(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(2)
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات کی نمازوں میں کچھ خاص سورتیں پڑھتے تھے۔1 کیا ان نمازوں کی ان سورتوں کے ساتھ کوئی خاص مناسبت تھی؟
عمارناصر: میرے خیال میں یہ ایک ذوق کی بات ہے۔کچھ سورتوں کی مناسبت شاید ہو، مثلاً سورۃ الجمعہ اگر جمعہ کے دن پڑھتے تھے تو اس کی ایک معنوی مناسبت بنتی ہے،لیکن اس طرح کی کوئی ظاہری مناسبت ہونا ضروری نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذوق کے تحت ایک معمول بنا لیا۔
مطیع سید: نماز میں تھوکنا یارینٹ پھینکنا،اور حیض و نفاس، یہ شیطان کی طرف سے ہیں۔2 احادیث میں اکثر اس طرح کی چیزوں کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ فطری سی چیزیں ہیں۔کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ شیطان سے نفرت پیداکی جائے، اگرچہ ان چیزوں کا شیطان سے کوئی تعلق نہیں ہے ؟
عمارناصر:جی ایسے ہی ہے۔یہ فطری اور طبعی چیزیں ہیں،لیکن ان میں گندگی یا نجاست کا پہلو بھی ہے۔ تو یہ ادب ہمیں سکھایا گیا ہے کہ خیر کی باتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے اور شر کی باتوں کی نسبت شیطان کی طرف کرنی چاہیے۔ یہ اسلوب آپ کو عام نظرآئے گا۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم بھول گئے ہیں تو کہا کہ ’مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ‘،’’ یہ شیطان ہی تھا جس نے مجھے غافل کر دیا کہ میں اُسے یاد رکھوں ‘‘۔ 3 حضرت ایوب علیہ السلام مصائب میں مبتلا ہوئے تو کہا کہ ’اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّ عَذَابٍ‘، (شیطان نے مجھ پر یہ تکلیف مسلط کر دی ہے‘‘۔4 شیطان نے مجھ پر یہ تکلیف مسلط کر دی ہے۔ انسان کو آزمایش میں ڈالنا شیطان کو پسند بھی ہے۔مثلاً نماز میں وسوسے پیدا کرنا،دیگر چیزیں یاد دلانا، وہ یہ کرتابھی ہے۔ تو اس مناسبت سے ہر بری چیز کی نسبت شیاطین کی طرف کر دی جاتی ہے، کیونکہ کئی بری چیزوں کا وہ سبب بن رہے ہوتے ہیں، کئی چیزوں پر وہ خوشی محسوس کر تے ہیں اور کئی جگہ شیاطین کی خبیث فطرت پر انسان کو متنبہ رکھنے کے لیے یہ نسبت کر دی جاتی ہے۔
مطیع سید: یہ مقصود بھی ہو سکتاہے کہ لوگ جو نمازکے دوران میں تھوکتے ہیں تو وہ نہ تھوکیں؟
عمارناصر: جی، کراہت دلانا مقصود ہے کہ نمازکی حالت میں ضبط کرو۔ یہ سمجھو کہ یہ ہم سے شیطان کرا رہاہے،لہٰذا ہم نہ کریں۔
مطیع سید: عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ رکوع میں دونوں ہاتھ جوڑ کر رانوں کے درمیان رکھ لیتے تھے۔5 علامہ وحید الزمان صاحب نے ابن ماجہ کی شرح میں ایک جگہ لکھا ہے کہ رکوع میں تطبیق کا طریقہ منسوخ ہوگیا تھا، لیکن ابن مسعود کو اس کا علم نہیں تھا اور وہ اس کے قائل رہے۔ اس کےعلاوہ جنبی کے غسل، یتیم کے مال میں زکوٰۃ اور عورت کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، ان سب مسائل میں احناف نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تقلید ترک کر دی، لیکن رفع الیدین کے معاملے میں وہ اَڑ گئے۔خود حضرت عمر جیسے صحابی پر کئی باتیں پوشیدہ رہ گئیں تو باقی کی کیا بات کی جاسکتی ہے۔ یہ انھوں نے لکھا ہے۔ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو رفع الیدین تو بہت بعد میں کسی مکتب فکر کا تشخص بنا ہوگا، لیکن ابتدائی دور میں تو یہ معاملہ نہیں تھا۔کسی عمل کو چھوڑنے یا روایت لینے کی وجہ یہ تو نہیں ہوگی کہ فلاں گروہ یا مسلک سے کسی کا تعلق ہے۔اس تناظر میں تو ان کا اعتراض درست معلوم نہیں ہوتا۔
عمارناصر: اصل میں ہندوستان میں جو مناظرانہ ادب اس مسئلے پر پیداہوا،اس میں وجوہِ ترجیح بڑے انوکھے قسم کے آ گئے ہیں،جن کا فقہی روایت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔اس طرح کی چیزیں باقاعدہ زیرِ بحث آتی ہیں کہ ٹھیک ہے، روایت تو آ گئی ہے، لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا عمل کون سا صحابی بیان کررہاہے۔ادھر عبد اللہ بن مسعود ہیں،ادھر ان کے مقابلے میں عبد اللہ بن عمر ہیں۔تو ان میں سے کس کے ہاں بھول جانے یا کسی حدیث سے ناواقف ہونے کی مثالیں زیادہ ہیں۔اب یہ روایت پر کوئی علمی تنقید نہیں ہے۔ یہ راوی کی درجہ بندی سے روایت کی افضلیت ثابت کرنے والی بات ہے۔ اس تناظر میں تو وہ ایک پہلو سے ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود سے بھی تو کئی چیزیں مخفی رہ گئیں، کیونکہ ان کو ناسخ احکام کا علم نہیں تھا،لیکن ان کا رفع الیدین نہ کرنا احناف کو پسند آگیا۔
مطیع سید: مثال کے طورپر ابن ماجہ کو ہی لیں، وہ روایت نقل کرتے ہیں اور بعض اوقات آخر میں لکھتے ہیں کہ اس میں فلاں راوی ضعیف ہے۔ جس روایت میں وہ ایسا تبصرہ نہیں کرتے تو گویا ان کے نزدیک وہ روایت بالکل صحیح ہے اور انھیں اس کے راویوں کے بارے میں تسلی ہے،لیکن جس کےمتعلق وہ خود کہہ رہےہیں کہ فلاں راوی ضعیف ہے تو پھر کیوں اسے درج کر رہےہیں ؟
عمارناصر: امام ابن ماجہ نے اپنی کتاب کس اصول پر لکھی ہے، وہ اصول تو انھوں نے بیان نہیں کیے، جیسے امام ترمذی نے اپنے اصول بتائے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ کسی خاص راوی کے بارے میں وہ متنبہ تو کررہے ہیں، لیکن اور طرق سے یا دیگر قرائن سے انھیں روایت کی صحت پر اطمینان ہے۔
مطیع سید: گویا انھوں نے جو روایت لی ہے،اس کی صحت کا اطمینان پیدا کر لیا ہے؟
عمارناصر: یہ بھی قیاس کیا جاسکتاہے۔ممکن ہے، ان کا اصول یہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک موضوع سے متعلق ایک روایت موجود ہے تو وہ نشان دہی کے لیے درج کر رہے ہوں۔ جیسے امام ابوداؤد ایک موضوع سے متعلق جو بھی اہم روایات ہیں، وہ لے آتے ہیں۔ ساتھ بتا بھی دیتے ہیں کہ یہ کم زور ہے،لیکن وہ درج کرناضروری سمجھتے ہیں کہ یہ روایت موجود ہے۔
مطیع سید: امام ابن ماجہ نے جب ایک روایت اپنی کتاب میں لکھی تو بہ ظاہر وہ ان کے نزدیک قابل قبول تھی، لیکن بعد میں شارحین کہتے ہیں کہ اس روایت میں فلاں راوی کم زور ہے،یعنی انھوں نے بعد میں راویوں کی جانچ کی ہے۔جب فقہا احادیث لیتے ہیں تو ہم ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ممکن ہے، ان تک یہ روایت کسی صحیح سند سے پہنچی ہو،لیکن ہم تک جس سند سے آئی ہے، وہ کم زور ہے۔یہی اصول ائمۂ محدثین پر بھی لاگو نہیں ہوتا؟ بعد کے شارحین بہت سے راویوں پر جرح کرتے ہیں، حالاں کہ محدثین کا فن ہی یہی تھا اور انھوں نے بڑی جانچ پرکھ کرکے روایت لی تھی۔
عمارناصر: اس استدلال میں ایک وزن تو ہے کہ دیکھیں اس دور میں فقہا نے جو روایتیں قبول کیں،وہ اگرچہ محدثین کے جمع کردہ مواد کی روشنی میں صحت کے معیار پر پوری نہیں اترتیں، لیکن ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کسی روایت کے ثبوت کے طرق یا اسناد وہی ہیں جو کتابوں میں درج ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوں گے۔ اگرہم اس امام کو علمی گنجایش دیتے ہیں یا اس کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس امکان میں ایک وزن ہے کہ جو فقیہ ہے یا محدث ہے، اس نے روایت کی صحت کے جو بھی معیار مقرر کیے ہوں گے، ان کے مطابق اگر وہ مطمئن تھا تو اس کو حق ہے کہ وہ اس کو اختیار کرے۔البتہ، اگرہم تک ان طرق سے وہ نہیں پہنچی تو وہ ہماری معلومات کا پابند تو نہیں تھا۔ اس پہلو سے یہ بات ٹھیک ہے، لیکن دوسرے پہلوسے آپ دیکھیں کہ ہم نے آج اگر تحقیق کرنی ہے تو ہم تو اسی مواد پر مدار رکھیں گے جو ہم تک پہنچا ہے۔ ہم ایک قیاسی امکان کی وجہ سے تحقیق کا معیار تو نہیں بدل سکتے۔ تو اس سوال کو دیکھنے کے یہ دونوں زاویے ہو سکتے ہیں۔
مطیع سید : یہ بات بھی بڑی دل چسپ ہے کہ فقہا پہلے کام کر چکے ہیں اور محدثین بعد میں روایات جمع کررہےہیں۔اگر اس کے برعکس محدثین پہلے یہ کام کرلیتےاوربعد میں فقہا آتے تو شاید بالکل اور طرح کی صورت بنتی۔
عمارناصر: جی، اگرایسا ہوتا تو شاید چیزیں مختلف ہو جاتیں،لیکن تاریخی عمل تو اس طرح کی پیشگی ترتیب بناکر نہیں ہوتا۔
مطیع سید: آپ نے ایک دفعہ ذکر کیا تھا کہ آپ کسی دور میں رفع یدین کرتے رہےہیں۔پھر آپ نے چھوڑ دیا یا اب بھی آپ کر لیتے ہیں؟
عمارناصر: ایک دور میں ایک طرح کا ردعمل سا پیدا ہوا تھا کہ رفع یدین کی حدیثیں زیادہ صحیح ہیں تو ان پر عمل کرناچاہیے۔ اسی دور میں کچھ عرصہ میں نے رفع یدین پر عمل کیاتھا۔ اب بھی کبھی کبھی کر لیتا ہوں۔ خصوصاً جب آپ حرم میں ہوں تو وہاں ویسے ہی اس کا ماحول ہوتاہے،اور ویسے ہی کرنے کو جی چاہ رہاہوتاہے، جیسے باقی لوگ کر رہے ہیں۔ نماز جنازہ میں تو مجھے عموماً احساس ہوتا ہے کہ تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرنا چاہیے، کیونکہ وہاں رکوع کی طرح ایک رکعت سے انتقال کی کوئی اور ظاہری علامت نہیں ہے۔
مطیع سید:حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک حسین عورت مسجد میں نماز پڑھنے آتی تھی۔ کچھ لوگ اگلی صفوں میں بڑھ جاتے کہ کہیں اس پر نظر نہ پڑجائے،کچھ جان بوجھ کر پچھلی صفوں میں پڑھتے کہ اسے دیکھ بھی لیں تو قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ ’وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَقۡدِمِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَاۡخِرِیۡنَ‘،’’ہم اُن کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اُن کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں‘‘(الحجر24:15)۔6 ابن عباس تو خود ترجمان القرآن ہیں، قرآن پر ان کی پوری نظر ہے۔ تھوڑا سا غور کریں تو ان آیات کا سیاق بالکل مختلف ہے اور وہاں یہ بات بیٹھ ہی نہیں رہی۔ لگتا نہیں کہ ابن عباس جیسے جلیل القدر مفسرِ قرآن نے یہ بات کہی ہو اور نہ یہ کہنا ممکن ہے کہ صحابہ کے ہاں سیاق و سباق کا لحاظ نہیں رکھاجاتاتھا۔
عمارناصر:اس باب میں اگر شاہ ولی اللہ اور زرکشی وغیرہ،جنھوں نے اسباب نزول کی روایات پر غور کیاہے، ان کی بات اگر آپ لیں تو وہ کہتے ہیں کہ صحابہ کی اصل میں مراد یہ نہیں ہوتی،یعنی وہ واقعتاً شانِ نزول نہیں بیان کررہے ہوتے۔ وہ اصل میں استشہاد کررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کسی خاص واقعے پر قرآن مجید کی کسی آیت کے الفاظ منطبق ہو سکتے ہیں اور اس سے آپ استشہاد کر سکتے ہیں تو صحابہ استشہاد کے طور پر اس آیت کا ذکر کر دیتے ہیں اور اس کو یوں تعبیر کر دیتے ہیں کہ آیت اس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔کسی چیز کا تاریخی پہلو بیان کرنا ان کے پیش نظر نہیں ہوتا۔
مطیع سید: بندے اور کفر کےدرمیان ترکِ نماز کا فرق ہے۔7 مجھے تو یوں لگتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاص طورپر مدینے کے ماحول میں جہاں منافقین بھی موجود ہیں، منافقین اور مسلمانوں کے درمیان فرق قائم کرنے کے لیے فرمارہے ہوں گے کہ یہ حدِ فاصل ہے، لیکن ہمارے فقہا کے ہاں اس کو بالکل ظاہری معنوں میں لیا جاتا ہے۔ امام احمد اور اصحابِ حدیث تارکِ نماز کو کافر قرار دیتے ہیں۔ مالک و شافعی کے نزدیک تو واجب القتل ہے،مثلِ مرتد ہے اگر توبہ نہ کرے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک کافر تونہیں، لیکن کفر کے قریب ہوجاتاہے۔کیا کوئی اس طرف نہیں گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاص ماحول میں یہ بات فرمارہے ہیں اور وہاں تو ظاہری معیار یہی ہو سکتا تھا؟
عمارناصر: یہ صرف ایک حدیث نہیں ہے، جس سے فقہا اتنے زیادہ پریشان ہو گئے ہیں۔ نماز کی اہمیت کو بیان کرنے والی حدیثیں مختلف ہیں۔کچھ ہیں جو دین میں نماز کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں، جیسے یہ حدیث ہے کہ عملاً ایک آدمی مسلمان ہے، یہ تو اصل میں اس کی نماز سے ہی پتاچلے گا۔ جو آدمی نماز ہی نہیں پڑھتا، اس کو یہ پروا نہیں کہ اللہ نے ایک فرض مجھ پر عائد کیاہے تو میں اس کو ادا کروں،اس میں اور ایک کافر میں فرق کیاہے؟تو یہ حدیث تو اس پہلو کو بیان کررہی ہے۔فقہا جس پہلو سے اس کو قانونی مسئلہ بناتے ہیں،وہ اور بات ہے، اور وہ یہ کہ قرآنِ مجیدنے بھی یہ شرط لگائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہ یہ لوگ جو اب مسلمان ہورہے ہیں، ان کو قانونی طورپر مسلمان شمار کرنے اور ان کو جان ومال کا تحفظ دینے کے کچھ ظاہری شرائط ہیں، جو انھوں نے پورے کرنے ہیں۔ان میں سے دو چیزیں نماز قائم کرنااور زکوٰۃ اداکرنا ہیں۔اگر وہ بہ ظاہر کہیں کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن شرائع اسلام میں سے ان دو چیزوں کی بھی پابندی نہیں کرتے تو ان کو ہم قانونی طورپر مسلمان کس بنیاد پر شمار کرسکتے ہیں؟ اصل میں یہاں سے فقہا کے ہاں بحث پیدا ہوئی کہ یہ بات اگرچہ گروہوں کے بارے میں کہی گئی ہے،لیکن ظاہر ہے کہ پھر افراد پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ جو مسلمانوں کے اندر رہتاہے،کلمہ گو بھی ہے،نام بھی مسلمانوں والاہے، لیکن وہ نماز کی پابندی بالکل نہیں کرتا، اس کو ہم کہاں رکھیں ؟ تو فقہا کے ہاں، یہاں سے بحث پیدا ہوئی۔
مطیع سید: میں آج کی سوسائٹی کے اعتبار سے اس حدیث کو دیکھتاہوں تو پھر مجھے یہ مسئلہ پیش آتاہے کہ ہم سب مسلمان ہیں،ہمیں نماز کا حکم بھی معلوم ہے، لیکن محض سستی یا کم زوری کی وجہ سے اکثر لوگ نماز نہیں پڑھتے۔ تو ان کا کیا حکم ہے؟
عمارناصر: یہاں دو معاملے ہیں: ایک یہ کہ دین میں نماز کی جو اہمیت ہے، وہ تو یہی ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ اس پہلو سے تو فرق نہیں ہے۔ آج بھی جب ہم لوگوں کے سامنے ان مسلمانوں کی حیثیت دین کی نظر میں بیان کریں گے جو نماز نہیں پڑھتے تو یہی بیان کریں گے۔ البتہ ان پر قانونی طور پر تارک نماز کے احکام کا اطلاق کرنے میں پھر مصلحت کا اصول آجاتاہے، اس لیے فقہا بھی یہ بحثیں کر تے ہیں، لیکن کوئی اس کی تنفیذ نہیں کرتا۔ قانونی تنفیذ ایک اور چیز ہو جاتی ہے۔
مطیع سید: ہماری آج کی سوسائٹی میں فقہاوالی بحثیں تو قابل عمل دکھائی نہیں دیتیں۔
عمارناصر: وہ اس لیے دکھائی نہیں دیتیں کہ اس طرح کے اقدام سے اصل میں جو نتیجہ مقصود ہے، وہ ہمارے حالات میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ مقصود تو یہ ہے کہ مسلمان کو نماز کی پابندی کرائی جائے۔ ہمارے ہاں اس کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔جبر سے آپ سارے لوگوں کو نماز پر لگا نہیں سکتے،بلکہ اس کا ایک الٹا ردعمل آئے گا، لیکن اصولی حکم توموجودہے۔ فرض کریں، کسی وقت تعلیم، تبلیغ، دعوت کے یہ سارے پہلو پائے جاتے ہوں اور واقعتاً ریاست ایسی ہو جو اسلامی شعائر پر قائم ہوتو وہ آج بھی اس پر مواخذہ کر سکتی ہے۔کچھ لوگ مسلمانوں میں سے اگر نماز نہیں پڑھتے تو وہ جواب طلبی کر سکتی ہے۔
مطیع سید:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران میں حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو حضرت عائشہ نے کہاکہ وہ تو بڑے نرم دل کے آدمی ہیں، آپ حضرت عمر کو حکم فرمادیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم صواحب ِ یوسف ہو۔8 اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیامرادتھی ؟
عمارناصر: مراد یہ کہ میں کچھ اور چاہ رہاہوں، لیکن تم اپنی مرضی چلانے کی کوشش کر رہی ہو۔ میں چاہ رہاہوں کہ لوگوں کو پتا چل جائے کہ میری جگہ ابوبکر ہی امامت کے لیے کھڑے ہوں گے، لیکن تم اپنی منطق چلا رہی ہو۔ یہ عتاب کا اور سرزنش کا جملہ ہے۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کے بارے میں فرمایا کہ چالیس مومن اگر کسی کی نماز جنازہ پڑھیں تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔9 دین کا مزاج تو یہ ہے کہ ایک آدمی جو عمل کرے گا،اسی بنیاد پر اس کی بخشش کی جائے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمانا کس پہلو سے ہے ؟ کیا محض سو لوگ اکٹھے ہوجائیں، چاہے وہ نیک ہی ہوں تو اس سے بندے کی بخشش ہو جائے گی؟
عمارناصر: ایک بات تو اس مضمون کی روایات میں یہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی عمل پر مغفرت کی جو بات کہی جاتی ہے، وہ اس اصولی شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ بخشش سے کوئی مانع اس کے عمل میں موجود نہ ہو۔ اگر کوئی مانع نہ ہوتو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے اصول کےمطابق ہے۔ ایک آدمی کا کوئی اچھا عمل ہے، اس سے اس کے گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔اس طرح اس کی مجموعی زندگی اچھی ہے تو چاہے کچھ گناہ بھی ہوں، لیکن چالیس یا سو نیک مسلمان اس کے حق میں سفارش کریں تو اس کی بخشش کر دیا جانا اللہ کے اصول کے مطابق ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے اصل مقصود لوگوں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ مسلمان کے جنازے میں شریک ہوا کریں۔
مطیع سید:یہ توہمیں تھوڑا غور کرنے سے سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہے، جو دوسری احادیث سے معلوم ہوتی ہے،لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس بات کا احساس ہوگاکہ لوگ میرے الفاظ کے ظاہری معنی بھی لے لیں گے۔
عمارناصر: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حاضر باش صحابہ تھے، وہ باتوں کو صحیح تناظر میں سمجھتے تھے۔ اصل میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست جن سے خطاب کررہے ہیں، ان کو ذہن میں رکھ کر بات کہہ رہے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھ کر تو بات نہیں کر رہے کہ میری یہ بات بعد میں کوئی سنے گاتو اس کا کیا مطلب لے گا۔ اصل میں جو مخاطب ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے تاکہ جنازے میں شریک ہونے کارجحان بڑھے۔ اور یہ بات بھی اس میں ہے کہ یہ کوئی جھوٹی تسلی نہیں ہے۔ یہ اللہ کا اصول بھی ہے کہ آدمی کے مجموعی اعمال اگر ٹھیک ہیں، ’خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا‘،کوئی بڑاگناہ ایسا نہیں ہے جو بخشش میں مانع ہو تو نیک لوگوں کے جنازہ پڑھنے سے،اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کیوں نہیں قبول کریں گے ؟
مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو تب تک نہ بیٹھتے جب تک اسے قبر میں نہ اتار دیا جاتا۔یہود کا ایک عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہود کے خلاف کیا کرو۔10 یہاں کیا صرف تشخص کا مسئلہ بن رہاہے؟ ورنہ ایک اچھی بات میں یہود کے مطابق عمل کرنا تو کوئی بری بات نہیں تھی۔ کیوں ایک اچھی بات کے بھی خلاف کرنے کا حکم دیاجارہاہے ؟
عمارناصر: قیام للجنازہ کی روایتیں مختلف ہیں اور ان سے مختلف طرح کی تصویر بنتی ہے۔ اگر واقعہ ایسے ہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہتےتھے تو یہ ایک عام معمول کی بات تھی۔ ایسا نہیں کہ کھڑے رہنے کا خاص اہتما م کیا جاتا تھا،بلکہ عام معمول میں جب تک میت قبر میں نہیں رکھ دی جاتی،آپ کھڑے رہتے ہوں گے۔اس تناظر میں اگر یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا ہو کہ ہم بھی یہی کرتے ہیں تو یہ معلوم ہے کہ یہودیوں کے ہاں ایسی چیزیں عام معمول میں نہیں ہوتی تھیں، وہ اسے ایک فقہی اور شرعی حکم بنالیتے تھے۔ تو ایسی چیزیں جہاں یہ معلوم ہو کہ یہودیوں نے اس کو کوئی فقہی حکم بنارکھاہے، اور ان سے ہماری مشابہت ہو سکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ ان کے خلاف کیا جائے۔ جیسے ڈاڑھیوں کو رنگنے یا نہ رنگنے کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصولاً کوئی حکم نہیں دیا تھا، لیکن آپ کو پتا چلا کہ یہودی کہتے ہیں کہ ان کو نہیں رنگنا چاہیے تو فرمایاکہ ڈاڑھیوں کو رنگا کرو اور یہود کی مخالفت کرو۔ یہودی کہتے تھے کہ مسجد میں جوتا پہن کر نماز پڑھنا، یہ قطعاً نہیں ہوناچاہیے، یہ ممنوع ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جوتے پہن کے نماز پڑھا کرو اور ان کی مخالفت کرو۔
مطیع سید: یہ ایسے ہی ہے، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام نے یہودی علما کی کچھ اس طرح کی پابندیوں کو توڑا تھا؟
عمارناصر: جی ایساہی ہے۔
مطیع سید: ایک شخص مدینے میں ہی پیدا ہوا اور مدینے میں ہی فوت ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایااور فرمایا: کاش، وہ کسی دوسرے ملک میں مرتا۔ کسی نے پوچھاکہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب کوئی آدمی اپنی پیدایش کی جگہ کے علاوہ دوسرے مقام پر مرتا ہے تو اس کی پیدایش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک اس کوجنت میں جگہ دی جاتی ہے۔11 وطن سے دوری میں ایسی کیا بات ہے کہ اسے اجر میں بدل دیاجائے گا؟
عمارناصر: اصل میں تو اصول یہ ہے کہ دنیا میں مومن کو جو بھی کوئی تکلیف یا کوئی محرومی ہوتی ہے تو اس کی تلافی ہوتی ہے۔ ایک آدمی اگر پردیس میں مراہے، جیسے غالب نے کہا ہے:مجھ کو دیارِ غیرمیں ماراوطن سے دور، تو اللہ تعالیٰ اس کی تلافی کریں گے۔
مطیع سید: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اور چیچک کی وجہ سے اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں تو کیا میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو جوڑا لگانے والی پر اور اس پر جس نے جوڑا لگوایا ہو۔12 یہاں باقاعدہ عذر موجود ہے کہ بیٹی دلہن بن رہی ہے اور یہ جوڑا لگانا بھی وقتی طور پر ہے، تو اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں ناپسند فرمایا ؟
عمار ناصر: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن بالوں کا لگانا مقصود تھا، کوئی ایسی کیفیت تھی جس سے وہ بال اصلی معلوم ہوں۔ فقہا بھی یہی اخذ کرتے ہیں کہ اس طرح بالوں کے ساتھ بالوں کو جوڑنا کہ یہ بھی اصلی معلوم ہوں، یہ ایک طرح سے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جو شکل تھی، وہ اسی طرح کی تھی، لیکن اس کے علاوہ جو دوسری چیزیں ہیں، جیسے ہمارے ہاں پراندے ہوتے ہیں یا بالوں کو لمبا کرنے والی اور چیزیں ہیں، ان میں چونکہ یہ پہلو نہیں ہے تو ان کی اجازت ہے۔
مطیع سید: اور اگر اس میں دھوکا نہ ہو، بلکہ دوسرے فریق کو بتا دیا جائے کہ اس طرح ہو گا؟
عمار ناصر: اس میں دو پہلو ہیں: ایک تو دھوکے کا پہلو ہے، وہ تو ہے ہی ناجائز۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں دھوکا نہ ہو اور دوسرے فریق کو معلوم بھی ہو تو بھی شریعت میں اس کو پسند نہیں کیا گیا کہ آپ اپنے مصنوعی بالوں کو اس طرح ظاہر کریں، جیسے وہ اصلی ہیں۔ جیسے ایک حدیث میں ’لابس ثوبی زور‘ کی تعبیر آتی ہے کہ انسان جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیتا ہے۔13 تو اس میں انسان کی جو ایک شخصیت جھلکتی ہے، اس پر بھی ایک تبصرہ ہے۔
مطیع سید: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دی اور پھر رجوع کر لیا۔14 کیا یہ روایت درست ہے؟ کیونکہ ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے علیحدگی کی بات آتی ہے۔کیا یہ کوئی الگ واقعہ ہے؟
عمار ناصر:بعض روایات میں ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کو طلاق دی اور پھر رجوع کر لیا، لیکن اس کی کوئی تفصیل منقول نہیں کہ یہ کون سا موقع تھا یا اس کا سبب کیا تھا۔ ممکن ہے، ازواج سے علیحدگی اختیار کرنے کے واقعے کو ہی کسی راوی نے یوں بیان کر دیا ہو یا ممکن ہے، کسی اور وجہ سے آپ نے طلاق دی ہو۔ شارحین عموماً قیاس کرتے ہیں کہ سورۂ تحریم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز فاش کرنے والی ایک زوجہ سیدہ حفصہ تھیں تو شاید اس موقع پر آپ نے طلاق دی ہو، لیکن اس واقعے میں تو دوسری زوجہ سیدہ عائشہ تھیں، ان کے متعلق ایسی کوئی بات منقول نہیں۔
[باقی]
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا، باب القراۃ فی صلوٰۃ المغرب، رقم831۔
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا،باب مایکرہ فی الصلوٰۃ، رقم969۔
- ۔ الکہف63:18۔
- ۔ ص41:38۔
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا،باب وضع الیدین علی الرکبتین، رقم873۔
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا،باب الخشوع فی الصلوٰۃ، رقم 1046۔
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا، باب ما جاء فیمن ترک الصلوٰۃ،رقم1078۔
- ۔ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و السنۃ فیھا،باب ماجاء فی صلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی مرضہ، رقم 1234۔
- ۔ کتاب الجنائز، باب ماجاء فیمن صلی علیہ جماعۃ من المسلمین،رقم1490-1488۔
- ۔ کتاب الجنائز، باب ماجاء فی القیام للجنازۃ، رقم1545۔
- ۔ کتاب الجنائز، باب ماجاء فیمن مات غریبًا، رقم1614۔
- ۔ کتاب النکاح،باب الواصلۃ و الواشمۃ،رقم1988۔
- ۔ ابوداؤد، رقم4997۔
- ۔ کتاب الطلاق، رقم2016۔