20۔ سورۃ الحج، آیت 52 ’وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
”مفسرین کا کہنا ہے کہ ’تَمَنّٰۤی ‘ کے معنی تلاوت کرنے کے ہیں جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت 78 میں ہے کہ ’لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ ‘۔ اسے قاضی عیاض نے سب سے اچھا قول کہا ہے۔ یہی بات حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے کہی ہے۔ میرے نزدیک (اور صحیح علم اللہ ہی کو ہے) یہ تکلف اور اصل مسئلہ سے فرار کی صورت ہے۔ سورۂ بقرہ کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بھی ’اَمَانِیَّ‘ کا لفظ تلاوت کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ آیت کا سیاق اس سے انکار کرتا ہے۔ ابن جریر نے آیت کی تاویل میں طویل روایتیں نقل کی ہیں جو بالکل بے اصل ہیں۔1 انھوں نے ان کے بودے ہونے کے بارے میں کچھ لکھابھی نہیں۔ یہی سے واضح ہوتا ہے کہ روایتوں پر تکیہ کرنے والوں کا طریقہ کس قدر غلط ہے۔ قرآن کی آیات اور عقل، دونوں سے ان روایتوں کا جھوٹ ظاہر ہے۔“2
امام فراہی نے یہاں بھی تفسیری روایات کو بنیاد بنا کر اس آیت کا جو مفہوم بیان کیا گیا ہے اس کی نفی کی ہے، لیکن اس کا صحیح مفہوم کیا ہو گا، اس کی نشان دہی حواشی میں نہیں آ سکی ہے۔ البتہ سورۃ الحج کی اپنی نامکمل تفسیر میں انھوں نے آیت کا صحیح مفہوم واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو پہلی مرتبہ دار الغرب الاسلامی، تونس سے عبید اللہ فراہی کی توجہ سے شائع ہوئی ہے۔ مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”اگرچہ یہاں اسلوب بیان عام ہے، لیکن شیطان کے القا کے سلسلے میں اشارہ سابق انبیا کی کتابوں کی طرف ہے۔ یہ آیت قرآن کریم کے ذریعے سے سابق احکامات کے ان حصوں کے نسخ کے ضمن میں ذکر ہوئی ہے جو شیطان کے القا کے نتیجے میں اس میں شامل ہو گئے تھے۔ سورۂ حج کی آیت 54 ’وَّ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ‘، ”اور (ایسا اس لیے بھی ہوتاہے) کہ وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا ہے اچھی طرح جان لیں کہ یہی تیرے رب کی جانب سے حق ہے۔“ بھی اسی حق کے بارے میں ہے جو قرآن میں نازل ہوا ہے۔ قرآن کی یہ تفسیر قرآن کے مطابق ہے۔ اس کو حرز جاں بنا لو، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور ان روایات کی طرف بالکل توجہ نہ دو جن میں شیطانی دجالوں نے بے ہودہ باتوں کی آمیزش کر دی ہے اور ان کے ذریعے سے بہت سارے سادہ لوح اور کمزور عقل والوں کو گم راہ کر دیا۔“3
اس کے بعد اعراف 203، یونس 15 اور سورۂ نجم 4-3 پیش کر کے انھوں نے صراحت کر دی ہے کہ دیکھو اللہ نے کیسے اپنے نبی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ رسول صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہے جو اس کے پاس اس کے رب کی طرف سے آتی ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے شہادت ہوئی۔
ابن جریر طبری نے آیت کی تاویل کے ذیل میں متعدد احادیث نقل کی ہیں، لیکن تفسیر طبری کی روایات کے محقق نے ان میں سے اکثر روایات کو ضعیف قرار دیا ہے اور بعض کی تصحیح کی ہے، لیکن انھیں مرسل گردانا ہے۔ نیز اس ضمن میں جو صحیح روایات وارد ہیں وہ اس قصے کے تذکرے سے خالی ہیں جس میں کفار و مشرکین کے بتوں کا ذکر اور ان سے شفاعت کی امید جتائی گئی ہے۔ اس لیے آیت کی تشریح کے ضمن میں ان روایات پر انحصار کرنا صحیح نہیں ہو گا۔
21۔ سورۃ المومنون، آیت 67 میں وارد لفظ ’بِہٖ سٰمِرًا‘ میں ’ہ‘ کے مرجع کی تعیین میں بیضاوی پر اشکال کرتے ہوئے مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”’بہ‘ کی ضمیر کے مرجع اور ’سٰمِرًا‘ کوواحد لانے کے سلسلہ میں مفسرین کو اشکال پیش آیا ہے۔ بیضاوی اس کے وجوہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’بہ‘ کی ضمیر بیت کے لیے ہے۔ ان کے گھمنڈ اور رعونت کی شہرت کی وجہ سے کہ اس کے نگہبان ہیں، اسے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یا یہ کہ ضمیر کا مرجع ’آیاتی‘ ہے جو ’کتابی‘ کے معنی میں ہے۔ اور ’ب‘ مستکبرین کا صلہ ہے جس کے معنی مکذبین کے ہیں۔ یا ’ب‘ سبب کے مفہوم میں ہے۔ اس وجہ سے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کے اندر گھمنڈ قرآن مجید کو سن کر پیدا ہوا یا اس وجہ سے کہ وہ قرآن کی یاددہانی کو قصہ گوئی سمجھتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ’سامرًا‘ دراصل مصدر ہے جو ’عافیۃ‘ کی طرح فاعل کی صورت میں آیا ہے۔ ایک قراء ت’سمرا‘ کی بھی ہے جو ’سامر‘ کی جمع ہے۔
یہ تمام وجوہ جنھیں بیضاوی نے بیان کیا ہے، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ ان سب کے مقابلہ میں بہتر تاویل یہ ہے کہ ’سامرًا‘ کو ’تہجرون‘ کا مفعول قرار دیا جائے۔ یعنی میری آیتوں کو سننے سے تمھارا گھمنڈ کرتے ہوئے منہ پھیر کر چل دینا تمھاری ایسی حالت کوظاہر کرتا ہے گویا کسی افسانہ کی محفل کو چھوڑ کر جا رہے ہو اور اس کی باتوں کی تمھیں مطلق پروا نہیں۔ بعد کی آیت اسی مفہوم کو واضح کر رہی ہے۔ دوسری تاویل جو اس سے قریب ہے، یہ ہو سکتی ہے کہ ’بہ‘ کو ’سامرًا‘ سے متعلق مانا جائے۔ ضمیر کو مذکر لانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پیغمبر کی سنائی ہوئی باتوں کو وہ آیات الہٰی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ کسی قصہ گو کی کہانی سمجھتے تھے۔ یہ دونوں تاویلیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ واللہ اعلم۔‘‘4
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے تعلیقات کے اردو ترجمہ ”امام فراہی کے قرآنی حواشی“ میں اس جگہ قوسین کے اندر لکھا ہے:
”غالباً صحیح تاویل یہ ہے کہ ضمیر مذکر کا مرجع ’آیاتی‘ ہے جو ’تتلی‘ سے مفہوم ہو رہا ہے اور وہی ’سامرًا‘ سے مراد ہے جو اسم فاعل مفرد ہے نہ کہ مصدر اور جمع کی قراءت مرجوح ہے۔“5
22۔ سورۃ العنکبوت، آیت19،22’اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ… وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ‘ کی تشریح میں مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”یہ محکم جملہ اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ قوموں کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا۔ چنانچہ مفسدین کو عذاب سے دوچار کیا اور مومنین پر رحم فرمایا۔ اس کے سوا کوئی کارساز اور مدد گار نہیں، اس لیے صرف اسی پر ان کو بھروسا کرنا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ وہ بغیر کسی سبب کے جس کوچاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے تو اس طرح کی غلط تاویل سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے جو نظم کو کاٹنے والی اور محکم تاویل کو درکنار کرنے والی ہے۔“6
23۔ سورۃ الاحزاب، آیت 72 ’اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ‘ کی تشریح میں مولانا فراہی تحریر کرتے ہیں:
”… اگر آزمایش نہ رکھی گئی ہوتی اور امانت کو پورا کرنے کا معاملہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے بڑا پہلو مخفی اور معطل پڑا رہتا۔ پس اس حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے اسے نہیں سمجھا وہ جبر محض کے گڑھے میں جا گرے۔“7
24۔ سورۂ فاطر، آیت 8 ’اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ‘ کی تشریح کے ضمن میں مولانا فراہی رقم طراز ہیں:
”آیت کریمہ میں محذوف مقدر کو سمجھنے میں مفسرین سے شدید تسامح ہوا ہے۔ اسی قسم کی یہ آیت بھی ہے ’اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ ‘ یعنی اللہ نے اپنے علم کی بنیاد پر جس شخص کو گم راہ کر دیا اور اس کے دل اور کان پر مہر لگا دی اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیا، کیا تم اسے ہدایت دے سکتے ہو؟ اللہ کے بعد اسے کون ہدایت سے سرفراز کر سکتا ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟‘‘8
تعلیقات کے اردو ترجمہ ”مولانا فراہی کے قرآنی حواشی“ میں نامعلوم کن وجوہات کی بنیاد پر اس پوری عربی عبارت کے ترجمہ کو حذف کر دیا گیا ہے۔9
25۔ سورۂ فاطر، آیت 22 ’اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ‘ کی تشریح میں مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”میرا خیال ہے کہ جو لوگ قبر میں ہیں وہ سنتے نہیں، البتہ اللہ جس کو چاہتا ہے اسے سناتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں صراحت ہے۔ چنانچہ ان میں سے جو بھی سنتا ہے وہ اللہ کے حکم سے سنتا ہے۔“10
26۔ سورۂ ص، آیت 24 ’وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّہٗ وَ خَرَّ رَاکِعًا وَّ اَنَابَ ‘ کے ضمن میں مولانا فراہی تحریر کرتے ہیں:
”حضرت داؤد علیہ السلام کے آزمائے جانے کے سلسلے میں مورخین نے فضول قسم کا قصہ تراش لیا ہے۔11 جب کہ واقعہ کی اصل صورت یہ ہے کہ ایک مال دار بھائی نے اپنے دوسرے کمزور پڑوسی بھائی کی ایک دنبی کو اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ ایسی بات ہے جو اہل ثروت کے مزاج میں غالب عنصر کی حیثیت سے پائی جاتی ہے۔ اس زمانہ میں بھیڑ، دنبے مال و دولت کی نشانی سمجھے جاتے تھے اور ان پر دنبی کی شکل کا ٹھپا لگاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سکوں پر انھی کی تصویر بنی ہوئی تھی اور اسے نعجہ ہی کے نام سے موسوم بھی کرتے تھے۔“12
ابن جریر نے بھی یہاں آیت کی تشریح میں متعدد تفسیری روایات نقل کر دی ہیں اور ان کے استناد سے کوئی بحث نہیں کی ہے۔ تفسیر طبری کے فاضل محقق منصور عبدالحمید نے حاشیہ میں ان تفسیری روایات کے بے اصل اور ضعیف ہونے کی صراحت کر دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج تک بعض تفسیری کتب میں یہ ضعیف اور بے اصل روایات نقل در نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں اور ان کے ضعف سے اغماض برتا جاتاہے۔
27۔ سورۃ الشوریٰ، آیت 23 ’قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ‘ کی تشریح میں مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”صلہ کی طلب رکھنا انبیا کی شان کے خلاف ہے جیسا کہ سورۃ الشعرا کی ان آیتوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں جو حضرت نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہم السلام کی زبانی بیان ہوئی ہیں… یہ ’اجراً‘ سے استثنا نہیں ہے، بلکہ استدراک کے طور پر ہے۔ ’فِی الۡقُرۡبٰی ‘ کے معنی ہیں قرابت داری کے پہلو سے جیسے ’الحب فی اللّٰہ‘ کہتے ہیں۔ مسلمانوں کے بعض فرقے آیت کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذوی القربیٰ سے محبت رکھنے کا مطالبہ کیا۔ یعنی مضاف مقدر ہے۔ اس مفہوم کا نہ تو لفظ ساتھ دے رہا ہے کیونکہ مودت کا صلہ نہیں آتا اور نہ ہی عقل اس کو قبول کر سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض قریبی اعزہ اللہ کے سخت دشمن تھے اور آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر لوگوں سے کبھی کسی اجر کے طالب نہیں ہوتے۔“13
خلاصہ
مذکورہ مثالوں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نظم قرآن کا جو فلسفہ مولانا فراہی کے پیش نظر تھا اور انھوں نے تفسیر قرآن بالقرآن کا جو خصوصی التزام کیا تھا اس کی وجہ سے آیت کا صحیح مدعا و مفہوم اور اس کی صحیح تاویل ان کے سامنے بالکل واضح ہو جاتی تھی۔ اس کے برعکس تفسیری روایات آیت کی تاویل و توجیہ کو بعض اوقات بالکل دوسرے رخ پر ڈال دیتی تھیں اور ان کی وجہ سے مفسرین کو آیت کے فہم میں دشواری پیش آتی تھی۔ تفسیری روایات پر بالکلیہ انحصار اور نظم کلام کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی مفسرین نے قصۂ داؤد و سلیمان اور حضرت زینب کے سلسلے میں ایسی بے سرو پا روایات تفسیر کی کتابوں میں نقل کر دی ہیں جن کا بطلان بالکل واضح ہے، لیکن ابن جریر طبری ان روایات کو بغیر کسی تبصرہ کے نقل کر دیتے ہیں۔ امام فراہی نے اس طرح کی تفسیری روایات کو ناقابل التفات قرار دیا ہے اور متعدد مقامات پر اس ضمن میں ابن جریر طبری کی گرفت کی ہے۔ اسی طرح بعض آیات کی توجیہ کے سلسلہ میں امام رازی پر بھی نقد کیا ہے۔ شاہ عبد القادر دہلوی رحمہ اللہ سے بھی بعض آیات کی تشریح میں تسامح ہوا ہے، امام فراہی نے اس کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اسی طرح بعض آیات میں وارد مفردات کی تشریح، نحوی تراکیب نیز آیت کی تفسیر و تاویل میں زمخشری اور بیضاوی جیسے مفسرین کو اشکال پیش آیا ہے تو امام فراہی نے اس کی صحیح توجیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ مولانا فراہی نے ان مفسرین کے جن تسامحات کی نشان دہی کی ہے ان کی حیثیت واقعی تسامحات کی ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امام فراہی کے قرآنی حواشی کے عربی اور اردو نسخہ کے مابین تقابل کرنے پر متعدد ایسے مقامات سامنے آتے ہیں جہاں عربی حواشی میں تو امام فراہی کی تنقید کا ذکر ہے، لیکن اردو کے حواشی میں انھیں حذف کر دیا گیا ہے اور صرف آیت کی تشریح پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر مولانا امانت اللہ اصلاحی نے قوسین کے اندر نحوی تراکیب یا مرجع کی تعیین وغیرہ کرتے ہوئے مفسرین کی راے کو راجح قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان حواشی کی حیثیت محض یادداشت کی تھی اور مولانا فراہی کی زندگی نے وفا کی ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ اس پر نظر ثانی کرتے اور اس میں درج بعض آرا سے رجوع بھی کرتے۔ اس لیے کہ غور و فکر ان کا مستقل وظیفۂ حیات تھا۔ لیکن عمر عزیز نے ان کو اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اپنا تفسیری کام مکمل کر سکتے۔ ان حواشی کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ تفسیر ماثور کا پورا سرمایہ امام فراہی کی نظر میں تھا اور وہ تفسیری روایات کی حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے اور آیت کے صحیح مفہوم تک پہنچنے کے لیے تفسیر القرآن بالقرآن کا اہتمام کرتے ہوئے نظم کلام کی رعایت کو ضروری خیال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تفسیر میں احادیث بہت کم آ سکی ہیں، لیکن اس کی وجہ سے ان پر استخفاف حدیث کا الزام عائد کرنا قرین انصاف نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے مقدمہ میں خود یہ صراحت کر دی ہے:
”میرے پیش نظر تو ایک ایسی کتاب کی تالیف ہے جو بنیاد اور مرکز کا کام دے اور جو نقطۂ اعتدال اور قول فیصل کی حیثیت سے نمودار ہو۔ اس لیے میں نے صرف اتنے ہی پر اکتفا کیا ہے جتنا قرآن میں ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو کچھ میں نے چھوڑ دیا ہے اس کا منکر ہوں۔ امام بخاری نے اپنی کتاب میں صرف وہ روایتیں جمع کی ہیں جو ان کے اصولوں پر پوری اتری ہیں اور بہت سی صحیح روایتیں چھوڑ دی ہیں، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ ان کے منکر ہیں۔“14
- ۔ طبری، ابن جریر، جامع البیان 8/238-230۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 1/423۔
- ۔ الفراہی، عبد الحمید، نظام القرآن وتاویل الفرقان بالفرقان1/434۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 1/434۔
- ۔ فراہی، قرآنی حواشی 327۔
- ۔ الفراہی، عبد الحمید، تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم 2853۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 2/99۔
- ۔ ایضاً 2/116۔
- ۔ فراہی، قرآنی حواشی 404۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 2/119۔
- ۔ طبری، ابن جریر جامع البیان 9/604-597۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 2/147۔
- ۔ ایضاً 2/209۔
- ۔ فراہی، حمید الدین، تفسیر نظام القرآن 36۔