مواد پر جائیں

قدیم عرب کا دیگر اقوامِ عالم سے ربط ضبط اور اجنبی ثقافتوں کا اثر

ڈاکٹر خورشید رضوی اردو

یہ درست ہے کہ تین طرف سے سمندر نے اور ایک طرف سے صحرائے نفود نے جزیرہ نمائے عرب کا پیوند زمانے سے جدا کر رکھا ہے تاہم، جیسا کہ ہم لکھ آئے ہیں، وسیع تر تناظر میں یہ جزیرہ نما ایک تضاد بھی پیش کرتا ہے اور ایشیا، افریقہ اور یورپ کے اثرات ایک دوسرے تک منتقل کرنے میں ایک اہم واسطے کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کرتے ہوئے یہ سرزمین خود بھی مختلف النوع ثقافتوں کے اثرات سے یکسر بے بہرہ نہیں رہ سکتی تھی۔ اسی بنیادی تضاد کے بہت سے پَرتو قدیم عرب کی تاریخ پڑھتے ہوئے سامنے آتے ہیں۔ اُن میں ایک یہ بھی ہے کہ ہر چند عربوں کی ایک بڑی اکثریت تہذیب و تمدن سے دور خانہ بدوشی اور صحرانشینی کی زندگی بسر کر رہی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ عرب معاشرہ، من حیث الکل، کئی وسیلوں سے اُس وقت کے عظیم ترین تمدنوں سے مربوط اور متاثر بھی تھا۔ الغرض یہ تصور کرنا درست نہ ہوگا کہ جس سرزمین کی سرحدیں وقت کی دو عظیم طاقتوں، ایران اور روم کی سرحدوں سے ملتی ہوں اور جس کے بالکل متصل قدیم تر ادوار میں اشوریوں، بابلیوں اور کلدانیوں کی مشہور تہذیبیں پروان چڑھی ہوں اور حمورابی کا مجموعۂ قوانین تشکیل دیا گیا ہو اُس کی عقلی زندگی ان بیرونی اثرات سے یکسر بے علاقہ ہوگی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ عربوں کا ادب اور اُن کی زندگی اجنبی اثرات سے خالی نہیں۔1

کوئی بھی قوم دوسری اقوام سے جن جن وسیلوں سے اثرات کشید کرتی ہے اُن سب کی مکمل فہرست تیار کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے کیونکہ ان کی تفصیلات بہت دقیق ہوتی ہیں تاہم ان میں سے بعض وسیلے بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ عربوں کا دیگر اقوام سے رابطہ اور اجنبی ثقافتوں سے اثر پذیری، بیشتر، تین وسیلوں سے تھی:

(1) حیرہ اور غسان کی ریاستیں

یہ علی الترتیب ایرانی اور رومی ثقافتوں کے نفوذ کا ذریعہ تھیں اور ان کا عرب معاشرے پر کئی اعتبار سے اثر تھا۔ ان پر تفصیلی گفتگو آئندہ صفحات میں آتی ہے۔

(2) تجارت

سرزمین عرب قدیم ترین زمانوں سے ایک اہم تجارتی رہگزر رہی ہے۔ پہلے پہل جب اہل یمن عروج پر تھے تو وہ عنان تجارت پر قابض تھے۔ بعد ازاں جب اُن پر زوال آیا تو تجارت اہل حجاز کے حصے میں آگئی۔ جزیرہ نما کے وسط میں صحرا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے اس لیے تجارتی شاہراہیں جزیرہ نما کے کناروں پر پھیلی ہوئی تھیں۔ ایک شاہراہ حضر موت سے بحر احمر کی طرف آکر حجاز سے گزرتی ہوئی شام کو جاتی تھی۔ دوسری حضر موت سے دوسری جانب عُمان اور بحرین سے ہوتی ہوئی صور تک پہنچتی تھی۔ ظفار سے لوبان وغیرہ بیرونِ عرب لے جایا جاتا تھا اور باہر سے مختلف درآمدات یمن کو آتی تھیں۔ علاوہ ازیں ہندوستان کا سامان تجارت، مثلاً : نادر قسم کے جانور جیسے لنگور اور مور وغیرہ بھی خشکی کے راستے عرب سے ہوتا ہوا فراعنہِ مصر کو جایا کرتا تھا۔

جیسا کہ ابھی ذکر ہوا یمن کے بعد تجارت کی باگ ڈور اہل حجاز کے ہاتھ میں آئی۔ مکہ2 یمن سے شام کو جانے والی تجارتی شاہراہ کے تقریباً وسط میں واقع تھا اور چاہ زمزم کے سبب سے ایک اہم پڑاؤ بھی تھا علاوہ ازیں حرم کعبہ کو مذہبی تقدس حاصل تھا3 لہٰذا قریش کو، جو وہاں کے سربر آوردہ لوگ تھے، تجارتی میدان میں خاص سہولت حاصل ہوگئی جس کا اشارہ قرآن پاک میں بھی ملتا ہے۔4 قریش کے تاجر حبشہ کا سامان تجارت بھی شام کی منڈیوں میں لے جایا کرتے تھے۔ اُن کے قافلے بہت عظیم الشان ہوتے تھے اور ظاہر ہے کہ اُن میں، ترجمانی کی غرض سے، ایسے افراد بھی شامل ہوتے تھے جو غیر زبانوں سے آگاہی رکھتے ہوں۔ پھر یہ کہ عرب کے چنے ہوئے ذہن، مثلاً: ابو سفیان، مخرمہ بن نوفل اور عمرو بن العاص جیسے لوگ ان قافلوں میں شامل ہوتے تھے جو بنظر غائر بیرونی ثقافتوں کا مشاہدہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ اس تجارتی شاہراہ پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پہلے بارہ برس کی عمر میں جناب ابو طالب کے ہمراہ اور بعد ازاں پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اموال کے سلسلے میں شام کا سفر اختیار فرمایا۔

صحرانشین قبائل بھی ان تجارتی سرگرمیوں سے یکسر لا تعلق نہ تھے۔ تجارتی قافلے لوٹ مار سے محفوظ رہنے نیز راستہ معلوم کرنے کی غرض سے ان قبائل کو اُجرت پر راہنما یا محافظ بنا لیتے تھے۔ اَن پڑھ اور لوٹ کھسوٹ کے عادی ہونے کے باوجود یہ لوگ اس لیے قابل اعتماد تھے کہ اپنی بات کے پکے تھے اور خلاف پیمان کوئی عمل نہ کرتے تھے۔ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ اگر کسی زیادہ طاقتور قبیلے کے حملے کے باعث وہ خود کو قافلے کی حفاظت سے قاصر پاتے تھے تو اُجرت لوٹا دیتے تھے۔ مختصر یہ کہ ان تجارتی سرگرمیوں کے باعث عربوں کا دوسری اقوام سے، اور پھر آپس میں، جو اختلاط رہتا تھا اُس کے نتیجے میں بیرونی ثقافتوں کا نقش عربوں کی عقلی زندگی پر بیٹھتا رہتا تھا۔ عربی میں ایرانی، رومی، مصری اور حبشی زبانوں کے جو دخیل الفاظ ہیں اُن کے عربی میں داخل ہونے کا ایک سبب یہ تجارتی ربط ضبط بھی تھا۔

(3) یہودیت اور نصرانیت

اجنبی ثقافتوں کو عرب میں راہ دینے والا تیسرا اہم وسیلہ یہودیت اور نصرانیت تھی۔ طلوع اسلام سے کئی صدی پہلے کچھ یہودی اسکندریہ اور روم سے یہاں آکر آباد ہوئے5 اور بعد ازاں اُن کے اثر سے بعض عرب قبائل نے بھی یہودیت قبول کر لی۔ چنانچہ تیماء، فدک، خیبر، وادی القُریٰ اور سب سے بڑھ کر یثرب یہود کا مرکز تھا۔ بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنوقریظہ مشہور یہودی قبائل تھے۔ اسکندریہ اور روم کی فلسفیانہ ثقافتوں کے بیج یہود اپنے ساتھ لائے تھے اور چونکہ روم اور اسکندریہ دونوں یونانی ثقافت کے وارث تھے لہٰذا یونانیت کا پَرتو بھی بالواسطہ ان لوگوں کی معاشرت میں موجود تھا۔ یہ لوگ کا شتکاری کے علاوہ بعض صنعتوں، مثلاً: اسلحہ سازی، آہنگری اور زرگری میں بھی ماہر تھے۔ یہودیوں ہی کی وساطت سے قدیم عرب معاشرے میں دنیا کی پیدایش کی تاریخ، مرنے کے بعد کی زندگی اور حساب اور میزان وغیرہ عقائد سے متعلق طول طویل روایات و تفاسیر کے ایک سلسلے نے شہرت پائی جو بعد کے زمانوں میں اسلامی لٹریچر میں بھی راہ پا گیا۔ 6 جہنم، ابلیس اور شیطان جیسی مذہبی اصطلاحات سے بھی پہلے پہل یہود ہی کی وساطت سے عربوں کو شناسائی ہوئی۔

اسی طرح نصرانیت نے عربوں میں حبشی، رومی اور یونانی اثرات کی نمایندگی کی۔ عیسائیت کے مختلف فرقوں میں سے فرقۂ یعقوبیہ اور فرقۂ نسطور یہ عرب میں نمایاں نظر آتے ہیں چنانچہ حیرہ اور غسّان میں علی الترتیب نسطوری اور یعقوبی عقائد پائے جاتے تھے۔ عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز نجران تھا۔ یہ لوگ بڑی منظم زندگی بسر کرتے تھے۔ ’’سیّد‘‘، ’’عاقب‘‘ اور ’’اُسقُف‘‘، علی الترتیب، ان کے خارجی، داخلی اور مذہبی امور کو سنبھالنے والے سربراہوں کے لقب تھے۔ ریشمی لباس اور ہتھیار بنانے میں ان کو مہارت حاصل تھی۔ عربی ادب میں جابجا جن یمنی چادروں اور یمنی پوشاکوں کا ذکر ملتا ہے وہ انھی سے منسوب ہیں۔ روایت ہے کہ مشہور خطیب قس بن ساعدہ نجران ہی کا اسقف تھا۔7

عیسائیت کے اثر سے عربوں میں کائنات کے مظاہر پر غور کرنے اور رہبانیت کی زندگی بسر کرنے کا میلان پیدا ہوا چنانچہ حنظلۃ الطائی کے بارے میں روایت ہے کہ اس نے اپنے قبیلے کو چھوڑ کر ایک خانقاہ بنائی تھی اور وہیں گوشہ گیری کے عالم میں اُس کی وفات ہوئی۔ قس بن ساعدہ کے بارے میں بھی ایسی ہی روایات ملتی ہیں کہ وہ اجاڑ جگہوں میں رہتا تھا، بہت کم کھاتا تھا اور جنگلی جانوروں سے مانوس تھا۔ عدی بن زید اور نعمان شاہِ حیرہ کے بارے میں بھی کچھ ایسے ہی حالات منقول ہیں۔ امیہ بن ابی الصلت، عدی بن زید اور قُس بن ساعدہ کے اشعار میں بھی زہد و رہبانیت کا عنصر نمایاں ہے۔

عربی زبان میں بعض الفاظ و تراکیب کا اضافہ بھی نصرانی میلانات کے وسیلے سے ہوا چنانچہ بعض روایات کے مطابق ’’اما بعد‘‘ کا لفظ سب سے پہلے قُس بن ساعدہ نے استعمال کیا اور ’’باسمک اللّٰهم‘‘ امیہ بن ابی الصلت نے۔ اُمیہ کے اشعار میں بعض ایسے نامانوس الفاظ بھی ملتے ہیں جو اس نے قدیم کتابوں سے اخذ کیے تھے، مثلاً: اُس نے خدا کے لیے ’’سلطیط‘‘ اور ’’تغرور‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔8

[باقی]

  1. ۔ ہاں یہ درست ہے کہ یہ اثرات اُن کے ہاں نمایاں اور باقاعدہ نہ تھے بلکہ سرسری اور بے ترتیب تھے اور نمایاں حیثیت ان کی اپنی صحرائی وقبائلی ثقافت ہی کو حاصل تھی۔ علاوہ ازیں بیرونی ثقافتوں کا اثر حضری زندگی پر زیادہ اور بدوی زندگی پر کم کم تھا۔
  2. ۔ موازنہ کیجیے: مکہ کی اہمیت کے ضمن میں ص 20 ج2۔
  3. ۔ یہ تقدس دور جاہلیت میں بھی موجود تھا۔ دیکھیے: القرآن ، 28 :57، 29 :67۔
  4. ۔ قریش 106 :1-2 ، جہاں جاڑے اور گرمی کے سفر کا ذکر ہے۔
  5. ۔ غالبًا یہ لوگ اپنی کتابوں کے لکھے کے مطابق نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے منتظر تھے اور اسی لیے یہاں آئے تھے۔
  6. ۔ فجر الاسلام، 23 – 25۔ ایسی روایات کو اصطلاح میں ’’اسرائیلیات‘‘ کہتے ہیں۔
  7. ۔ تاہم یہ مسئلہ اختلافی ہے مستشرق لا مانس (Lammens) کے خیال کے مطابق قُس بن ساعدہ کا نجران سےکوئی تعلق نہ تھا۔ ( فجر الاسلام، 26)
  8. ۔ اس باب کی معلومات کا انحصار بیشتر فجر الاسلام، 12-29پر ہے۔