مواد پر جائیں

قدیم انساب و روایات

ڈاکٹر خورشید رضوی اردو

عربوں کی قدیم تاریخی اور انسابی روایات کو اگرچہ جدید تحقیقی نقطۂ نظر سے مطعون کیا جاتا ہے لیکن یہ روایات اُن کے ادبی و معاشرتی پس منظر کا ایک جزوِ لاینفک ہیں اس لیے ان سے آشنائی از بسکہ ضروری ہے۔ ان روایات کے مطابق عربوں کی بنیادی تقسیم کچھ یوں ہے:1

عرب بائدہ2 عرب باقیہ

عرب عاربہ عرب مستعربہ

عرب بائدہ: سے مراد وہ قدیم قبائل ہیں جو یکسر نابود ہو گئے اور اُن کی محض کہانیاں باقی رہ گئیں۔ ان میں عاد، ثمود، طسم اور جدیس سرِفہرست ہیں۔ ان کے علاوہ چند اور قبائل، مثلاً: عمالیق (یا عمالقہ)، امیم، عَبیل، اہل وبار، اہلِ مدین اور جُرہم (پہلا طبقہ) وغیرہ کو بھی عرب بائدہ میں شمار کرتے ہیں۔3 بائدہ کے مقابلے میں عرب باقیہ آتے ہیں یعنی وہ قبائل جو بچ رہے اور اُن کی نسل منقطع نہ ہوئی۔ جیسا کہ جدول سے ظاہر ہے ان کی دو قسمیں عاربہ اور مستعربہ ہیں۔

عرب عاربہ: سے جنوبی عرب یعنی اہل یمن مراد ہیں جن کو اُن کے جدِ اعلیٰ ”قحطان“ کی نسبت سے ”قحطانی“ بھی کہا جاتا ہے۔

عرب مستعربہ: سے شمالی عرب مراد ہیں۔ یہ ”عدنان“ کی اولاد ہیں اس لیے ”عدنانی“ کہلاتے ہیں۔

ان میں سے ہر طبقے کے بارے میں کچھ ضروری تفصیلات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

عرب بائدہ

عاد

قوم عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی جس کا ذکر بطورِ عبرت بار بار قرآن پاک میں آیا ہے۔4 ان لوگوں کا مسکن ”احقاف“ کی سرزمین تھی جس کے نام سے چھیالیسویں سورت موسوم ہے۔5 قرآنی آیات کے مطالعے سے ان لوگوں کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ غیر معمولی طور پر قوی ہیکل اور گراں ڈیل تھے۔ جس کسی پر گرفت کرتے، بڑی سخت کرتے۔ اپنی اس طاقت کا اُن میں ایک زعمِ بے جا پیدا ہو گیا تھا اور وہ کہتے تھے: ”مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً“ (’’بھلا ہم سے بڑھ کر طاقت والا کون ہے؟‘‘)۔ بڑے خوش حال اور متمدن تھے۔ فنِ تعمیر میں انھیں بہت اچھی دسترس حاصل تھی چنانچہ نہ صرف بڑی شان و شوکت کے محل اور قلعے تعمیر کرتے تھے بلکہ جابجا پہاڑی دروں میں یا بلند ٹیلوں پر محض تفریحِ طبع یا خوش مذاقی کے نقطۂ نظر سے یادگار عمارتیں بنانا بھی اُن کا مشغلہ تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام کی تمام تر تبلیغ و تذکیر کے باوجود انھوں نے حرفِ ہدایت پر کان نہ دھرا اور اپنے آبائی معبودوں کو ترک کرنا گوارا نہ کیا۔ مزید برآں تکذیب اور اکڑ کا رویہ اختیار کیا۔ نتیجتاً اُن پر ذلیل کر ڈالنے والا عذاب نازل ہوا جس نے اُن کو مکمل طور پر برباد کر کے رکھ دیا اور سوائے ہود علیہ السلام اور اُن کے صحابہ کے کوئی جیتا نہ بچا۔ یہ عذاب ایک حد سے گزر جانے والی تند و تیز ہوا کی صورت میں آیا جسے قرآن پاک میں ”ریح صرصر“ ”تند ہوا“، ”الریح العقیم“ ”بانجھ یعنی بے برکت ہوا“ اور ”ریح فیھا عذاب الیم“ ”ہوا کہ جس میں دردناک عذاب تھا“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن اُن پر مسلط رہی اور انھیں کھجور کے ڈھئے ہوئے تنوں کی طرح پچھاڑ کے رکھ دیا۔6 ہوا کی یہ کیفیت تھی کہ ہر شے کو توڑ پھوڑ کر ڈال دیتی تھی اور جس چیز کی طرف اس کا رُخ ہو جاتا تھا اسے گلی سڑی ہڈی کی طرح بے جان کر کے رکھ دیتی تھی۔ الغرض قومِ عاد کے خالی گھروں کے سوا کچھ باقی نہ بچا۔

ابنِ اثیر نے عاد کی بربادی کے ضمن میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جب انھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی تو اُن پر قحط سالی مسلط کر دی گئی اور بالآخر انھوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مکہ میں بارش کی دعا کے لیے بھیجا۔ دعا کے نتیجے میں تین بدلیاں نمودار ہوئیں: ایک سفید، ایک سُرخ اور ایک سیاہ اور اُن میں سے ندا آئی:

”اے قیل7! اپنے لیے اور اپنی قوم کے لیے انتخاب کرلو۔“

قیل نے سیاہ بدلی چنی کیونکہ اُس کا خیال تھا کہ اُس میں سب سے زیادہ پانی ہوگا۔ اس پر ایک صدائے غیب آئی:

اخترت رمادًا رمددًا. لا تبقی من عاد احدًا. لا والدًا تترک ولا ولدًا. الا جعلتہ ہمدًا.

”تو نے مٹیالی راکھ چنی ہے۔ جو عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑے گی۔ نہ باپ کو نہ بیٹے کو۔ سب کو بے حس و حرکت کر کے ڈال دے گی۔“

پھر یہ سیاہ بدلی خدا کے حکم سے قومِ عاد کی طرف چلی اور اس میں سے وہ تند ہوا نکلی جس نے قومِ عاد کے نافرمانوں کو ہلاک کر ڈالا۔8

ابنِ اثیر کی اس روایت کی کڑیاں قرآن پاک کی اس آیت سے ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں:

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ

مُّمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ رِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ.9

”سو جب انھوں نے اُسے دیکھا کہ ایک بادل ہے جو اُن کی وادیوں کا رُخ کیے ہوئے ہے تو بول اُٹھے کہ یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسائے گا۔ (نہیں!) بلکہ یہ وہ شے ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ ہوا، جس میں دردناک عذاب (بھرا ہوا) ہے۔“

قرآن پاک کی آیت ”وَ اَنَّہٗۤ اَہۡلَکَ عَادَاۨ الۡاُوۡلٰی“10 سے بعض لوگوں نے یہ استنتاج بھی کیا ہے کہ ”عادِ اولیٰ“ کے مقابلے میں ”عادِ ثانیہ“ یا ”عادِ اخیرہ“ یا ”عادِ اُخریٰ“ بھی کوئی قوم تھی۔ ایک قیاس یہ ہے کہ قومِ عاد کے نجات یافتہ مومنین کی نسل سے ”عادِ اُخریٰ“ وجود میں آئی۔11 مبرد نے مذکورہ بالا آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ”عادِ اولیٰ“ سے مراد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے اور ”عادِ اخیرہ“ سے حضرت صالح علیہ السلام کی قوم یعنی ثمود۔12 ایک اور روایت کے مطابق عادِ ثانیہ یمن کے علاقے سبأ میں آباد ہوئی اور سدِ مأرب کی تعمیر انھی کے بادشاہ لقمان بن عاد ذوالنسور13 کے ہاتھوں ہوئی۔14

ثمود

قومِ ثمود کا مسکن ”وادی القُریٰ“ کا علاقہ بتایا جاتا ہے جو جزیرہ نمائے عرب کے شمال مغربی حصے سے عبارت تھا۔15 ان کا دارالحکومت مقام ”حِجر“ تھا جو حجاز سے شام کو جانے والی قدیم شاہراہ پر واقع ہے اور اب عموماً ”مدائن صالح“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔16

صحیح بخاری17 اور بعض دوسرے مصادر کے بموجب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک کو تشریف لے جاتے ہوئے مقامِ ”حجر“ سے گزرے تھے اور آپؐ نے فرمایا تھا: ”لا تدخلوا مساکن الذین ظلموا انفسھم الّا ان تکونوا باکین ان یصیبکم ما اصابھم“، ’’اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں کے مسکنوں میں مصروف گریہ وزاری ہوئے بغیر قدم نہ رکھو مبادا جو مصیبت اُن پر پڑی تم پر بھی آپڑے۔‘‘

قرآن پاک کی پندرھویں سورت کا نام ہی ”الحجر“ ہے کیونکہ اس میں اہل حجر کا ذکر یوں وارد ہوا ہے:

وَ لَقَدۡ کَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ﴿ۙ۸۰﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ اٰیٰتِنَا فَکَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ﴿ۙ۸۱﴾ وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ﴿۸۲﴾ فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُصۡبِحِیۡنَ﴿ۙ۸۳﴾ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ؕ۸۴﴾18

’’اور بالیقین حجر والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ اور ہم نے اُنھیں اپنی نشانیاں عطا فرمائیں سو وہ اُن کی طرف سے رُوگرداں رہے۔ اور وہ لوگ امن (واطمینان) کے ساتھ پہاڑوں میں گھر تراشا کرتے تھے۔ سو تند و تیز آواز نے صبح ہوتے انھیں آلیا۔ پس ان کا ہنر ان کے کسی کام نہ آیا۔‘‘

جمہور علمائے اسلام ان آیات میں ”اصحاب الحجر“ سے مراد قومِ ثمود ہی لیتے چلے آئے ہیں اور مندرجہ بالا حدیث کا اشارہ بھی ثمود ہی کے مساکن کی طرف تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن جناب سید سلیمان ندوی کو بعض وجوہ سے اس تفسیر کے ماننے میں تامل ہے۔ اُن کی تحقیق کا ماحصل مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید نے چھبیس جگہ قومِ ثمود کا ذکر کیا ہے لیکن کہیں اُنھیں ”اصحاب الحجر“ نہیں کہا اور اس آیت میں ”اصحاب الحجر“ کا ذکر کیا ہے تو ثمود کا نام نہیں لیا۔ اسی طرح حدیثِ مذکور کی اکثر روایات میں بھی ثمود کا نام وارد نہیں ہوا اور جس ایک روایت میں حجر کے لیے ”ارضِ ثمود“ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اُس کی توجیہ ممکن ہے کہ حجر کبھی ثمود کا ملک تھا۔ سید صاحب کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ”اصحاب الحجر“ سے مراد ”قوم انباط“ یعنی نبطی ہیں۔19

قرآن مجید میں صراحت و تفصیل کے ساتھ جہاں جہاں ثمود کا ذکر آیا ہے20 اس سے اس قوم کی تصویر کچھ یوں سامنے آتی ہے:

قومِ عاد کے بعد ان لوگوں کو عروج ملا۔ یہ بھی بڑے خوش حال تھے۔ چشموں، باغوں، لدے پھندے نخلستانوں اور کھیتوں کے مالک تھے۔ فنِ تعمیر میں انھیں بھی عاد کی طرح یدِ طولیٰ حاصل تھا چنانچہ میدانوں میں محلات کھڑے کرتے تھے اور پہاڑوں میں بڑی ہنرمندی و چابکدستی سے گھر تراشتے تھے۔ ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔ آپؑ نے بہت کچھ تذکیر و تبلیغ سے کام لیا، خدا کی نعمتیں جو اُن پر تھیں یاد دلائیں لیکن انھیں راہِ حق پر شک اور اپنے آبائی معبودوں پر اصرار رہا اور انھوں نے بھی دوسری بد نصیب اقوام کی طرح پیغمبرؑ کو جھٹلایا۔ انھوں نے حضرت صالحؑ سے کوئی معجزہ طلب کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اونٹنی معجزے کے طور پر ظاہر کی گئی21 جو ان کے لیے ایک آزمایش ثابت ہوئی۔ حضرت صالحؑ نے ہدایت فرمائی کہ خدا کی اس اونٹنی کا نیز اس کے پانی پینے کی باری کا خیال رکھنا۔ اس کی باری الگ مقرر ہے اور تمھاری باری ایک مقرر دن کی الگ۔ اسے چرنے چگنے دو اور کسی قسم کا ضرر نہ پہنچاؤ مبادا تم پر عذاب نازل ہو۔

حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت پر صرف کچھ زیر دست و ناتواں لوگ ایمان لائے۔ متکبر سرداروں نے کھلا کفر اختیار کیا۔ پیغمبرؑ اور اُن کے اصحاب کو موجبِ بدشگونی قرار دیا گیا۔ شہر میں نو آدمی از حد فسادی تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو قسمیں دلائیں کہ مل جل کر حضرت صالح علیہ السلام اور اُن کے متعلقین کو شب خون مار کر ہلاک کر ڈالیں اور پھر جُرم سے مکر جائیں لیکن اُن کی تدبیر کو اللہ کی تدبیر نے توڑ دیا۔ بالآخر اُن کی ساری جمعیت نیست و نابود ہوئی اور اُن کے گھر اُن کی زیادتیوں کی پاداش میں ویران پڑے رہ گئے۔

عذاب کی صورت یہ ہوئی کہ انھوں نے اونٹنی کی حُرمت کو ملحوظ رکھنا قبول نہ کیا اور پیغمبرؑ کی تمام تر تنبیہ و تحذیر کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے سرکشی کی راہ اختیار کی اور قوم کے سخت بدبخت شخص22 کو دعوت دی۔ سو وہ اُٹھا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ پھر انھوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر آپ پیغمبرؑ ہیں تو لیجیے جس عذاب سے ڈراتے دھمکاتے تھے اب ہم پر ڈلوائیے۔ انھوں نے فرمایا: بس تین دن اپنے گھروں میں کھا کھیل لو۔ یہ اٹل بات ہے۔ چنانچہ تین دن بعد عذاب آپہنچا اور اُنھیں اپنے کیے پر پشیمانی اٹھانی پڑی۔ اس عذاب کو قرآن میں کبھی ”صیحۃ“ ’’تند آواز‘‘، کبھی ”صیحة واحدة“ ’’یکبارگی تند آواز‘‘، کبھی ”الصّٰعقة“ ’’آسمان سے گرنے والی بجلی‘‘، کبھی ”صٰعقة العذاب الھون“ ”رسوا کرنے والے عذاب کا کڑکا“، کبھی ”الطاغیة“ ”حد سے گزری ہوئی آواز“ اور کبھی ”الرجفة“ یعنی زلزلہ کہا گیا ہے۔23 اس عذاب نے ان سب کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے، یوں جیسے کبھی ان میں رہے بسے ہی نہ تھے۔

حضرت صالح علیہ السلام افسوس کرتے ہوئے تشریف لے گئے۔ انھیں اور ان کے اصحاب کو اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ ان بقایائے ثمودکو اصطلاحاً ”ثمودِ ثانیہ“ کہہ لیا جاتا ہے۔24 علاوہ ازیں ہلاک ہونے والی اقوام کے ضمن میں قرآن مجید میں ”اصحاب الرّس“ کا بھی ذکر آتا ہے۔25 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی قومِ ثمود ہی کے کچھ رہے سہے لوگ تھے۔26

ثمود کا ذکر قدیم اشوری نیز رومی و یونانی تاریخی مصادر میں بھی ملتا ہے27 جس کی تفصیلات سردست ہمارے دائرۂ بحث سے خارج ہیں البتہ ایک ضمنی مسئلہ ایسا ہے جس پر تھوڑی سی گفتگو مناسب معلوم ہوتی ہے:

مدائن صالح کے پہاڑوں میں ترشے ہوئے کچھ قدیم آثار ہنوز موجود ہیں اور مسلمان اپنے طور پر انھیں ثمود ہی کی تراشی ہوئی عمارتیں خیال کرتے چلے آئے ہیں۔28 ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں ان عمارتوں کا ذکر اسی حیثیت سے کیا ہے۔29 ان کی پیشانی پر بعض کتبات کندہ ہیں۔ مشہور برطانوی سیاح ڈاؤٹی (Charles Montague Doughty: 1843-1926) 1876ء میں ایک کاروانِ حج کے ہمراہ یہاں پہنچا اور طویل عرصے تک بدوؤں میں سکونت اختیار کی۔ اُس کا مقصد انھی عمارتوں کے بارے میں تحقیق کرنا تھا۔ اُس نے ان کتبات کی نقول فرانس کے مشہور عالم ریناں (Ernest Renan: 1823-92) کو بھجوائیں جس نے ان کا فرانسیسی میں ترجمہ کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ یہ عمارتیں ان کتبات کے بموجب بیشتر نبطی مقابر ہیں اور ان پر تقویمِ عیسوی کے آغاز کے زمانے کی تاریخیں درج ہیں لہٰذا ثمود سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ڈاؤٹی کی مشہور کتاب ’’Travels in Arabia Deserta‘‘1888ء میں شائع ہوئی تو یہ کتبات بھی ریناں کے ترجمے کی صورت میں اُس کے ساتھ منسلک تھے۔ تب سے بعض مستشرقین نے اس خیال کی ترویج شروع کر دی کہ اس جدید انکشاف سے قرآن کے بیان پر زد پڑتی ہے کیونکہ اول تو یہ عمارتیں ثمود کی نہیں بلکہ انباط کی ہیں، دوسرے ان کی حیثیت مقابر کی ہے نہ کہ مساکن کی۔ اس ضمن میں تفصیلی بحث تو ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے لیکن مختصراً چند اہم نکات کی طرف اشارہ ضروری ہے:

(1) پہلی اور سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ان مخصوص عمارتوں کے ثمودی یا نبطی مساکن یا مقابر ہونے یا نہ ہونے پر قرآن کی کسی نص کو اصرار اور اُس کے کسی عقیدے کا انحصار ہی نہیں۔ قرآن کا بیان صرف اس قدر ہے کہ قومِ ثمود کو پہاڑ تراش کر مکان بنانے میں کمال حاصل تھا۔ کہیں بھی صراحت سے یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں فلاں مخصوص عمارت ثمود کی تراشی ہوئی ہیں۔ چنانچہ اگر یہ عمارتیں انباط کی یادگار ہیں تب بھی قرآن کی کسی نص سے متصادم نہیں اور اسی بنا پر جناب سید سلیمان ندوی نے (جیسا کہ اوپر ذکر ہوا) یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ یہ آثار نبطیوں ہی کے ہیں اور ”اصحاب الحجر“ سے نبطی ہی مراد ہیں۔ مختصر یہ کہ قرآن کو تو اس بحث سے کوئی بنیادی سروکار ہی نہیں ہے۔

(2) اصل مسئلہ تو یہیں ختم ہو جاتا ہے تاہم برسبیلِ تحقیق بعض اور پہلوؤں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ ثمود کی تراشی ہوئی عمارتوں کے لیے قرآن میں ”بیوت“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی لفظ پر ”مساکن“ یا ”مقابر“ کی بحث اٹھائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ لفظ ”بیت“ کے معنوں میں خاصی تعمیم ممکن ہے چنانچہ ”خیمہ“ یا ”گھر“ کے علاوہ ”کمرہ“، ”خانہ“، ”کوٹھری“ یا محض ”عمارت“ بھی اس سے مراد لی جا سکتی ہے خواہ رہایشی ہو یا غیر رہایشی۔ قرآنی آیت ”فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَ یُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ“30 میں ”بیوت“ سے ”مساجد“ مراد ہیں۔ ”البیت“ اور ”بیت المقدس“ میں بھی ”بیت“ ”عبادت گاہ“ کا مفہوم رکھتا ہے جب کہ ”بیت المال“ میں یہ ایک عام عمارت کے لیے استعمال ہوا ہے وعلیٰ ہذا القیاس۔ پھر ریناں نے جو کتبات پڑھے ہیں وہ بھی بلا استثنا ”مقابر“ کے نہیں ہیں۔ پہلا ہی کتبہ ’’mesgeda‘‘ سے متعلق ہے جس سے مراد ”مسجد“ یعنی ”عبادت گاہ“31 ہے۔ علاوہ ازیں جو قوم پہاڑ کاٹ کر مقبرے بناتی ہو کوئی امر اُسے اس چیز سے مانع نہیں کہ وہ اسی طریقے سے گھر بھی بنائے۔ بلکہ ایک فطری سا رد عمل، جو کسی قوم کے مقابر کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے، قرب و جوار میں اُن کے مساکن کی تلاش ہے کیونکہ مُردوں کے وجود کے لیے زندوں کا وجود شرطِ اول ہے اور مقابر سے قبل مساکن کی موجودگی از بسکہ ناگزیر۔ آخر جن لوگوں کے یہ مقابر ہیں اُن کی رہایش کی کیا صورت تھی؟ یہاں قرآنی آیت ”تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡ سُہُوۡلِہَا قُصُوۡرًا وَّ تَنۡحِتُوۡنَ الۡجِبَالَ بُیُوۡتًا“32 میں ”سہول و جبال“ اور ”قصور و بیوت“ کا موازنہ قیاس کا ایک قابلِ غور زاویہ فراہم کرتا محسوس ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ رہایشی مکانات، جو پہاڑوں کے دامن میں ہموار زمینوں میں استادہ تھے، نابود ہو گئے اور صرف پہاڑوں میں ترشے ہوئے سنگیں آثار بچ رہے جو، عین ممکن ہے، رہایشی مقاصد کے لیے نہ ہوں؟ نیز گھروں کے اندر ہی تدفین کا امکان بھی قابلِ غور ہے۔

(3) چارلس ڈاؤٹی کے نام سر ہنری رالنسن کے خط کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے جس میں ”نبطی حجر“ اور ”ثمودِی حجر“ کے الگ الگ ہونے کے سلسلے میں بعض قیاسات ظاہر کیے گئے ہیں۔ یہاں اس خط کا اصل اقتباس ملاحظہ ہو:

‘‘Hejra, in Ptolemy, is a town of Thamud; yet Medain Salih, we understand by the epitaphs, to have been of the Nabateans! M. Salih is Hijr (Hejr) But what is Hijr? El-Hejr, in the tradition of the country Beduins and the Alowna, is all that valley plain and valley ground… lying between the Mezham and el-Ally (el’-Ola), and as far as Bir el-Ghrannem. Now el-Khreyby…. is likewise el-Hejr:- the Khreyby we have seen is Himyaric, or of the people from the south, M.Salih is of the northern civil world. We might thus conjecture that el-Khreyby is Hejra of Thamud, and that Medain Salih, 10 miles to the N., is the Nabatean Hejra.’’33

اس خط کے پہلو بہ پہلو بطلیموس (Ptolemy) کا وہ نقشۂ بلادِ عرب بھی قابلِ غور ہے جسے شپرنگر (Sprenger) نے ازسرنو قائم کیا ہے34 اُس میں Egra (حجر) کے ساتھ دو نام ’’Thamydeni‘‘ اور ’’Napataei‘‘ الگ الگ دیے گئے ہیں۔ اس سے ”حجر ِثمودِی“ اور ”حجر ِنبطی“ کے الگ الگ ہونے کے ضمن میں سر رالنسن کے قیاس کی تصدیق ہوتی ہے۔35 چونکہ ان دونوں کے درمیان صرف دس میل کا فاصلہ ہے لہٰذا التباس کی گنجایش موجود ہے۔ پس یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن و حدیث میں جس ”حجر“ یا ”ارضِ ثمود“ کا ذکر آتا ہے وہ ان دونوں میں سے کون سا مقام ہے۔

(4) خود مدائن صالح کے زیر بحث آثار کے ضمن میں علمی و اثریاتی (Archaeological) تحقیق کو ہنوز مکمل نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ بعض اہل علم کو ان نتائج سے اتفاق نہیں جو ڈاؤٹی اور ریناں کی مساعی سے سامنے آئے۔ جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی نے راقم کے نام دو مراسلوں36 میں اس خیال کا اظہار فرمایا کہ عین ممکن ہے یہ کتبات نبطیوں نے بعد کے زمانے میں ثمودیوں کے اُن آثار پر کندہ کر دیے ہوں جنھیں انھوں (نبطیوں) نے بطورِ مقابر استعمال کیا ہو۔ انھوں نے کتبات کی زبان اور رسم الخط اور ان آثار کی طرزِ تعمیر سے متعلق بعض ذاتی مشاہدات و آرا کا بھی ذکر کیا جن کی تفصیل ہم یہاں نظر انداز کرتے ہیں۔ مودودی صاحب کا قطعی موقف یہی ہے کہ یہ آثار ثمود کے ہیں کیونکہ پیٹرا میں نبطیوں کی تراشی ہوئی جو عمارتیں ملتی ہیں وہ فنِ تعمیر کے اعتبار سے مدائن صالح کے ان آثار سے بہت آگے ہیں اور دونوں کے موازنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مابین زمانے کا بہت بُعد ہے اور یہ ایک قوم کے آثار نہیں۔37 اس ساری بحث میں یہ خیال خصوصیت کے ساتھ قابلِ غور ہے کہ عین ممکن ہے یہ کتبات عمارتوں کے ہم عمر نہ ہوں— اور اس کی تحقیق جدید سائنسی ذرائع سے ممکن ہے۔

(5) قدیم کتبات کے پڑھنے میں غلطی کے امکان کو بھی خارج از بحث نہیں سمجھا جا سکتا۔ مثال کے طور پر جناب ڈاکٹر رانا احسان الہٰی کا موقف یہ ہے کہ اصل کتبات میں جہاں ”قصر“ کا لفظ وارد ہوا تھا وہاں غلطی سے ”قبر“ پڑھ لیا گیا ہے کیونکہ ثمودی خط میں ”ص“ اور ”ب“ میں برائے نام فرق ہے۔38 اگر ایسا ہے تو اس قسم کے التباسات کو رفع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

(6) جناب ڈاکٹر رانا احسان الہٰی، جو خود اس مسئلے کی تحقیق کے لیے مدائن صالح گئے تھے، یہ بھی فرماتے ہیں39 کہ ہم نے ہر دروازے کے اندر کی جانب، دونوں طرف، دو دو انچ مربع کے چار سوراخ پائے جن سے صاف ظاہر تھا کہ دروازہ بند کر لینے کے بعد ان سوراخوں میں کوئی لکڑی یا بَلّی اڑا دی جاتی تھی۔ اس سے دروازے کا اندر کی جانب سے بند کیا جانا ثابت ہوتا ہے جورہایشی مکان کے حسبِ حال ہے نہ کہ قبر کے۔ اس نقطۂ نظر سے بھی یہ تحقیق ضروری ہے کہ آیا یہ آثار ابتداءً مقبرے بنائے گئے تھے یا کچھ اور۔

ڈاؤٹی اور ریناں کے بعد ثمود سے متعلق جو مزید تحقیقات ہوتی رہی ہیں ان کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر 1959ء میں شائع ہونے والے ایک انسائیکلوپیڈیا کی یہ عبارت ملاحظہ ہو:

‘‘In the last few years, altogether some 13000 of these Thamudic rock writings and pictures were discovered widely scattered over different regions in Central Arabia and dating from about the fourth century B.C. to the early seventh century of our era. While the greater part still awaits publication, those that have been deciphered are sufficient to reveal a quite clear picture of the surprisingly high civilization of their authors.’’40

مختصر یہ کہ خالصتاً علمی نقطۂ نظر سے بھی ہنوز اس تحقیق کے ضمن میں بہت سے مسائل تصفیہ طلب ہیں۔ آغاز میں عرض کیا جا چکا ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اسے اس بحث کی تفصیلات سے کوئی بنیادی سروکار نہیں۔

طسم اور جدیس

قرآنِ پاک میں طسم اور جدیس کا ذکر نہیں ملتا۔ قدیم روایاتِ عرب کے مطابق یہ دونوں قبیلے یمامہ میں آباد تھے اور اقتدار طسم کے پاس تھا۔ جب عنانِ حکومت عملیق (یا عملوق) نامی ایک ظالم و فاسق حکمران تک پہنچی تو اُس نے قبیلۂ جدیس پر بہت ستم توڑا۔ ایک بار جدیس کی ایک عورت ”ہزیلۃ“ کی صاف گوئی پر غضبناک ہو کر اس نے یہ ظالمانہ رسم اختیار کر لی کہ جدیس کی جس لڑکی کی شادی ہو وہ اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اُس کے شبستان میں لائی جایا کرے۔ یہ مذموم سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ”عُفَیرۃ“ نامی ایک لڑکی نے، جو قبیلہ جدیس کے ایک سربر آوردہ شخص، الاسود، کی بہن تھی، اس کے خلاف احتجاج کیا اور اپنی قوم کو سخت غیرت دلائی۔ چنانچہ انھوں نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ بادشاہ کے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا جائے اور اُسی کے دوران اچانک حملہ کر کے اعیانِ مملکت کو تہِ تیغ کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب طسم کے اکابر قتل ہو گئے تو پھر رہے سہے لوگوں کو بھی چُن چُن کر مار ڈالا گیا۔ جو تھوڑے بہت بچ رہے انھوں نے یمن کے بادشاہ حسان بن تبع الحمیری کی پناہ لی اور فریاد کی۔ اُس نے دادرسی کی اور انتقامی حملے کے لیے چلا۔ راستے میں طسم کے ایک شخص رباح بن مرّۃ نے حسان سے کہا کہ میری بہن ”حذام“41 قبیلہ جدیس میں بیاہی ہوئی ہے اور روئے زمین پر اُس سے زیادہ تیز نگاہ والا کوئی نہیں۔ وہ تیس میل کی مسافت سے شتر سوار کو دیکھ لیتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ ان کو قبل از وقت تمھاری آمد سے خبردار کر دے گی لہٰذا حکم دے دو کہ تمھارا ہر آدمی ایک درخت اکھاڑ کر ہاتھ میں لے لے42 اور اُس کی اوٹ میں چلے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

اُدھر حذام (زرقاء) نے یہ منظر دیکھ کر کہا: ”اے جدیس! درخت تمھاری جانب چل کر آ رہے ہیں۔“43 انھوں نے مہمل سمجھتے ہوئے اس کی بات پر توجہ نہ دی۔ اُس نے کئی مرتبہ اپنی بات دہرائی لیکن وہ لوگ غافل رہے اور حسان نے اُن کے سروں پر پہنچ کر سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ صرف سردارِ مذکور الاسود باقی بچا اور جان بچا کر بھاگا لیکن ”أجَا“ اور ”سلْمٰی“ کے پہاڑوں کے نزدیک قبیلہ طے کے لوگوں نے اُس کی غیر معمولی جسامت سے ڈر کر اُسے مار ڈالا۔ اس طرح یہ دونوں قبیلے صفحۂ ہستی سے محو ہو گئے۔

اسی طرح کی اور بھی طول طویل روایات ملتی ہیں جن پر تاریخ سے زیادہ اساطیر کا رنگ نمایاں ہے۔ ان روایات میں مختلف کرداروں کی زبان سے جو مسجع و مقفیٰ مکالمے اور مرصع اشعار منقول چلے آتے ہیں ظاہر ہے کہ اقوامِ بائدہ سے اُنھیں کوئی تعلق نہیں بلکہ جو تاریخی و نیم تاریخی کہانیاں سینہ بہ سینہ چلی آتی تھیں اُنھیں بعد کی نسلوں نے نظم و نثر کے ان سانچوں میں ڈھال لیا۔ اس اعتبار سے اس نوع کی روایات تاریخی دستاویز نہ سہی ادبی ورثہ ضرور ہیں اور قدیم عربوں کی تمثیل نگاری اور داستان گوئی کا ایک اہم نمونہ۔

[باقی]

  1. ۔ اس تقسیم کی اصطلاحات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ”عرب بائدہ“ ہی کو ”عرب عاربہ“ یا ”العاربۃ الاولیٰ“ یا ”العرب العرباء“ بھی کہہ لیا جاتا ہے اور ”عرب عاربہ“ کو ”عرب متعربہ“ کا لقب دیتے ہیں۔ ”عرب مستعربہ“ کا لقب اس صورت میں بھی ”مستعربہ“ ہی رہتا ہے۔ عاربہ کا مطلب ہے ”حقیقی یا اصلی عرب“۔ ”متعربہ“ اور ”مستعربہ“ دونوں کا مطلب ہے: ”وہ جنھوں نے عربیت اختیار کر لی“ یا ”وہ جو عرب بن گئے“۔ تاہم مستعربہ کا درجہ ”متعربہ“ کے بعد آتا ہے۔ چونکہ جنوبی عربوں، یعنی اہل یمن کی شمالی عربوں سے چپقلش قدیم سے چلی آرہی ہے اس لیے قیاس یہ کہتا ہے کہ یہ تقسیم اُنھی کی ایجاد ہے کیونکہ اس کے مطابق شمالی عرب دوسرے یا تیسرے درجے کے عرب ثابت ہوتے ہیں اور اُسی کی رو سے یمنی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ شمالی عربوں نے عربی زبان یعرب بن قحطان سے سیکھی۔
  2. ۔ یہ لفظ ”باد یبید“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”ہلاک ہو جانا“ ہے۔
  3. ۔ تفصیلات اور حوالوں کے لیے دیکھیے: العرب القدیم، 163 -194۔
  4. ۔ جن آیات میں زیادہ تفصیل آئی ہے وہ یہ ہیں: (7/ 65- 72)، (11/ 60-50)، (26/ 123- 140)، (41/ 15- 16)، (46/ 21- 25)، (51/ 41- 42)، (53/ 50)، (54/ 18- 21)، (69/ 4- 8)، (89/ 6- 8)۔
  5. ۔ ”الأحقاف“ ”حِقف“ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے: ”ریت کا مستطیل خم دار تودہ“۔ یہ حضرموت سے متصل ریگزار الربع الخالی کے کچھ حصے کا نام ہے جس کی تعیینِ مقام میں اختلاف ہے۔
  6. ۔ یہ اُن کے غیر معمولی تن و توش کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم جناب سید سلیمان ندوی کو قرآنی آیات کی اس توجیہ سے اختلاف ہے جس کی رُو سے قومِ عاد کو غیر معمولی قد کاٹھ کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ اُن کی رائے میں اشارہ صرف اُن کے زور و قوت کی طرف ہے۔ (ارض القرآن، 1/ 175)
  7. ۔ قیل بن عیر، وفد کا سربراہ۔
  8. ۔ ابن اثیر، 1/ 48- 49۔
  9. ۔ القرآن، 46/ 24۔
  10. ۔ 53/50۔
  11. ۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے: بیان القرآن، بذیل نصِ قرآنی، 7/ 72۔
  12. ۔ شرح القصائد العشر: معلقۂ زہیر شعر 32۔ ”احمر عاد“ پر بحث۔
  13. ۔ ”نسور“ ”نسر“ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے گدھ یعنی کرگس۔ ”ذوالنسور“ کا مطلب ہے ”کرگسوں والا“۔ روایت ہے کہ لقمان بن عاد حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا اور اُسے یکے بعد دیگرے سات کرگسوں کے برابر عمر عطا کی گئی تھی (یاد رہے گدھ کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے)۔ طرفہ کا قول ہے:الم تر لقمان بن عاد تتابعتعلیہ النسور ثم غابت کواکبہ
  14. ۔ تاہم، جیسا کہ آگے آتا ہے، قدیم کتبات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ دیکھیے: ص 60 ح 4۔
  15. ۔ سید سلیمان ندوی کی رائے میں قرآنی آیت ”وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ “ (89/9) میں ”الواد“ سے مراد ”وادی القُریٰ“ ہی ہے۔ (ارض القرآن، 1/ 186)
  16. ۔ تاہم رالنسن (Sir Henry C. Rawlinson) نے Doughty کے نام ایک خط میں (جس کی تفصیل ص 54-55 پر آتی ہے)یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ”حجر“ ایک تو موجودہ ”مدائن صالح“ ہے اور دوسرے ایک وسیع علاقہ بھی ”حجر“ ہی کے ذیل میں آتا ہے جس میں ایک خاص مقام جو اب الخُریبہ کہلاتا ہے، مدائن صالح سے دس میل جنوب میں ہے اور غالباً یہی وہ حجر ہے جو ”حجر ثمود“ ہے جب کہ مدائن صالح ”حجر انباط“ ہے۔ چونکہ دونوں مقام ایک ہی راستے پر دس میل کے فاصلے سے واقع ہیں لہٰذا یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ قرآن و حدیث میں ”حجر“ سے کون سا ”حجر“ مراد ہے۔
  17. ۔ صحیح البخاری، کتاب الانبیاء، باب 17۔
  18. ۔ القرآن،15/ 80-84۔
  19. ۔ ارض القرآن، 2/ 75- 76۔
  20. ۔ القرآن، (7/ 73- 79)، (11/ 61- 68)، (26/ 141- 159)، (27/ 45- 53)، (41/ 13- 18)، (51/ 43- 45)، (53/ 51)، (54/ 23- 31)، (69/ 4- 5)، (89/ 9)، (91/ 11- 15)۔
  21. ۔ عام روایات کے مطابق یہ اونٹنی مع اپنے بچے کے ایک پہاڑ کی چٹان سے پیدا ہوئی تھی لیکن قرآن میں اس طریقِ پیدایش کا کہیں ذکر نہیں۔ (دیکھیے: ارض القرآن، 1/ 195)
  22. ۔ روایات میں اس شخص کا نام ”قُدار بن سالف“ بتایا گیا ہے۔ اونٹنی کو ہلاک کرنے کے سبب اسے ”عاقر الناقۃ“ بھی کہا جاتا ہے اور اسی کا لقب ”احمر“ بھی ہے۔ معلقۂ زہیر (شعر 32) میں ”احمر عاد“ سے یہی شخص مراد ہے اور ”عاد“ سے مراد ”ثمود“ ہے۔
  23. ۔ جناب سلیمان ندوی کا قیاس ہے کہ یہ آتش فشانی زلزلہ ہو سکتا ہے کیونکہ ثمود کے مقامات آتش فشاں مادے سے لبریز ہیں۔ (ارض القرآن، 1/ 195)
  24. ۔ ارض القرآن، 1/195۔
  25. ۔ القرآن، 25/38، 50/12۔
  26. ۔ دیکھیے: بیان القرآن بذیل نصِ قرآنی، 25/38۔
  27. ۔ چنانچہ اشوری بادشاہ سارگون دوم (Sargon II) نے 715 ق م میں حملہ کر کے جن عرب قبائل کو زیر کیا اور اُن کی فہرست کندہ کرائی اُن میں ثمود کا نام بھی ہے۔ پھر پانچویں صدی عیسوی میں رومن افواج میں بعض ثمودی گھڑ سواروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ (Doughty, 1/188, Letter by Sir Henry Rawlinson)
  28. ۔ موازنہ کیجیے: پیش گفتار، ص 14- 15۔
  29. ۔ رحلۃ ابن بطوطہ، 1/ 130- 131۔
  30. ۔ القرآن، 24/36۔
  31. ۔ یہ درے میں ترشی ہوئی ایک محراب سی ہے جو ”اعرا“ نامی دیوتا سے منسوب ہے۔
  32. ۔ القرآن، 7/ 74۔
  33. ۔ Doughty, 1/188۔
  34. ۔ اس نقشے کے لیے دیکھیے: Hitti, 47 – Hogarth, 17۔
  35. ۔لیکن اس نقشے میں ثمودی حجر بجانبِ شمال دکھایا گیا ہے جب کہ سر رالنسن کے قیاس کے بموجب اس کا جنوب میں ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ ممکن ہے شپرنگر کی تشکیل نو کے دوران، سہواً، یہ ترتیب معکوس ہو گئی ہو۔
  36. ۔ اس مسئلے پر مراسلت یا زبانی مشاورت کی صورت میں جناب ڈاکٹر صوفی محمد ضیاء الحق، جناب ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ، جناب ڈاکٹر رانا احسان الہٰی اور جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی سے رابطہ پیدا کیا گیا۔ راقم ان سب بزرگوں کا ممنون ہے کہ انھوں نے اپنی قیمتی آرا سے نوازا۔ جناب ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ کا شکریہ بطورِ خاص واجب ہے جنھوں نے کمال شفقت سے مراسلت کو تادیر جاری رکھا اور فرانسیسی مستشرق De Vogue کے طویل فرانسیسی نوٹ کا انگریزی ترجمہ کر کے ارسال فرمایا۔ ایسی ہی نوازش کے لیے پنجاب یونیورسٹی لائبریری کے جناب نصیر احمد کی سپاس گزاری بھی لازم ہے جنھوں نے کتبات کے فرانسیسی ترجموں کا انگریزی ترجمہ فراہم کیا۔
  37. ۔ مودودی صاحب کے موقف کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: تفہیم القرآن، سورۃ الشعراء، ح 99۔
  38. ۔ رسالہ ”المنہل“ (مکّہ) صفر/ربیع الثانی 1391ھ۔
  39. ۔ الرسالۃ الاسلامیۃ، بغداد، فروری 1972ء ”مدائن صالح وماجاورھا“۔ متعلقہ عربی عبارت یوں ہے: وکان اوّل ما تفحصناہ ھو ابواب المغارات حیث لاحظنا انّ غلق کلّ الابواب کان من الداخل وليس من الخارج (اللھم الّا الديوان وبیت الصانع كما يطلق عليہ) وھذا دليل ناھض علیٰ ان تلک المغارات قد كانت مساکن لسکن الاحیاء من الثمودیین و ليست قبورًا من اوّل الزمان و الّا لما كانت وسيلة اغلاقھا من الداخل و ذلک ان الناحت قد حفر فی داخل کلّ باب اربع نُقر مربعة الشكل (بوصتين فی بوصتين)۔ اثنتان منھا (ای من النقر) فی کتف الباب (Jamb) نحو الیمین والنقرتان الاخریان نحو الشمال و قد لاحظنا ان النقرتین فی کلّ جانب لیست عمودیتین۔ فالنقرة العلیا مائلة الیٰ خارج المغارة (ومتصلة ببرواز الباب) و امّا النقرۃ السفلیٰ فمائلۃ الیٰ الداخل۔ فما ذلک الّا لاحکام الباب من الداخل۔ ونعتقد ان کلّ باب کان مصنوعًا من لوح واحد من الخشب وینتہی کل لوح فی اعلاہ ببروازین نحو الخارج یدخلان فی النقرتین العلویتین۔ واما النقرتان السفلیتین عند منتصف الباب فقد کانتا تستعملان لوضع قطعۃ من الخشب علی شکل عارضۃ یقال لھا السّد او الضبّ۔
  40. ۔ Enc. Arabic Civilization, 524, ‘‘Thamud’’۔
  41. ۔ یہی وہ عورت ہے جو نیلی آنکھوں کے سبب ”زرقاء الیمامۃ“ کے لقب سے معروف ہوئی اور تیزیِ نگاہ میں ضرب المثل ہے۔ جیسا کہ اوپر نقل کیا گیا اُس کے بارے میں یہ روایت ہے کہ تیس میل کی مسافت سے دیکھ لیتی تھی۔ بعض روایات میں اسی فاصلے کو ”مسیرۃ ثلاثۃ ایام“ تین دن کی مسافت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ زرقاء کا ایک اور لقب ”ذات اشفار“ بھی ہے۔ اعشیٰ کا قول ہے:’’مانظرت ذات اشفار کنظرتھاحقًا کما صدق الذئبی اذ سجعا‘‘ (دیوانِ اعشیٰ، 103)
  42. ۔ یہ اُن لوگوں کے غیر معمولی قد و قامت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
  43. ۔ اسی خیال کی بازگشت شیکسپیئر کے ڈرامے ”میکبتھ“ میں ملتی ہے:‘‘Let every soldier hew him down a bough And bear’t before him;’’‘‘As I did stand my watch upon the hill, I look’d toward Birnam, and anon me thoughtThe wood began to move.’’ (Macbeth, act 5, scene iv-v)شاید عربوں کے زمانۂ عروج میں جب یورپ نے اُن سے کسبِ فیض کیا تو عرب کی بہت سی قدیم اساطیر اور ادبی روایات بھی مغرب میں منتقل ہو گئیں اور اُن میں سے بعض وہاں کی لوک روایات میں جذب ہو کر دوبارہ اُن کے ادبی آثار میں نمودار ہوئیں۔