یہ کہانی ایک وکیل کی سچی داستان سے ماخوذ ہے۔ اسے پہلی دفعہ مردانگی کے حقیقی مفہوم سے آشنائی ہوئی تھی۔ ایک ایسی حقیقت جس سے ان گنت مرد نا آشنا ہیں۔ ایک عورت کی ایسی داستان جسے ہر مرد کو بار بار پڑھنا چاہیے، تا کہ وہ اس کے شعور کا حصہ بن سکے۔
عدالت کے احاطے میں موسم ہمیشہ ایک سا رہتا ہے۔ بے رحم، بے چہرہ، اور خاموش۔ اُس دن بھی سورج پوری قوت سے چمک رہا تھا، لیکن عدالت کی دیواروں کے بیچ سایہ صرف انسانوں کے وجود کا نہیں، اُن کے زخموں کا بھی تھا۔
میں کمرۂ عدالت میں داخل ہوا تو وہ دونوں پہلے سے موجود تھے۔ مرد خاموش، سر جھکائے، کمرے کے فرش کو تجریدی آرٹ سمجھ کر اس سے کوئی مفہوم اخذ کرنا چاہ رہا تھا۔ شاید وہ ان زخموں کے سائے سے پریشان تھا جو اسے نظر نہیں آ رہے تھے، لیکن اس کے تحت الشعور میں موجود تھے۔ عورت بظاہر پُرسکون، لیکن نگاہ میں ایک عجیب الجھاؤ تھا۔ اَن گنت پہیلیوں اور بے اندازہ الجھنوں کا ٹھہراؤ۔ اُس کے دو ننھے بچے عدالتی کرسیوں پر بیٹھے معصوم نظروں سے اِدھر اُدھر جھانک رہے تھے۔ جج صاحب کے چہرے پر سوال تھا، اور فائل میں سے بس ایک لفظ:
“خلع”
جج صاحب یقیناً فائل کا مطالعہ کر چکے تھے۔ مقدمے کی حقیقت کو شاید سمجھ چکے تھے۔ انھوں نے دونوں کو غور سے دیکھا، پھر نرمی سے بولے:
“کیس کی نوعیت سنجیدہ ہے۔ بہتر ہو گا کہ میاں بیوی چیمبر میں آ کر کچھ دیر گفتگو کریں۔ شاید بات بن جائے۔”
مجھے جیسے زندگی کی ڈوبتی نبض میں نئی سانس محسوس ہوئی۔ بحیثیت وکیل، میں نے مقدمہ تو لے لیا تھا، لیکن اب تک کی جانکاری سے مجھے شدید خدشہ تھا کہ میں اس مقدمے میں ہار کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ چیمبر میں گفت و شنید کا موقع گویا وقت نے بخش دیا تھا۔
ہم تینوں چیمبر میں آ بیٹھے۔ مرد خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا، اس کے چہرے پر کوئی اَن کہی تحریر لکھی تھی۔ عورت نے ساڑھی کے پلو کو سنبھالا اور باوقار انداز میں بیٹھ گئی۔ مجھے تسلیم ہے کہ میں چہروں کے تاثرات پڑھنے میں باکمال سمجھا جاتا ہوں، اس چہرے پر کچھ نہ پڑھ سکا۔ عجیب، اجنبی زبان لکھی تھی اُس کے چہرے پر!
میں نے سوال کیا:
“بی بی، وجہ بتائیں۔ یہ خلع کیوں؟”
اُس نے براہِ راست میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا:
“یہ شخص مرد ہی نہیں ہے۔”
لفظ کمرے کی دیواروں سے ٹکرایا اور مجھے لگا جیسے کوئی کانچ کا گلدان فرش پر گر کر چکنا چور ہو گیا ہو۔ میرے اندر کا وکیل لمحہ بھر کے لیے رک گیا، مگر میں نے خود کو سنبھالا:
“مگر آپ کے دو بچے ہیں۔ پھر یہ الزام کیسے؟”
“مجھے اصرار ہے اپنے لفظوں پر۔۔۔ اس کے باپ بننے کے بعد ہی مجھے یقین ہوا کہ اس میں مردانگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔”
میں نے تیکھا لہجہ اپنایا:
“کمزوری کی وضاحت کریں گی محترمہ؟”
اُس نے گہری سانس لی، پلکیں جھپکائیں، پھر گویا وقت کی گرد جھاڑ کر بولی:
“صرف بچے پیدا کرنا ہی مردانگی نہیں ہوتی، وکیل صاحب۔”
میں اس کی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ اب میرے اندر کے وکیل پر ایک مرد کا قبضہ ہو چکا تھا۔ میرے منہ سے ایک گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی، البتہ منہ ہی منہ میں تو دے ہی ڈالی، اور میرے احساس نے اسے سنا بھی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے، لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔
اس کے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گویا منت سماجت کرنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے، ذرا بھی شرم و حیا نہیں ہے۔ دو بچوں کی ماں ہو کر بھی اپنے شوہر کو نامرد کہہ رہی ہے۔
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور “پورا وکیل” بن کر تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
“کیا تمہارا اپنے شوہر سے گزارا نہیں ہوتا؟”
“ما شاء اللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پر تو بالکل ٹھیک ہیں، مگر پھر بھی یہ نامرد ہیں۔”
مجھے اس کی بات سے حیرت کا جھٹکا لگا کہ بچے بھی ہیں اور نامرد بھی، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ عجیب عورت ہے۔
“تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے؟” میں نے زچ ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔
“وکیل صاحب! صرف ازدواجی زندگی سے اولاد ہو جائے، یہی مردانگی نہیں ہوتی بلکہ اور بھی ایسی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں میاں بیوی کے درمیان، جس پر بیوی مرد سے مطمئن نہیں ہو پاتی اور مرد نامرد ہی قرار پاتا ہے۔”
مجھے اس عورت کی منطق کسی بھی طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔ میرے اندر کا مرد شدید الجھن کا شکار تھا کہ بھئی فقط “مطمئن” نہ ہونے پر کس طرح سے اپنے مرد کی عزت یوں کورٹ کچہری میں اچھال رہی ہے۔ یہ معاملہ تو ان دونوں کے مابین بھی حل ہو سکتا تھا۔
میں نے نظر اُٹھا کر اُس کے شوہر کو دیکھا۔ مجھے صاف لگا کہ اُس کے چہرے پر اپنا سچ کھل جانے کا شدید خوف لاحق تھا۔
“آپ کو اگر خدا نے اولاد سے نواز رکھا ہے، بی بی، اور اگر یہ جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہیں تو اگر آپ کو ان سب کے باوجود کسی مسئلے اور بے چینی کا سامنا ہے تو آپ ڈاکٹر سے رابطہ کر سکتی تھیں۔ یوں کورٹ کچہری آنا تو اس معاملے کا حل نہ تھا۔”
“ان کی کمزوری کسی بھی ڈاکٹر سے دور نہیں ہو سکتی تھی، وکیل صاحب۔۔۔ تبھی مجھے یہ راہ چننی پڑی۔”
عجب عورت تھی۔ ایک تو انتہا کی بے باکی، اوپر سے کمال کا اعتماد۔۔۔ اور وجہ ایسی کہ کوئی اور ہوتا تو شرم سے ڈوب کر مر جاتا۔ جانے یہ کیسی عورت تھی۔ اس کا حلیہ اس کی باتوں سے ذرا نہ ملتا تھا، مگر ہر کسی کے ماتھے پر تھوڑا ہی لکھا ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کیسا ہے۔ میرے اندر کا مرد اس عورت پر طرح طرح کے جملے کس رہا تھا، مگر اپنے وکیل ہونے کا بھرم بھی رکھنا تھا۔ بولا:
“بی بی، ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔”
میں نے ذرا توقف کیا۔ مجھے اب اس عورت پر غصہ آنے لگا تھا اور اُس کے شوہر پر ترس۔
“میں آپ کو ایک اچھے ڈاکٹر کا پتہ دیتا ہوں، آپ وہاں جائیں۔ سب بہتر ہو گا۔ جہالت اور ضد میں آ کر گھر نہ توڑیں۔”
میں نے اپنے غصے پر بمشکل قابو پایا اور ایک جاننے والے قابل ڈاکٹر کا ایڈریس دینے کا سوچا، جو مردانہ کمزوری کا ماہر مانا جاتا تھا۔ میں اپنی طرف سے ہر کوشش کر کے اس جاہل عورت کو اس اقدام سے روکنا چاہتا تھا۔
“نہیں، وکیل صاحب، مجھے یقین ہے۔۔۔ ان کا مرض لاعلاج ہے۔ میں اس دور میں ایسے مرد کے ساتھ ایک منٹ نہیں رہوں گی۔”
وہ بضد رہی۔ مجھے بھی اب ضد ہو گئی تھی کہ ذرا اس کی اصلیت سب کے سامنے لاؤں۔ بولا:
“جب آپ کی اولاد ہے تو پھر یہ بیماری اتنی بھی بڑی نہیں ہو گی۔ لگتا ہے آپ سب کچھ اپنے شوہر کو بدنام کرنے کی وجہ سے کر رہی ہیں۔”
اب کی بار میرا ضبط جواب دینے لگا تھا۔
“بیماری ہے، وکیل صاحب۔۔۔ بیماری ہے۔۔۔”
اب کی بار وہ خاصے تلخ اور اونچی آواز میں چلائی تھی۔
“اگر ہے تو وضاحت کر دیں پھر۔۔۔”
میں بھی مصر تھا کہ وہ لفظاً اپنی بے شرمی اور بے باکی کا اظہار کرے، مگر جب وہ بولی تو میں حیرت اور خجالت کے سمندر میں ڈوبنے لگا۔
“صرف بچے پیدا کرنا ہی مردانگی نہیں ہوتی، وکیل صاحب! میرے بابا استاد تھے۔ ایک اسکول میں۔۔۔ دیہات میں رہتے تھے مرحوم، اور پورا گاؤں کہتا تھا کہ ان جیسا بارعب اور خوب صورت مرد کبھی نہیں دیکھا۔ ماشاء اللہ بڑے قد کاٹھ کے، بااخلاق اور انتہائی مدد کرنے والے انسان تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہم تین بہنیں ہیں اور میرے والد نے ہمیں ہمیشہ ‘بیٹا’ کہہ کر بلایا۔ ہمیں اپنی شہزادیاں کہتے۔۔۔ جبکہ میرے شوہر مجھے ‘خبیث عورت’ کہہ کر بلاتے ہیں۔۔۔ حقیر اور ناپاک جانوروں کی مادائیں کہہ کر بلاتے۔۔۔ میں یہاں ان کا نام لینا بھی گوارا نہیں کر سکتی۔۔۔ یہ کون سی مردانہ صفت ہے، وکیل صاحب؟ اب بتائیں، مرد میرے باپ جیسا شخص ہوا یا یہ ‘خبیث اور حقیر جانور’ کہنے والا؟”
ماحول میں یک دم ایک گمبھیر خاموشی چھا گئی۔ لگتا تھا جیسے کوئی بم پھٹ گیا ہو۔۔۔ جاندار کوئی نہ بچا ہو اور اب خاموشی ہو گئی ہو۔ اس کی آواز پھر بلند ہوئی:
“مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو یہ میرے پورے میکے کو غلیظ گالیاں دیتے ہیں۔ ان کے مختلف جانوروں سے تعلق بیان کرتے ہیں۔۔۔ اپنے ناجائز تعلق کی خواہش کا دانت پیس پیس کر، منہ بگاڑ بگاڑ کر اظہار کرتے ہیں۔ آپ ہی بتائیں جی کہ اس میں میرے ماں باپ کا کیا قصور؟۔۔۔ شاید یہی کہ انھوں نے انھیں اپنا عزیز جان کر میرا ہاتھ انھیں تھمایا۔۔۔ مگر انھوں نے انھیں مرد جانا تھا۔۔۔ مگر یہ کیا، یہ مردانگی دکھائی انھوں نے؟”
جب کسی کے منہ سے کچھ نہ نکل سکا تو وہ پھر بولی:
“وکیل صاحب! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غصے میں مجھے ‘پیشہ ور عورت’ اور یہ خطاب اپنی بیوی کو دیتے ہیں۔۔۔ کیا بطور شوہر یہ ان کی مردانگی کے مطابق ہے؟”
“وکیل صاحب! مرد تو وہ ہوتا ہے جو پیشہ ور عورت کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ پیشہ کرنا چھوڑ دے، اور یہ اپنی ہی بیوی اور پھر اس کی ماں کو ہی پیشہ ور کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور یہ لفظ تو میں بول رہی ہوں۔ ان سے پوچھیں، ان کی مردانگی انھیں اس لفظ کی بجائے کون سا لفظ بولنے پر مجبور کرتی ہے؟؟؟ وکیل صاحب! اب آپ ہی بتائیں نا۔۔۔ کیا ان کا یہ طرزِ تخاطب مردانگی پر پورا اترتا ہے یا انتہائی درجے کی کمزوری پر؟ اور یہ تو صرف بدزبانی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ یہ بات بے بات پر جو بے عزتی اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، میری شخصیت، میری روح کو لہولہان کرتے ہیں۔۔۔ اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ کیا اس کمزوری کا علاج کوئی ڈاکٹر کر سکتا ہے؟”
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
میری اس سوچ کو وہ عورت واقعی سچ ثابت کر گئی تھی کہ ضروری نہیں جیسا باطن ہو ویسا ہی ظاہر بھی ہو۔۔۔
“میرے شوہر کے نزدیک مردانگی کا ثبوت گالی گلوچ، بدتمیزی اور بداطواری ہے۔”
میں گنگ بیٹھا تھا۔ لفظ “نامرد” اب جسمانی نہیں، اخلاقی مفہوم اختیار کر چکا تھا۔ بطور مرد میں اس پہلو پر غور ہی نہ کر سکا کہ مردانگی کا ایک ہی روپ نہیں ہوتا۔ جسمانی بے مردمی کا علاج ممکن ہے، لیکن روح کی بے مردمی واقعی لاعلاج ہے۔
میں نے شوہر کی طرف دیکھا۔ چہرے پر شدید کرب، آنکھوں میں وحشت اور زبان پر قفل۔ مجھے کسی عارف کی بات یاد آگئی: بدزبان بہت بزدل ہوتا ہے، ورنہ وہ بدزبانی کا سہارا نہ لے۔ لیکن میں وکیل تھا، ابھی ہارا نہیں تھا۔ بولا:
“بی بی، آپ نے کبھی کوشش نہیں کی اسے سمجھانے کی؟”
“کوشش؟ جب ان گنت دفعہ ناکام ہوئی تو میں نے خود کو اس کے غصے کے نیچے دفن کر دیا۔ سوچا، وقت بدل جائے گا۔ مگر جب اس نے میری بیٹی کے سامنے بدزبانی کی تو میری بیٹی نے مجھے ان گالیوں کا مطلب پوچھا جو یہ مجھے دے رہا تھا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جب برداشت اور انتظار دونوں ختم ہو گئے۔ میرے اندر کی عورت جو مر گئی تھی، وہ ماں بن کر جاگ اٹھی۔”
اچانک اُس کا شوہر بول اٹھا۔ اس کی آواز میں لرزش تھی۔
“اگر یہی بات تھی تو پہلے بتا دیتی۔ مجھے اس طرح سب کے سامنے رسوا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”
وہ ہنسی، مگر اس ہنسی میں دکھ کی چبھن صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“آپ کی زبان نے میرے وجود کو روز رسوا کیا، میری روح تک کو زخمی کیا، اور آپ کو ایک سماعت کی رسوائی ناقابلِ برداشت ہو گئی؟”
وہ ایک عورت بول رہی تھی، مگر اس کی آواز میں ہمارے سماج کی کئی عورتوں کی صدائیں تھیں۔
خاتون نے چند لمحے توقف کیا، بچوں کی طرف دیکھا، اور پھر اُس مرد کی طرف، جس نے اس کی عزت کو بارہا روندھا تھا۔ شاید اسے امید کی ایک دھندلی لکیر نظر آئی۔
“وکیل صاحب، اگر میں آپ کی بیٹی ہوتی تو آپ میرے شوہر کا مقدمہ لڑتے؟”
میرے تخیل نے میری پندرہ برس کی بیٹی کو دلہن بنا دیا۔ پھر مجھے وہ روتی ہوئی نظر آئی۔ مجھے معلوم تھا کہ موجودہ قانون کے مطابق خلع کا مطلب طلاقِ بائن ہوتا ہے۔ اسی لیے عام طور پر جج حضرات خلع کے حق میں فیصلہ دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ مگر آج مجھے پہلی دفعہ اس قانون میں سقم نظر آیا۔ یہ عجیب تھا کہ مرد طلاق دے تو اسے طلاقِ بائن اور طلاقِ رجعی دونوں کا حق ہے، لیکن عورت خلع لے تو اسے یہ حق حاصل نہیں۔ اس کا خلع طلاقِ بائن کیوں سمجھا جائے؟ وہ ایک طلاق کیوں نہ تصور کیا جائے؟ کیا خلع کی جرأت کرنا اصل میں مرد کی “مردانگی” کے خلاف ہے؟
مجھے پہلی دفعہ شریعت میں بھی “بے انصافی” نظر آئی۔ میں سوچنے لگا کہ یہ خدا کی شریعت کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ خدا ظالم نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ نہ مرد ہے نہ عورت۔ وہ دونوں کے تعصبات سے پاک ہے۔ مگر یہ قانون تو مردانگی کا بے ہنگم شاہکار ہے۔ اسی لیے مرد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عورت پر اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے!
سچی بات ہے کہ میں اور میری ساری مردانگی آج خود انصاف کے کٹہرے میں کھڑی تھی، اور میری زبان کو تالا لگ گیا۔
مجھے گنگ دیکھ کر وہ بے باک عورت جج سے مخاطب ہوئی:
“سر! مجھے وہ فیصلہ سنائیے گا، جو اس جیسی صورتِ حال میں آپ کی بیٹی کو بھی قابلِ قبول ہو۔”
یہ بات عام حالات میں واضح طور پر کسی جج کے پروٹوکول کے خلاف تھی۔ میں نے ان کی آنکھوں میں عجیب غیظ و غضب دیکھا تھا۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے، اور یہ اشارہ تھا کہ ہمیں اب ان کے اگلے حکم کا انتظار کرنا ہوگا۔
میں جب چیمبر سے نکل رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے بیان پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں۔۔۔ شاید میں بھی نامرد ہوں، اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔ عورت اپنے ارمانوں کا سہرا مرد کے سر پر باندھ کر اس کی مردانگی سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس کا مان نہیں توڑے گا۔
میں یہ سب کچھ سوچتا رہا۔ سوچتا رہا۔ مجھے لگا کہ شاید جیسے ہم سب نامرد ہیں، کیونکہ مردانگی کا مطلب صرف طاقت نہیں، بچے پیدا کرنا ہی نہیں، بلکہ تہذیب، برداشت اور شائستگی بھی ہے۔
مجھے معلوم تھا کہ اس کیس کا جج صاحب کیا فیصلہ دیں گے۔ یقیناً خلع۔۔۔ ہمیشہ کی علیحدگی۔
مگر میرے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ فیصلہ عجیب تھا:
“ملزم پر دعویٰ ثابت ہو چکا ہے۔ وہ بیمار ہے، بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کے ناقابل۔ اس کا گھر اس کے صحت یاب ہونے تک اس کی بیوی بچوں کے پاس رہے گا۔ اس بات کا فیصلہ اس کی بیوی ہی کرے گی کہ اس کی مردانگی واپس آ چکی ہے یا نہیں!”