہیں۔

اِس ارشادِ رسول کا عام مطلب محض خوش الحانی لیا گیا ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں جو چیز زیر بحث ہے، وہ صرف خوش الحانی نہیں، بلکہ قرآن کے ساتھ گہرا فکری اور عملی تعلق ہے۔

اِس روایت کی درست تشریح وہ ہے، جو سفیان ابن عیینہ تابعی کی نسبت سے بیان کی گئی ہے۔ اُن کے نزدیک اِس ’استغناء‘ سے مراد ایک خاص قسم کا استغنا (استغناءٌ خاصٌ) ہے، یعنی ہدایت کے معاملے میں قرآن کے سوا ہر دوسری چیز سے آدمی کا بے نیاز ہو جانا (وأنہ یستغني بہ عن غیرہ من الکتُب)۔

اِس روایت کی تشریح کے ذیل میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے: ’فیکون معنی الحدیث: الحَثُّ علٰی مُلازمۃِ القراٰنِ وأن لا یتعدّیٰ إلٰی غیرِہ‘ (فتح الباری،کتاب: فضائل القرآن، باب مَن لم یتغنّ بالقرآن)،یعنی حدیث کا مطلب ہو گا: گہری وابستگی کے ساتھ پورے دل وجان سے قرآن مجید کو لازم پکڑ لینا اور اُس سے آگے تجاوز نہ کرنا۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اور اصحاب ِ رسول کے دور میں قاری یا عالم سے مراد معروف قاری یا عالم نہیں ہوا کرتے تھے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (وفات: 58 ہجری) بیان فرماتی ہیں کہ ’مَن أخَذ السبْعَ الأُوَلَ مِنَ القرآن فھو حَبْرٌ‘ (تخریج المسند، رقم 24531)، یعنی جس شخص نے قرآن کی ابتدائی سات سورتوں––البقرہ تا الاعراف –– کا علم حاصل کرلیا، وہ قرآن کا بڑا عالم شمار ہوگا۔

سیدنا حسن بصری (وفات: 110 ہجری) فرماتے ہیں: ’وأھلُ القرآن: ھُم الذین یتلونہ حقَّ تلاوتہ، وھمُ العاملون بما فیہ، وإنْ لمْ یَحْفظُوہ عنْ ظَھْرِ قلبٍ‘ (کتاب الزہد، ابن المبارک 274)، یعنی سچے قراء وہی ہیں جو قرآن کی تلاوت کا حق ادا کریں؛جو اُس پر عمل کریں، خواہ انھوں نے پورے قرآن کو حفظ نہ کیا ہو۔

اِسی طرح انھوں نے فرمایا: ’إنّ أولی الناسِ بھذا القرآن ِمَن اتَّبعہ، وإنْ لم یکنْ یقرؤہ‘ (فضائل القرآن، ابو عبید 136)، یعنی قرآن مجید سے نسبت کا سب سے زیادہ حق دار وہی شخص ہے جو اُس کی اتباع کرے، خواہ اُس نے (قراء کی طرح)قرآن نہ پڑھا ہو۔

حافظ ابن القیم (وفات: 751 ہجری ) لکھتے ہیں: ’وأما مَنْ حفظہ ولم یعملْ بما فیہ، فلیسَ مِنْ أھلِہ، وإن أقام حروفَہ إقامۃَ السّھم‘، یعنی جس شخص کا حال یہ ہو کہ اُس نے قرآن مجید کو حفظ کیا، مگر اُس پر عمل نہ کیا تو ایسا آدمی قاری یا صاحب ِ قرآن کہلائے جانے کا مستحق نہیں، خواہ وہ تیر کی طرح قرآن کے حروف ومخار ج کو درست کرکے اُس کی تلاوت کررہا ہو(زاد المعاد1/328)۔

قراء ت اور’ صاحب ِ قرآن‘ کے اوصاف

٭ ’صاحبُ القرآن: ھو الذي یَقْرَء ہ ویعملُ بہ، ولیسَ الذي یَقْرَء ہ فقط، دُونَ أن یَعْمَلَ بہ‘ (شرح ابی داؤد، عبد المحسن العباد 3/ 177)، یعنی ’ صاحب ِ قرآن ‘ سے مراد و ہ شخص ہے، جو اُسے پڑھے اور اُس پر عمل کرے۔ صرف بے عمل قاری ’ صاحب ِ قرآن ‘ نہیں ہوسکتا۔

٭ ’قارِئُہ حَقَّ قراءتہ، بتلاوتہ وتدبُّرِ مَعناہ‘ (فیض القدیر، مناوی 2/ 505)، یعنی قاری سے مراد تلاوت اور اُس کے معانی پر غوروفکر کرتے ہوئے کتاب اللہ کے شایانِ شان پڑھنے والا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ صرف الفاظ کے قاری ہوں، وہ سیدنا حسن بصری کے اِن الفاظ کا مصداق قرار پائیں گے: ’حَفِظوا حُروفَہ و ضَیّعوا حُدودَہ‘ (تفسیر النسفی 4/ 38)، یعنی الفاظِ قرآن کے حافظ، مگر اُس کے حدود و فرائض کو ضائع کرنے والے۔ اِسی طرح سیدنا حسن بصری نے فرمایا: ایک شخص کہے گا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا، حالاں کہ اُس کے کردار و عمل میں قرآن کا کوئی بھی اثر دکھائی نہیں دے گا (حتّیٰ إنّ أحدَھم لَیقول: قرأتُ القرآنَ کُلَّہ، وما یُری لہ القرآن في خُلُق، ولا عمَلٍ. تفسیر ابن کثیر4/43)۔

٭ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ (وفات: 65 ہجری) کے مطابق، آپ نے فرمایا: ’اقْرَأ القرآنَ مَا نَھَاک عنہ، فإذا لمْ یَنْھکَ، فلَسْتَ تَقْرَؤُہ‘ (الطبرانی، رقم 14543، مسند الشہاب،رقم 392)، یعنی قرآن کو اِس طرح غوروفکر کے ساتھ پڑھو کہ وہ تم کو اللہ کی نا فرمانی سے روک دے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر گویا تم نے قرآن کو پڑھا ہی نہیں۔

چنانچہ قراے صحابہ اور اصحاب ِ رسول کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیات سیکھتے اورجب تک اِ ن آیات پر پوری طرح عامل نہ ہوجاتے، اُس وقت تک ہرگز اِس سے آگے نہ بڑھتے تھے: ’کان الرّجلُ منّا إذا تَعلّمَ عَشرَ آیاتٍ لمْ یُجاوِزْھنّ، حتیّ یَعرِفَ معانیھنّ والعملَ بھنّ‘ (طبقات ابن سعد 6/172، سیراعلام النبلاء، الذھبی 4/269)۔

٭ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (وفات:93 ہجری ) کی روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا: ’یَخرجُ قومٌ في آخِرِ الزمان، یقرؤون القرآنَ، لا یُجاوِزُ تراقِیَھُمْ‘ (صحیح الجامع، رقم 8054)، یعنی دورِ آخر میں کچھ لوگ اٹھیں گے۔وہ قرآن کو پڑھیں گے، مگر وہ اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا (وہ قرآن سے محض الفاظ کے درجے کا تعلق رکھیں گے، وہ اُسے اپنے قول و عمل کا حصہ نہیں بنائیں گے )۔

٭ صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ (وفات: 38 ہجری) کے مطابق، آپ نے فرمایا: ’ما آمنَ بالقرآن مَن اسْتَحَلَّ مَحارِمَہ‘ (تخریج مشکوٰۃ المصابیح، ابن حجر 2/397)، یعنی جو شخص قرآن کے ممنوعات ومحرمات سے اپنے آپ کو نہ روکے، وہ اُس کا مومن نہیں۔

٭ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (وفات:31 ہجری)نے ایک حافظ ِ قرآن کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’إنّما جَمعَ القرآنَ مَنْ سَمِعَ لہ وأطاعَ‘(فضائل القرآن، ابو عبید 133)، یعنی یادرکھو، قرآن کو اُسی شخص نے اپنے سینے میں جمع کیا، جس نے اُس کی بات سنی اور اُس کی پیروی اختیار کی۔

٭ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی ا للہ عنہ (وفات: 73 ہجری) فرماتے ہیں: ’کان الفاضلُ مِنْ أصحابِ رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في صَدْرِ ھذہ الأمۃ، ِلا یَحفظُ منَ القرآنِ إلا السُورۃَ منَ القرآنِ و نَحْوَھا، ورُزِقوا العَمَلَ بالقرآن. وإنّ آخِرَ ھذہ الأمۃِ یَقرؤوْنَ القرآنَ، منھمُ الصَّبِیُّ والأعمیٰ، ولا یُرْزَقونَ العَمَلَ بہ‘ (مقدمۃ الجامع لاحکام القرآن، القرطبی 1/39)، یعنی اِس امت کے دورِ اول (ابتداے اسلام ) میں فضلاے صحابہ کا بھی یہ حال تھا کہ اُنھیں صرف ایک سورہ یا اِس کے برابر ہی قرآن کا کوئی حصہ یاد ہوا کر تا تھا، مگر اُنھیں قرآن پر عمل کی توفیق حاصل تھی۔ اِس کے برعکس، اِس امت کے دورِآخر میں پیدا ہونے والے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ اُن کے بچے اور نابینا افراد بھی قرآن کو پڑھیں گے، مگر اِس کثرت کے ساتھ قرآن پڑھے اور پڑھائے جا نے کے باوجود وہ قرآن پر عمل کی توفیق سے محروم رہیں گے۔

٭ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی ا للہ عنہ فرماتے ہیں: ’إنّا صَعُبَ علینا حِفْظَ ألفاظِ القرآن، وسَھُلَ علینا العملُ بہ. وإنّ مَنْ بَعْدَنا، یَسْھُلُ علیھمْ حفظَ القرآن ِ ویَصْعَبُ علیھمُ العَمَلَ بہ‘(مقدمۃ الجامع لاحکام القرآن، القرطبی 1/40)، یعنی ہم اصحاب ِ رسول کے لیے قرآن کو حفظ کرنا مشکل اور اُس پر عمل کرنا آسان تھا۔مگر اِس کے برعکس، ہمارے بعد کے مسلمانوں کے لیے قرآن کو حفظ کرنا آسان اور اُس پر عمل کرنا مشکل ہوجائے گا۔

٭ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (وفات: 40 ہجری)سے مروی ایک طویل روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا: ’…ولایَدَعُ القرآنَ رغبۃً عنہُ إلیٰ ما سِوَاہُ . . .ألا، لاخیرَ فيْ قراء ۃٍ لیسَ فیھا تدبُّرٌ ‘ (جامع بیان العلم، ابن عبد البر 2/811)، یعنی سچا قاری اور فقیہ وہ ہے جو قرآن سے بے رغبتی اختیار کر کے اُس کے سوا کسی اور چیز کی طرف متوجہ نہ ہو۔یادرکھو، اُس قراء ت (تلاوت) میں کوئی خیر نہیں، جس میں تدبر شامل نہ ہو۔

٭ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ (وفات: 52 ہجری) کی روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا: ’مَنْ قَرَأ القرآنَ فلْیسْألِ اللّٰہَ بہ، فإنّہ سَیَجِيْئُ أقوامٌ یقرؤون القرآنَ، وَیَسْألون بِہ الناسَ‘ (ترمذی، رقم 2917)، یعنی جس شخص نے قرآن مجید کا علم حاصل کیا، اُسے چاہیے کہ وہ اُس کے ذریعے سے اللہ سے مانگے۔ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو پڑھیں گے، مگراُس کے ذریعے سے وہ لوگوں سے محض دنیا طلب کریں گے۔

٭ مشہور تابعی سیدنا سفیان بن عیینہ (وفات: 198 ہجری) نے فرمایا: ’مَنْ أعطيَ القرآن فمدّ عینیہ إلی شئٍ ممّا صغّر القرآنَ، فقد خالفَ القرآن‘ (شرح صحیح البخاری، ابن بطّال 10/264)، یعنی جس شخص کو قرآن مجید کا علم عطا ہو، اِس کے باوجود وہ اُن چیزوں کی طرف نگاہ اٹھاکر دیکھے جو قرآن کی تصغیر کررہی ہوں تو اُس نے قرآن مجید کی مخالفت و تصغیر کی۔ اتنا کہہ کر انھوں نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا: ’وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلیٰ مَامَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدّنیا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّابقیٰ‘، یعنی اِن منکرین کے بعض گروہوں کو دنیوی زندگی کی رونق کا جو سامان اُن کی آزمایش کے لیے ہم نے دے رکھا ہے، تم اُس کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھو اور یاد رکھو کہ تمھارے پروردگار کا رزق ہی تمھارے لیے زیادہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے (طٰہٰ 20: 131)۔

٭ سیدنا حسن بصری فرماتے ہیں کہ’’ جو لوگ قرآن کے حروف کو اچھی طرح پڑھتے اور اُس کے حدود و فرائض کو ضائع کرتے ہیں، وہ ہرگز قراے قرآن کہلانے کے مستحق نہیں۔اللہ کی قسم، ایسے لوگ نہ قراے قرآن ہیں، نہ علماے قرآن، نہ حکماے قرآن اور نہ متقی و پرہیز گاراہل ایمان۔ میری دعا ہے کہ اللہ ہمارے درمیان ایسے’ قراء ‘ کی تعدادہرگز نہ بڑھائے: ’… مَا ھؤلاءِ بِالْقُرّاءِ، وَلاالْعلماءِ، وَلا الْحُکَماءِ، وَلا الْوَرِعۃ. لاکثَّرَ اللّٰہُ فيْ الناّسِ مِنْ ھؤلاءِ‘ (فضائل القرآن، ابو بکر جعفر بن محمد الفریابی 177)۔

٭ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (وفات: 32 ہجری) نے فرمایا: ’ینبغي لِحامِلِ القرآن أن یُعْرَفَ بِلیلِہ إذا النّاسُ نائمون، وبِنھارِہ إذا النّاسُ مُفْطِرون، وبِوَرَعِہ إذا النّاسُ یَخْلِطون، وبِتواضُعہ إذا النّاسُ یَخْتالُون، وبِحُزْنہ إذا النّاسُ یَفْرَحُون، وبِبُکائِہ إذا النّاسُ یَضْحَکون، وبِصَمْتِہ إذا النّاسُ یَخُوضُون‘(کتاب الزہد، احمد بن حنبل162۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 36734)، یعنی لوگوں کے درمیان ایک قاری اور اصل حامل ِقرآن شخص کی پہچان یہ ہونی چاہیے کہ ـــــ وہ اللہ کے سامنے راتوں کو کھڑا ہو،جب کہ لوگ سورہے ہوں؛ وہ دن میں روزہ دارانہ زندگی گزارے،جب کہ لوگ بے روزہ ہوں؛وہ پرہیزگارانہ زندگی اختیار کرے، جب کہ لوگ غیر محتاط ہوں؛ وہ تواضع کا طریقہ اپنائے، جب کہ لوگ غیر متواضع ہوں؛ وہ غمگین ہو، جب کہ لوگ خوش ہوں؛وہ رورہا ہو، جب کہ لوگ ہنس رہے ہوں؛وہ سنجیدگی اور خاموشی کی روش اختیار کرے،جب کہ لوگ فضول باتوں میں مصروف ہوں۔

خلاصۂ کلام

مذکورہ ارشادات سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا سچا قاری وہی ہے جوصرف اُس کے الفاظ کا قاری نہیں،بلکہ اپنے قول وعمل کے اعتبار سے خودایک زندہ قرآن بن جائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اِس وقت ہم فتنوں کے تاریک ترین دور سے گزررہے ہیں۔ایسی حالت میں اُن سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ہم مضبوطی کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑ لیں، جیسا کہ فتنوں کی کثرت کا ذکرسن کر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اِن فتنوں سے بچنے کا راستہ صرف ایک ہوگا اور وہ ہے:اللہ کی کتاب، قرآن مجید کے ساتھ گہرا قلبی تعلق (…فَمَا المَخْرَجُ منہا یارَسولَ اللّٰہ؟ قال:کتابُ اللّٰہ. مسند البزار، رقم 772)۔

آخر میں ہم اِس سلسلے کی ایک اور پیغمبرانہ نصیحت پراِس تحریر کو ختم کریں گے۔ مختلف روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ (وفات: 36 ہجری) کو تین بار تاکیدی انداز میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’یا حُذیفۃ، علیکَ بکتابِ اللّٰہ، فتَعَلَّمْہ، واتّبِعْ مافیہْ خیرًا لک‘ (ابن حبان، رقم 117)، یعنی اے حذیفہ، اللہ کی کتاب کو لازم پکڑ لو۔ اُسے اچھی طرح سیکھو اور اُس کی تعلیمات کا اتباع کرو۔یہی تمھارے لیے بہتر ہوگا۔

قرآن مجید کے ساتھ تذکیر وتلاوت، دعوت وعمل اور تدبر وتفکر، نیز صاحب ِ قرآن سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتباع ومحبت کے سوا، اب ہمارے لیے ہدایت ونجات کا کوئی اور راستہ نہیں۔ قرآن ہی وہ روشن چراغ ہے، جس کی رہنمائی میں ہم فتنوں کی اِس سیاہ تاریکی اور التباس کے اِس جنگل سے نکل کر خدا کی واضح اور روشن صراطِ مستقیم پر گام زن ہو سکتے ہیں۔

قرآن مجید کے سوا،کسی اور شخص یا کسی اور ماخذ سے خدا کی ہدایت تلاش کرنے والے کے لیے جو چیز مقدر ہے، وہ صرف بے راہی وضلالت ہے، نہ کہ پروردگارِ عالم کی سچی ہدایت اوراُس کا مطلوب راستہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی حقیقت کا اظہاراِن پیغمبرانہ الفاظ میں فرمایا تھا: ’مَن ابْتَغیَ الھُدیٰ مِنْ غَیرِہ، أضلّہ اللّٰہُ‘ (ترمذی، رقم 2906)۔