میں لوحِ ارض پہ اپنے لہو سے لکھتا ہوں
وہ سرگزشت کہ جس میں دل و نظر کا حضور
میں وہ قتیل ہوں، مٹی ہے لم یزل جس کی
جہاں میں دیکھیے، زندہ ہیں شامل و منصور
سوادِ قاف، ترے روز و شب میں پیدا ہے
مرے صحیفۂ دل کی روایتوں کا جمال
زہے نصیب کہ دیکھا ہے پھر نگاہوں نے
تری فضاؤں میں دیرینہ عظمتوں کا جلال
نواحِ مرقد ِ شامل کے برف زاروں میں
کہاں سے آئے ہیں یہ لالہ ہاے صحرائی؟
یہ شاخ شاخ سے جن کی لہو ٹپکتا ہے
ورق ورق سے نمایاں ہے ذوقِ پیدائی
یہ جن کے داغ سے تابندہ ہے جبیں میری
یہ جن کی آگ سے روشن ہوئی زمیں میری