مواد پر جائیں

محرماتِ اخلاق

سید منظور الحسن اردو

سورہٴ نحل(16) کی آیت 90 میں اخلاقیات کے دائرے کی حرمتوں کو اصولی لحاظ سے بیان فرمایا ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں:’فَحْشَآء‘، ’مُنْکَر‘اور ’بَغْی‘۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئ ِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ، یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.

’’بے شک، اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔‘‘

سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں بھی اِنھی کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ.

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کر کے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

اعراف کی آیت کو نحل کے مذکورہ بالا حکم کے تقابل میں دیکھیں تو دو فرق متعین ہوتے ہیں: ایک یہ کہ ’مُنْکَر‘ (برائی) کی جگہ ’اِثۡم ‘ (برائی) کا لفظ آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ شرک اور بدعت کی دو مزید حرمتوں کا اضافہ فرمایا ہے۔ ’مُنْکَر‘ (برائی)کی جگہ ’اِثۡم ‘ (برائی) کا لفظ اختیار کرنےکا مقصد ’’حق تلفی‘‘کے مفہوم کو خاص کرنا ہے۔اخلاقی برائیوں، گناہوں اور منکرات کو اگر انواع میں تقسیم کیا جائے تو تین ہی اقسام متعین ہوتی ہیں: ایک وہ برائیاں ہیں، جو بے حیائی کی نوعیت کی ہیں؛ دوسری وہ ہیں،جن میں ظلم و زیادتی کا اظہار ہوتا ہے اور تیسری وہ ہیں، جن میں دوسروں کے حقوق تلف کیے جاتے ہیں۔ تمام رذائل اخلاق اِنھی تین انواع میں تقسیم ہیں۔ اِن کے علاوہ کوئی چوتھی نوع قیاس نہیں کی جا سکتی۔ قرآنِ مجید نے ’مُنْکَر‘ (برائی) کی جگہ ’اِثۡم ‘کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا ہے کہ برائی کی جن تین نوعیتوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اُن میں فواحش اور ناحق زیادتی کے علاوہ تیسری نوعیت ’’حق تلفی‘‘ ہے۔ 1 استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

’’… قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اِس کی جگہ ’اِثْم‘ کا لفظ استعمال کرکے واضح کر دیا ہے کہ اِس سے مراد یہاں وہ کام ہیں، جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں۔‘‘(البیان 3/ 42) 2

سورۂ اعراف میں مذکورجہاں تک دو مزید ممنوعات ـــــ شرک اور بدعت ـــــ کا تعلق ہے تو اِن کی نوعیت اضافی انواع کی نہیں ہے۔یہ مذکورہ حرمتوں ہی کے فروع ہیں، جنھیں اُن کی غیر معمولی شناعت کی وجہ سے منفرد طور پر بیان کیا ہے۔ اِن میں سے پہلی چیز کے لیے ’اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ‘ ( کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ) کے الفاظ آئے ہیں۔یہ ’اِثۡمَ‘، یعنی حق تلفی کی فرع ہے۔ شرک اللہ تعالیٰ کے معاملے میں صریح حق تلفی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ اُسے الٰہ، معبودِ حقیقی اور قادرِ مطلق مانا جائے۔ اگر کوئی شخص اُس کی ذات و صفات میں کسی غیر کو شریک کرتا ہے تو اُس کے حقوق تلف کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔مزید یہ کہ یہ افترا علی اللہ ہے، اِس لیے اِس میں ’بَغْی‘، یعنی ناحق زیادتی کا مفہوم بھی بہ درجۂ اتم شامل ہے۔ دوسری چیز کے لیے ’اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‘ (کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو، جسے تم نہیں جانتے)کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کے معنی اللہ پر جھوٹ باندھنے کے ہیں۔ ایسا اقدام بدعت، یعنی دین میں اضافہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حضور میں علانیہ سرکشی کے مترادف ہے۔ چنانچہ اِسے ’بَغْی‘کے تحت سمجھا جائے گا۔

شرک و بدعت کی اِن دونوں تعلیقات کو منفرد حرمتوں کی حیثیت سے بیان کرنے کا بنیادی سبب اِن کی غیر معمولی شناعت ہے۔تاہم، اِس کے ساتھ ایک ضمنی سبب یہ بھی ہےکہ یہ دونوں اپنے اطلاق کے لحاظ سے انواع ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی فواحش، حق تلفی اور ناحق زیادتی کی طرح اصولی عنوانات ہیں، جن کے تحت حرام افعال کی بے شمار صورتیں تشکیل پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ملائکہ پرستی، کواکب پرستی، آبا پرستی، احبار پرستی، بت پرستی، قبر پرستی، ایمان بالجبت و الطاغوت جیسے متعدد مشرکانہ افعال ہیں، جو شرک کےزمرے میں شمار ہوتے ہیں۔

  1. ۔ سورۂ نحل اور سورۂ اعراف کے الفاظـــ’مُنْکَر‘ (برائی) اور ’اِثۡم ‘ (برائی) ـــ اپنے مجرد استعمال میں تعمیم پر دلالت کرتے ہیں۔ اِن سے مراد وہ تما م برائیاں ہیں، جنھیں انسانی فطرت برا سمجھتی ہے۔ یہاں یہ الفاظ ’فَحْشَآء‘اور ’بَغْی‘ پر عطف ہو کر آئے ہیں، جو بہ ذاتِ خود من جملہ منکرات وآثام ہیں۔ لہٰذا یہاں اِن سےتعمیم کا مفہوم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں اِنھیں برائیوں کی تیسری قسم ’’حق تلفی‘‘ پر محمول کرنا ہو گا۔
  2. ۔ ’’’اِثْمٌ‘ میں اصلاً ’تأخر‘، یعنی پیچھے رہ جانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ’آثمہ‘ اُس اونٹنی کو کہتے ہیں، جو تھک جانے کی وجہ سے پیچھے رہ جائے۔ پھر یہ لفظ اداے حقوق میں پیچھے رہ جانے کے لیے استعمال ہوا ہے، عام اِس سے کہ وہ خدا کے حقوق ہوں یا بندوں کے۔ اپنے اِس مفہوم کے لحاظ سے یہ ’بِر‘ کا ضد ہے۔ ’بِر‘ کا اصل مفہوم …ایفاے حق ہے۔ یہ لفظ ’عدوان‘ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے، اِس لیے کہ حقوق کے معاملہ میں گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک کوتاہی اور حق تلفی کی نوعیت کے، دوسرے دست درازی اور تعدی کی نوعیت کے۔ پہلی قسم کے لیے ’اِثْم‘ کا لفظ ہے۔ دوسری کے لیے عدوان کا۔آیتِ زیرِ بحث (البقرہ2: 182)میں یہ لفظ ’جنف‘ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ ’جنف‘ کے معنی ہم واضح کر چکے ہیں کہ جانب داری کے ہیں،اُس کے بالمقابل ’اثم‘ کا ٹھیک مفہوم حق تلفی ہو گا۔‘‘ (تدبر قرآن 1/ 441)