مواد پر جائیں

قبرستان کی سیر

ثاقب علی اردو

(یہ مضمون میرے مطالعے اور مشاہدے پر مبنی ہے، جسے تحریری

شکل دینے میں AI (ChatGPT) سے معاونت لی گئی ہے۔)

[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

کچھ دن پہلے مجھے ایک بڑا قبرستان دیکھنے کا موقع ملا، جس میں ارد گرد کے کئی گاؤں کے لوگ یہاں اپنے مرحومین کو دفناتے ہیں۔ چلتے چلتے میں وہاں موجود کچھ قبروں کی تختیاں پڑھنے لگا۔ ان میں بعض لوگوں کی وفات کو چالیس یا پچاس سال گزر چکے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ تقریباً نصف صدی سے مٹی تلے دفن ہیں۔

میری نظر ایک قبر پر پڑی، جس پر لکھا تھا کہ یہ فلاں میجر صاحب کی قبر ہے۔ ان کے ساتھ ان کی زوجہ کی قبر تھی اور بالکل اسی کے پاس ان کے بیٹے کی قبر بھی تھی، جو خود بھی ایک افسر رہ چکے تھے۔ مزید تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس قبرستان میں کئی ایسی قبریں ہیں، جہاں ایک ہی گھر یا خاندان کے کئی افراد اکٹھے دفن ہیں۔ کسی پر حاجی، کسی پر راجہ، کسی پر کوئی اور منصب لکھا تھا، مگر سب مٹی تلے دفن ہیں۔

یہ ایک طاقت ور یاددہانی تھی کہ چاہے کوئی بادشاہ ہو یا گدا، گورا ہو یا کالا، مرد ہو یا عورت، اپنے کام میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، موت سب کے لیے برابر ہے اور یہ سب کو آنی ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو ہر جگہ ایسے قبرستان ملیں گے جہاں ہر طرح کے لوگ دفن ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبروں کی زیارت فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تمھیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔1ترمذی کی روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں۔ اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے قبر سے زیادہ ہول ناک کوئی چیز نہیں دیکھی۔“2

قبرستان ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی کی ہر گھڑی قیمتی ہے، اسے امتحان سمجھ کر گزارنا چاہیے اور موت کی تیاری کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں اللہ اور موت کی یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے اور آخرکار ہمیں بھی موت کا سامنا کرنا ہے۔

  1. ۔ مسلم، رقم 2259۔
  2. ۔ رقم، 2308۔