(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)
(3)
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار قسم کی عورتوں سے لعان نہیں ہے: نصرانیہ جو مسلمان کے نکاح میں ہو، یہودیہ جو مسلمان کے نکاح میں ہو،آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہواور باندی جو آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔1 اس کی کیا علت ہے؟
عمار ناصر: اس روایت کی اسنادی حیثیت تو بہت کم زور ہے۔ یہ مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں۔ اصل میں یہ بعض تابعین کا استنباط ہے، جس کے پیچھے منطق یہ معلوم ہوتی ہے کہ لعان کے لیے ضروری ہے کہ قسمیں کھانے سے انکار پر شوہر اور بیوی پر حد قذف جاری کی جا سکتی ہو۔ چونکہ ان کے نزدیک یہودی یا نصرانی عورت کے قاذف پر حد جاری نہیں ہوتی، بلکہ وہ تعزیری سزا کا مستحق ہوتا ہے، اس لیے اگر بیوی کتابیہ ہو اور مسلمان شوہر الزام لگائے تو لعان بھی نہیں ہو گا۔ اسی طرح آزاد عورت کے قاذف پر حد ہے، لیکن باندی کے قاذف پر حد نہیں تو باندی اور اس کے شوہر کے مابین بھی لعان نہیں ہوگا۔ یہی معاملہ شوہر کی طرف بھی ہوگا۔ اگر شوہر غلام اور اس کی بیوی آزاد ہے تو شوہر الزام لگانے کا اہل ہی نہیں۔ اس کے الزام کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
مطیع سید: اسی بنیاد پر مسلمان اور غیر مسلم کی دیت میں بھی فرق رکھا گیا ہے؟
عمار ناصر: دیت میں روایتیں مختلف ہیں، لیکن اس مضمون کی روایتیں بھی ہیں کہ مسلمان اور غیر مسلم کی دیت مساوی نہیں ہوگی۔ جو فقہا ان روایتوں کو ترجیح دیتے ہیں، وہ اسی عدم مساوات کے اصول کاحوالہ دیتے ہیں۔
مطیع سید: یہاں اسلام انسانی سطح پر جان کی حرمت کو کیوں نہیں دیکھتا؟
عمار ناصر:اس نقطۂ نظر کے مطابق، اسلام جان کی حرمت کو تو دیکھتا ہے، لیکن جرم کی سزا میں برابری کو ضروری نہیں سمجھتا۔ یعنی قتل کرنا جرم تو ہے اور اس کی سزا بھی ہوگی، لیکن سزا میں یہ دیکھا جائے گا کہ مسلمان کی جان ہے یا غیر مسلم کی جان ہے۔
مطیع سید: اگر میاں بیوی کے مابین لعان نہیں ہوگا تو پھر شوہر کی طرف سے الزام کی صورت میں کیسے مسئلہ حل کیا جائے گا؟
عمار ناصر: یہ پھر فقہی طور پر ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ مجھے اس وقت پوری طرح مستحضر نہیں۔ غالباً اگر شوہر غلام ہے اور وہ آزاد بیوی پر الزام لگائے تو فقہا کہیں گے کہ شوہر کو لعان کا موقع نہ دیا جائے اور اس پر حد قذف جاری کی جائے۔ اگر شوہر مسلمان اور بیوی غیر مسلم ہے تو لعان بھی نہیں ہوگا، لیکن حد قذف بھی جاری نہیں ہوگی۔ ہاں، ا س کے بعد دونوں میں تفریق کر دی جائے گی۔ البتہ بچے کے نسب کا معاملہ کیسے طے ہوگا؟ کیا لعان نہ ہونے کی وجہ سے اس کی ولدیت شوہر سے ہی مانی جائے گی یا اس میں بھی کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے؟ بہ ظاہر ایسی صورت میں بچے کا نسب شوہر سے ہی ثابت ہوگا، لیکن اس کو فقہ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مطیع سید: ایک مشہور روایت ہے کہ کچھ سوار جہاد کے سلسلے میں گئے اور ایک قوم کے پاس ٹھہرے اوران سے کہا کہ ہماری ضیافت کرو، لیکن انھوں نے انکار کیا۔ اس قوم کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا تو انھوں نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کو دم کیا اور ان سے معاوضے کے طورپر بکریاں لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے درست کیا ہے اور ان بکریوں میں میرا حصہ بھی رکھو۔2 لیکن ایک دوسری روایت میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں صفہ والوں کو قرآن کی تعلیم دیتا تھا اور لکھنا سکھاتا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے تحفۃً مجھے کمان دی تو میں نے کہا کہ یہ کمان مال تو نہیں ہے، میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر چلاؤں گا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تجھے معلوم ہو جائے کہ اس کمان کے بدلے تجھے آگ کا طوق پہنایا جائے گا تو کیا تم کمان قبول کروگے؟3 ایک طرف تو قرآن پڑھ کر دم کرنے کا معاوضہ لیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کو درست قراردیا اور دوسری طرف صحابی قرآن پڑھا رہا ہے اور کوئی مطالبہ بھی نہیں ہے، بلکہ دوسرے نے اپنی خوشی سے تحفہ دیا ہے، تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی سخت وعید سنائی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
عمار ناصر: پہلے واقعے میں تو ایک خاص صورت حال بھی تھی۔ دراصل ان لوگوں کو ان کی ضیافت کرنی چاہیے تھی، جو انھوں نے نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سفر میں رزق کا ایک وسیلہ بنا دیا۔ اس لحاظ سے دراصل انھوں نے دم کا معاوضہ نہیں، بلکہ حقیقت میں اپنا حق مہمانی وصول کیا۔ لیکن اگر عمومی اصول کے تحت دیکھیں تو بھی دونوں واقعات کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔ جھاڑ پھونک اور دم کرنے میں علاج کا پہلو غالب ہے۔ یہ ایک فن بھی ہے، جس کو سیکھا جاتا ہے۔ قرآن کی کچھ آیات اور سورتیں جو یہ تاثیر رکھتی ہیں،وہ کسی کو معلوم ہیں اور اس نے ان سے کسی کا علاج کیا ہے تو وہ علاج کی اجرت لے سکتا ہے۔ دوسرے واقعے میں قرآن کی تعلیم دینے پر ان کو تحفہ اور ہدیہ ملا جو اصلاً ایک دینی ذمہ داری کے طور پر اور اجر وثواب کے لیے دی جاتی تھی۔ اس کی اجرت لینے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا۔
مطیع سید: تو کیا قرآن کی تعلیم دینے پر آج جو لوگ اجرت لیتے ہیں، وہ جائز نہیں؟
عمار ناصر:اس میں زمانے کی تبدیلی سے سماجی زاویۂ نظر تبدیل ہو گیا ہے اور اس کا اثر دینی و فقہی احکام پر بھی پڑتا ہے۔ پہلے دور میں زاویہ یہ تھا کہ دین کا کوئی بھی کام مثلاً اذان دینا،نماز پڑھانا وغیرہ اس پر اجرت لینا جائز نہیں، لیکن بعد کے دور میں زاویۂ نظر بدل گیا۔ اس میں سماجی حالات کا بڑا دخل ہوتا ہے، اس کو صرف فقہی پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ایک دور میں ان سرگرمیوں کے بارے میں بنیادی تصور یہ تھا کہ یہ خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جانے والا کام ہے تو اس میں ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ بعد کے ادوار میں یہ کام نیکی کے کام تو سمجھے جاتے ہیں، لیکن ایک پروفیشن بھی بن گئے تو ان کو دیکھنے کا زاویہ بدل گیا۔ اب یہ ایک پیشہ ہے اور لوگ اس میں محنت کرتے ہیں،اس کو سیکھتے ہیں اور اپنا وقت اس میں لگاتے ہیں تو اس کی اجرت بھی لے سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر کچھ لوگوں کو سرکاری یا سماجی انتظام میں کسی ذمہ داری کے لیے مخصوص کر دیا جائے تو پھر اس کی نوعیت بہت مختلف ہو جاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی معلمین کے لیے بیت المال سے باقاعدہ وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔
مطیع سید: کیا اس سے ثواب میں کمی واقع ہو گی ؟ کالج میں ہمارے مضامین میں قرآن بھی شامل ہے اور ہم اس کو شوق سے اور محنت سے پڑھاتے ہیں، لیکن ہمیں اس کے پیسے بھی ملتے ہیں۔
عمار ناصر:حقیقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کمی ہوگی یا نہیں، لیکن بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کمی واقع ہوگی۔ جو لوگ یہ کام خالص اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں،ان میں اور معاوضہ لے کر پڑھانے والوں میں فرق تو ہوگا۔ پڑھانے میں اگرچہ اخلاص بھی شامل ہو اور لگن بھی ہو، لیکن اگر روزگار بھی اس سے وابستہ ہے تو اس سے اجر میں فرق تو پڑے گا۔
مطیع سید: بیعانہ کی رقم کے بارے میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔4 لیکن ہمارے ہاں یہ مروج ہے اور علما اس پر واضح تنقید نہیں کرتے۔اگر میں کوئی چیز نہ خریدوں تو کئی معاملات میں بیعانہ کی رقم واپس نہیں ملتی۔
عمار ناصر: ہمارے ہاں تو عام طور پر اس کے عدم جواز کا فتویٰ ہی دیا جاتا ہے، لیکن بازار میں عمل فتوے پر نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں تو اس کی گنجایش ہونی چاہیے۔ یہ ایک طرح کا جرمانہ یا تلافی ہے۔ پہلے دور میں بازار کے معاملات نسبتاً سادہ ہوتے تھے، تو شاید ایسا ہی ہو کہ آپ نے پیشگی کچھ رقم لے لی، لیکن بعد میں کسی وجہ سے وہ معاملہ ختم ہو گیا تو آپ کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں حسن اخلاق اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رقم واپس کر دی جائے۔ لیکن جیسے جیسے بازار کے حالات پیچیدہ ہوتے جائیں اور رسک بڑھ جائے تو فقہی طور پر معاملہ ختم کرنے کا کوئی جرمانہ یا تلافی ہونی چاہیے۔ آپ نے عقد کیا تھا، لیکن اس کو پورا نہیں کیا، تو جس نے آپ کے ساتھ معاملہ کیا، اس نے تو آپ کے لیے وہ چیز محفوظ کر لی تھی۔ وہ کہیں اور بھی وہ چیز بیچ سکتا تھا، لیکن آپ نے اس کو روک دیا تو اس نقصان کی تلافی کے لیے کوئی شکل ہونی چاہیے۔
مطیع سید: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےکہا کہ میں چیز خریدتے ہوئے پہلے کم قیمت بتاتی ہوں اور پھر بڑھاتی ہوں۔ اسی طرح بیچنے کے لیے زیادہ قیمت بتاتی ہوں اور پھر آہستہ آہستہ کم کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جو قیمت تم نے لینی یا دینی ہو، بس وہی بتایا کرو۔ یہ کم یا زیادہ بتا کر قیمت طے کرنا درست نہیں۔5 ہمارے ہا ں تو یہ معمول کی چیزہے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھا جاتااور بہ ظاہر اس میں کوئی قباحت بھی نظر نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کیوں ناپسند فرمارہےہیں؟
عمار ناصر: احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے زاویے بہت متنوع ہوتے ہیں۔ کہیں آپ قانونی پہلو بیان فرما رہے ہوتے ہیں اور کہیں آپ استحباب اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں آپ کا بلند شخصی ذوق جھلک رہا ہے کہ زیادہ بھاؤ تاؤ نہ کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر یہ چیز پسند نہیں کرتے تھے۔ اس میں یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ آپ کس کو یہ مشورہ دے رہے ہیں؟ اگر کسی سے اپنے شخصی ذوق کی پابندی مطلوب ہے تو اس کومشورہ دیا جائے گا، ورنہ نہیں۔ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تو منع فرمایا کہ ہم گدھے کی جفتی گھوڑی سے نہ کروائیں، لیکن میں نہیں کہتا کہ آپ نے تم کو، یعنی باقی سب لوگوں کو بھی اس سے منع کیا ہے۔ تو احادیث کی تعبیر وتشریح میں یہ ساری چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں۔
مطیع سید: حضرت ابو سفیان کی بیوی نے شکایت کی کہ وہ بخیل شخص ہیں تو کیا میں ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: صرف اتنا لے لو جو تمھیں اور تمھارے بچوں کو کفایت کرے۔6 کہا جاتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس کو جائز قرار نہیں دیتے۔اگر یہ ناجائز ہےتو عورتوں کے لیے کیا آپشن ہے، وہ اس صورت حال میں پھر کیا کریں؟
عمار ناصر:مجھے ان دونوں ائمہ کی راے اس وقت مستحضر نہیں ہے۔ بہ ظاہر تو حدیث میں جو رخصت دی گئی ہے، وہ عقل عام کے مطابق ہےاورصحیح لگ رہی ہے، لیکن اگر ہم قیاس کریں کہ دونوں ائمہ اس کو صحیح نہیں سمجھتے ہوں گے تو ممکن ہے کہ ان کے پیش نظر اس میں ظاہری خیانت کا پہلو ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے عملاً دیکھا ہو کہ عورتوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو پھر وہ اس کا غلط استعمال کریں گی اور ضرورت سے زائد رقم نکال لیں گی۔ بہرحال اس صورت حال میں جو حدیث میں بیان ہوئی ہے، انھی شرائط کے ساتھ عورت اگر شوہر کا مال لے لے تو بہ ظاہر اس میں کوئی خرابی معلوم نہیں ہوتی۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال داروں کو بکریاں اور غریبوں کو مرغیاں پالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب مال دار لوگ بھی مرغیاں پالنے لگیں تو پھر اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔7 ویسے اس حدیث کے بارے میں بحث موجود ہے کہ یہ موضوع روایت ہے۔
عمار ناصر:تو پھر اس پر بحث نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ صحاح میں شاید ابن ماجہ ہی ہے، جس میں کچھ موضوع احادیث موجود ہیں۔
مطیع سید: میرے ذہن میں آیا کہ شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ ہر معاملے میں اگر امیر آ جائیں اور غریبوں کے لیے گنجایش نہ بچے تو یہ حکم ہوگا۔
عمار ناصر:ظاہر ہے کہ جس نے بھی یہ حدیث وضع کی ہے، اس کا کوئی تناظر تو ہوگا، کسی نے شوقیہ تو یہ حدیث وضع نہیں کی ہوگی۔
مطیع سید: وضع ِحدیث کی بات چھڑی ہے تو وضع کے بارے میں ایک سبب یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ اخلاص نیت سے بھی کی جاتی تھی۔
عمار ناصر:اخلاص نیت وہاں شامل ہوتا ہے جہاں کسی دینی کام کی ترغیب ہو یا کسی گناہ کے کام سے روکنا مقصود ہو۔ اس میں اخلاصِ نیت کام کر رہا ہوتا ہے، لیکن بہت سے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی رجحانات بھی وضع کا سبب بنے ہیں۔
مطیع سید: کیسے ایک مسلمان یہ جسارت کر سکتا ہے کہ ایک بات گھڑ کر نبی کی طرف منسوب کر دے،صرف اس لیے کہ لوگ فلاں نیکی کی طرف راغب ہوں؟
عمار ناصر:اصل میں جو مسلمان اخلاص نیت سے وضع کر رہا ہے، وہ اس پہلو کو نہیں دیکھ رہا کہ میں ایک غلط بات نبی کی طرف منسوب کر رہا ہوں۔ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ اس سے لوگ اس کام کی طرف راغب ہو جائیں گے تو اچھا ہے۔ پھر اس کے جواز میں بھی کچھ حدیثیں وضع ہوئی ہیں کہ احادیث وضع کرنا صحیح ہے۔ جیسے بعض روایات ہیں کہ جو بھی اچھی بات تمھیں میری نسبت سے پہنچے، تم اسے قبول کرو،چاہے وہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیہاتی اور جنگل میں رہنے والے کی گواہی، بستی میں رہنے والے کے خلاف قبول نہیں ہے۔8 اس کی کیا یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ شہر کے معاملات سے لاعلم ہے اور صحیح طرح سے جانتا نہیں؟ ورنہ شہری اور دیہاتی میں کیا فرق ہے؟
عمار ناصر:ظاہر ہے کہ یہ کوئی عمومی اصول نہیں ہو سکتا اور یہ کوئی عمومی بات بھی نہیں ہے۔ آپ نے شاید یہ کسی خاص قضیے میں فرمایا ہو گا، جس کی نوعیت ایسی ہوگی کہ ایک فریق شہر کا رہنے والا ہے اور دوسرا دیہات کا رہنے والا ہے، اور معاملہ ایسا ہے کہ اس کو شہری معاملات سے پوری واقفیت ہونی چاہیے۔ اگر وہ معاملات سے واقف نہیں ہے تو پھر اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن یہ کوئی عام اصول نہیں ہے۔
مطیع سید: ہبہ کے بارے میں روایت ہے کہ دے کر واپس لینا جائز نہیں ہےاور اس کے بارے میں قے کر کے چاٹنے کی بڑی سخت مثال دی گئی ہے۔ لیکن ایک روایت میں ہے کہ والد اپنی اولاد کو دیا ہوا ہبہ واپس لے سکتا ہے۔9
عمار ناصر: تحفہ دے کر واپس لینے کی جو ممانعت ہے، وہ اعلیٰ اخلاق کے پہلو سے ہے،قانونی ممانعت نہیں ہے۔ یعنی یہ بہت بری چیز ہے، لیکن قانونی طور پر اگر دینے والا یہ کہے کہ میں واپس لینا چاہتا ہوں تو وہ لے سکتا ہے۔ دیگر روایات میں ا س کے ساتھ یہ قید بھی ملتی ہے کہ اگر اس نے بدلے میں کوئی تحفہ وصول کر لیا ہو تو پھر واپس نہیں لے سکتا۔ یہ بھی ایک معقول قید ہے۔ البتہ باپ کے معاملے میں یہ اخلاقی قباحت نہیں ہے، کیونکہ باپ کا تعلق اور نوعیت کا ہے اور اولاد پر باپ کا حق بھی اور طرح کا ہے۔ وہ اگر اپنا ہی دیا ہوا تحفہ واپس لے رہا ہے تو اس پر یہ چیز وارد نہیں ہوتی۔ تعلق کی نوعیت اور اولاد کے مال پر حق، اس سے نوعیت بدل جاتی ہے۔
مطیع سید: آج کے دور میں اگر باپ بیٹے کو کچھ دیتا ہے اور اس کی قانونی طورپر توثیق بھی ہو جاتی ہے، پھر تو میرے خیال سے واپس لینے کا اختیار باقی نہیں رہتا۔
عمار ناصر: یہ درست بات ہے۔ قیاسی طور پر حدیث میں یہ قید بھی شامل کی جا سکتی ہے کہ واپسی کا اختیار تب تک ہے جب یہ معاملہ ذاتی تعلق کی سطح پر ہو۔ اگر اس کی حاکم سے توثیق کروا لی جائے تو پھر واپس لینے کا اختیار باقی نہیں رہے گا۔ اس کے ساتھ کسی دور کا عرف اور معاشرتی تصور بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ معاشرتی تصور اور چیزوں کو دیکھنے کا انداز اگر بدل جائے تو ان کے فقہی احکام بھی بدل جاتے ہیں۔
مطیع سید: ایک شخص نے اپنے قرض دار سے قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت مانگی۔ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا کہ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ وہ شخص مہلت لے کر چلا گیا اور جب مہلت پوری ہوئی تو وہ سونا لے کر آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے کہاں سے یہ سونا لیا ہے؟ اس نے کہا کہ کان سے۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہےاور قرض خواہ کا قرضہ خود ادا کردیا۔10 کان سے سونا لینے میں کیا خرابی تھی؟
عمار ناصر:حدیث میں اس کی وضاحت نہیں ہے، اس لیے قیاسات سے ہی کام لیا جا سکتا ہے۔ دیگر روایات سے اگر کچھ تفصیل معلوم ہو کہ اس دور میں کان سے سونا نکالنے کا کیا طریقہ تھا اور اس میں کیا معاملات ہوتے تھے تو شاید بات بہتر سمجھ میں آ سکے۔ شارحین کہتے ہیں کہ ممکن ہے، اس وقت کان سے نکلا ہوا سونا خریدنے کا معاملہ کسی ایسی شکل میں ہوتا ہو، جس میں غرر کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خام شکل میں سونا لے کر آیا ہو، جب کہ اس کے ذمے دینار واجب تھے۔ آپ نے محسوس کیا کہ شاید قرض خواہ اس شکل میں قرض واپس لینے پر آمادہ نہ ہو تو اس کو اپنی طرف سے رقم ادا فرما دی۔ بہرحال اس کی لائی ہوئی رقم میں کوئی ایسی خرابی تھی جو روایت میں بیان نہیں ہوئی،لیکن یہ وجہ بہرحال نہیں تھی کہ کان سے نکلا ہوا سونا فی نفسہٖ قابل قبول نہیں۔
مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی فوت ہوتا تو آپ جنازہ پڑھانے سے پہلے پوچھتے تھے کہ اس کے ذمے قرض تو نہیں ہے؟ پھر جب کچھ زمینیں فتح ہوئیں تو اس کے بعد اگر کسی مرنے والے کے پاس اسباب نہ ہوتے تو آپ اس کا قرض خود ادا کرنے کا اعلان فرماتے۔11 اگر میت کے قرض کے بارے میں پوچھنے کا مقصد اس کی اہمیت کو اجاگرکرناتھا کہ اگر کوئی قرض لے تو اس کی واپسی کی بھی فکر کرے تو فتوحات کے بعد اگرچہ حالات بہتر ہو گئے، لیکن یہ علت تو باقی رہی۔ اس میں بھی یہی ہونا چاہیے تھا کہ جو قرض لے، وہ واپس بھی کرے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کی ادائیگی اپنے ذمے کیوں لے لی؟
عمار ناصر:قرض کے متعلق پوچھنے کا مقصد لوگوں کو ترغیب دینا بھی تھا کہ وہ قرض کی ادائیگی کا اہتمام کریں، لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ مرنے والے کے ذمے کسی کا حق باقی نہ رہے۔ اس مقصد سے آپ بعض دفعہ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ صحابہ سے فرماتے تھے کہ تم اس کا جنازہ پڑھاؤ۔ اس سے یہ ہوتا تھا کہ صحابہ میں سے کوئی اس شخص کے قرض کی ذمہ داری لے لیتا تھا اور کہتا تھا کہ یا رسول اللہ، آپ جنازہ پڑھائیں،میں اس کا قرض ادا کر دوں گا۔ گویا یہ ادائیگی کے بندوبست کا ایک انداز تھا۔ پھر جب فتوحات ہو گئیں اور آپ کے پاس ادائیگی کا بندوبست ہوگیا تو لوگوں کو ترغیب دینے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کے بعد اگر کسی کے پاس ادائیگی کے وسائل نہ ہوتے تو قرض بیت المال سے ادا کر دیا جاتا تھا۔
مطیع سید: جب آپ علیہ السلام نے قرض کی ادائیگی کا ذمہ اپنے اوپر لے لیا تو اس سے لوگوں کے اندر احساس ذمہ داری میں کمی نہیں واقع ہوئی؟ لوگ بے پروا نہیں ہو گئے کہ اگر ہم سے قرض ادا نہ ہوسکا تو نبی علیہ السلام ادا کر دیں گے؟
عمار ناصر:اصل میں ہم تک تو آپ کے جملے ہی پہنچے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے یہ فرمایا، لیکن اس کا اثر کیا ہوا یا ہو سکتا تھا، اس کا ہم پورا اندازہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنے ماحول میں جو دیکھتے ہیں، شاید وہی اثر وہاں بھی ہوا ہوگا، لیکن اصل میں جو آدمی بات کر رہا ہوتا ہے، اس کو اندازہ ہوتا ہے کہ میری کسی بات کا اثر ماحول پر کیا ہوگا اور وہ فیصلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔
مطیع سید: سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ایک ہزار درہم بہ طور قرض دیے۔انھوں نے کہا کہ جب مجھے بیت المال سے وظیفہ ملے گا تو میں واپس کر دوں گا۔جب ان کا وظیفہ آیا تو سلیمان نے قرض کی ادائیگی کا سختی سے مطالبہ کیا، جس پر علقمہ نے قرض ادا کردیا، لیکن اس کو بہت برا محسوس کیا۔ پھر کئی ماہ گزر گئے اور انھیں دوبارہ ضرورت پڑی تو وہ سلیمان کے پاس گئے اور ایک ہزار درہم کا قرض مانگا۔ انھوں نے وہی تھیلی منگوائی اور کہا کہ یہ وہی تھیلی ہے جو تم نے مجھے دی تھی۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی اور میں نے اس میں سے ایک درہم بھی استعمال نہیں کیا۔ علقمہ نے پوچھا کہ آپ نے پھر اتنا سخت تقاضا کیوں کیا؟ سلیمان نے کہا کہ میں نے تم سے ہی یہ حدیث سنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی کو دو بار قرض دے، اس کو ایک دفعہ اتنا مال صدقہ کرنے کا اجر ملتا ہے۔ اس لیے میں نے ایسا کیا۔12 یہ عجیب سا نہیں لگتا کہ انھوں نے ان کو دوبارہ قرض دینے کے لیے سختی سے قرض واپس مانگا؟
عمار ناصر:ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں تھی،لیکن سلیمان نے حدیث کے ظاہر سے یہ مطلب اخذ کیا کہ میں اگر اس طرح یہی رقم ان کو دوبارہ قرض دوں گا تو مجھے اتنی رقم صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔
مطیع سید: اسی سے ملتی جلتی ایک روایت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ اپنا قرض ادا نہ کردے۔ تو عبد اللہ بن جعفر خزانچی سے کہتے تھے کہ جاؤ اور میرے لیے قرض لے کر آؤ،کیونکہ میں اس کو برا جانتا ہوں کہ میں ایک رات گزاروں اور اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔13 ایسا لگتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ گہرائی میں جاکر بات کا مطلب سمجھتے تھے اور کچھ ظاہر پر عمل کرنے کو اختیار کر لیتے تھے۔
عمار ناصر:جی،ایسے ہی ہے۔ البتہ فہم کے علاوہ ایسی چیزوں میں اللہ تعالیٰ سے خاص طرح کی توقع رکھنے کا پہلو بھی ہوتا ہے، جس کا انداز مختلف لوگوں میں مختلف ہوتا ہے۔ ان دونوں واقعات میں اچھی توقع اور اجر کی امید سے ظاہر پر عمل کا جو طریقہ دکھائی دیتا ہے، اس کا بھی اپنا ایک حسن ہے۔ اس طرح کے واقعات حضرت میمونہ اور حضرت عائشہ کے متعلق بھی آتے ہیں۔ ان دونوں کو اپنی ضروریات کے لیے رقم کی خاص ضرورت نہیں ہوتی تھی، لیکن وہ صدقہ وانفاق بہت کثرت سے کرتی تھیں اور اس کے لیے بھاری مقدار میں قرض لے لیتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ جب ادائیگی کا بہ ظاہر بندوبست نہیں ہوتا تو آپ بلا ضرورت قرض کیوں لے لیتی ہیں؟ تو وہ جواب دیتی تھیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص قرض کی واپسی کی نیت رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں، اس لیے ہم اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔
[باقی]
- ۔ کتاب الطلاق، باب اللعان،رقم2071۔
- ۔ کتاب التجارات، باب اجر الراقی، رقم2156۔
- ۔ کتاب التجارات، باب اجر الراقی، رقم2157۔
- ۔ کتاب التجارات، باب بیع العربان، رقم2192۔
- ۔ کتاب التجارات، باب السوم، رقم2204۔
- ۔ کتاب التجارات، باب ما للمرأۃ من مال زوجھا، رقم2294۔
- ۔ کتاب التجارات، باب اتخاذ الماشیۃ، رقم2307۔
- ۔ کتاب الاحکام، باب من لا تجوز شہادتہ، رقم 2367۔
- ۔ کتاب الھبات،باب من اعطی ولدہ ثم رجع منہ، رقم2377۔
- ۔ کتاب الصدقات، باب الکفالۃ، رقم2406۔
- ۔ کتاب الصدقات، باب من ترک دینًا و ضیاعًا فعلی اللہ وعلی رسولہ، رقم2415۔
- ۔ کتاب الصدقات، باب القرض، رقم2430۔
- ۔ کتاب الصدقات، باب من ادّان دینا و ھو ینوی قضاءہ، رقم2409۔