تربتِ شبلی سے یوں آج کیا میں نے کلام
ہے عجب حال کہ ملت کا نہیں کوئی امام
ہر مسافر رہِ اخلاص و وفا چھوڑ گیا
ہے کہاں تجھ سا مجدد کہ بدل دے جو نظام
خانقاہوں سے بزرگوں کی صدائیں آئیں
مسجدوں سے ہوئیں رخصت وہ روایاتِ عظام
روحِ شبلی سے صدا آئی کہ اے میرے عزیز
زنگ آلود ہیں شمشیر ضمیر و اقلام
میں وہیں اشک پھر آنکھوں میں لیے بیٹھا رہا
دل تڑپتا رہا آنکھوں سے لہو بہتا رہا
ہائے وہ شبلیِ مغفور کہ اپنے پیچھے
کاروانوں کے لیے راہ و نشاں چھوڑ گیا
جس نے تاریخ و ادب، فلسفہ و علم کلام
حل کیے معنیِ پیچیدہ کے اسرارِ نہاں
فکر و تحقیق میں جس کا نہیں ثانی کوئی
شہ سواروں نے بہت سر کیے گرچہ میداں
جس کے خامہ میں عجب شان دلآویزی تھی
ایک اک لفظ میں اسرار معانی پنہاں
جس کے افکار میں اک ولولہ انگیزی تھی
چند لمحوں میں سمٹ آئی ہوں جیسے صدیاں
ایک خورشید کے مانند جو آیا ہے نظر
جس نے تاریخ کے چہرے کے نکھارے ہیں نقوش
توڑ کر کہنہ نظاموں کے سبھی پیمانے
کی ہے ایجاد وہ مئے جس میں کہ ہےجوش وخروش
کاسنی دھوپ اتر آئی ہو جیسے مجھ میں
چاندنی رات ہو جیسے کہ گلستانوں میں
سرمئی شام، خیالوں کی دھنک دور تلک
جیسے روشن ہو شفق رنگ شبستانوں میں
جیسے تکبیرِ خداوندِ جہاں گونج اٹھے
عرصۂ دہر کے ویران اذاں خانوں میں
آج بھی اس کی دعاؤں کااثر باقی ہے
تھک گئے پاؤں مگر شوقِ سفر باقی ہے
بجھ گئی آگ مگر سوز جگر باقی ہے
رات باقی ہے ابھی نورِ سحر باقی ہے
ذہن تاریخ کے اوراق الٹتا ہی رہا
اور دل، مرقد شبلی پہ دھڑکتا ہی رہا
تربتِ شبلی پہ اک آہ بھری، لوٹ آیا
درد دل میں لیے انکھوں میں نمی لوٹ آیا
ہائے یورش کوئی شبلی کبھی پیدا ہو گا
علم و فن کا کوئی ایسا کبھی شیدا ہو گا