یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ ہر کتاب، ہر مضمون اور ہر تحریر کا کوئی سیاق و سباق، کوئی موضوع، کوئی مرکزی خیال ہوتا ہے۔ یہی کسی کتاب اور تحریر کا نظم کہلاتا ہے۔ متفرق اور منتشر اقوال و حکایات جن کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہو، کبھی کسی مفید اور عمدہ کتاب کی خصوصیات نہیں ہو سکتیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر قرآن مجید، جسے اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب کے طور پر ہمیشہ کے لیے انسانیت کی ہدایت بنا کر نازل کیا، اس کے بارے میں یہ تصور مشہور ہے کہ وہ بس متفرق احکام و اقوال اور قصص کا مجموعہ ہے۔ محترمہ کلثوم ثاقب نے اس حوالے سے فراہی مکتبِ فکر کے نظمِ قرآن کے تصور کا خلاصہ بہت آسان اور مختصر طریقے سے پیش کیا ہے۔
قرآن مجید محض متفرق ہدایات اور جدا جدا احکام کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی ہر سورت ایک مربوط وحدت اور منظم کلام ہے۔ ہر سورت کا ایک مرکزی موضوع ہوتا ہے جس کے گرد اس کی تمام آیات نہایت حکیمانہ ربط اور ترتیب کے ساتھ پروئی گئی ہیں۔ جب اس موضوع کو سامنے رکھ کر سورت کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک دلکش و جمیل وحدت بن کر قاری کے سامنے آتی ہے۔
نظمِ کلام کی اصل اہمیت
استاد امام امین احسن اصلاحی کے مطابق یہ گمان سراسر غلط ہے کہ قرآن کا نظم محض علمی لطیفہ ہے جس کی کوئی عملی
نظمِ کلام کی اہمیت
اہمیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی حکمتوں اور اس کے علوم تک رسائی صرف نظم کی روشنی ہی میں ممکن ہے۔ اگر کوئی شخص نظم کو نظر انداز کر کے محض الگ الگ آیات پڑھے گا تو زیادہ سے زیادہ چند منفرد ہدایات ہی سمجھ پائے گا۔ لیکن جس طرح جڑی بوٹیوں کے الگ الگ خواص جاننے اور ان سے ایک حاذق طبیب کا نسخہ ترتیب دینے میں زمین آسمان کا فرق ہے، اسی طرح قرآن کے اجزا اور اس کی منظم وحدت میں بھی فرق ہے۔ قرآن کی الٰہی ترتیب ہی ہے جس نے عام الفاظ کو ایسا جلال و جمال عطا کیا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی تناظر میں اصلاحی صاحب واضح کرتے ہیں کہ خیر و شر کی حقیقت اور ان کے باہمی رشتے صرف نظمِ قرآن ہی سے واضح ہوتے ہیں۔ کبھی ایک معمولی نیکی بڑی نیکیوں کے سلسلے سے جڑی ہوتی ہے اور کبھی بظاہر چھوٹی برائی مہلک برائیوں کا سرچشمہ نکلتی ہے۔ یہ حکمت اجزا سے نہیں بلکہ پورے نظم سے سمجھ میں آتی ہے۔
نظم اور فکری اختلافات
قرآن کو “حبل اللہ” قرار دے کر مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سب مل کر اسے مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ لیکن بدقسمتی سے قرآن ہی کے فہم میں مسلمانوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔ ایک ہی آیت کی تاویل میں کئی اقوال سامنے آتے ہیں اور اکثر ایک دوسرے سے متناقض بھی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں سب سے بڑی کسوٹی کسی کلام کا سیاق و سباق اور اس کا داخلی نظام ہوتا ہے۔ لیکن جب قرآن میں نظم کو سرے سے مانا ہی نہ جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر گروہ اپنی مرضی کے مطابق ایک آیت لے کر الگ جھنڈا گاڑ دیتا ہے۔ فقہی اختلافات سے لے کر گمراہ فرقوں کی ضلالتوں تک، اکثر مسائل کی جڑ یہی ہے کہ آیات کو ان کے سیاق اور نظم سے کاٹ کر دیکھا گیا۔
اسی پس منظر میں امام فراہی نے یہ اصول قائم کیا کہ قرآن اپنی حکیمانہ ترتیب کے باعث ایک ہی تاویل کا متحمل ہے۔ اسی لیے اصلاحی صاحب اپنی تفسیر تدبرِ قرآن میں کہتے ہیں کہ وہ نظم کو سامنے رکھ کر ہر مقام پر صرف ایک ہی قول اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ نظم کی رعایت کے بعد تاویل کے لیے کئی راستے باقی ہی نہیں رہتے۔
نظم کی نوعیت اور پہلو
مدرسۂ فراہی کے محققین نے قرآن کے نظم کو کئی پہلوؤں سے واضح کیا ہے:
نظمِ قرآن کے نمایاں پہلو
1- موضوع کی وحدت:
ہر سورہ کا ایک مرکزی موضوع ہوتا ہے جو تمام آیات کو مربوط کرتا ہے۔
2- تمہید اور خاتمہ:
ہر سورہ میں مضمون کے اعتبار سے ایک تمہید اور ایک اختتام ہوتا ہے، جس کے درمیان مختلف پیراگراف یا فصول ہوتے ہیں۔
3- ربط کے مختلف طریقے:
یہ پیراگراف باہم سوال و جواب، علت و معلول، اعتراض و استدراک یا تقابل و تشابہ جیسے اسالیب سے جڑے ہوتے ہیں۔
4- تدریجی ارتقا:
مضمون قدم بہ قدم آگے بڑھتا ہے اور آخر میں سورہ ایک مکمل اور متعین وحدت بن جاتی ہے۔
امام فراہی نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جس خدا نے کائنات کے ایک ذرے کو بے ربط نہیں چھوڑا، اس کے کلام کو بے ربط ماننا عقل و ایمان دونوں کے خلاف ہے۔
نظم کا پس منظر اور تاریخی شعور
یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ صحابۂ کرام نے نظم پر بحث کیوں نہیں کی؟ فراہی کے مطابق ان کے لیے اس کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ زبان، اسلوب اور حالات سب انہی کے تھے۔ ان کے سامنے آیات کا پس منظر محض ایک تصور نہیں تھا، بلکہ وہ خود ان واقعات کے عینی گواہ تھے۔ ان کے دل کی کیفیات اور عملی تجربات وہی تھے جنہیں قرآن بیان کرتا ہے۔ اس کے برعکس آج کے قاری کے لیے وہ پس منظر محض ایک ’’میم‘‘ یا ’’اخباری کارٹون‘‘ کی طرح ہے، جسے سمجھنے کے لیے وضاحت درکار ہے۔
اسی لیے نظم کی باریکیاں آج زیادہ وضاحت چاہتی ہیں تاکہ عام قاری بھی اس کے اسرار سے بہرہ مند ہو سکے۔ مثال کے طور پر سورۂ مائدہ میں کھانے کی چیزیں، نکاح اور وضو ایک خاص ربط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ یہ سب دراصل ’’طہارت‘‘ کے مختلف پہلو ہیں۔ اسی طرح آیاتِ مقطعات یا سورتوں کے جوڑے قرآن کے نظم کا ایک اور پہلو اجاگر کرتے ہیں۔
نظم اور معانی کی تہیں
جتنا زیادہ تدبر کیا جائے، قرآن کے نظم کی نئی پرتیں کھلتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
سورۂ یوسف اور سورۂ قصص میں سیدنا یوسف اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام کے قصوں میں اتصال و تقابل کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔
سورۂ بقرہ اور آلِ عمران، یا سورۂ فلق اور ناس کی جوڑیاں اپنے مضامین کے اعتبار سے باہم جڑی ہوئی ہیں۔
ہر سورہ کی تمہید اور اختتام اس کے مرکزی پیغام کو مزید واضح کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب قریش کے شاعر لبید سے اسلام قبول کرنے کے بعد شعر سنانے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا:
> ’’بقرہ اور آلِ عمران کے بعد؟‘‘
یعنی قرآن کی بلاغت اور نظم کے مقابلے میں انسانی کلام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اختتامی کلمات
قرآن کا نظم محض ایک علمی نکتہ نہیں، بلکہ وہ اصل بنیاد ہے جو اسے برہانِ قاطع بناتی ہے، اختلافات کو ختم کرتی ہے، اور قاری کو قرآن کی حکمت اور حسنِ بیان سے روشناس کراتی ہے۔ یہ ایک ایسا بحر ہے جس میں ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق غوطہ زن ہو سکتا ہے اور اس کے جواہر سے بہرہ مند ہو سکتا ہے۔ نزولِ قرآن سے آج تک ہر دور میں انسانیت اس کے کسی نہ کسی نئے پہلو کو دریافت کرتی رہی ہے، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن میں تدبر کی توفیق دے، اس کے نظم و حکمت کو سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے، اور ہمیں اس کے نور سے اپنی زندگیاں منور کرنے کی سعادت بخشے۔