اس کی ہستی وجود کا محور
اس کی آغوش وسعتِ افلاک
اس کی صحبت تھی درد کا درماں
تلخیِ غم، زہر کا تریاک
ظلمتوں کے ہجوم میں تاباں
ایک جبیں جس کی روشنی مہتاب
ہر بیاباں آسمان میں ڈھانپ لیتی تھی
ایک ردا جس میں رحمتوں کے سحاب
دشت و صحرا میں، لالہ و گل میں
صبر و ایثار کا وجودِ تمام
اس نے کلک وفا سے لکھا ہے
میری ہر راہ گزر پہ اپنا نام
اب اُسی مہرباں کو روتا ہوں
خاک پر آسمان کو روتا ہوں