مواد پر جائیں

قطع رحمی کے معاشرے پر اثرات

فابیہ احسان اردو

اسلام نے صلہ رحمی، یعنی خونی رشتوں کو جوڑے رکھنے کو بڑی نیکی اور قطع رحمی کو بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ جدید دور کی تبدیلیوں نے اس حوالے سے بعض ناقابلِ قبول رویوں کو جنم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کی بنیادی اکائی، یعنی خاندان کمزور ہوا ہے۔ اس اہم موضوع پر محترمہ فابیہ احسان نے چند واقعات کا نہایت اہم تجزیہ کیا ہے۔ ان کا تجزیاتی مطالعہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

جولائی 2025ء میں میڈیا کے ذریعے دو دل خراش واقعات سامنے آئے۔ پہلا واقعہ کراچی کی معروف اداکارہ محترمہ عائشہ خان کے انتقال کا تھا۔ وہ اپنے گھر میں اکیلی مقیم تھیں اور ان کی اولاد بیرونِ ملک تھی۔ افسوس کہ اہلِ محلہ کو ان کی وفات کا علم ایک ہفتے بعد ہوا۔

دوسرا واقعہ مشہور ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی وفات کا تھا۔ وہ پیشہ ورانہ تقاضوں کی بنا پر کراچی کے ایک فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں۔ خاندان نے ان کی شوبز میں شمولیت پر ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے ان سے قطع تعلق کر رکھا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا انتقال تقریباً نو ماہ قبل ہو چکا تھا، لیکن جولائی میں جب قانونی کارروائی کے لیے مالک مکان نے فلیٹ کھلوایا تو یہ حقیقت سامنے آئی۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمَا وَارْحَمْهُمَا وَعَافِهِمَا وَاعْفُ عَنْهُمَا۔ (آمین)

یہ تحریر ان واقعات کی جزئیات پر گفتگو کے بجائے اس پس منظر میں ہمارے معاشرتی رویوں اور رجحانات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

پس پردہ سبب

غور کیا جائے تو ان واقعات کے پیچھے ایک بنیادی سبب ہمارے خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ والدین، اولاد اور دیگر رشتوں میں سے ہر ایک اپنی سطح پر ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی برت رہا ہے۔ اکثر لوگ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ خاندان میں ان کا رویہ کس قدر وسیع اثر رکھتا ہے، بھلے وہ خود اس کے نتائج و عواقب کو دیکھنے سے قاصر رہیں۔

اسی غفلت کے باعث اگر کسی پر زیادتی ہو یا اس سے بے پروائی برتی جائے تو باقی خاندان تماشائی بنے رہتے ہیں۔ نہ ظالم کو روکتے ہیں، نہ مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں۔ حالانکہ انسان اخلاقی قدریں اور برائیاں ماحول سے سیکھتا ہے۔ ہماری آئندہ نسلیں روزمرہ معاملات میں ہماری بے پروائی اور بد اخلاقی کا مشاہدہ کر رہی ہیں، پھر ہم ان نسلوں سے اعلیٰ اخلاق کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

شخصی معاملات میں مداخلت کی حدود

جدید تہذیب کے زیرِ اثر یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ لوگ اپنے معاملات میں کسی بھی حد تک مداخلت پسند نہیں کرتے۔ نتیجتاً فرد دوسروں کو براہِ راست متاثر کرنے والے فیصلوں میں بھی من مانی کر گزرتا ہے۔

اسلامی تہذیب میں اس کے برعکس “حفظِ مراتب” کو معاشرتی نظم کی بقا کے لیے بنیادی اصول مانا گیا ہے۔ اس کے تحت والد بیٹے کی بے راہ روی پر سرزنش کرتا ہے اور بیٹا والد کی سختی پر صبر کرتا ہے، پھر خاندان کے بزرگوں سے رجوع کرتا ہے، کیونکہ والد سے سوال کا حق ان کے بزرگوں کو ہے۔ بڑوں کو جواب دہی کا یہی احساس بے راہ روی اور من مانی سے روکتا ہے اور اداروں کو سلامت رکھتا ہے۔

افراد کی تربیت ان کے ماحول سے ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ کن امور میں خاندان یا معاشرہ فرد کو روکنے کا حق رکھتا ہے اور کن معاملات میں صرف نصیحت و مشورے تک محدود رہے، تاکہ نظم ٹوٹنے کے بجائے تعمیری ماحول میسر آئے۔

جہاں اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو شخصی آزادی دی ہے، جیسے مذہب، شادی، پیشہ یا کاروبار کا انتخاب، وہاں خاندان نصیحت اور رہنمائی تک محدود رہتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان نکاح اور کاروبار کے معاملے میں خاندان کی خواہش مان لے تو یہ اس کی نیکی ہے، مذہبی فریضہ نہیں۔ اور اگر وہ اپنی پسند کو ترجیح دے تو مذہب کو اس پر اعتراض نہیں۔ ایسے معاملات میں خاندان کو مخالفت کے بجائے خیر خواہی اور تعاون کا رویہ اپنانا چاہیے۔

ایک تاریخی مثال

مکی دور میں دس برس کے سیدنا علیؓ نے اپنے والد ابو طالب کے سامنے اعلان کیا کہ وہ محمد ﷺ کے پیش کردہ دین پر ایمان لاتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ابو طالب کا رویہ کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیا وہ ظلم و ستم روا رکھتے، جیسا کہ دیگر قبیلوں نے ایمان لانے والوں کے ساتھ کیا، یا پھر وہی رویہ بہتر تھا جو انہوں نے اپنایا، یعنی اختلاف کے باوجود اپنے بھتیجے محمد ﷺ کو تحفظ فراہم کیا۔ ابو طالب نے علیؓ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کو اپنی سرپرستی اور شفقت میں رکھا۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں اگر کوئی نوجوان تعلیم، پیشہ یا شادی کے معاملے میں اپنی رائے دے تو فوراً اسے نافرمان کہہ کر اس سے تعاون کا ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے۔

عفو و درگزر کا حکم

اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کی کوتاہی پر بھی درگزر کی ہدایت دی ہے۔ واقعۂ افک میں ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ پر منافقین نے تہمت لگائی۔ چند مسلمان بھی اس پروپیگنڈے میں شریک ہوئے، جن میں حضرت مسطحؓ بھی تھے، جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے رشتہ دار اور زیرِ کفالت تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے رنجیدہ ہو کر ان کی مدد روکنے کا فیصلہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ رشتہ داروں کو معاف کریں، کیونکہ خود انسان بھی اللہ سے اپنی خطاؤں پر معافی کا طلب گار ہے۔ (النور: 22)

مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر تدبرِ قرآن میں لکھتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ خدا اگر مواخذے پر آئے تو کوئی اس کی گرفت سے بچ نہ پائے، لیکن اس کا حلم و عفو ہے کہ پھر بھی نوازتا ہے۔ لہٰذا اس کی مخلوق کو بھی یہی روش اپنانی چاہیے۔

خاندانی نظام کی اصلاح

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی عزت، جان یا مال کے خلاف اقدام کرے تو پہلے مرحلے میں خاندان کو آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ روکنا چاہیے، اور دوسرے مرحلے میں ریاست کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ اگر خاندان اپنی ذمہ داری نبھائے تو اکثر معاملات وہیں سلجھ جائیں اور ریاست کو مداخلت نہ کرنی پڑے۔

خاندان ہر عمر کے فرد کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہی ادارہ معاشرہ تشکیل دیتا ہے، اس لیے اگر خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تو معاشرہ بھی بگڑتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے:

1۔ مرد و عورت کو پابند کیا گیا کہ اپنی خواہشات صرف نکاح کے ذریعے پوری کریں، کیونکہ یہی نکاح کا بندھن خاندان کے نظام کی ضمانت دیتا ہے۔

2۔ وراثت کے حصے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کر دیے، تاکہ وقتی رنجش، ذاتی پسند و ناپسند یا تعصب کی بنا پر خاندان میں ناانصافی اور نفاق پیدا نہ ہو۔

قرآن خاندانی اور ریاستی نظم کو بگاڑنے کو «فساد فی الأرض» قرار دیتا ہے۔ یہ فساد عموماً قطع رحمی، تعصبات اور برادر کشی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ (البقرۃ: 27، محمد: 22)

قطع رحمی کے اثرات

اللہ کی رحمت اکثر انسانی رشتوں کے ذریعے فرد تک پہنچتی ہے۔ اگر یہی رشتے کاٹ دیے جائیں تو لوگوں کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اور زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

“جس نے ان کو کاٹا، اس نے گویا تمدن اور معاشرے کی جڑ پر کلہاڑا مارا۔” (تدبرِ قرآن، البقرۃ: 27)

قطع رحمی کا نتیجہ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان ہے۔ ایسے معاشروں میں بچے بے سہارا، نوجوان بے راہ رو اور بزرگ اولڈ ہومز کے مکین بن جاتے ہیں۔ یہاں ان اولڈ ہومز کی طرف اشارہ ہے جہاں اولاد کی موجودگی اور دستیابی کے باوجود والدین اپنی خواہش کے خلاف بے گھر ہو جاتے ہیں۔

صلہ رحمی کا اجر

قرآن کے مطابق اہلِ ایمان وہ ہیں جو حساب کے دن کے خوف سے رحمی رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔ فرشتے جنت میں ان کا استقبال ان الفاظ کے ساتھ کریں گے: سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ (الرعد: 24)

یہاں “صبر” کا مطلب محض برداشت نہیں بلکہ ثابت قدمی اور درست روش پر قائم رہنا ہے۔ زندگی کی مشکلات میں مومن کا کردار اسی صبر سے نکھرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ رویہ صرف عالی ہمت لوگوں کے لیے ممکن ہے۔ (لقمان: 17)

نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی خواہش یا مطالبہ خاندان یا قبیلے کی طرف سے محض اس لیے رد بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اسے اپنے نظریات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ لیکن اس بنیاد پر خاندان سے قطع تعلق یا الگ تھلگ ہو جانا دانش مندی نہیں۔ ہر دور کے پیغمبروں اور صالحین کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کی دعوتِ حق میں سب سے پہلی رکاوٹ خود ان کے خاندان اور قبیلے نے کھڑی کی۔ سیدنا ابراہیمؑ کے والد، سیدنا یوسفؑ کے بھائی، اور سیدنا شعیبؑ کا قبیلہ، یہ سب مثالیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔

محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو بھی اپنے خاندانوں اور قبیلوں کی شدید مخالفت کا سامنا رہا۔ اس سب کے باوجود قرآن نے صحابۂ کرام کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے عقیدۂ توحید پر قائم رہیں، مگر والدین اور قرابت داروں سے حسنِ سلوک اور حقوق کی ادائیگی ترک نہ کریں۔ (العنکبوت: 8، البقرۃ: 83)

آج کے نوجوان اگر تعلیم، پیشے، کاروبار یا شادی کے معاملات میں رکاوٹ دیکھیں تو بدرجۂ اولیٰ یہی رویہ اختیار کریں۔ والدین سے اختلاف کے باوجود قطع تعلق جائز نہیں۔ اگر تعلیمی یا معاشی ضرورت کے تحت ہجرت کرنی پڑے تو موبائل یا ملاقاتوں کے ذریعے رشتہ بحال رکھیں۔ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں مگر ذمہ داریاں بھی ادا کریں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیاوی ترقی کی دوڑ میں اس قدر خود غرض نہ بنیں کہ خاندانی نظام کو نقصان پہنچے۔ والدین یا جن رشتوں کی دیکھ بھال ان پر فرض ہے، ان سے غفلت نہ برتیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں قبیلہ یا خاندان کو چاہیے کہ بار بار تلقین کرے، کیونکہ سماجی دباؤ انسان کو کئی برائیوں سے روک دیتا ہے۔ پھر بھی اگر نوجوان والدین، بہن بھائی یا ضرورت مند رشتہ داروں کی خبرگیری سے غافل رہیں تو باقی خاندان پر لازم ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرے، ورنہ سب اللہ کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں توحید اور والدین کے حقوق کے بعد تیسرا حق قرابت داروں کا بیان ہوا ہے۔ (البقرۃ: 83)

دنیا کی یہ زندگی امتحان گاہ ہے، اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ (الملک: 2) لہٰذا دنیاوی دوڑ دھوپ میں یومِ محشر کی کامیابی کو فراموش نہ کیا جائے۔

ایک غلط فہمی

ہمارے معاشرے میں یہ رویہ عام ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرے اور بعد میں مشکلات پیش آئیں تو اسے والدین کی نافرمانی کی سزا قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً:

اگر اپنی پسند سے کاروبار کیا اور نقصان ہوا۔

پسند کی شادی کی اور نکاح طلاق پر ختم ہو گیا۔

ایسی صورت میں طعنے اور الزام شروع ہو جاتے ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام پر اسی قسم کے اعتراضات کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے نمائندہ ہیں تو ان کی معاشی حالت دوسروں سے بہتر کیوں نہیں؟ یا یہ کہ مکہ و طائف کے بڑے سردار زیادہ خوش حال اور طاقت ور ہیں، تو پھر محمد ﷺ ہی کیوں منتخب کیے گئے؟ (حیاتِ رسولِ اُمّی، باب: ۱۲)

ہمارے ہاں بھی لوگ اسی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دنیاوی لحاظ سے کامیاب ہے تو اس کا موقف درست ہے، ورنہ غلط۔ حالانکہ قرآن و سنت واضح کرتے ہیں کہ مادی خوش حالی یا محرومی اور ہدایت پانے یا نہ پانے کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب محض امتحان ہیں۔ (تدبرِ قرآن، الشوریٰ: 27)

احادیث کی روشنی میں صلہ رحمی کی اہمیت

رشتہ توڑنا اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس حوالے سے تنبیہات فرمائی ہیں۔ چند احادیث درج کی جاتی ہیں:

1۔ جو شخص تعلقات توڑنے والوں سے بھی رشتہ جوڑے، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (المستدرک للحاکم: 3912)

2۔ دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے: ظلم اور قطع رحمی۔ (ابن ماجہ: 4211، ترمذی: 2511)

3۔ رحم اللہ تعالیٰ کی صفت “الرحمٰن” سے نکلا ہے، اس لیے صلہ رحمی کرنے والے کو اللہ اپنی خاص رحمت سے نوازے گا۔ (ابوداؤد، مشکوٰۃ: 420)

4۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ایک ایسے شخص کے لیے خاص مددگار مقرر کرتا ہے جو ان رشتہ داروں سے بھی تعلق جوڑ کر رکھتا ہے جو بار بار تعلق توڑتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 2558)

لہٰذا یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ خاندانوں کے اندر اور آئندہ نسلوں کو تعلیمی اداروں میں “خاندان اور انسانی نظم کی اہمیت” سے آگاہ کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں وہ کوتاہیاں واضح کریں جن کی وجہ سے کوئی شخص اللہ کی عدالت میں فساد فی الارض کا مجرم قرار پا سکتا ہے۔