مواد پر جائیں

قدیم مفسرین کے تسامحات اور مولانا فراہیؒ (2)

ابو سعد اعظمی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

6۔ سورۂ نساء، آیت 140 ’وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا ذکر سورۂ انعام میں ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، لیکن مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت نے سورۂ انعام کی آیت کو منسوخ کر دیا ہے جیسا کہ ابن جریر نے ذکر کیا ہے حالانکہ اس میں نسخ کی نوعیت کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ یہ آیت مسلمانوں کو ان کے پاس بیٹھنے سے منع کر رہی ہے۔ ایسی حالت میں جب آیات الہٰی کا مذاق اڑایا جا رہا ہو تاآنکہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔“1

7۔ نساء، آیت 162 میں وارد ترکیب ’وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ ‘ کا شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ”اور آفرین ہے نماز پر قائم رہنے والوں پر“۔2 ان کی راے میں ’الۡمُقِیۡمِیۡنَ‘ مدح کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، جیسا کہ سیبویہ کا قول ہے، لیکن خاص مدح کے معنی ضروری نہیں، بلکہ اس سے پہلے ”یعنی“ مقدر ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ منصوب ہوتا ہے کیونکہ وہ مدح کے معنی میں نہیں آتا، بلکہ مدح و ذم، دونوں ہی مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔3

8۔ مائدہ، آیت 36-35 ’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”قربانی بھی فدیہ ہی ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وسیلہ کے معنی پیغمبر کی اطاعت کے ہیں اور اگر کوئی نیک کام محض عقل کے کہنے پر کیا جائے تو وہ اللہ کے یہاں مقبول نہیں ہے۔4 یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے، لیکن یہاں اس کا موقع نہیں ہے اور نہ اس شبہ کی کوئی گنجایش ہے جس کا ازالہ انھوں نے کرنا چاہا ہے۔ کیونکہ عمل صالح میں پیغمبر کی اطاعت لازمی طور پر شامل ہے، بلکہ پیغمبر مبعوث ہی اس لیے کیے گئے ہیں کہ اس کی دعوت دیں اور اس کی حقیقت اچھی طرح واضح کر دیں۔ چنانچہ جو تفسیر ماقبل و مابعد کے موافق ہو سکتی ہے، وہ یہی ہے کہ بندہ اللہ تک پہنچانے والے اعمال کے ذریعے سے اپنے تقویٰ کو ثابت کرے جو کہ قربانی کی حقیقت ہے۔“5

9۔ مائدہ، آیت 40 ’اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”علامہ عبدالقادر دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ اگر چاہے تو چھوٹے گناہ پر بڑا عذاب دے۔ اس کے ایسا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔6 یہ آیت کی غلط تاویل ہے۔ کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو عذاب دیتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ … وہ حاکم مطلق ہے جس طرح عذاب دینے پر قادر ہے، اسی طرح بخشنے پر بھی قادر ہے۔ یہ تاویل نظم کلام کے موافق ہے۔“7

10۔ سورۂ انعام، آیت 19 ’وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ‘ میں وارد جملہ ’وَمَنۡۢ بَلَغَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”امام رازی کا خیال ہے کہ ’وَ مَنۡۢ بَلَغَ ‘ سے مراد وہ شخص ہے جو بلوغت کی عمرکو پہنچ جائے۔ اس مفہوم کو مراد لینے کی صورت میں ضمیر کے لوٹانے کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔8 امام رازی کی یہ تاویل انتہائی کمزور ہے۔ آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ میں تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ قرآن پہنچے وہ اس کے ذریعے سے اپنی قوم اور اپنے ساتھیوں کو خبردار کریں، جیسا کہ سورۂ توبہ، آیت 122 میں فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو تبلیغ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ’فلیبلغ الشاہد الغائب‘۔ معلوم ہوا کہ امت پر فریضۂ تبلیغ نص قطعی سے ثابت ہے۔ زیادہ تر مفسرین نے ’وَ مَنۡۢ بَلَغَ ‘ کا یہی مفہوم مراد لیا ہے کہ میں ان لوگوں کو انذار کروں جن تک یہ قرآن پہنچے۔“9

یہاں علامہ فراہی نے امام رازی کی تاویل کو انتہائی کمزور قرار دیا ہے۔ تفسیر رازی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام رازی نے مذکورہ راے کو آیت کی تشریح کے ضمن میں ذکر ضرور کیا ہے، لیکن وہ خود اس راے کو مرجوح قرار دیتے ہیں اور جمہور مفسرین نے آیت کا جو مفہوم مراد لیا ہے وہ ان کے نزدیک بھی راجح ہے۔10 شاید یہی وجہ ہے کہ تعلیقات کے اردو ترجمہ میں یہاں سے بھی امام رازی کے مذکورہ قول کو حذف کر دیا گیا ہے اور اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا گیا۔11

11۔ انعام، آیت 126 ’وَ ہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسۡتَقِیۡمًا قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”علامہ عبد القادر فرماتے ہیں کہ”صراط مستقیم“ سے مراد اطاعت کا اقرار اور عقل کو نظر انداز کرنا ہے“۔ یہ تاویل صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر صراط مستقیم توحید کے لیے مستعمل ہوا ہے۔ یہاں یہ جملہ اللہ تعالیٰ کے لیے اطاعت کو خالص کرنے کے مفہوم میں آیا ہے… اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مومن کی عقل معطل نہیں ہوتی، بلکہ صحیح رخ پر کام کرتی رہتی یہ۔“12

مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی موضح قرآن کے حاشیہ میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ شاہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ غیبی امور میں ایمان بالغیب کافی ہے، عقل کو دخل نہیں۔ رہے احکام شریعت تو ان میں مصلحتیں اور حکمتیں بے شمار ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے عقل و فہم سے کام لینا قرآن کریم کا حکم ہے۔ ’افلا تعقلون؟‘، ’افلا تتفکرون؟‘ شاہ ولی اللہ صاحب نے ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے مقدمہ میں اسرار دین کی حکمتوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پر بڑی محققانہ بحث کی ہے۔13

12۔ اعراف 127 ’وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”’اٰلِہَۃ‘ سے مراد فرعون کے وہ بت ہیں جنھیں اس نے اپنی رعایا کے لیے نصب کرایا تھا تاکہ ان کے آگے سجدہ ریز ہوں اور اس طرح اس کی بڑائی کا اظہار کریں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس کی واقعاتی شہادت تاریخ سے ملتی ہے اور اس سے وہ اشکال رفع ہو جاتا ہے جس میں امام رازی جیسے مفسر پڑنے سے نہیں بچے۔14 اور حضرت حسن، زمخشری اور ابو بکر انباری رحمہم اللہ سے اس معاملہ میں غلطی ہوئی ہے۔ اشکال کی وجہ یہ ہوئی کہ انھوں نے ’اٰلِہَتَکَ ‘ کا جو مفہوم سمجھا جو فرعون کے اس قول کے خلاف تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے کہ اس نے کہا ’مَا عَلِمۡتُ لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرِیۡ ‘ نیز کہا ’ اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی ‘۔‘‘15

13۔ سورۂ توبہ، آیت 112 میں وارد لفظ ’السَّآئِحُوۡنَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”عام مفسرین کے نزدیک اس کے معنی روزہ دار کے ہیں۔ حضرت عکرمہ اور وہب بن منبہ نے اس سے طلب علم کے لیے سفر کرنے والوں کو مراد لیا ہے۔ ابو مسلم کا خیال ہے کہ جہاد کے لیے تگ و دو کرنے والے مراد ہیں۔ لیکن اس میں اشکال یہ ہے کہ سورۂ تحریم، آیت 5 میں یہ لفظ عورتوں کے ایک وصف کے طور پر آیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور و فکر کرنے والوں کے لیے استعمال ہوا ہو۔ نظم کلام سے بھی اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔“16

14۔ سورۂ ہود، آیت 101 ’وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”اس آیت اور اس کے مشابہ دوسری آیتوں کے بعد کوئی شخص کیسے شک کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ اس کا رویہ بخشش اور کرم کا ہے۔ اور اسی کا ہمیں بھی حکم دیا ہے۔ لیکن بعض مسلمانوں کاخیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی فعل ظلم نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مختار کل ہے۔ اگر وہ تمام مخلوق کو بغیر ان کے گناہ کیے عذاب دے یا بغیر کسی نیک کام کے ان کو انعام سے نوازے تو یہ اس کی طرف سے ظلم نہیں ہو گا۔ بلاشبہ یہ کہنے میں ان کی نیت خیر کی ہے۔ لیکن اللہ ان پر رحم کرے کہ انھوں نے اسے عقیدہ بنا کر اللہ کی وہ قدر نہیں کی جس کا کہ وہ حق دار ہے۔ جب ان کے سامنے یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں چھوٹے بچوں اور جانوروں کو کیسے تکلیف میں رکھتا ہے تو وہ یہ کہہ کر اسے جائز ٹھہراتے ہیں کہ اگر وہ کسی مصلحت اور رحمت کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے بھی ایسا کرتاہے تو وہ ظلم نہیں ہو گا، اور اس نے ایسا کیا بھی ہے۔

یہ جواب خلاف قرآن، اس کی آیتوں سے متناقض اور خداے رؤف و رحیم کے ساتھ بدگمانی ہے۔ وہ ایک ایسی بات کے قائل ہیں جس سے بعض مشرکین کے ظالم اور شر برپا کرنے والے خدا اور ہمارے عادل، بخشنے والے، نیکیوں کو قبول کرنے والے، محبت کرنے والے اور رحم فرمانے والے خدا کے درمیان کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ دین کے لیے اس سے زیادہ ضرر رساں چیز کوئی اور نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے بارے میں غلط بات کہی جائے اور اس پر افترا پردازی کی جائے۔ صالحین، چھوٹے بچوں اور حیوانات کو جو تکلیفیں لاحق ہوتی ہیں، اس کا جواب اس کے محل میں تفصیل سے دیا جا چکا ہے۔ پھر جس بات کا علم آپ کو نہ ہو اسے اللہ کی طرف کیوں نہیں پھیر دیتے جیسا کہ قرآن میں روح سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا ہے۔ کسی بات کے جواب میں ”لا ادری“ (میں نہیں جانتا) کہنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔“17

15۔ سورۂ یوسف کی ابتدا میں لکھتے ہیں:

”ہمارے علماے تفسیر پر دونوں پیغمبروں (حضرت یوسف علیہ السلام اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) کے درمیان مطابقت کا یہ پہلو مخفی نہیں تھا… ابن جریر کی یہ تفسیر اس سے قریب ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ البتہ مشرکین کو اس آیت کا مخاطب قرار دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ سورہ کے آغاز میں صریح طور پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے اور آخر میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یہ قصہ اہل عقل کے لیے عبرت حاصل کرنے کی غرض سے بیان کیا گیا ہے۔“18

16۔سورۃ الرعد، آیت 11 میں وارد لفظ ’مُعَقِّبٰتٌ‘ کی تشریح میں امام رازی پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فراہی لکھتے ہیں:

”امام رازی نے ’مُعَقِّبٰتٌ‘ کے معنی رات اور دن میں یکے بعد دیگرے رکھوالی کرنے والے فرشتے بتائے ہیں، لیکن یہ راے مجھے صحیح نہیں معلوم ہوتی۔“19

امام رازی نے اس ضمن میں دو قول نقل کیے ہیں۔ اول الذکر جس کو امام فراہی نے صحیح نہیں قرار دیا ہے، اسے وہ جمہور کے قول کی حیثیت سے نقل کرتے ہیں جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے انھوں نے اس کا ایک دوسرا مفہوم بھی نقل کیا ہے۔20 یہاں امام فراہی نے امام رازی کی مذکورہ راے کے سلسلہ میں اپنی بے اطمینانی کا اظہار تو کر دیا ہے، لیکن اس کا صحیح مفہوم کیا ہو گا، اس کی نشان دہی نہیں کی۔

17۔ سورۃ الرعد کی آیت 27 ’وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ‘ کے ضمن میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اس آیت کا مطلب سمجھنے میں شاہ عبد القادر سے غلطی ہوئی ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ نے پیغمبرپر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری کہ وہ اسے دیکھ کر اس پر ایمان لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ جس کو گم راہ کر دیتا ہے اس کو کوئی نشانی ہدایت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ ہدایت اور ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اسے وہ اس کو دیتا ہے جو اس کا حق دار ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو ہدایت دیتا ہے اور جو منہ پھیر لیتا ہے اسے گم راہ کر دیتا ہے۔“21

18۔ سورۃ النحل، آیت 112 ’وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:

”اس تمثیل کو سمجھنے میں ہمارے مفسرین کو اشکال پیش آیا ہے۔ یہاں سبا کی بستی کا ذکر ان یہود کی مثال کے طور پر کیا گیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر معترض تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توریت میں حرام کردہ چیزوں کو جائز ٹھہرا دیا ہے۔ ان کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تو انھوں نے بھی کچھ چیزوں کو جائز ٹھہرایا، لیکن یہود نے ان کی تکذیب کر دی۔“22

یہاں بھی امام فراہی نے تفسیر القرآن بالقرآن کا التزام کرتے ہوئے بہ طور استدلال آل عمران: 50، سباء: 20-15 اور سورۃ البقرہ، آیت 106 کا حوالہ دیا ہے جہاں اس کی صراحت موجود ہے۔

19۔ سورۃ الکہف، آیت 40 میں وارد ’حُسۡبَانًا ‘ کی توضیح میں لکھتے ہیں:

”اس کے معنی چھوٹے نیزے کے بتائے گئے ہیں اور یہ ’حسبانۃ‘ کی جمع ہے۔ نیز کہا گیا ہے کہ ’حسبان‘ کے معنی اللہ کے فیصلے کے ہیں، جو وہ کرتا ہے۔ ایک معنی عذاب کے بھی بتائے گئے ہیں۔ نیز کڑک، کیڑے مکوڑے، غبار،بادِ تند اور بادلوں کے معنی میں بھی اس کو لیا گیا ہے۔ یہ تمام معانی محض اٹکل سے بیان کیے گئے ہیں۔“23

یہاں بھی امام فراہی کو ’حُسۡبَانًا ‘ کے مذکورہ مفاہیم پر شرح صدر نہیں ہے اور وہ انھیں گمان محض قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس کا صحیح مفہوم کیا ہو گا، اس کی نشان دہی نہیں کی ہے۔ عمر عزیز نے اگر انھیں مہلت دی ہوتی اور انھیں اس مسودہ پر نظر ثانی کا موقع میسر آیا ہوتا تو شاید وہ اس کے صحیح معنی کی نشان دہی کرنے کی ضرور کوشش کرتے۔

[باقی]

  1. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/137۔
  2. ۔ دہلوی، شاہ عبد القادر، موضح القرآن، تصحیح و تشریح اخلاق حسین قاسمی 133۔
  3. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/139۔
  4. ۔ دہلوی، عبد القادر، موضح القرآن 145۔
  5. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/154۔
  6. ۔ دہلوی، عبد القادر، موضح القرآن 146۔
  7. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/155۔
  8. ۔ الرازی، التفسیر الکبیر 12/178۔
  9. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/179۔
  10. ۔ الرازی، التفسیر الکبیر 12/178۔
  11. ۔ فراہی، قرآنی حواشی 136۔
  12. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/198۔
  13. ۔ دہلوی، عبد القادر، موضح القرآن 185۔
  14. ۔ الرازی، التفسیر الکبیر 14/211۔
  15. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/224۔
  16. ۔ ایضاً 18252۔
  17. ۔ ایضاً 1/290۔
  18. ۔ ایضاً 1/297۔
  19. ۔ ایضاً 1/314۔
  20. ۔ الرازی، التفسیر الکبیر 19/ 21-18۔
  21. ۔ الفراہی، تعلیقات 1/317۔
  22. ۔ ایضاً 1/358۔
  23. ۔ ایضاً 18385۔