نبیِ مکرم حضرت محمد ﷺ کی سگی پھوپھی، عشرۂ مبشرہ میں شامل صحابی زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدۂ محترمہ کی زندگی کا وہ واقعہ جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ نعیم احمد بلوچ کی سیرت کی غیر مطبوعہ کتاب: “ابو قاسم محمد احمد” سے ماخوذ۔
مدینہ کی عمومی فضا میں سکون اور اعتماد بسا کرتا تھا، یہ نبیِ اکرم ﷺ کی ذاتِ والا صفات کی برکت تھی۔ مگر یہ پانچ ہجری کا سال تھا۔ سارے عرب کے کفار اکٹھا ہو کر اس چھوٹی سی بستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے آ چکے تھے۔ سکون اہلِ مدینہ سے رخصت ہو گیا تھا۔ اب وہ اللہ اور اس کے رسول پر اعتماد کی آزمایش بن چکا تھا۔ آج جو تاریخ کے پیغمبر کو ماننے والے ہیں، وقت کے پیغمبر کے حالات و واقعات کی پیچیدگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
ذرا تخیل کے گھوڑے پر بیٹھیں اور اس لمحے کے مدینہ کا ایک چکر لگائیں۔ آپ کو ایک عجیب منظر نظر آئے گا۔ اہلِ مدینہ کی بستی سے بھی بڑا ایک شہر، دشمن کا شہر بن کر ان کا محاصرہ کر چکا تھا۔ ہر طرف خون کے پیاسے دشمن دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ انھیں اگر اس شہر پر حملہ کرنے سے کوئی روک رہا تھا تو ایک خندق تھی، جس کی موجودگی نے دشمنوں کے اس لشکر کو حیران کر دیا تھا۔ ساڑھے پانچ کلومیٹر لمبی، آٹھ سے نو میٹر چوڑی اور چار سے پانچ میٹر گہری۔ اس کا مطلب تھا گھوڑے یا پیدل، کسی کے لیے بھی خندق پار کرنا قریباً ناممکن تھا۔ لیکن دشمن کو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن جب مدینہ میں کھانا پینا ختم ہو گا، جب مدینہ میں موجود مسلمانوں کے جانی دشمن یہودی اور ان کے درمیان منافقین ان کے حوصلے توڑ دیں گے تو حملے کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا ہو گی۔
قرآن مجید نے مسلمانوں کی کیفیت کی ان الفاظ میں تصویر اتاری ہے:
“یاد کرو، جب وہ تمھارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی تم پر چڑھ آئے تھے، جب (خوف کے مارے) آنکھیں بہک گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آگئے تھے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔ اُس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔ اور جب منافقین کہتے تھے اور وہ بھی جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے، وہ صرف فریب ہی تھے! اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ یثرب والو، تمھارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، اس لیے لوٹ جاؤ۔ اور اُن میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت مانگ رہا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں، اصل میں وہ خطرے میں نہیں تھے۔ وہ صرف بھاگنا چاہتے تھے۔ اگر اُن کے گھروں پر ادھر اُدھر سے حملہ ہو جاتا، پھر انھیں فتنے یعنی اللہ کے رسول کو چھوڑنے کی دعوت دی جاتی تو وہ اُس میں جا پڑتے اور اس میں بہت کم ٹھیرنے کے لیے ذرا بھی نہ سوچتے۔” (سورۂ احزاب: 10-13)
قرآن نے جو تصویر کشی کی ہے، اس سے واضح ہے کہ خندق کی موجودگی اور کفار کے کسی کارگر حملے کے نہ ہونے کے باوجود بھی بہت سے خطرات درپیش تھے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
کفار کو جب یہ یقین ہو گیا کہ بے سمت تیر اندازی اور اکا دُکا جھڑپوں سے وہ مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے تو حُیّ بن اخطب نے نئی چال چلنے کا منصوبہ بنایا۔ حُیّ بن اخطب مدینے ہی کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کا سردار تھا اور مسلمانوں سے معاہدے کے باوجود غزوۂ اُحد میں اس نے کفار کی مدد کی تھی۔ اس جرم کی سزا کے طور پر اسے قبیلے سمیت مدینہ بدر کر دیا گیا تھا اور اب اس کی بے پناہ کوششوں کی بدولت پورا عرب قریش مکہ کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اب جب خندق اس کے منصوبے میں حائل ہوئی تو اس نے ایک دوسرا منصوبہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ انتہائی خطرناک منصوبہ تھا اور اس کے کامیاب ہونے کا اُسے بہت زیادہ یقین تھا۔
اس کے مطابق اگر یہودی قبیلہ بنو قریظہ اس لشکر کو اپنے قبیلے سے گزرنے کی اجازت دے دیتا ہے تو ان کا لشکر مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں پر حملہ کر سکتا تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ بنو قریظہ مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑیں اور غداری کرتے ہوئے کفار کے لشکر کے ساتھ مل جائیں۔ چنانچہ حُیّ بن اخطب مدینے کا لمبا چکر کاٹ کر بنو قریظہ کے پاس پہنچا۔ ان کے سردار کعب بن اسد کے قلعے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کعب نے پہلے تو دروازہ کھولنے ہی سے انکار کر دیا، لیکن حُیّ نے کہا کہ تم نہیں جانتے کہ میں تمھارے پاس کیا چیز لایا ہوں۔ سارے عرب کو اس وعدے پر ساتھ لایا ہوں کہ وہ محمد ﷺ کا خاتمہ کیے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے۔ تمھارے لیے میرے پاس ہمیشہ کی عزت اور خوش حالی کا نسخہ ہے۔ اس طرح کی لالچ بھری باتوں اور پرانی دوستی کا واسطہ دے کر اس نے کعب کو بات چیت پر آمادہ کر لیا۔
مذاکرات کا آغاز ہوا تو حُیّ کو اندازہ ہو گیا کہ کعب کا اصل مسئلہ صرف اور صرف یہ خوف ہے کہ اگر کسی وجہ سے یہ لشکر واپس چلا گیا تو غداری کے جرم میں اسے مسلمانوں سے کون بچائے گا؟ کیونکہ کعب نے اپنی بات کے آغاز ہی میں یہ بات کہہ دی کہ:
“خدا کی قسم! تم میرے پاس ہمیشہ کی ذلت اور فوجوں کا برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو۔ یہ اب صرف گرج چمک رہا ہے، اس میں کچھ باقی نہیں بچا۔ تم پر افسوس بھی، تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔۔۔ ویسے بھی میں نے سچائی اور وعدے کی پابندی میں کسی کو محمد ﷺ سے بڑھ کر نہیں پایا۔“
اس پر حُیّ بن اخطب نے کہا کہ اگر وہ مسلمانوں کی کمر میں خنجر گھونپنے پر تیار ہو جائے تو مسلمانوں کا خاتمہ یقینی ہے۔ اس کی مسلمانوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی اور اس کارنامے پر پورے عرب میں اس کی شہرت ہو گی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور لشکر ناکام ہو کر واپس لوٹ جاتا ہے تو میں تمھارے ہی قلعے میں رک جاؤں گا، جو مسلمان تمھارے ساتھ کریں گے، وہی میرے ساتھ کریں گے۔ اور اس سے زیادہ میں کسی چیز کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ بات سن کر کعب نے کہا کہ تمھاری حد تک تو مجھے اطمینان ہے، لیکن قریش کے بارے میں مجھے گارنٹی چاہیے۔
جب حُیّ اس کی گارنٹی دینے پر بھی آمادہ ہو گیا تو وہ غداری کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس نے اپنے قبیلے میں بھی اعلان کر دیا کہ ہم محمد ﷺ سے کیے گئے عہد سے باہر نکل آئے ہیں۔
مسلمانوں کو بھی اس کی خبر پہنچ گئی۔ آپ نے خبر کی تصدیق کے لیے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا اور انھیں یہ نصیحت بھی کہ اگر خبر درست ہوئی تو لشکر میں اس کی کسی کو خبر نہ ہو اور اشاروں میں اطلاع دی جائے۔
دونوں کعب بن اسد کے پاس پہنچے تو وہاں ماحول ہی کچھ دوسرا تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا باتیں کر رہے تھے۔ انھوں نے کعب کو معاہدہ یاد دلایا تو وہ بے شرمی سے بولا: کون سا وعدہ یا معاہدہ؟ میں کسی محمد ﷺ کو نہیں جانتا اور نہ ہی کسی معاہدے کو۔ اس پر اس کی سعد بن عبادہ سے تو تو، میں میں بھی ہو گئی۔ دوسرے یہودی گالیاں بکنے اور بدتمیزیاں بھی کرنے لگے۔ سعد بن معاذ نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ الجھنا مناسب نہیں، واپس چلتے ہیں۔
واپس آ کر انھوں نے صورتِ حال حضور کو بتا دی۔ یہ خبر دوسرے بڑے صحابہ کو بھی پہنچا دی گئی۔ بلاشبہ یہ بہت پریشانی کی بات تھی۔
حضور ﷺ نے فوری طور پر تین سو صحابہ کا دستہ اس راستے پر مقرر کر دیا جہاں سے دشمن بنو قریظہ کے ساتھ رابطہ ہو سکتا تھا۔ لیکن کم زور دل مسلمان تو بہت زیادہ پریشان ہو گئے۔ منافقین نے بری بری باتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ مسلمانوں سے کہتے کہ ہمارے رسول تو ہمیں خوش خبری دیتے تھے کہ مسلمان روم و فارس (اس وقت کی عالمی طاقتیں، روم اور ایران) کو فتح کریں گے، مگر ان کا یہ حال ہے کہ ہم آزادی سے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے، ہمارے بیوی بچے دشمن سے محفوظ نہیں رہے۔ بہتر ہے کہ عرب کے اس عظیم لشکر سے بات چیت کی جائے اور جان بچانے کی کوئی ترکیب کی جائے۔ پھر وہ مزید گھبراہٹ پیدا کرنے کے لیے کہتے کہ بھئی ہم اس طرح یہاں لشکر میں بے کار نہیں بیٹھ سکتے، ہم تو اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ کم از کم اپنے گھر والوں ہی کی حفاظت کر سکیں گے۔
یہودی جاسوس کی شامت
ادھر غدار یہودیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ابھی لشکر میں اپنی فوج بھیجنا مناسب نہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہم اپنے لڑنے والے لشکر کی طرف بھیج دیں اور مسلمان ہم پر حملہ کر دیں۔ ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ شہر میں کتنی فوج موجود ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس طرف مسلمانوں کی کوئی خاص تعداد نہیں ہے تو ہم مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا کر انھیں پریشان کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک سپاہی کو سب سے قریبی قلعے کی طرح کے ایک بڑے مکان کی طرف جاسوسی کے لیے بھیجا۔ اس نے اس مکان کے اردگرد چکر لگانا شروع کر دیے۔ اس کا خیال شاید یہ تھا کہ اگر اسے کسی نے دیکھا تو اسے ادھر سے گزرنے سے روکے گا اور اگر کسی نے نہ روکا تو وہ اندر داخل ہونے کی کوشش کر کے معلوم کرے گا کہ مسلمانوں کی یہاں کتنی تعداد ہے۔
یہ قلعہ نما مکان بڑا اہم تھا۔ اسے “حصن فارع” کہتے تھے۔ حصن عربی میں قلعے کو کہتے ہیں۔ اس میں بہت سارے بچے اور عورتیں موجود تھیں۔ ان کی نگرانی کے لیے صرف ایک مرد موجود تھا۔ یہ تھے حسان بن ثابت۔ وہ شاعر تھے اور لڑائی وغیرہ کرنا بالکل نہیں جانتے تھے۔ یہاں پر حضور کی پھوپھی سیدہ صفیہ بھی موجود تھیں۔ وہ بہت ذہین اور بہادر خاتون تھیں۔ اصل میں وہی اس گھر کی نگران تھیں۔ انھیں بھی بنو قریظہ کے ارادوں کی خبر پہنچا دی گئی تھی۔ اس لیے وہ دشمن سے بہت محتاط تھیں۔ اردگرد کی خبر رکھتی تھیں۔ وہ قلعے کی چھت سے معمول کے گشت پر تھیں۔ اتفاق سے سب سے پہلے انھوں ہی نے اس مشکوک شخص کو مکان کے اردگرد منڈلاتے دیکھا۔
وہ فوراً چھت سے نیچے اتریں۔ ان کے قدموں میں وہی عزم تھا جو ان کے بھائی شیرِ خدا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے قدموں میں جھلکتا تھا۔
وہ حسان بن ثابت کے پاس پہنچیں اور کہا کہ ہو نہ ہو، یہ ضرور ہماری جاسوسی کے لیے آیا ہے۔ اگر اسے ہماری اس کمزوری کا علم ہو گیا کہ یہاں حفاظت کے لیے مناسب بندوبست نہیں ہے تو بہت خطرناک ہو گا۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول اور ان کے صحابہ اس وقت دشمنوں سے اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ اس موقع پر ہماری مدد کو نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے جائیے، اسے ختم کر دیجیے۔ اس سے بنو قریظہ کو ہماری طرف سے ایک مضبوط پیغام جائے۔
لیکن حسان بن ثابت نے جو کچھ کہا، اس کا مطلب یہی تھا کہ انھوں نے تو کبھی چڑیا تک نہیں ماری اور آپ مجھے بندہ مارنے کا کہہ رہی ہیں۔ سیدہ صفیہ یہ جانتی تھیں کہ وہ درست کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے ضرور یہ سوچا ہوگا کہ اگر وہ چلے بھی گئے تو الٹا جان ہی سے جائیں گے۔ اس لیے انھوں نے خود یہ معرکہ انجام دینے کا فیصلہ کیا۔
انتظار کرنے لگیں کہ یہ مردود کب دروازے سے آگے جائے اور وہ چپکے سے باہر آئیں۔ تلوار تو ان کے پاس تھی نہیں، انھوں نے ایک مضبوط ڈنڈا یا نیزہ اٹھایا۔ وہ دروازے کی درز سے دیکھتی رہیں، جیسے ہی وہ مکان سے کچھ مناسب فاصلے پر گیا، وہ دبے قدموں اس کے پیچھے ہو لیں۔ انھیں اس پر بے خبری ہی میں وار کرنا تھا، کیونکہ یہودی تلوار اور ڈھال سے پوری طرح لیس تھا، اس لیے وہ للکار کر حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھیں۔ وہ کامیابی سے اس کے قریب پہنچیں اور ایک بھرپور وار اس کے سر پر کیا۔
وار نشانے پر تھا۔ جاسوس گر پڑا اور سیدہ صفیہ نے اس پر کئی وار کیے۔ جب تک وہ ٹھنڈا نہ ہو گیا، انھوں نے اسے نہیں چھوڑا۔ اس کے مرنے کا اطمینان کرنے کے بعد وہ جلدی سے واپس لوٹیں۔ حسان بن ثابت یقیناً دور سے یہ منظر دیکھ کر حیران پریشان ہو رہے ہوں گے۔ وہ کامیابی سے واپس پلٹ کر حضرت حسان کے پاس پہنچیں اور کہنے لگیں کہ اب کم از کم اتنا کر لیں کہ اس کے ہتھیار ہی لے آئیں۔ مگر شاعرِ اسلام ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اب وہ بہادر خاتون دوبارہ اٹھیں۔ اس کا سارا اسلحہ اتارا، اور پھر ایک کام بھی کیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انھوں نے اس کی تلوار سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اور ذرا تصور کریں، اس کے سر کو ایک ہاتھ میں اور تلوار اور ڈھال کو دوسرے ہاتھ سے پکڑا اور مکان میں لے آئیں۔
یہ سر کاٹنے کا خیال انھیں ایک خاص مقصد پورا کرنے کے لیے آیا۔ اب وہ دوسری عورتوں کی مدد سے یا خود ہی مکان کی چھت پر چڑھیں اور اس کٹے سر کو قلعے کی دوسری جانب، جہاں بنو قریظہ کے مکانات تھے، اچھال دیا۔ یہی ان کا اصل مقصد تھا کہ دشمن تک یہ پیغام اچھی طرح پہنچ جائے کہ اس مکان میں اتنے لوگ ضرور موجود ہیں جنھوں نے تمھارے جاسوس کا سر قلم کر کے اسے “تحفے” میں بھیجا ہے۔ سیدہ صفیہ کی بہادری بہت کامیاب رہی۔ بنو قریظہ نے اس کا وہی مطلب لیا جس کے لیے انھوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ وہ یہی سمجھے کہ اس جگہ مسلمانوں کی ایک اچھی تعداد موجود ہے، اس لیے انھیں ادھر حملہ نہیں کرنا۔
بلاشبہ سیدہ صفیہ کا یہ کارنامہ اس جنگ کا ایک اہم موڑ تھا۔ ورنہ خدا نخواستہ اگر یہودی اس جگہ حملہ کر دیتے تو بہت زیادہ نقصان ہوتا اور مسلمان بھی دشمن کے بہت زیادہ دباؤ میں آ جاتے۔
اس واقعے کی اطلاع حضور تک بھی پہنچا دی گئی۔ انھوں نے اس کے بعد یہاں پر حفاظت کی غرض سے کچھ صحابہ کو بھیج دیا۔ ادھر چند دنوں کے اندر اندر حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ مشرکین اور بنو نضیر کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو گئی اور ان کے درمیان معاہدہ ٹوٹ گیا۔ اسی دوران اللہ کی مدد آئی اور ایک رات زبردست طوفان سے کفار کا لشکر تتر بتر ہو گیا۔ صبح اٹھ کر صحابہ نے دیکھا تو میدان بالکل صاف تھا۔ ہزاروں کے لشکر کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ حضور نے صحابہ کو مبارک باد دی۔ فرمایا کہ اب کفار کبھی بھی دوبارہ ہم پر حملہ آور نہ ہو سکیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے محض تین برس بعد مکہ فتح ہو گیا۔
سیدہ صفیہ کی وفات
حضرت صفیہ کی یہ جرات مندی تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی ایمان، صبر اور وفاداری کے ساتھ گزاری۔ اپنے بیٹے زبیر کو وہی جذبہ دیا جو ان کے خاندان کی پہچان بن چکا تھا۔
آپ کا انتقال امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین نے آپ کو اپنی آغوش میں جگہ دی، اور آپ جنت البقیع کے قبرستان میں آرام فرما ہیں۔
اہم نکتہ
حضرت صفیہ کا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان خواتین نے محض پس منظر میں رہ کر قربانیاں نہیں دیں بلکہ جب ضرورت پڑی تو میدانِ عمل میں بھی ڈٹ کر کھڑی ہوئیں۔ ان کی یہ کہانی آج بھی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایمان سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔