مسلمانوں کے لیے درحقیقت یہ بات سخت قابل شرم ہے کہ جس میدان میں انھیں ہمت کا قدم رکھنا تھا، آج اغیار وہاں بازی لے گئے ہیں۔ عربی زبان نہ صرف مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے بلکہ مسلمانوں کی جان، روح، عنصر، جو کچھ کہو عربی ہے۔ مسلمانوں کے تمام علوم و فنون اسی خزانے میں محفوظ ہیں، لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج اس بے بہا خزانے پر یورپ کا قبضہ ہے اور مسلمان خالی ہاتھ اس کی اس جرأت کو تک رہے ہیں۔ درحقیقت مسلمانوں کی غفلت سے عربی کا تمام سرمایہ تباہ ہونے والا تھا، اگر یورپ اس کی حفاظت پر آمادہ نہ ہو جاتا، تاریخ و ادب کی وہ بے بہا کتابیں، جن کے الگ کر دینے کے بعد عربی کا، اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا کشکول خالی ہو جاتا ہے۔ صرف یورپ کی سرپرستی سے آج دنیا میں نظر آ رہی ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ یہ سرمایہ یورپ کی بدولت بربادی سے محفوظ رہا، اور بجاے ایک کرم خوردہ نسخے کے دنیا میں ہزاروں نسخے پیدا ہو گئے، بلکہ عربی زبان اور عربی علوم کے متعلق یورپ کی زبانوں میں، جس قدر معلومات اور تحقیقات کا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے، ان کو ہمارے علما کے دماغوں میں ایک لمحے کے لیے بھی جگہ نہ ملی ہو گی، عربی کی علم اللسان، لغت، صرف و نحو، عروض اور قوانی کے متعلق بیسیوں کتابیں اس تحقیق اور جامعیت کے ساتھ لکھی گئی ہیں کہ اگر اس کا نصف حصہ بھی ہماری زبانوں میں آ جائے تو بیش بہا معلومات سے مالا مال ہو جائیں۔
ڈاکٹر لائیٹز ہماری اس افسوس ناک غفلت کو محسوس کر کے لکھتے ہیں:
”مسلمان ہیں تو بہت، مگر وہ جانتے کیا ہیں؟ اگر آج عربی کی کوئی عمدہ تاریخ یا کوئی عمدہ دیوان درکار ہو تو یورپ سے مانگنا پڑے گا۔ ابن خلدون، ابن رشد، ابن بطوطہ، حاجی خلیفہ، ابن اثیر اور مقریزی جو اسلام میں آسمان علم کے آفتاب ہیں، یہاں ان کو کوئی جانتا بھی نہیں! تابط شرا، امرؤ القیس، بحتری اور ابو تمام کا دیوان کتنے آدمیوں نے پڑھا ہو گا؟ یورپ میں صد ہا آدمی یہ کتابیں پڑھتے ہیں اور ترجمۂ قرآن تو لاکھوں!“
ڈاکٹر لائیٹز کو صرف اس کا افسوس ہے کہ اگر عربی کی کوئی عمدہ کتاب درکار ہو تو مسلمانوں کو یورپ سے مانگنا پڑے، لیکن ہمیں یہ افسوس ہے کہ مسلمانوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یورپ نے عربی کی کون کون سی نایاب کتابیں چھاپی ہیں اورانھیں چھاپ کر ہم پر اور ہمارے علوم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے؟ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کے ذریعے علماے اسلام کو یورپ کی ان خدمات سے واقف کریں جن کی بدولت آج انھیں اس امر کا موقع حاصل ہے کہ اپنے علمی ذخیرے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں…
اس مضمون کے دو حصے ہیں: پہلے حصے میں یہ دکھلایا ہے کہ یورپ کو عربی اور عربی علوم پر کب توجہ ہوئی اور صرف و نحو، لغت و ادب کے متعلق کون کون سی قابل ذکر کتابیں یورپ کی زبانوں میں ترتیب دی گئیں؟ دوسرے حصے میں ان کتابوں کی مفصل فہرست دی ہے، جو یورپ کی کوششوں سے چھپ کر شائع ہوئیں۔
یورپ کو عربی اور عربی علوم کی طرف کب توجہ ہوئی؟ اور کیوں کر ہوئی، یہ بجاے خود ایک دل چسپ مضمون ہے جس کے بیان کی یہاں نہ گنجایش ہے اور نہ ضرورت! صرف اس قدر بتلانا سلسلۂ مقصد کے لحاظ سے ضروری ہے کہ عربی سے یورپ کب روشناس ہوا، اور کیوں کر عربی علوم و فنون مشرق سے مغرب میں منتقل ہو گئے۔
دنیا کے حیرت انگیز واقعات میں غالباً یہ واقعہ بھی عجیب و غریب ہے کہ یورپ کی شائستگی کی بنا ایک ایسی پولیٹکل خوں ریزی نے رکھی جو دنیا کا سب سے زیادہ نقصان کرنے والی جنگ تسلیم کی گئی ہے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان ترقی کے انتہائی درجے تک بلند ہو چکے تھے، یورپ میں ہر طرف تاریکی تھی، لیکن صلیبی لڑائیوں نے یکا یک یورپ کوموقع دیا کہ مسلمانوں کی شائستگی کا مطالعہ کرے۔
بیت المقدس اور انطاکیہ میں جب رومی سلطنت قائم ہوئی اور مسلمانوں سے ملنے ملانے کے ذرائع وسعت کے ساتھ پیدا ہو گئے تو یورپ کی آنکھیں کھلیں، اور مسلمانوں کی شائستگی کا اسے پہلا تجربہ ہوا۔ شام میں قسمت آزمائی کرنے کے بعد جب یورپ کے جاں بازوں نے مغرب کا رخ کیا تو یہ اثر بھی اپنے ساتھ لے گئے کہ مسلمان علمی ترقیات کی دنیا میں اکیلے مخزن ہیں اور تہذیب و شائستگی کا سرچشمہ اسلامی دنیا کے سوا، اور کہیں نہیں مل سکتا۔ اس اثر کا یہ نتیجہ ہوا کہ یورپ میں مسلمانوں کی ترقی اور شائستگی پر عام توجہ پیدا ہو گئی اور یہ ہر مرتبہ مسلمانوں کی ترقی کے حیرت انگیز آثار نظر آئے۔ اس لیے ایک طرف تو یورپ نے مسلمانوں کی تباہی کا بیڑا اٹھایا اور دوسری طرف اپنے حریف کی شاگردی پر آمادہ ہو گیا!
اس ذکر میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ چوں کہ اس زمانے میں یورپ میں عام تعلیم نہ تھی اور لاطینی و یونانی زبانوں کی تعلیم پادریوں اور اراکین سلطنت کے لیے مخصوص تھی، اس لیے مغرب سے مشرق کی طرف جس گروہ کا علمی تلاش میں اول قدم اٹھا وہ مذہبی پیشواؤں کا مقدس گروہ تھا۔ حیرت یہ ہے کہ یہی گروہ آگے چل کر الحاد اور بے دینی کے پریشاں خواب دیکھنے لگا اور اسلامی فلسفے کی اشاعت اس کی تعبیر بتلائی گئی۔ حالانکہ ابتدا میں اشاعت کا ذریعہ بھی یہی نادان گروہ ہوا۔
گیارہویں صدی کے اوائل سے مسلمانوں کے علوم و فنون پر یورپ کی توجہ ہوئی اور چودہویں صدی کے اواخر تک فلسفے کی تمام کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہو گئیں۔ ابتدا میں متعدد محکمے قائم کیے گئے کہ لاطینی داں یہودیوں کی مدد سے فلسفے کی کتابیں ترجمہ کی جائیں۔ پھر پوپ اکلرمنڈس پنجم کے حکم سے عربی اور دیگر مشرقی زبانوں کی تحصیل کے لیے یورپ سے نوجوان طالب علم اندلس روانہ کیے گئے۔ اندلس میں چونکہ خود عیسائی اور یہودی فلسفے میں مسلمانوں کے شاگرد رشید تھے، اس لیے یورپ کے طلبا ان کی اعانت سے فائدہ اٹھا کر بہت جلد عربی اور عبرانی میں قابلیت حاصل کر لیتے، اور فارغ التحصیل ہو کر علمی کتابوں کے ترجموں میں مشغول ہو جاتے۔
جن لوگوں نے یورپ کے مختلف حصوں سے اندلس کا سفر کیا اور عربی زبان سے واقفیت پیدا کر کے علمی تراجم میں مشغول ہوئے، ان کے نام آج تاریخی صفحات پر موجود ہیں۔ ان میں بہت سے طالب علم ایسے ہیں جنھوں نے طلب علم میں حب الوطنی کے تقید سے خود کو ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیا، اور ساری عمر طلیطلہ کے پرائیویٹ مدرسوں اور قرطبہ کے دار العلوموں میں صرف کر دی۔ کچھ طالب علم ایسے ہیں، جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد مشرق کے ممتاز ملکوں کی خاک چھانتے پھرے اور ایک عرصے کی تلاش و تحقیق کے بعد جب سرزمین مغرب میں قدم رکھا، تو اسلامی علوم و فنون کی معلومات سے ان کا کاسۂ دماغ لبریز تھا۔ ہارڈمن کریموں اس زمانے کا مشہور طبیب اور ہیئت داں ہے۔ یہ اپنے وطن اٹلی سے نکل کر محض عربی کے شوق میں طلیطلہ پہنچا اور ایک عرصے کی اقامت کے بعد جب کافی واقفیت حاصل کر لی، تو متعدد کتابوں کا عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا۔
پیٹرز مارمٹ ایک فرانسیسی راہب تھا، جس کو جغرافیے کا شوق دامن گیر ہوا۔ اسی شوق میں اندلس کا سفر کیا، افریقہ کی خاک چھانی اور مدت کی آوارہ گردی کے بعد مسلمانوں سے اس علم کو حاصل کیا۔ ڈنیل مارلی اور پیٹرز مارمٹ نے اسی طرح اندلس کا سفر کر کے عربی زبان سے واقفیت پیدا کی۔ آخر الذکر نے قرآن شریف کا عربی سے ترجمہ بھی کیا اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری بھی لاطینی میں ترتیب دی۔ ان کے علاوہ اور بہت سے لوگوں کے نام تاریخ میں پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض کے ترجمے اور تصنیفات اس وقت تک یورپ میں موجود ہیں۔ ان کوششوں نے یورپ کو مسلمانوں اور مسلمانوں کے علوم سے واقف کر دیا اور اسلامی فلسفے نے عام طور پر مقبولیت حاصل کر لی۔
لیکن چونکہ یورپ میں اس وقت تک عربی زبان کی کوئی باضابطہ درس گاہ نہ تھی، اس لیے عربی زبان سے وہی خوش قسمت اشخاص واقفیت حاصل کر سکتے تھے جن میں مشرقی ممالک کے سفر اور وہاں کے کثیر اخراجات اور دقتوں کے متحمل ہونے کی طاقت تھی، لیکن سولہویں صدی سے عربی زبان کی باضابطہ تعلیم خود یورپ میں شروع ہو گئی۔ 1642ء میں پندرہویں گری گورس پوپ نے روم میں ایک انجمن قائم کی، جس کا مقصد اگرچہ مسیحی عقائد کی اشاعت تھا، مگر اس کے قیام سے بہت بڑا ضمنی فائدہ یہ ہوا کہ عربی زبان کی تعلیم پر یورپ کو توجہ ہو گئی۔ اس کے بعد ہی 1627ء میں خاص پوپ اریانس کے حکم سے اس انجمن کے متعلق مشرقی زبانوں کا ایک مدرسہ قائم کیا گیا تاکہ نوجوان پادری مشرقی زبانوں کی تعلیم پا کر اشاعت مذہب کی غرض سے باہر جا سکیں۔ اس مدرسے میں خاص طور پر عربی اور سریانی زبانوں کے پروفیسر مشرقی ممالک سے بلوا کر مقرر کیے گئے تھے۔ عربی کتابیں پہلے پہل دنیا میں اسی مدرسے کی بدولت چھپ کر شائع ہوئیں۔ تعلیم کے لیے ضرورت ہوئی کہ صرف و نحو اور ادب کی کتابیں بہ کثرت مہیا ہوں، اس لیے چند رسالے خود پروفیسروں نے لکھے اور کچھ کتابیں قدیم زمانے میں لکھی ہوئی دستیاب کیں اورانھیں نہایت اہتمام سے طبع کرا کر شائع کیا۔