مواد پر جائیں

مسلمان کے چھ حقوق

سید منظور الحسن اردو

[ ترمذی کی روایت، رقم 2736 سے ماخوذ]

ترمذی میں بیاں روایت ہے

حسنِ اخلاق کی ہدایت ہے

قول یہ حضرتِ علیؓ کا ہے

کتنا اچھا سبق نبیؐ کا ہے

ایک دن مصطفےٰؐ نے فرمایا

اہلِ ایمان کو یہ سمجھایا:

ہر مسلماں کے ہر مسلماں پہ

یاد کر لو اِنھیں، حقوق ہیں چھ

ہر گھڑی اِن کا تم دھیان کرو

اپنے احباب میں بیان کرو

پہلا حق ہے سلام کہنے کا

بغض و نفرت سے دور رہنے کا

جب مسلماں ملے، سلام کہو

خلق و اخلاص کا پیام کہو

دوسرا حق قبولِ دعوت ہے

باہمی میل جول رحمت ہے

جب مسلماں بلائے کھانے پر

عذر و انکار ہو بھلا کیونکر

تیسرا حق دعائے رحمت ہے

کوئی چھینکے تو اُس کی قسمت ہے

چھینک آئے، خدا کی حمد پڑھو

کوئی چھینکے، دعائے رحم کرو

چوتھا حق درد و غم میں شرکت ہے

اِس کی ہر شخص کو ضرورت ہے

جب مسلمان کوئی ہو بیمار

جب مصائب کی اُس پہ ہو یلغار

لازماً پہنچو تم عیادت کو

اور بنا لو شعار خدمت کو

پانچواں حق سبھی پہ غالب ہے

ہر مسلمان اِس کا طالب ہے

جب مسلماں جہاں سے رخصت ہو

گر ہو ممکن جنازہ اُس کا پڑھو

مغفرت کی دعائیں دو اُس کو

اپنے ہاتھوں سے اُس کو دفن کرو

حق چھٹا قربتیں بڑھاتا ہے

ظرفِ انساں کو آزماتا ہے

جو کچھ اپنے لیے پسند کرو

اپنے بھائی کو بھی وہی کچھ دو

دین نے قربتیں بڑھائی ہیں

سب مسلمان بھائی بھائی ہیں