]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
مولانا فراہی (ء1930-ء 1863) علمی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے پوری زندگی قرآن کریم میں غور و فکر اور تدبر و تفکر میں بسر کی۔ جدت و ابتکار اورتحقیقی شان ان کی تصانیف کا امتیازی وصف ہے۔ انھوں نے شرح و بسط کے ساتھ نظم قرآن کا فلسفہ پیش کیا اور اپنی تفسیر میں اس کی رعایت کرتے ہوئے عملی طور پر اس کا انطباق کر کے دکھایا۔ فلسفۂ نظم قرآن پر شدت اعتنا کی وجہ سے مولانا فراہی سے متعلق بعض حلقوں میں یہ غلط فہمی جڑ پکڑ گئی کہ آپ نے احادیث کے معاملہ میں استخفاف سے کام لیا ہے اور اپنی تفسیر میں عملاً اس سے اغماض برتا ہے۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی فراہم ہوئی کہ مولانا فراہی کی مرتبہ تفسیر میں احادیث بہت کم نقل ہوئی ہیں اور بعض صحیح روایات کے سلسلہ میں بھی ان کا موقف عام موقف سے الگ ہے۔ حالانکہ اگر مولانا فراہی کے سلسلہ میں یہ خیال بھی عام ہے کہ انھوں نے اپنے مخصوص فلسفۂ نظم قرآن کی وجہ سے تفسیر منقول یا ماثور کے ذخیرہ سے اغماض برتا ہے اور صرف نظم کی روشنی میں آیت کا مدعا و مفہوم واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی ایک بے بنیاد خیال ہے۔ مولانا فراہی نے اپنے مقدمہ میں ببانگ دہل یہ صراحت کی ہے کہ میرے نزدیک قرآن کی سب سے بہترین تفسیر وہ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔1
واضح رہے کہ مولانا فراہی کو عمر عزیز نے اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اپنا تفسیری کام مکمل کر سکیں۔ انھوں نے چند چھوٹی سورتوں کی تفاسیر لکھیں اور سورۂ بقرہ (نامکمل)، آل عمران کی چند آیات، سورۃ الحج اور الذاریات کی تفسیر قلم بند کی۔ ان سورتوں کی تفسیر و توضیح میں انھوں نے فلسفۂ نظم قرآن کو برتنے کی کامیاب کوشش کی اور آیت کا دل نشیں و صحیح مفہوم پیش کیا۔ اس کے علاوہ ان کے تفسیری حواشی ہیں جو مولانا فراہی کی قرآنی فکر اور ان کی قرآنی بصیرت کو سمجھنے میں حد درجہ معاون ہیں۔ قرآنی حواشی کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مولانا فراہی کو فہم حدیث میں بھی درک حاصل تھا اور وہ تمام تر اس کو قرآن کریم سے ماخوذ سمجھتے تھے نیز قدیم تفاسیر کا پورا سرمایہ ان کی نظر میں تھا اور انھوں نے ان کا بالاستیعاب اور گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی فراہم ہوتی ہے کہ انھوں نے علوم القرآن کی بعض اہم کتب مثلاً ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ وغیرہ پر بھی باقاعدہ حواشی چڑھا رکھے تھے۔ چنانچہ نظم قرآن کی رعایت کرتے ہوئے وہ جس معنی و مفہوم تک پہنچتے اس کی تائید و تصویب میں صحابۂ کرام میں سے کسی نہ کسی کی راے انھیں ضرور مل جاتی۔
مولانا فراہی نے اپنے مقدمۂ تفسیر میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ انھیں سب سے زیادہ پسند وہی تفسیر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، لیکن چونکہ تفسیری روایت میں رطب و یابس ہر قسم کی روایات شامل ہیں، اس لیے انھوں نے اسے ظنی ماخذ میں شامل کیا ہے۔2 البتہ اگر کسی آیت کی توجیہ سے متعلق انھیں کوئی صحیح حدیث مل گئی ہے تو انھوں نے بلاتردد و توقف کے اپنے قائم کردہ موقف سے رجوع کر لیا ہے اور صحیح حدیث کو فوقیت دی ہے۔ یہاں صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ سورۃ الحجر میں وارد آیت 87 میں ”سبع مثانی“ سے کیا مراد ہے، اس کی توجیہ کرتے ہوئے مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”… مشہور تاویل کے لحاظ سے یہ سورۂ فاتحہ کی سات آیتیں ہیں۔ یہ تمام تاویلیں اسی صورت میں لائق اعتماد ہو سکتی ہیں جب ان سے متعلق بیان کردہ حدیث صحیح ہو، ورنہ سبع مثانی سے دوسرے معانی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، مثلاً حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں اور سورۂ بقرہ سے سورۂ حجر تک کی چودہ سورتیں۔“3
لیکن سورۂ فاتحہ کے شروع میں مولانا فراہی اسے سبع مثانی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اس سورہ (سورۂ فاتحہ) کی حیثیت ہمارے علما پر خود قرآن سے روشن ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا احسان عظیم جتاتے ہوئے فرمایا ’ وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ‘ (الحجر: 87) ”ہم نے تم کو سات دہرائی ہوئی اور قرآن عظیم دیا۔“ سلف سے لے کر خلف تک علما کا اتفاق ہے کہ سبع مثانی سے مراد یہی سورۂ فاتحہ ہے۔“4
سبع مثانی کے سلسلے میں مولانا فراہی کی اتنی واضح اور قطعی راے کے باوجود مولانا امین احسن اصلاحی نے ”سبع مثانی“ کے سلسلے میں علما کے تین اقوال بیان کیے ہیں اور ان پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے آخر میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔5 جس سے اختلاف کی پوری گنجایش ہے۔
چونکہ قدیم مفسرین کے یہاں بالعموم ایک روایت سے متعلق مختلف تفسیری روایات نقل کر دی گئی ہیں اور ان کے ضعف و صحت کے پہلو سے اغماض برتا گیا ہے اس لیے مولانا فراہی نے ان تفسیری روایات پر بہت زیادہ توجہ صرف نہیں کی ہے۔ لیکن اس سے یہ خیال کر لینا کہ انھوں نے تفسیر ماثور سے صرف نظر کرتے ہوئے تفسیر بالراے کا سہارا لیا ہے، درست نہیں ہے۔ تعلیقات کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے قدیم تفسیری سرمایہ کا دقت و باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ طبری، رازی، کشاف، بیضاوی، جلالین وغیرہ ان کی نظر میں ہیں چنانچہ انھوں نے ان حواشی میں متعدد مقامات پر ان تفاسیر کا حوالہ دیا ہے اور بعض ایسے مقامات پر جہاں انھیں ان تفاسیر میں بیان کردہ موقف سے اختلاف ہوا ہے اس کا برملا اظہار کیا ہے۔ یا اگر ان کی نقل کردہ روایت میں ضعف کا کوئی پہلو ہے تو مولانا فراہی نے اس کی نشان دہی کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان مقامات کی تفسیر میں انھوں نے جو لا طائل روایات نقل کی ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس مقالہ میں ایسے ہی مقامات کی نشان دہی اور مولانا فراہی کی گرفت اور ان کی تنقیدی بصیرت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
1۔ سورۂ بقرہ آیت 113 ’… فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ‘ میں ’یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ ‘ کا لفظ آیا ہے۔ مولانا فراہی نے تفسیر القرآن بالقرآن کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ ”یعنی بدعات اور خواہشات نفس کو محبوب رکھنے کی وجہ سے دین کے جس معاملے میں یہ باہم جھگڑ رہے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے ’ وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ‘ (الشوریٰ: 10)، دوسری جگہ فرمایا ہے ’ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ‘ (الجاثیہ: 17)۔ پھر ابن جریر پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی ہے کہ ابن جریر نے آیت مذکور کی تفسیر میں متعدد طویل تفسیری روایات ذکر کردی ہیں اور اس کے ضعف کی نشان دہی سے اغماض برتا ہے۔ 6
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علامہ فراہی سے یہاں تسامح ہو گیا ہے کیونکہ تفسیر طبری سے رجوع کرنے پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ یہاں ابن جریر نے اس ضمن میں کوئی روایت نقل نہیں کی ہے اور آیت کا تقریباً وہی مفہوم بیان کیا ہے جو علامہ فراہی کے پیش نظر ہے۔7 شاید یہی وجہ ہے کہ عبید اللہ فراہی اور امانت اللہ اصلاحی رحمہما اللہ نے تعلیقات کے اردو ترجمہ میں مولانا فراہی کی اس گرفت کو حذف کر دیا ہے۔8
2۔ سورۂ بقرہ آیت 213 ’کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ‘ کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”آیت کریمہ کا مطلب ہے کہ سب اللہ کے نزدیک ایک امت ہیں جیسا کہ دین کے بارے میں فرمایا کہ ’اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ‘ (آل عمران: 19) یا جیسا کہ فرمایا: ’فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ‘ (الروم: 30)۔ یہاں ’کان‘ دوام کے مفہوم میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ ’وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ‘ میں ہے۔ مذکورہ آیت کی تاویل میں مفسرین سے لغزش ہوئی ہے اور انھیں اشکال پیش آیا ہے۔‘‘9
تفسیر طبری سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ اس آیت کی تشریح میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں10 جب کہ علامہ فراہی نے تفسیر القرآن بالقرآن کی روشنی میں اس کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔
3۔ سورۂ بقرہ آیت 259 ’ اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ…‘ کی تشریح میں مولانا فراہی لکھتے ہیں:
”امام زمخشری نے دوسری مثال کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بستی کی طرف سے گزرنے والا شخص آخرت کا منکر تھا کیونکہ اس کا ذکر نمرود کے پہلو بہ پہلو ہوا ہے۔11 اس کے کافر ہونے کا دوسرا ثبوت انھوں نے یہ پیش کیا ہے کہ اس نے احیاے موتی کے لیے کلمۂ استبعاد استعمال کیا اور کہا ہے کہ اس بستی کے ویران ہو جانے کے بعد خدا کس طرح اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بستی سے گزرنے والے شخص حضرت عزیر یا حضرت خضر تھے جو دیکھنا چاہتے تھے کہ اللہ کس طرح مردوں کو زندہ کرے گا تاکہ ان کی بصیرت میں اضافہ ہو، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح مردوں کو زندہ کرے گا، اس کے تصور سے وہ عاجز ہیں اور زندہ کرنے والے کی طاقت کی بڑائی کا انھیں احساس ہے۔“12
تفسیر کشاف سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ امام ناصر الدین احمد بن محمد بن المنیر الاسکندری المالکی نے زمخشری کے اس قول سے اختلاف کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ نمرود کے پہلو بہ پہلو اس واقعہ کے بیان ہونے سے اس کے کفر پر استدلال کرنے کی بہ نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سیاق میں اس واقعہ کے نقل ہونے کی بنا پر اس شخص کے ایمان پر استدلال کرنا زیادہ قریب صواب ہے۔13
4۔ آل عمران آیت 110 ’ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
”فعل جمع کی نسبت مجموعہ افراد کی طرف ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی نسبت جماعت کے ایک ایک فرد کی طرف ہے۔ ابن تیمیہ کا خیال ہے کہ امر بالمعروف امت کے ہر فرد پر واجب ہے۔ اس طرح انھوں نے آیت کا مطلب سمجھنے میں غلطی کی۔ ان کی راے میں ’منکم‘ میں ’من‘ تبعیض کے لیے نہیں ہے چنانچہ شاذ مفہوم کو انھوں نے اختیار کیا اور مشہور معنی کو چھوڑ دیا۔ ان کی تفسیر اصول تاویل کے خلاف ہے اور سنت و حکمت اور قریب کی نظیر کے بھی خلاف ہے کیونکہ دو آیتوں کے کے بعد ہی فرمایا ہے ’لَیۡسُوۡا سَوَآءً مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَ ہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ ‘ (آل عمران: 113)۔ ظاہر ہے کہ آیت کے معنی یہ نہیں ہوسکتے کہ تمام اہل کتاب اسی طرح ہیں۔“14
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے مولانا فراہی کی راے پر حاشیہ لگایا ہے کہ ”اس آیت میں جو مطلوب کے بیان میں ہے ’من‘ وسط کلام میں ہونے کی وجہ سے بیان کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تبعیض کے لیے بھی جب کہ قریب کی نظیر میں جو بیان واقعہ کے لیے ہے، اصل کلام میں ہونے کی وجہ سے اس کا تبعیض کے لیے ہونا قطعی ہو جاتا ہے۔ ابن تیمیہ کی راے کی تائید اس سے بھی ہو رہی ہے کہ اگلی آیت ’من‘ سے خالی ہے۔“15
5۔ آل عمران، آیت 161 ’وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
”’غل‘ (کینہ،حسد، خیانت اور بدخواہی) ”نصح“ (خیر خواہی) کی ضد ہے۔ کوئی بھی نبی ایسا نہیں کرتا کہ اپنی ذاتی خواہش اور پسند کی بنیاد پر اہل ایمان کو کسی ایسی بات کا حکم دے جس میں ان کی تباہی اور بربادی ہو اور وہ قتل کر دیے جائیں یا انھیں زخم پہنچے۔ بلکہ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اس میں اللہ کی مرضی کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اعتراف کریں کہ اس نے انھی میں سے ایک رسول ان کے پاس بھیجا جو اس کی آیتیں انھیں پڑھ کر سناتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ تذبذب میں پڑیں اور اس کے حکموں کے بارے میں غلط خیال اپنے دل میں لائیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر ان کے ساتھ بدخواہی کرے جب کہ وہ جانتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے نیک و بد کا پورا پورا بدلہ دے گا اور اس کی بدنیتی کو اس کے سامنے لا کر رکھ دے گا۔ جن لوگوں کی سمجھ میں دونوں آیتوں کا مفہوم نہیں آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ ’غل ‘ کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جسے اٹھائے ہوئے آدمی قیامت میں حاضر ہو نہ کہ اعمال۔ مفسرین نے آیت کے سیاق و سباق پر کماحقہ غور نہیں کیا، یہاں مال غنیمت کے ذکر کا کوئی موقع ہی نہیں ہے، چنانچہ نظم کو پیش نظر نہ رکھنے کی وجہ سے انھوں نے یہاں مختلف قسم کے قصے بنا لیے اور آیت کی من مانی تاویل کر ڈالی،16 حالانکہ قرآن سے ان کے نقطۂ نظر کی نفی ہوتی ہے۔“17
لفظ ’غل ‘ کی علامہ فراہی نے جو تشریح پیش کی ہے وہ مزید غور و فکر کی متقاضی ہے۔ یہاں انھوں نے مفسرین پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انھوں نے آیت کے سیاق و سباق پر کما حقہ غور نہیں کیا، حالانکہ تفسیر طبری سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ آیت کی تشریح اور بالخصوص ’غل ‘ کی توضیح میں متعدد طویل روایات پیش کی گئی ہیں۔ اگرچہ تفسیر طبری کے فاضل محقق منصور عبد الحمید نے حواشی میں ان میں سے اکثر روایات کو ضعیف یا مرسل قرار دیا ہے، لیکن مفسرین بالعموم آیت مذکورہ میں وارد ’غل ‘ کی تفسیر انھی روایات کی روشنی میں کرتے ہیں۔18 جب کہ مولانا فراہی کو ان روایات کی صحت کے سلسلے میں اشکال ہے اور انھوں نے آیت کے نظم کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس کا منفرد مفہوم پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا فراہی نے ’غل ‘ کی تشریح میں نظم کلام کی رعایت کرتے ہوئے جو تشریح پیش کی ہے اسے ان کا تفرد ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں کس بنیاد اور کن وجوہات کی بنا پر تعلیقات کا اردو ترجمہ جو ”مولانا فراہی کے قرآنی حواشی“ کے نام سے چھپا ہے اس میں اس آیت کے ضمن میں بھی مفسرین پر جو نقد ہوا ہے، اسے حذف کر دیا گیا ہے۔19
[باقی]
- ۔ فراہی، حمید الدین، تفسیر نظام القرآن، اردو ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی 35۔
- ۔ ایضاً 36۔
- ۔ امام فراہی کے قرآنی حواشی، ترجمہ و ترتیب عبید اللہ فراہی، تصحیح مولانا امانت اللہ اصلاحی 255۔
- ۔ فراہی، حمید الدین، تفسیر نظام القرآن 79۔
- ۔ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن 2/ 378-377۔
- ۔ الفراہی، عبد الحمید، تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم 1/44۔
- ۔ طبری، ابن جریر، جامع البیان1/725۔
- ۔ فراہی، قرآنی حواشی 36۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم 1/68۔
- ۔ طبری، جامع البیان 2/ 371-368۔
- ۔ زمخشری، الکشاف 1/389۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 1/80۔
- ۔ زمخشری، الکشاف 1/389۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 1/109۔
- ۔ فراہی، قرآنی حواشی 86۔
- ۔ طبری، جامع البیان 3/516-509۔
- ۔ الفراہی، تعلیقات 1/118۔
- ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، طبری، جامع البیان 3/516-509۔
- ۔ فراہی، قرآنی حواشی 91-92۔