مواد پر جائیں

مطالعۂ سنن ابن ماجہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمن اردو

(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(4)

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ولد الزنا کو آزاد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ دو جوتوں میں جہاد کرنا ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔1 شارحین نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے، لیکن ابن ماجہ جب بغیر کسی جرح کے یہ روایت لے رہے ہیں تو روایت کی قبولیت میں کیا ان کے ہاں حدیث کے مضمون کا معروف یا منکر ہونا اہم نہیں تھا؟

عمار ناصر:اس حدیث کی تو ایک توجیہ موجود ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ حدیث بیان ہوئی تھی تو انھوں نے اس کا پس منظر بیان کر دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ دراصل کچھ لوگوں نے قرآن میں غلاموں کو آزاد کرنے کی تاکید سن کر آپ سے یہ کہا کہ ہمارے پاس تو غلام نہیں ہیں، لیکن ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی باندیوں سے زنا کروائیں اور ان سے جو بچے پیدا ہوں، ان کو اللہ کی راہ میں آزاد کر دیں۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے کہ اللہ کی راہ میں کوئی معمولی سی چیز خرچ کر دی جائے۔ ممکن ہے کہ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے سامنے بھی یہ توجیہ ہو اور ان کو اطمینان ہو کہ اس بات کا ایک محل ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی کتاب کا یہ اسلوب نہیں ہے کہ ساتھ وہ توجیہات بھی بیان کریں، لیکن اگر کوئی حدیث قابلِ توجیہ ہے تو وہ لے لیں گے۔

مطیع سید: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ غلام اور لونڈی آپس میں میاں بیوی ہیں اور میں ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے شوہر کو آزاد کرنا، پھر بیوی کو۔2 شارحین فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو پہلے آزاد کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ اگر عورت پہلے آزاد ہو جاتی تو قانون کے مطابق اس کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہو جاتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر بیوی کو یہ اختیار دیا گیا تو پھر ایسی رکاوٹ کیوں ڈالی گئی تاکہ عورت اس اختیار کو استعمال نہ کر سکے؟

عمار ناصر:یہ بات اصول میں تو ٹھیک ہے کہ باندی کو آزاد ہونے پر نکاح ختم کرنے کا اختیار دیا گیا، لیکن کسی خاص معاملے میں اطلاق کرتے ہوئے دوسرے پہلو بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی یہ ضابطہ بنایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ عورت کو یہ حق دینا چاہتے ہیں، لیکن پھر خود ہی ایک واقعہ میں روک رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصول اپنی جگہ درست ہے،لیکن کسی خاص معاملے میں یہ دیکھنے کی گنجایش رہتی ہے کہ اس کو یہ اختیار ملنا چاہیے یا نہیں اور ان کے حق میں بہتر ہوگا یا نہیں ؟دیکھیں، قرآن مجید میں ہے کہ تمھارے جو غلام اور باندیاں آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اس کی سہولت دو، لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا:’اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا‘، یعنی اگر تمھیں لگے کہ یہ آزاد ہونے کے بعد بہتر زندگی گزار سکتے ہیں اور مسائل کا شکار نہیں ہو جائیں گے تو پھر تم یہ کام کرو۔ اسی طرح یتیموں کے متعلق بھی فرمایا کہ ’فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ ‘۔ یہاں بھی حق تو ہے کہ بالغ ہونے کے بعد ان کا مال ان کے سپرد کر دیا جائے،لیکن یہ کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھو کہ وہ اپنا مال سنبھالنے کے قابل بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔

مطیع سید: شرابی کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ بار بار شراب پیے تو اسے کوڑے مارو، اور پھر چوتھی بار اسے جان سے مار دو،3 لیکن محدثین اس کو منسوخ بھی قرار دیتے ہیں۔

عمار ناصر: منسوخ کے بجاے بہتر تعبیر یہ ہے کہ یہ متروک العمل ہے، یعنی اس پر عمل نہیں ہے۔ ترمذی میں جہاں یہ روایت ہے، اس کے ساتھ اس کا بھی اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا، جس نے چوتھی یا پانچویں بار شراب پی تھی، لیکن اس کو آپ نے قتل نہیں کیا۔ تو ابن القیم رحمہ اللہ اور دیگر علما یہی توجیہ کرتے ہیں کہ آپ نے یہ ارشاد بیان جواز کے لیے فرمایا تھا کہ سزا کے طور پر اگر کسی عادی شرابی کو قتل بھی کرنا پڑے تو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ لازم نہیں ہے۔ کوئی بھی جرم جو انسان بار بار کرے اور اس سے باز نہ آئے تو اس کو تعزیراً‌ قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ لازم نہیں ہے۔ چونکہ ان معنوں میں اس پر عمل نہیں رہا تو فقہا اس کو منسوخ سے بھی تعبیر کردیتے ہیں۔

مطیع سید: اس کے منسوخ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان کو تین جرائم کے علاوہ قتل نہیں کیا جا سکتا۔

عمار ناصر:اس حدیث کا بھی اپنا ایک سیاق ہے اور وہ علی الاطلاق قتل کی سزا کی تحدید نہیں کرتی۔ ان تین جرائم کے علاوہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سزا دی ہے۔ مثلاً‌ جو ماں سے نکاح کرے، اس کو قتل کر دیا جائے اور جو جانور سے بدفعلی کرے، اس کو بھی قتل کر دیا جائے۔ اسی طرح دیگر کئی واقعات ملتے ہیں۔

مطیع سید: کسی سے کوئی چیز اچک کر لے جانے والے کے بارے میں ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔4 حالاں کہ یہ چوری سے زیادہ قابل مذمت چیز ہے۔

عمار ناصر:اس کو دیکھنے کا زاویہ طے کرے گا کہ یہ کام چوری سے زیادہ شنیع ہے یا چوری سے کم شنیع ہے۔ احادیث میں چوری میں ہاتھ کاٹنے کے بارے میں تنقیح کی گئی ہے کہ کون کون سے پہلو موجود ہوں گے تو پھر قطع ید ہوگا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ چور نے صرف مال نہیں لیا، بلکہ ایک محفوظ جگہ کی حفاظت کو توڑا، نقب زنی کی اور وہاں سے مال اٹھایا۔ اسی لیے فقہا نے حرز کی شرط رکھی ہے کہ مالک نے اپنے مال کو اتنی محفوظ جگہ پر رکھا ہو کہ وہاں سے لینا آسان نہ ہو، اور آدمی اس کو توڑ کر وہاں سے مال لے لےتو پھر اس کے لیے یہ سزا ہے، لیکن اگر صورت حال یہ ہے کہ چیز کھلی پڑی ہوئی ہے اور مالک نے احتیاط سے نہیں رکھی تو اس میں مالک کی بے احتیاطی کا پہلو بھی شامل ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہے کہ جرم کے اقدام کے دواعی اور سہولت پیدا کرنے والے اسباب کتنے پائے جا رہے ہیں؟ اس سے سزا میں فرق ہوگا۔ مثلاً‌ ایک شخص موٹر سائیکل پر جا رہا ہے اور ایک لڑکے نے اس کا موبائل دیکھ لیا اور اس کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اسے اچک لے، اور دوسرا شخص جو کسی کی موبائل شاپ توڑ کر اندر داخل ہو اور وہاں سے موبائل اٹھا لیے تو ان دونوں میں کافی فرق ہے۔

مطیع سید: اسی سے ملتی جلتی ایک چیز ہے کہ کوئی پھلوں کو ان کے خوشوں سمیت درخت سے اتار کر لے جائے، اس پر ان کی دگنی قیمت لازم ہوگی اور جو پھل خشک کرنے کے لیے کھلیان میں ڈالے گئے ہوں، وہاں سے چرانے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔5

عمار ناصر:وجہ یہ ہے کہ وہ پھل اب محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ پھل جب تک درختوں پر لگے ہوئے ہیں تو کوئی بھی ان کو اتار سکتا ہے،لیکن پھل اگر اتار کر کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیے گئے ہیں تو اب وہ حرزمیں آگئے ہیں۔

مطیع سید: اسٹریٹ کرائم کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے قانون بنا تھا کہ کوئی ایسا جرم کر کے بھاگے تو اس کو گولی بھی ماری جاسکتی ہے۔کیااس قدر انتہائی قدم اٹھایاجاسکتاہے؟

عمار ناصر:اس کا بھی محل ہے۔ انفرادی اور اکا دکا واقعات میں اور ایک عام جرم کی صورت اختیار کر لینے والے عمل کے سدباب کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ چند افراد کوئی جرم کریں اور اکا دکا واقعات ہوں، یہ الگ معاملہ ہے۔ کوئی اس کو پیشہ بنا لے اور باقاعدہ وارداتیں شروع کردے یا کوئی جرم بہت عام ہو جائے تو پھر وہ فساد فی الارض کے تحت آ جائے گا۔ اس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تعزیر، دس کوڑوں سے زیادہ نہ ہو،6 لیکن فقہاکے ہاں انتالیس کوڑوں تک کا بھی موقف ملتا ہے۔

عمار ناصر:اس حدیث کے ظاہر پر اس طرح سے عمل نہیں ہے۔ بعض شارحین اس کا محل یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد روزمرہ کے معاملات میں چھوٹی موٹی چیزوں سے متعلق عام لوگوں کے دائرۂ اختیار کو بیان کرنا ہے،جیسے باپ کو بیٹے پر اور استاذ کو شاگرد پر اور شوہر کو بیوی پر ایک تادیبی اختیار حاصل ہے، تو اس کو استعمال کرتے ہوئے دس چھڑیاں لگانے سے تجاوز نہ کیا جائے۔

مطیع سید: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص گناہ کرے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے، یعنی حد اس پر نافذ کر دی جائے تو اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ اسے دوبارہ سزا دے۔7 بہت سے جرائم ایسے ہیں کہ دنیا میں ان کی سزا پوری نہیں دی جا سکتی، جیسے کوئی بندہ دس بندوں کو قتل کر دے تو دنیا میں اس کو پوری سزا دینا ممکن ہی نہیں ہے۔اسی طرح کے کئی اور جرائم ہیں۔ تو ان کو پھر قیامت میں دوبارہ سزا نہیں ملے گی؟

عمار ناصر:میں نے عرض کیا تھا کہ اس طرح کی قیود قیاسی طور پر شامل ہوتی ہیں۔ جیسے ہی جرم کی نوعیت بدل گئی، سنگینی اور شناعت میں اضافہ ہو گیا، تو ظاہر ہے کہ عام حالات کے لیے بیان کی گئی حدیث کے تحت وہ شامل نہیں رہتی۔

مطیع سید: ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اس کو قتل کریں گے، وہ ناک کاٹے گا تو ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔ اگلی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو قصداً مار ڈالا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا اور اس کا حصہ مسلمانوں کے حصے سے جدا کردیا، لیکن اس کو قتل کی سزا نہیں دی۔8

عمار ناصر:اس کو فقہا دو طرح سے دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر فقہا تو قصاص میں مساوات کو اہم سمجھتے ہیں، تو چونکہ غلام اور مالک کے مابین سماجی اور قانونی حیثیت میں مساوات نہیں، اس لیے ان کے نزدیک مالک سے غلام کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ حدیث کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ غلام کو قتل کرنے کی بات یا تو منسوخ ہوگئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے تہدیداً اس کو بیان فرمایا، لیکن جب عملاً تنفیذ ہو گی تو اس میں یہ بات ملحوظ رکھی جائے گی کہ غلام تو مالک کی ملکیت ہے، مالک کو اس کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ زیادہ تر فقہا اس طرح سے دیکھتے ہیں۔ البتہ ابن حزم رحمہ اللہ مالک اور غلام کے مابین قصاص کے قائل ہیں۔ وہ حدیث کے ظاہر کے مطابق مالک سے قصاص لینے کا موقف رکھتے ہیں۔

مطیع سید: بچے کے دعوے کے بارے میں کافی روایات ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی بچے کے حوالے سے انکار کر دے کہ یہ میری اولاد نہیں ہے تو اس کے بعد وارثوں کے مان لینے سے وہ اس کی اولاد شمار نہیں ہوگا۔ اس بچے کا نسب اس سے ثابت نہیں ہوگا اور نہ وہ اس کی وراثت میں حصہ پائے گا۔9 آج کے دور میں یہ چیزیں DNAکی وجہ سے کافی بدل گئی ہیں۔ ڈی این اے ٹسٹ سےتصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ بچہ کسی کا ہے یا نہیں۔ کیا آج بھی ایسے معاملات میں آدمی کے اپنے اقرار کو بنیادی اہمیت دی جائے گی یا ڈی این اے وغیرہ سے جو نتیجہ سامنے آئے، وہ زیادہ اہم ہوگا؟

عمار ناصر:یہ کافی غور طلب معاملہ ہے۔ فقہا میں یہ بحث موجود ہے کہ نسب کے معاملے میں جس شخص کی طرف نسب کا اثبات کیا جانا ہے، اس کا بھی ایک حق ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں اس کا اقرار یا اعتراف اہم مانا جاتا ہے، اور اس کے اقرار کے بغیر فقہا کا عمومی رجحان یہ ہے کہ نسب کو ثابت نہ مانا جائے۔ لیکن اس میں دونوں پہلو اہم ہیں: ایک تو جس کی طرف بچے کو منسوب کیا جا رہا ہے، اس کا حق ہے،اور دوسری طرف بچے کا بھی حق ہے۔ تو میرے خیال میں یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ البتہ ڈی این اے ٹسٹ کو اہمیت دینے کے ساتھ کسی کیس میں باقی چیزیں کیا کہہ رہی ہیں اور کون سے اصول منطبق ہو رہے ہیں، وہ بھی دیکھنے پڑیں گے۔ ڈی این اے ٹسٹ کے بارے میں بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کتنا حتمی ہے اور اس کا فیصلہ کتنا یقینی ہوتا ہے۔ یہ ساری چیزیں دیکھنی پڑیں گی۔

مطیع سید: ڈی این اے کا غلط استعمال تو ہو سکتا ہے۔ میرے ذہن میں ایک مثال آرہی ہے کہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ایک بہت امیر شخص کے کانڈم سے وہاں کام کرنے والی ایک عورت نے اپنے آپ کوحاملہ کر لیاتاکہ بعد میں وہ اس سےبچے کے نسب کو ثابت کر سکے اور اس کی دولت کی حق دار بن سکے۔

عمار ناصر:جی، ایسے امکانات کے پیش نظر آدمی کے اپنے اقرار کی اہمیت بھی بنتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں نسب کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ جسمانی تعلق رشتہ ٔ نکاح کے اندر یا کم از کم نکاحِ فاسد کے اندر ہوا ہو۔ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔ تو اس میں کئی پہلوؤں کو دیکھنا پڑے گا۔

مطیع سید: جب بچے نے پیدا ہونے کے بعد آواز نکالی ہو اور پھر فوت ہو جائے تو وہ وارث ہو گا،10 لیکن جب وہ بچہ مر ہی گیا تو وارث کس چیز کا ہوگا؟

عمار ناصر: مراد یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو کر چیخا تو اس میں زندگی کی علامت پائی گئی۔ اگر اس کے بعد وہ فوت ہو گیا تو اس بچے کو مرحوم باپ کا وارث شمار کیا جائے گا اور اس کو بھی باپ کی وراثت میں حصہ ملے گا۔ پھر اس کے حصے میں جو مال آیا، وہ بچے کی وفات کے بعد اس کے موجود ورثا کے درمیان تقسیم ہو جائے گا۔

مطیع سید: اگر کوئی اہل کتاب کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے تو وہ مسلمان زندگی اور موت، دونوں حالتوں میں اس کے زیادہ قریب ہے۔11 اس سے کیا مراد ہے؟ کیا یہاں وراثت کا ذکر ہو رہا ہے؟

عمار ناصر: نہیں، وراثت کا حق تو بیان نہیں ہو رہا۔ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے اور اپنے قبیلے اور قوم سے کٹ جانے کے بعد اس کے ساتھ تعلق اور رشتہ قائم کر لے تو جو شخص اس کے اسلام لانے کا ذریعہ اور وسیلہ بنا ہے، اسے پھر اس کی زندگی اور موت میں اس تعلق کو نبھانا چاہیے اور اس کا سہارا بننا چاہیے۔ اس کو ولاء کا تعلق کہتے ہیں۔عرب میں اسلام سے پہلے ولاء کا تعلق قبائلی حوالے سے یہ ہوتا تھا۔ ایک قبیلے کا فرد دوسرے قبیلے کے فرد کے ساتھ ولاء کا تعلق قائم کر لیتا تھا اور دونوں ایک دوسرے کے وارث بھی مانے جاتے تھے، لیکن یہ چیز پھر شریعت میں منسوخ کر دی گئی۔ قرآن میں جب یہ کہہ دیا گیا کہ ’وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ‘ تو موالات والا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اب وہ براہ راست وارث نہیں بن سکتے تھے، البتہ جن کے مابین موالات کا تعلق پہلے سے قائم تھا، ان کا حنفی فقہ میں ایک درجے میں حق مانا جاتا ہے کہ اگر مرنے والے کا کوئی بھی رشتہ دار موجود نہیں جو وارث بن سکے اور نہ کوئی آزاد کردہ غلام ہے تو ایک مرحلے پر وہ شخص بھی وارث بن سکتا ہے جس کے ساتھ اس کا جاہلیت میں ولاء کا تعلق قائم ہوا تھا۔ اسلام کے بعد ولاء کا تعلق پھر عربوں اور ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے عجمیوں کے درمیان قائم ہونے لگا۔

مطیع سید: کوئی شخص اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہو جاتا تو اس کی جایداد وراثت کے طور پر اس مسلمان کو مل جاتی تھی؟

عمار ناصر:جی، اگر دونوں کے مابین ولاء کا معاہدہ ہو جاتا تو نو مسلم کی وراثت مسلمان کو ملتی تھی۔ وہ اپنے خاندان سے تو الگ ہو جاتا تھا اور اس کے حقیقی ورثا تو ہوتے نہیں تھے، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ ان سے کٹ جاتا تھا۔ پھر جس کے ساتھ وہ معاملہ طے کرتا تھا کہ اب میں تمھارے ساتھ ہی رہوں گا تو اس کا مال اور اسباب بھی پھر اس کے مرنے پر اسی کو مل جاتا تھا۔

مطیع سید:لیکن اگر وہ شخص مسلمان ہونے کے بعد اپنے خاندان سے نہیں کٹاتو کیا پھر بھی اس کی جایداد اس مسلمان کو ملے گی جس کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا ہے؟

عمار ناصر: اگر دونوں کے مابین باقاعدہ موالات قائم نہیں ہوئی تو جمہور فقہا اس صورت میں وراثت کا اصول لاگو نہیں کرتے۔ وہ زندگی میں ان کے ساتھ صلۂ رحمی کرے اور ان کے لیے کچھ وصیت کر دے تو وہ ان کو مل جائے گا،لیکن اس کی وراثت مسلمان کو نہیں ملے گی۔

مطیع سید:اگر نو مسلم کو اپنے خاندان کی طرف سے وراثت مل رہی ہو تو کیا وہ لے سکتا ہے؟

عمار ناصر: اس کے خاندان کی طرف سے وراثت اس نو مسلم کو ملے گی یا نہیں، اس میں فقہا کا اختلاف ہے۔جمہور فقہا اس کے قائل نہیں، لیکن بعض فقہا کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے اگر اس کو وراثت ملتی ہے اور ان کا مذہبی قانون اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا تو ٹھیک ہے، مل جائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس میں یہ اجتہاد کیا تھا کہ اگر نومسلم کو اس کے کسی غیر مسلم رشتہ دار سے وراثت میں حصہ مل رہا ہو تو آدھا اس کو دیا جائے گا اور آدھا بیت المال میں جمع کر لیا جائے گا۔

مطیع سید:غیر مسلم ممالک میں جو لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں، تو کیا وہاں کے قوانین ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی وراثت اپنے خاندان والوں کو نہ دیں؟

عمار ناصر: یہ تو تحقیق کرنی پڑے گی۔ میرے خیال میں عموماً‌ جدید ریاستوں کےقوانین اس تفریق کو سپورٹ نہیں کرتے۔ فقہی طور پر بھی ان قوانین کی پابندی بنیادی طور پر مسلمانوں کے قانونی دائرۂ اختیار میں ہے۔ غیر مسلم ممالک کے نومسلموں پر ان کو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے ہاں مروج قوانین پر ہی عمل کرنا چاہیے۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں میں شکال کونا پسند فرمایا، یعنی جس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور باقی جسم کا رنگ الگ ہو۔12 یہ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی ذوق ہو، لیکن شارحین کہتے ہیں کہ آپ نے ایسے گھوڑے کو تفاؤلاً،‌ یعنی نا مبارک سمجھتے ہوئے ناپسند کیا۔ پھر بعض شارحین کہتے ہیں کہ اگر اس گھوڑے کی پیشانی پر سفیدی ہے تو اس سے گویا اس کی نحوست ختم ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے توہمات کو بڑی سختی سے رَد کرتے تھے۔

عمار ناصر:یقینا ً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کسی توہم کے پہلو سے نہیں فرمائی ہوگی، اور اپنا ایک ذاتی ذوق ہی بیان کیا ہوگا۔ شارحین تفاؤل کی بات اس پہلو سے کہتے ہیں کہ دیکھنے میں ایسا گھوڑا یوں دکھائی دیتا ہے، جیسے اس کی ٹانگیں کسی چیز سے باندھ دی گئی ہوں اور وہ ٹھیک طرح سے چل نہیں سکے گا۔ اس میں نامبارک یا منحوس سمجھنے کا پہلو نہیں ہے، بس ایک ذوقی اور جمالیاتی سی بات ہے۔

[باقی]

  1. ۔ کتاب العتق، باب عتق ولد الزنا، رقم2531۔
  2. ۔ کتاب العتق، باب من اراد عتق رجل وامراتہ فلیدبا بالرجل، رقم2532۔
  3. ۔ کتاب الحدود، باب من شرب الخمر مرارا، رقم2572۔
  4. ۔ کتاب الحدود، باب الخائن و المنتھب و المختلس،رقم2591۔
  5. ۔ کتاب الحدود، باب من سرق من الحرز، رقم2596۔
  6. ۔ کتاب الحدود، باب التعزیر، رقم2601۔
  7. ۔ کتاب الحدود، باب الحد کفارۃ، رقم2604۔
  8. ۔ کتاب الدیات، باب ھل یقتل الحر بالعبد، رقم2663-2664۔
  9. ۔ کتاب الفرائض، باب فی ادّعا الولد، رقم2746۔
  10. ۔ کتاب الفرائض، باب اذا استھل المولود ورث، رقم2750۔
  11. ۔ کتاب الفرائض،باب الرجل یسلم علی یدی الرجل، رقم2752۔
  12. ۔ کتاب الجہاد، باب ارتباط الخیل فی سبیل اللہ، رقم،2790۔