فقہ ِ حنفی کے مسائل کی بنیادی کتاب ’’الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی‘‘(علی بن ابی بکر المرغینانی، وفات: 593 ہجری) ہے۔ یہ اہم اورگراں قدر فقہی کتاب چار ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔حنفی مدارس میں فقہی مسائل کے بنیادی ماخذ کی حیثیت سے بہ طورِنصاب اِس کتاب( ہدایہ) کادرس دیاجاتا ہے۔ ’’ہدایہ‘‘ اصل میں خود مصنف موصوف ہی کی ایک کتاب ’’بدایۃ المبتدی‘‘ کی شرح ہے ۔
فقہ ِ حنفی کے ماخذکی حیثیت سے ’’ہدایہ‘‘ جیسی کتب، بلاشبہ بہت اہمیت رکھتی ہیں۔تاہم، علماے سلف کے ہاں کسی بھی انسانی تصنیف کو ہرگز یہ درجہ حاصل نہیں کہ اُس کے حفظ وتلاوت کو قرآن مجید کی طرح لازم قرار دے دیاجائے، جیساکہ ذیل میں اِن غلوآمیزتصورات کا ایک نمونہ دیکھا جاسکتاہے:
إنّ الہدایۃ کالقرآن قد نسخت
ما صنفوا قبلہا في الشرع من کتب
فاحفَظ قراءَ تہا والزَم تلاوتہا
یسلم مقالک من زیغ ومن کذب
’’بے شک’ہدایہ‘ قرآن کے مانند ہے، اِس لیے کہ ’ہدایہ‘ نے بھی اُن تمام کتابوں کو منسوخ کر دیا جو شریعت میں اُس سے پہلے لکھی گئی تھیں۔ پس اے طالب علم، تم ’ہدایہ‘ کی قراء ت اور ’ہدایہ‘ کی تلاوت کو لازم پکڑ لو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمھارا کلام ہرطرح کے زیغ اور جھوٹ سے محفوظ ہو جائے گا۔‘‘( ظفر المحصلین باحوال المصنفین، تا لیف: مولانا محمد حنیف گنگوہی 852)
ہدایہ سے متعلق مذکورہ اشعارنقل کرنے کے بعد ناقل موصوف نے مزید تحریر فرمایا ہے کہ:
’’یہ مبالغہ نہیں،بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اور یہ دونوں شعر ہدایہ کی شرح ’’اشرف الہدایہ‘‘ میں بھی دو جگہ موجود ہیں۔‘‘ (1/ 8، 23)
فقہ ِ حنفی کے ماخذکی حیثیت سے ’’ہدایہ‘‘ جیسی کتب، بلاشبہ بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، کتاب و سنت کے سوا، کسی اور چیزکو دین کا ماخذ بتانا یااُسے قرآن مجید کے ہم معنی بتاکر قرآن ہی کی طرح اُس کے حفظ و تلاوت اور قراء ت کو لازم قرار دینا ایک ایسا عمل ہوگا جس کے حق میں کتاب و سنت کی کوئی سند موجود نہیں۔ اپنی تمام تراہمیت کے باوجود،کسی بھی انسانی تصنیف کو یہ مقام حاصل نہیں۔
اِس طرح کے بے اصل خیالات طالبانِ علومِ نبوت کے علمی اور فکری ارتقا کے لیے سخت مہلک ہواکرتے ہیں۔ چنانچہ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ طلبہ عموماً قرآن مجید اور پیغمبرانہ ارشادات سے اپنی دل چسپی کھودیتے ہیں، وہ کلامِ الہٰی کو ایک مقدس ’مذہبی کتاب‘ اور احادیث کو ’فقہی ماخذ‘کا دفتر تو سمجھتے ہیں، مگر عملاً ماخذ ِ ہدایت کی حیثیت سے قرآن وسنت اُن کے دل و دماغ کا حصہ نہیں بنتے۔
امام شوکانی کا ایک حوالہ
مذکورہ قسم کے ذہنی جمود اورفکری تعصبات کے متعلق امام محمد علی الشوکانی (وفات: 1250 ہجری) نے سورۂ توبہ کی آیت: ’اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ‘(9: 31) کی تشریح کے تحت بجا طورپر فرمایاہے:
’’اِس آیت میں دین ُاللہ کے معاملے میں تقلید اور کتاب وسنت پر بزرگوں کے اقوال کو ترجیح دینے پر شدیدتو بیخ کی گئی ہے ، اُن لوگوں کے لیے جو قلب ِسلیم رکھتے ہوں اور توجہ سے بات سنتے ہوں کہ وہ بزرگوں کے اقوال کو کتاب وسنت پر ہرگز ترجیح نہ دیں،کیونکہ کسی بھی شخص کا امت کے کسی بھی امام یا عالم کے قول کی تقلید ِمحض کرنا ایسی باتوں میں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہوں، اُن یہود و نصاریٰ کی طرح ہے جنھوں نے اپنے علما کو رب بنا لیا تھا، حالاں کہ یہود و نصاریٰ بہ ظاہر اپنے اِن علما کی’ عبادت‘ نہیں کرتے تھے۔ البتہ، اِس معاملے میں وہ براہِ راست تورات وانجیل کی طرف رجوع کرنے کے بجاے اپنے اِنھی علما کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے تھے ۔ اب بالکل یہی حال اِس امت کے متعصبین کا ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ عمل یہودو نصاریٰ کے عمل سے ایسا ہی مشابہ ہے، جیسا کہ انڈا انڈے سے، کھجور کھجور سے اور پانی پانی سے مشابہ ہواکرتا ہے۔
اے اللہ کے بندو اور رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا اتباع کرنے والو، تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو پس پشت ڈال دیا اورتم ایسے لوگوں کا اتباع کرنا چاہتے ہو جو تمھاری ہی طرح کتاب وسنت کی روشنی میں اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اللہ نے اُن پر بھی کتاب وسنت کا اتباع ہی واجب کیا تھا، اِس کے باوجود تم نے اُن لوگوں کی ایسی راے پر عمل کیا جس کی تائید کتاب وسنت سے نہیں ہوتی ، جب کہ کتاب و سنت کے نصوص چیخ چیخ کر بلند آواز سے تمھیں پکار رہے ہیں اور تمھیں ایسی کورانہ تقلید سے منع کر رہے ہیں، لیکن تم نے کتاب وسنت کی اِس صدا سے ایسا تغافل عارفانہ برتا، جیسے کہ تم سن ہی نہیں رہے ہو اور سمجھ ہی نہیں رہے ہو۔ لہٰذا تم اپنے گزرے ہوئے علما اور بزرگوں کی اُن باتوں کو چھوڑدوجو کتاب و سنت کے مخالف ہوں اور صرف کتاب و سنت ہی کا اتباع کرو۔‘‘ ( فتح القدیر 2 / 353)
امام شوکانی کے اصل عربی الفاظ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
’’وفي ہذہ الآیۃ ما یزجر من کان لہ قلب أو ألقی السمع وہو شہید عن التقلید في دین اللّٰہ، وتأثیر ما یقولہ الأسلاف علی ما في الکتاب العزیز والسنۃ المطہرۃ، فإن طاعۃ المتمذہب لمن یقتدی بقولہ ویستنّ بسنتہ من علماء ہذہ الأمۃ مع مخالفتہ لما جائت بہ النصوص، وقامت بہ حجج اللّٰہ وبراہینہ، ونطقت بہ کتبہ وأنبیاؤہ، ہو کاتخاذ الیہود والنصاری للأحبار والرہبان أربابًا من دون اللّٰہ، للقطع بأنہم لم یعبدوہم بل أطاعوہم، وحرّموا ما حرّموا، وحللوا ما حللوا، وہذا ہو صنیع المقلدین من ہذہ الأمۃ، وہو أشبہ بہ من شبہ البیضۃ بالبیضۃ، والتمرۃ بالتمرۃ، والماء بالماء، فیا عباد اللّٰہ، ویا أتباع محمد بن عبد اللّٰہ، ما بالکم ترکتم الکتاب والسنۃ جانباً، وعمدتم إلی رجال ہم مثلکم في تعبد اللّٰہ لہم بہما وطلبہ منہم للعمل بما دلا علیہ وأفادہ. فعلتم بما جاؤوا بہ من الآراء التي لم تعمد بعماد الحق، ولم تعضد بعضد الدین، ونصوص الکتاب والسنۃ، تنادی بأبلغ نداء، وتصوّت بأعلی صوت بما یخالف ذلک ویباینہ، فأعرتموہما آذانًا صمًا، وقلوبًا غلفًا، وأفہامًا مریضۃ، وعقولاً مہیضۃ، وأذہانًا کلیلۃ، وخواطر علیلۃ، وأنشدتم بلسان الحال:
وما أنا إلا من غزیۃ إن غوت
غویت وإن ترشد غزیۃ أرشد
فدعوا – أرشدکم اللّٰہ وإیاي -کتبًا کتبہا لکم الأموات من أسلافکم، واستبدلوا بہا کتاب اللّٰہ، خالقہم وخالقکم، ومتعبدہم ومتعبدکم، ومعبودہم ومعبودکم، واستبدلوا بأقوال من تدعونہم بأئمتکم وما جاؤوکم بہ من الرأي بأقوال إمامکم وإمامہم، وقدوتکم وقدوتہم، وہو الإمام الأوّل: محمد بن عبد اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:
دعوا کل ذي قول بقول محمد
فما آمن في دینہ کمخاطر‘‘
(فتح القدیر2 / 353۔’الدین الخالص‘، صدیق حسن القنوجی142)
دورِ طالب ِ علمی کا ایک واقعہ
یہ 1996ء کا واقعہ ہے۔راقم مدرسے میں ’’ہدایہ‘‘ پڑھ رہاتھا۔مجھے معلوم تھا کہ ان شاء اللہ ’’ہدایہ‘‘ کے امتحان میں کامیاب ہونا کوئی مشکل چیز نہیں، لہٰذا راقم تفسیروحدیث اور ادب کے علاوہ، خالص فنی قیل و قال سے جب بے زار ہوتا تو دارالاقامہ یا مسجد چلا جاتا اور وہاں دعا وتلاوت میں مصروف رہتا۔ایک بار ہدایہ کی کلاس سے چند ہم درس ساتھیوں کو بھیجا گیا کہ میں جہاں کہیں بھی ہوں، وہ مجھے درس گاہ لے کر آئیں۔ وہ آئے تو میں تلاوت کررہاتھا۔انھوں نے کہا: چلو، تمھیں ’’ہدایہ‘‘ کی کلاس میں بلایاگیاہے۔ میں نے بلاخوف برجستہ طورپر کہا کہ تم لوگ جاکر کہہ دو کہ قرآن مجید سے ہدایت ملے گی، ’’ہدایہ‘‘ سے نہیں، اور میں یہاں اِس وقت قرآن پڑھنے میں مصروف ہوں۔
مدرسے کے ماحول میں ہماری یہ بات بجلی کی طرح کوند گئی۔بالآخرچند اہم اساتذہ وذمے داران کی موجودگی میں مجھے دفتراہتمام میں طلب کیا گیا۔حاضر ہوا تو پوچھا گیا کہ تم نے یہ بات کس طرح کہی؟ میں نے ادب کے ساتھ عرض کیا:اگر جاں بخشی ہو تو عرض کروں کہ ’’ہدایہ اولین و آخرین‘‘ منگوائی جائے ۔ آخرکار، ہدایہ منگوائی گئی تو راقم نے فہرست سنانے کے بعد عرض کیا:اِس طویل فہرست میں ’’کتاب الایمان‘‘ کہیں موجود نہیں، اور ایمان کے بغیر ہدایت کس طرح مل سکتی ہے؟ چنانچہ اِس گستاخی پر راقم کو مدرسے سے معطل کردیاگیا۔آخر کار، راقم کے ایک قرابت دار بزرگ حکیم محمد عرفان قاسمی الحسینی (وفات: 2012ء) کی سفارش پر راقم کو دوبارہ مدرسے میں داخلہ مل سکا۔
فنی مسائل یا دینی حقائق
فنی مسائل کا عالم بننا ہو تو اُس کے لیے اِن کتب کا مطالعہ ضروری ہے، لیکن اگر ایک شخص دینی حقائق کا گہرا علم حاصل کرنا چاہے تو اِس معاملے میں اِس طرح کی کتابیں نہ صرف یہ کہ اُس کی رہنمائی نہیں کرسکتیں، بلکہ اگر اُسی پر اکتفا کرلیا جائے تو اِس سے وہی تصورِ دین پیدا ہوگا جس کو مبنی بر مسائل دین کہا جاتاہے، جس میں اصلاً شریعت کے ظاہری پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، اور اُس کے داخلی اور معنوی پہلو کو نظر انداز کردیا جاتاہے، جس میں ظاہر ِ دین کو بتایا جاتاہے، اور روحِ دین کو بھلادیا جاتاہے۔جس طرح انسان جسم اور روح کے مجموعے کا نام ہے، اُسی طرح دین ظاہر و باطن، دونوں کے مجموعے کا نام ہے ۔
دین کی حقیقت ’عبادت‘ ہے، اور دین کا مقصد ’تزکیہ ‘ہے، یعنی خدا سے عاجزانہ و عابدانہ تعلق اور ظاہر و باطن کی پاکیزگی و تطہیر۔اگر دین کے ظاہر کو نظرانداز کردیا جائے تو اِس کا نام مسیحیت ہوگا، اور اگر دین کے باطن کو نظرانداز کردیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جسے قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ’یہودیت‘کہاگیا ہے۔گویا نری باطن پرستی کا نام مسیحیت ہے، اور محض ظاہردارانہ مذہبیت کا نام یہودیت۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو سختی کے ساتھ اِن دونوں مظاہر کے اتباع سے روک کر اُنھیں صرف دین حنیف کی پیروی کا حکم دیاگیاہے(الروم 30:30)۔
اسلام (دین اللہ) ظاہروباطن، دونوں کے معتدل مجموعے کا نام ہے۔چنانچہ اسلام نہ صرف باطنیت اور روحانیت ہے، اورنہ صرف مظاہرپرستانہ ظاہریت۔اسلام نہ خودساختہ و امام مرکزی مسالک و مصادر کا نام ہے، اور نہ اُن غلو آمیز اور متشددانہ مظاہر کا جنھیں بعد کے زمانے میں مختلف مذہبی اور گروہی ناموں سے رائج کیاگیاہے، جو بسااوقات’ حکمت‘ اور’ سماحت ‘سے عاری ایک ایسے’مذہب‘ کے علم بردارنظر آتے ہیں جو سرتاسر دین فطرت (الروم 30:30)کی روح کے خلاف ہے۔
دین اللہ میں اِس طرح کے تمام مظاہر کے خلاف ِ اصل ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ یہ تمام مظاہر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف مبتدعانہ طورپر برپا کیے گئے، اِنھیں ہرگز سنت ِ رسول، سیرت ِ رسول اور اُسوۂ رسول کی تائید حاصل نہیں۔اِ ن تما م مظاہر کی حیثیت صرف ایک راے اور ایک نقطۂ نظرکی ہوسکتی ہے، جس کے رد وقبول کے فیصلے کا حق ہمیشہ دین کے ایک سچے طالب ِ علم کو حاصل رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خود ائمۂ فقہ و قانون اور علما ومحققین نے ہمیشہ اِسے بس ایک غیرحتمی ’’راے‘‘ قرار دیا ہے، یعنی ایسی راے جس کے ساتھ حذف و ترمیم اوررد و تصویب کا سلسلہ برابر جاری رہے (قال أبوحنیفۃ: علمنا ہذا رأیي وہو أحسن ما قدرنا علیہ، ومن جاءنا بأحسن منہ، قبلناہ منہ. وروی عنہ أنہ قال: فإننا بشر، نقول القول الیوم، ونرجع عنہ غدًا)۔
لہٰذا،کتاب وسنت اورعقل وفطرت کے مسلمات سے معارض آرا و افکار اورتحریکات و مسالک نہ دین ہیں، اور نہ ایک مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اِ نھیں دین اللہ کی حیثیت سے پیش کرے۔ دین بہ ہرحال ہمیشہ صرف اللہ اور رسول کا ثابت شدہ فرمان ہوگا ، نہ کہ کسی شخص کا کوئی فکر اور نقطۂ نظر۔
چنانچہ مروّجہ تحریکات و مسالک کے بانی علما اور ائمۂ مخلصین ہمیشہ اِس حقیقت کا برملا اعلان و اظہار فرماتے ر ہے ہیں کہ ــــاگر ہماری بات دین سے متعارض ہو تواُسے قبول کرنے کے بجاے تم اُسے دیوارپر مار دو،اورتم بھی دین وہیں سے اخذ کرو،جہاں سے ہم اُسے اخذکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اِس سلسلے میں یہاں ائمۂ اہل علم کے چند متعلق حوالے ملاحظہ فرمائیں:
’’وقال الإمام أحمد رحمہ اللّٰہ: رأي الأوزاعي، ورأي مالک، ورأي أبي حنیفۃ،کلہ رأي، وہو عندي سواء . وإنما الحجۃ في الآثار – أي: الأدلۃ الشرعیۃ.
قال ابن القیم في إعلام الموقعین: وقد نہی الأئمۃ الأربعۃ عن تقلیدہم، وذموا من أخذ أقوالہم بغیر حجۃ.
قال أبو حنیفۃ: ہذا رأیي، فمن جاء برأي خیر منہ قبلناہ. وقال مالک: إنما أنا بشر أصیب وأخطیئ، فاعرضوا قولي علی الکتاب والسنۃ. وقال الشافعي: إذا صح الحدیث فاضربوا بقولي الحائط، وإذا رأیت الحجۃ موضوعۃ علی الطریق فہي قولي. وقال الإمام أحمد:لا تقلدني ولا تقلد مالکاً، ولا الشافعي، ولا الثوري، وتعلم کما تعلمنا. وقال: لا تقلد في دینک الرجال، فإنہم لن یسلموا من أن یغلطوا.‘‘ (اعلام الموقعین 2/ 200)
ایک تقابل
قرآن اور دوسری کسی مذہبی کتاب کا تقابل ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص کسی مخلوق سے اُس کے خالق کا تقابل کرے۔تاہم، عرضِ مدعا کے لیے یہاں دونوں کے اُس اسلوب کا ایک بالکل سادہ تقابل کیا جاتاہے جس سے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ ’’قرآن سے ہدایت ملے گی، نہ کہ کسی اور چیز سے‘‘ کا مطلب کیا ہے، اور وہ کیا چیزہے جس نے حکمت وسماحت پر مبنی دین اللہ (دین فطرت) کو عملاً بے روح اور غلو آمیز مذہبیت کا ایک عجیب پاژند بناکررکھ دیاہے۔
قرآن و سنت اور کتب ِ فقہ کے اسلوب کا ایک تقابلی نمونہ
قرآن میں بار باراقامت ِ ’صلوٰۃ‘کا حکم دیا گیا ہے۔اِسی طرح،کتب ِ فقہ میں بھی ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل باب موجود ہے۔دونوں کے تقابلی مطالعے سے اِس فرق کو بہ خوبی طورپر معلوم کیا جاسکتاہے۔ قرآن میں ’صلوٰۃ‘کے بیان کے اہم اجزا ــــخشوع اور قنوت ہیں، جب کہ کتب ِ فقہ میں اِس کے برعکس صورتِ حال پائی جاتی ہے۔یہاں قرآن میں بیان کردہ داخلی اجزاے صلوٰۃ (خشوع اور قنوت)کا سرے سے کوئی تذکرہ موجود نہیں۔البتہ ’باب صفۃ الصلوٰۃ‘ کے تحت، صلوٰۃ کے صرف ظاہری اجزا (حدث، مواقیت اور فرائض صلوٰۃ کی فہرست) پرفوکس کیا گیا ہے(ملاحظہ فرمائیں: ہدایہ 1/40)۔یہی وجہ ہے کہ اِن کتابوں میں کہیں خشوع کا کوئی باب موجود نہیں۔اِس کے برعکس،صلوٰۃ کے قانونی پہلو پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جاتے رہے ہیں، جب کہ شریعت وقانون کو اُس کی روح اور حقیقت سے الگ کرکے مجرد طورپر بیان کرنا ہرگز قرآن و سنت کا اسلوب نہیں۔
مثلاً قرآن میں صلوٰۃ کا ذکر کیاگیا تو اُس کے آغاز ہی میں’خشوع‘ (المومنون 23: 1- 2)کی تعلیم بھی دے دی گئی ۔اِسی طرح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جُعلت قرۃ عیني في الصلوٰۃ‘ (مسند احمد، رقم 14069) ،یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ نیز آپ نے فرمایا: ’صلواکما رأیتموني أصلي‘(صحیح بخاری، رقم818)، یعنی تم مجھے جس طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہو، (ظاہری وباطنی آداب کی رعایت کرتے ہوئے ) تم بھی اُسی طرح نماز ادا کرو۔
اِس سے واضح ہوا کہ قرآن وسنت میں قانونی اسلوب کے بجاے فطری اسلوب میں نماز کی تعلیم و تلقین کی گئی تھی ، مگر عملاً بعد میں یہ ہوا کہ صرف مسائل صلوٰۃ کی تعلیم کو حقیقت ِصلوٰۃ کی تعلیم کے ہم معنی سمجھ لیاگیا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ظاہر وباطن، دونوں پہلوؤں سے ہمارے لیے ایک ابدی اسوہ ہے، ہم ہرگز یہ نہیں کرسکتے کہ اُس کے ایک پہلو کو لیں اور دوسرے پہلو کو ترک کردیں۔
قرآن وسنت اور کتب ِ مسائل کے اسلوب کا یہی وہ فرق ہے جس نے آج ہمارے درمیان عملاً نماز اور دیگر عبادات کو صرف بے روح مراسم کا ایک تقلیدی مجموعہ بناکررکھ دیاہے۔یہاں اب مظاہر کی دھوم ہے، مگر خاشعانہ عبادت اور مومنانہ اخلاق صرف ایک اجنبی ظاہرہ بن کررہ گئے ہیں۔
فقہ ِ ظاہر اور فقہ ِباطن کا فرق
قرآن وسنت کی شکل میں انسانوں کو جو دین عطا کیاگیا تھا، وہ ظاہر وباطن دونوں کا جامع تھا، اُس میں اِس قسم کی کسی تفریق یا افراط وتفریط کے بغیر ’کتاب‘(شریعت وقانون)اور ’حکمت‘ (فلسفۂ دین اور ایمان و اخلاق )دونوں کو یکساں طورپر دین ُ اللہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔مثلاً قرآن میں نکاح و طلاق، قربانی (الحج 22: 37) اور حج وعمرہ کے قانون کی وضاحت کے دوران میں بار بار ’تقویٰ‘ و حسن اخلاق کی تعلیم و تلقین کی گئی ہے۔(ملاحظہ فرمائیں: البقرہ 2: 197، 203، 223، 231، 233، 236، 241 وغیرہ)
اِس خدائی تعلیم اور اِس پیغمبرانہ ترتیب کوبدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین ُ اللہ کی تفہیم کے لیے ہمیں اُس تقسیم کا سہارا لینا پڑا جو تاریخ میں ’’فقہ ِ ظاہر اورفقہ ِ باطن‘‘ کے نام سے معروف ہے۔یہ ایک غیرفطری تقسیم تھی، کیونکہ دین اللہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے،ایسی کسی دوئی اور تقسیم کا حامل نہیں۔ دین اللہ بہ یک وقت ظاہروباطن، دونوں کا مجموعہ ہے۔وہ ایمان ومعرفت بھی ہے اور تقویٰ و حسن اخلاق بھی۔ اُس کاکوئی قانون(شریعت)’ حکمت ‘اور’ربا نیت‘ کے نور سے خالی نہیں۔
خلاصۂ کلام
اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم کتاب وسنت کی روشنی میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ہم پیغمبرانہ ہدایت کے تحت عبادات اور ایمان واخلاق کے تمام معاملات کو انجام دینے والے بنیں۔
زیر بحث گفتگو کو ہم مرزا عبد القادر بیدل (وفات:1720ء) کے ایک شعر پر ختم کررہے ہیں:
در’کنز‘1*و ’ہدایہ‘ نتواں یافت خدا را
در صفحۂ دل بیں کہ کتابے بہ ازیں نیست!
’’کنز اور ہدایہ میں خدا نہیں ملے گا۔ صفحاتِ قلب2** پر نظر ڈال کہ اِس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔‘‘
- * ’کنز الدقائق‘ فقہ حنفی پر ابو البرکات نسفی (وفات:710ہجری) کی مشہور کتاب ہے۔
- **واضح رہے کہ اسلام میں ”قلب“سے مراد دین اللہ کا کوئی پراسرارعجمی یا اشراقی ماخذ نہیں، بلکہ اِس سے مراد ’کتاب و حکمت‘(البقرہ 2: 129) کے زیر سایہ پرورش پانے والا قلب ِ سلیم (الشعراء 26: 89) ہے۔